مشہور ثقہ راوی قاضی حفض بن غیاث نے فرمایا
میں ابوحنیفہ کے پاس بیٹھتا تھا تو ایک دن میں ہی انھیں ایک مسئلے کے بارے میں پانچ اقوال کہتے ہوئے سنتا ،جب میں نے یہ دیکھا تو انھیں ترک کر دیا (یعنی چھوڑ دیا) اور حدیث (پڑھنے ) کی طرف متوجہ ہوگیا
(کتاب السنہ عبداللہ بن احمد بن حنبل ، ص 205)
اس قول کی سند صحیح ہے
تبصرہ : اس صحیح قول سے معلوم ہوتا ہے ابوحنیفہ حدیث کا درس نہیں دیتے تھے،تبی تو حفض حدیث کی طرف متوجہ ہوئے اور ان کا اجتہاد اتنا قوی نہیں تھا اسی لئے تو ایک دن میں ہی ایک ہی مسئلے پر پانچ اقوال سنا دیے
ہمارے حنفی براداران کیا کہے گے حفض بن غیاث کے اس صحیح قول پر
0 comments:
Post a Comment