فيسبوک گروپ

12/29/2010

رسول کے بعد حقیقی جانشین

قال رسول الله إني تارك فيكم الخليفتين من بعدي كتاب الله و عترتي أهل بيتي و إنهما لن يتفرقا حتى يردا على الحوض

الراوي: زيد بن ثابت المحدث: الألباني - المصدر: تخريج كتاب السنة - الصفحة أو الرقم: 754

خلاصة حكم المحدث: صحيح

holy prophet asws said: i am leaving behind two caliphs after me: book of allah and my ahlubait, they will not separate till they reach pond

البانی نے کہا، صحیح

اب اسے مجمع الزوائد میں دیکھتے ہیں

إني تركت فيكم خليفتين كتاب الله وأهل بيتي وإنهما لن يتفرقا حتى يردا على الحوض الراوي: زيد بن ثابت المحدث: الهيثمي - المصدر: مجمع الزوائد - الصفحة أو الرقم: 1/175 خلاصة حكم المحدث: رجاله ثقات‏‏ ‏‏

ایک اور حدیث

إني تارك فيكم خليفتين كتاب الله عز وجل حبل ممدود ما بين السماء والأرض أو ما بين السماء إلى الأرض وعترتي أهل بيتي وإنهما لن يفترقا حتى يردا علي الحوض الراوي: زيد بن ثابت المحدث: الهيثمي - المصدر: مجمع الزوائد - الصفحة أو الرقم: 9/165 خلاصة حكم المحدث: إسناده جيد 
رسول اکرم نے کہا، میں اپنے بعد دو خلیفے چھوڑ کر جا رہا ہوں، ایک اللہ کا پاک کلام (قرآن) جو زمین اور آسمان کے درمیان ذریعہ ہے اور دوسری میری اہلبیت، یہ دونوں تب تک ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوں گے جب تک کوثر پر نہ پہنچ جائیں۔

حیثمی نے کہا، اس کی اسناد مضبوط ہیں۔

سیوطی

إني تارك فيكم خليفتين : كتاب الله حبل ممدود ما بين السماء والأرض، وعترتي أهل بيتي، و إنهما لن يتفرقا حتى يردا علي الحوض الراوي: زيد بن ثابت المحدث: السيوطي - المصدر: الجامع الصغير - الصفحة أو الرقم: 2631 خلاصة حكم المحدث: صحيح

البانی
إني تارك فيكم خليفتين : كتاب الله حبل ممدود ما بين السماء والأرض ، وعترتي أهل بيتي ، و إنهما لن يتفرقا حتى يردا علي الحوض


الراوي: زيد بن ثابت المحدث: الألباني - المصدر: صحيح الجامع - الصفحة أو الرقم: 2457
خلاصة حكم المحدث: صحيح
 

پھر بھلا خلیفا کیسے مان لوں

جب اللہ اور ان کے رسول نے ان کو 10 آیات پہنچانے کے قابل نہیں سمجھا تو یہ اُمت کو قرآن پاک کیسے پہنچا سکتے ہیں، میں ان کو اللہ کے رسول کا جانشین اور خلیفا کیسے مان لوں جب کہ اللہ اور ان کا رسول ان کو 10 آیتیں پہنچانے کے لیے حقدار نہیں سمجھتے

معاویہ کی شراب نوشی

اہل سنت کے بزرگ موٴرخین کی ایک جماعت نے معاویہ کی طبیعت، شراب نوشی کی طرف مائل ہونے کے واقعہ کو ایک تعجب خیز تاریخی واقعہ کے ضمن میں اس طرح نقل کیا ہے:

عثمان کی خلافت کے دورمیں جب معاویہ شام کا گورنراور عبدالرحمن بن سہیل انصاری فوج کا کمانڈر تھا ۔ اس زمانے میں شراب سے لدا ہوا ایک قافلہ عبدالرحمن کے پاس سے گذرا اور وہ ساری شراب معاویہ کی تھی یہ دیکھ کر عبدالرحمن نے نیزہ اٹھا کر اونٹوں کے اوپر حملہ کردیا، قافلہ کے محافظ غلاموں نے اس کا مقابلہ کیا اور اس کی خبر معاویہ کو پہنچا دی ۔ معاویہ نے حکم دیا کہ عبدالرحمن سے مقابلہ نہ کرو کیونکہ اس کی عقل خراب ہوگئی ہے ۔ عبدالرحمن نے اس کے جواب میں کہا : ہرگز ایسا نہیں ہے ۔ خدا کی قسم میری عقل صحیح و سالم ہے ۔ میں نے اس قافلہ پر حملہ اس لئے کیا ہے کہ رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ) نے ہمیں شراب سے منع کیا ہے ۔ خدا کی قسم اگر میں زندہ رہا اورمعاویہ کا وہ دردناک واقعہ جس کی پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ) نے پیشین گوئی کی تھی، میرے سامنے رونما ہوا تو میں اس کے پیٹ کو پھاڑ دوں گا یا اس راہ میں شہید ہوجاؤں گا(۱)۔


احمد بن حنبل اپنی کتاب مسند (۲) میں عبداللہ بن بریدہ سے نقل کرتا ہے : میں اپنے والد کے ساتھ معاویہ کے پاس گیا تو کھانا کھانے کے بعد شراب لائی گئی ، معاویہ نے شراب پی اور میرے والدسے بھی پینے کیلئے کہا۔ میرے والد نے کہا : جب سے پیغمبر اکرم(ص) نے شراب کو حرام کیا ہے اس وقت سے اب تک ہم نے شراب نہیں پی(۳)۔

1ـ اسد الغابه، ج 3، ص 299; ابن حجر، الاصابه، ج 2، ص 401; تهذیب التهذیب، ج 6، ص 192.


يزيد کے پیروکار ایسے ہی ہوں گے

مان بہنوں سے نکاح اور زنا یزیدیت ہے

زبردستي کي بيعت

جنگ جمل اور صحیح بخاری

یہ ہی بات آپ وضاحت کے ساتھ شرح بخاری میں دیکھ سکتے ہیں
4469 ـ حدثنا عثمان بن الهيثم، حدثنا عوف، عن الحسن، عن أبي بكرة، قال لقد نفعني الله بكلمة سمعتها من، رسول الله صلى الله عليه وسلم أيام الجمل، بعد ما كدت أن ألحق بأصحاب الجمل فأقاتل معهم قال لما بلغ رسول الله صلى الله عليه وسلم أن أهل فارس قد ملكوا عليهم بنت كسرى قال ‏"‏ لن يفلح قوم ولوا أمرهم امرأة ‏"‏‏.‏


امام علی (ع) اور حسنین کریمین (ع) کا معاویہ سے تبرا کرنا

ناصبی حضرات کہتے ہیں کہ امام حسن وحسین (ع) معاویہ سے وظیفہ لیتے تھے جو اس بات کی دلیل ہے کہ معاویہ برحق خلیفہ تھا اور ان حضرات کے معاویہ کے ساتھ خوشگوار اور باہمی احترام پر مبنی تھے لیکن احناف کے مایہ ناز فقیہ ، مفسر اور محدث امام ابوبکر احمد بن علی جصاص رازی نے ان ناصبی ملائوں کے استدلال کا رد اس طرح کیا ہے

حسن بصری ، سعید بن جبیر ، شعبی اور تمام تابعین ان ظالم (حکمرانوں) سے وظیفے لیتے تھے لیکن اس بناء پر نہیں کہ وہ ان سے دوستی رکھتے تھے اور ان کی حکومت کو جائز تصور کرتے تھے ، بلکہ اس لئے لیتے تھے کہ یہ تو ان کے اپنے حقوق ہیں جو ظالم و فاجر لوگوں کے ہاتھ میں ہیں .ان سے دوستی کی بنیاد پر یہ کام کیسے ہوسکتا ہے حالانکہ انہوں نے حجاج سے تلوار کے ذریعے مقابلہ کیا .چار ہزار قراء (علماء) نے ، جو تابعین میں سے بہترین اور فقہاء تھے، عبدالرحمان بن محمد بن اشعث کی قیادت میں حجاج سے اھواز کے مقام پر جنگ کی ، پھر بصرہ اور بعد ازاں کوفہ کے قریب فرات کے کنارے دیر جماجم کے مقامات پر حجاج سے جنگ کی ہے.انہوں نے عبدالملک بن مروان کی بیعت توڑ دی تھی ،ان (اموی حکمرانوں ) پر لعنت کرتے اور ان سے تبرا کرتے تھے .ان سے پہلے کے لوگوں کا معاویہ کے ساتھ بھی یہی طریقہ تھا ،جب وہ حضرت علی علیہ السلام کی شہادت کے بعد زبردستی حکمران بن گیا ،امام حسن اور امام حسین (ع) بھی (معاویہ سے) وظائف لیتے تھے اور اس زمانے کے صحابہ کرام کا بھی یہی طریقہ کار تھا بلکہ اس (معاویہ) سے اسی طرح تبرا کرتے تھے ،جس طرح حضرت علی (ع) معاویہ سے تبرا کرتے تھے حتیٰٰ کہ اللہ تعالیٰٰ آپ (ع ) کی وفات کے بعد جنت و رضوان میں لے گیا .چنانچہ (ان ظالم حکمرانوں) کی طرف سے عہدہ قضا قبول کرنے اور وظائف لینے میں یہ دلیل نہیں ہے کہ یہ حضرات ان ظالموں سے دوستی رکھتے تھے اور ان کی حکومت کو جائز اعتقاد کرتے تھے

احکام القرآن //ابوبکر جصاص // ج 1 //ص 86//سورۃ البقرۃ ،آیت : لا ینال عہدی الظالمین //طبع ثانیہ 1424ھ ، دارالکتب العلمیہ بیروت

تبصرہ
حیرت کی بات ہے کہ اھل سنت کے معتبر علماء اس امر کا اعلان کر رہے ہیں کہ حضرت علی (ع) ، حسنین (ع) اور دیگر صحابہ معاویہ سے تبرا کرتے اور اس پر لعنت کرتے تھے ،پھر یہ نادان ملوانے تمام صحابہ و اھل بیت کی سنت ثابتہ سے انحراف کرتے ہوئے معاویہ سے بیزاری کیوں نہیں کرتے




یھودی کی تعظیم اور وھابی کا قیام


ہے کوئی فرق؟؟؟؟

ابو حنیفہ کے گمراہ ہونے پر اجماع

- حدثنا محمد بن علي بن مخلد الوراق لفظا قال في كتابي عن أبي بكر محمد بن عبد الله بن صالح الأسدي الفقيه المالكي قال سمعت أبا بكر بن أبي داود السجستاني يوما وهو يقول لأصحابه ما تقولون في مسألة اتفق عليها مال...ك وأصحابه والشافعي وأصحابه والأوزاعي وأصحابه والحسن بن صالح وأصحابه وسفيان الثوري وأصحابه وأحمد بن حنبل وأصحابه فقالوا له يا أبا بكر لا تكون مسألة أصح من هذه فقال هؤلاء كلهم اتفقوا على تضليل أبي حنيفة
تاریخ بغداد 13/394 , ط. دار الكتب العلمية - بيروت


ابو بکر بن أبی داود السجستانی رحمہ اللہ نے ایک دن اپنے شاگردوں کو کہا کہ تمہارا اس
مسئلہ کے بارہ میں کیا خیال ہے جس پر مالک اور اسکے اصحاب شافعی اوراسکے اصحاب اوزاعی اور ا سکے اصحاب حسن بن صالح اور اسکے اصحاب سفیان ثوری اور اسکے اصحاب احمد بن حنبل اور اسکے اصحاب سب متفق ہوں ؟؟
تو وہ کہنے لگے اس سے زیادہ صحیح مسئلہ اور کوئی نہیں ہو سکتا
تو انہوں نے فرمایا
یہ سب ابو حنیفہ کو گمراہ قرار دینے پر متفق تھے
_______
عن ثعلبة قال سمعت سفيان الثوري وذكر أبا حنيفة فقال لقد استتابه أصحابه من الكفر مرارا
تاریخ بغداد 13/392

ابو حنیفہ کو اسکے شاگردوں نے کئی مرتبہ کفر سے توبہ کروائی

ابو بکر محمّد بن عبدللہ، فقیہ مالکی فرماتے ہیں کہ انہوں نے سنا ابو بکربن ابو داود سجستانی سے کہ وہ اپنے شاگردوں سے فرماتے ہیں: کیا کہتی ہو تم ایسے مسلہ کے بارے میں جس پر امام مالک اور ان کے شاگرد، امام شافعی اور ان کے شاگرد، امام اوزاعی اور ان کے شاگرد، حسن بن صالح اور ان کے شاگرد، اور سفیان ثوری اور ان کے شاگرد اور امام احمد بن حنبل اور ان کے شاگرد، اتفاق کامل رکھتے ہوں؟ انہوں نے جواب دیا اس سی زیادہ صحیح مسلہ نہیں ہو سکتا تو اس پر ابو بکر بن ابو داوود نے فرمایا: یہ سب متفق ہیں کے ابو حنیفہ گمراہ تھا

تاريخ بغداد وذيله والمستفاد
أحمد بن علي بن ثابت الخطيب البغدادي أبو بكر
Volume 15
Page 527

امام بخاری اپنے استاد سے نقل فرماتے ہیں کہ محمّد بن مسلمه سے پوچھا گیا کہ کیا وجہا ہے کہ ابو حنیفہ ہر شہر گیا لیکن مدینه داخل نہ ہو سکا. انہوں نے جواب دیا کہ رسول الله کی حدیث ہے کہ طاعون اور دجال مدینه میں داخل نہیں ہو سکیں گے اور ابو حنیفہ دجالوں میں سے ایک دجال ہے.

تاريخ بغداد وذيله والمستفاد
أحمد بن علي بن ثابت الخطيب البغدادي أبو بكر
Volume 15
Page 544

یہی بات امام بخاری کی کتاب تاریخ کبیر میں بھی دیکھی جا سکتی ہے
Volume 1 Page 759

__________________________________________

امام ملک فرماتے ہیں : اسلام میں کوئی اولاد ایسی پیدا نہیں ہوئی جس نے اہل اسلام کو اتنا نقصان پہنچایا ہو جتنا ابو حنیفہ نے پہنچایا

تاريخ بغداد وذيله والمستفاد
أحمد بن علي بن ثابت الخطيب البغدادي أبو بكر
Volume 15
Page 545

__________________________________________

امام ملک فرماتے ہیں :اس امّت کے لئے ابو حنیفہ کا فتنہ ابلیس کے فتنے سے زیادہ نقصاندہ ہے.

تاريخ بغداد وذيله والمستفاد
أحمد بن علي بن ثابت الخطيب البغدادي أبو بكر
Volume 15
Page 545

فاروق کا لقب اھل کتاب نے سب سے پہلے عمر کو دیا تھا

أخبرنا يعقوب بن إبراهيم بن سعد عن أبيه عن صالح بن كيسان قال قال بن شهاب بلغنا أن أهل الكتاب كانوا أول من قال لعمر الفاروق وكان المسلمون يأثرون ذلك من قولهم ولم يبلغنا أن رسول الله صلى الله عليه وسلم ذكر من ذلك شيئا

Tabaqaat Ibn Saad volume 3 p 270

فاروق کا لقب
اھل کتاب نے سب سے پہلے عمر کو دیا تھا، اور مسلمانوں نے انکی دیکھا دیکھی فاروق کہنا شروع کر دیا, نبی پاک (ص) کی طرف سے اس طرح کی کوئی چیز نہیں ملی

حضرت علی صدیق اکبراور فاروق اعظم ہیں 2

مزيد حوالاجات







حضرت علی صدیق اکبراور فاروق اعظم ہیں

جناب رسول (ص) فرماتے ہیں - الصديقون ثلاثة‏:‏ حبيب النجار مؤمن آل يس الذي قال‏:‏ ‏"‏يا قوم اتبعوا المرسلين‏"‏، وحزقيل مؤمن آل فرعون الذي قال ‏"‏أتقتلون رجلا أن يقول ربي الله‏"‏، وعلي بن أبي طالب، وهو أفضلهم
.
[‏‏(‏انظر شرح الحديث 5148‏)‏‏]‏ـ
- أبو نعيم في المعرفة وابن عساكر عن أبي ليل
مندرجہ بالا روایت .(درحج المطالب) میں بھی موجود ہے
ترجمه
جناب رسول ص نے فرمایا
صدیق تین ہے اول حبیب النجار مومن آل یسین جس نے کہا تھا اے قوم مرسلین کی اتباع کرو اور دوسرے آل فرعون میں مومن حزقیل جنہوں نے یہ کہاں تھا ک اے لوگو تم اس شخص کو قتل کرتے ہو جو یہ کہتاہے میرا پالنے والا اللہ ہے اور تیسرا علی ابن ابی طالب ع جو ان دونوں سے افضل ہیں
سیوطی اس حدیث کو حسن فرماتے ہیں.
.
Source: Jama'e Sagheer, Baab Su'ad, Hadees no 5149.
Link: http://www.al-eman.com/Islamlib/view...=246&CID=65#s1

اور صدیق اکبراور الفاروق کا لقب جلیل تو جناب امیر علیہ السلام کے ساتھ مخصوص ہے جناب رسول خدا(ص)نے آپ (ع) کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا الصدیق الاکبر الفاروق الذی تفرق بین الحق ب الباطل . یا علی (ع) تم صدیق اکبر اور حق و باطل میںفرق کرنے والے فاروق ہو(الحاوی المفتاوی سیوطی ج2)

جناب امیر علیہ السلام خود فرمایا کرتے تھے :انا عبداللہ واخورسولہ وانا الصدیق الاکبر لایقولو لہا بعدی الا کاذب مفترصلیت مع رسول اللہ (ص) قبل الناس بسبع سنین . میں خدا کا بندہ اور اس کے رسول(ص) کا بھایئ ہوں اور میں صدیق اکبر میرے علاوہ جو اس کا ادعا کرے گا وہ جھوٹا اور افترا پرواز ہوگا میں نے عام لوگو سے سات برس پہلے رسول خدا(ص) کے ساتھ نماذ پڑھی ( سنن ابن ماجہ، مصنف ابن شب،یہ تاریخ کامل ابن اثیر ج تاریخ طبری ج)

ان کے علاوہ کچھ اور حوالہ جات اپ لوڈ ہیں جو حضرت علی (ع) کی صدیق اکبر ہونے پرصریح دلالت کریں گئے

مصنف ابی شیبہ والی روایات کا رجال کا تبصرہ اک سائٹ پر موجود تھا وہ بھی یہاں فراہم کیے دیتا ہوں

حدثنا : عبد الله بن نمير ، عن العلاء بن الصالح ، عن المنهال ، عن عباد بن عبد الله ، قال : سمعت علياًً يقول : أنا عبد الله وأخو رسوله وأنا الصديق الأكبر ، لا يقولها بعدي إلاّ كذّاب مفتر ، ولقد صليت قبل الناس بسبع سنين.
.
.
Source: Musannif Abi Shayba, Vol no 7, Pg no 498, Hadees no 31468.
.
Online link: http://www.sonnaonline.com/Hadith.aspx?HadithID=115070
.
.
Ab Ata'e hai es Reewayat ki Sanad ki taraf...
.
.
1.Abdullah ibne Nameer:
.
قال أبو حاتم : كان مستقيم الأمر
.
Abu Hatim ne Mustaqeem ul Amr yani aisa banda kaha jis ki Hadees mai koi Masla nahee.
.
.
و قال عثمان بن سعيد الدارمى : قلت ليحيى بن معين : ابن إدريس أحب إليك فى الأعمش أو ابن نمير ؟ فقال : كلاهما ثقة .
.
Uthman Saeed ne Yahya ibne Mueen se pocha k Ibne Idrees kya Aap ko Aama'ash Ya (Abdullah) Ibne Nameer se ziyada pasand hai? Yahya Ibne Mueen ne Jawaab deeya k Ama'ash aur Abdullah ibne Nameer donoun thiqa hai.
.
.
و ذكره ابن حبان فى " الثقات
.
Ibne Habban ne thiqqat mai se shumaar keeya
.
.
و قال العجلى : ثقة ، صالح الحديث ، صاحب سنة
.
Ujli ne thiqa aur Salih ul Hadees Kaha aur Sunnat par Amal kar




عزاداری امام حسین (ع) کی شرعی حیثیت

 حصه اول
قرآن شریف کے نظام ہدایت میں "یاد" منانے کی اھمیت

قرآن شریف نے انسان کو جو نظام ہدایت عطا کیا ہے اس کے قیام و استحکام کی بنیاد اسی یاد پر رکھی گئی ہے .چنانچہ وہ انسان جو اللہ اور اس کے آخری رسول (ص) پر ایمان لاتا ہے وہ ہدایت الہیٰٰ کے ماضی اور مستقبل پر بھی ایمان لاتا ہے . قرآن میں اللہ فرماتا ہے

وَالَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِمَا أُنزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنزِلَ مِن قَبْلِكَ وَبِالْآخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ

(البقرہ 4:2)

وہ ان تمام باتوں پر بھی ایمان رکھتے ہیں جنہیں (اے رسول) ہم نے آپ پر نازل کیا ہے اور جو آپ سے پہلے نازل کی گئی ہیں اور آخرت پر بھی یقین رکھتے ہیں

یہاں " آپ سے پہلے نازل کی گئی" کتابوں پر ایمان "یاد" کی بنیاد پر ایمان کا جزو لانیفک بن گیا ہے جب کہ مومن کا باقی زندگی میں اسی ہدایت کو "یاد رکھتے ہوئے" اور ہر قدم اس کی اتباع اور پیروی کرتے ہوئے گزارنا تکمیل ایمان کے لئے لازم ہے

ہمارے عقیدے ، باطنی ارتقاء اور روحانی زندگی کا انحصار ذکر یعنی یاد کرنے، یاد رکھنے اور یاد منانے پر ہے.ہمارے روز مرہ معاملات ، سر گرمیاں ، حرکات و سکنات ، گفتگو،سمجھ بوجھ ، پڑھنا لکھنا، میل ملاقات ، الغرض جملہ امور زندگی اس علم پر منحصر ہوتے ہیں جو ہم حاصل کرتے ہیں اور اپنی زندگی میں محفوظ ہوتی ہے.یہی یاد ہمیں زندگی گزارنے کے طریقے ، سلیقے اور ہنر سکھاتی ہے . "یاد" کے بغیر گویا پوری زندگی دیوانگی ہے ، ہوش و خرد اسی یاد کے سہارے قائم ہے

ملت ابراہیمی

"سابقہ انبیاء کرام کی یاد منانا" اور ان کی نبوت و رسالت کا اقرار کرنا بھی ہمارے ایمان کا لازمی جزو ہے. چنانچہ اسلام کو قرآن کریم میں متعدد مقامات پر " ملت ابراہیمی کہا گیا ہے

وَمَن يَرْغَبُ عَن مِّلَّةِ إِبْرَاهِيمَ إِلَّا مَن سَفِهَ نَفْسَهُ ۚ وَلَقَدِ اصْطَفَيْنَاهُ فِي الدُّنْيَا ۖ وَإِنَّهُ فِي الْآخِرَةِ لَمِنَ الصَّالِحِينَ

البقرہ:١٣٠

ور کون ہے جو ملّت ابراہیم علیھ السّلام سے اعراض کرے مگر یہ کہ اپنے ہی کوبے وقوف بنائے . اور ہم نے انہیں دنیا میں منتخب قرار دیا ہے اور وہ آخرت میں نیک کردار لوگوں میں ہیں

وَقَالُوا كُونُوا هُودًا أَوْ نَصَارَىٰ تَهْتَدُوا ۗ قُلْ بَلْ مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا ۖ وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ
البقرہ:١٣٥

اور یہ یہودی اور عیسائی کہتے ہیں کہ تم لوگ بھی یہودی اورعیسائی ہوجاؤ تاکہ ہدایت پا جاؤ توآپ کہہ دیں کہ صحیح راستہ باطل سے کترا کر چلنے والے ابراہیم علیھ السّلام کا راستہ ہے کہ وہ مشرکین میں نہیں تھے


قُلْ صَدَقَ اللَّـهُ ۗ فَاتَّبِعُوا مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ
آل عمران:٩٥

پیغمبر آپ کہہ دیجئے کہ خدا سچاّ ہے .تم سب ملّت ابراہیم علیھ السّلام کا اتباع کرو وہ باطل سے کنارہ کش تھے اور مشرکین میں سے نہیں تھے

وَمَنْ أَحْسَنُ دِينًا مِّمَّنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّـهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ وَاتَّبَعَ مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا ۗ وَاتَّخَذَ اللَّـهُ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلًا
النساء:١٢٥

اور اس سے اچھا دیندار کون ہوسکتا ہے جو اپنا رخ خد اکی طرف رکھے اور نیک کردار بھی ہو اور ملّت ابراہیم علیھ السّلام کا اتباع کرے جو باطل سے کترانے والے تھے اور اللہ نے ابراہیم علیھ السّلام کو اپنا خلیل اور دوست بنایا ہے


قُلْ إِنَّنِي هَدَانِي رَبِّي إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ دِينًا قِيَمًا مِّلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا ۚ وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ
الانعام:١٦١

آپ کہہ دیجئے کہ میرے پروردگار نے مجھے سیدھے راستے کی ہدایت دے دی ہے جو ایک مضبوط دین اور باطل سے اعراض کرنے والے ابراہیم علیھ السّلام کا مذہب ہے اور وہ مشرکین میں سے ہرگز نہیں تھے


ثُمَّ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ أَنِ اتَّبِعْ مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا ۖ وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ
النحل:١٢٣

اس کے بعد ہم نے آپ کی طرف وحی کی کہ ابراہیم علیھ السّلام حنیف کے طریقہ کا اتباع کریں کہ وہ مشرکین میں سے نہیں تھے


وَجَاهِدُوا فِي اللَّـهِ حَقَّ جِهَادِهِ ۚ هُوَ اجْتَبَاكُمْ وَمَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّينِ مِنْ حَرَجٍ ۚ مِّلَّةَ أَبِيكُمْ إِبْرَاهِيمَ ۚ هُوَ سَمَّاكُمُ الْمُسْلِمِينَ مِن قَبْلُ وَفِي هَـٰذَا لِيَكُونَ الرَّسُولُ شَهِيدًا عَلَيْكُمْ وَتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ ۚ فَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَاعْتَصِمُوا بِاللَّـهِ هُوَ مَوْلَاكُمْ ۖ فَنِعْمَ الْمَوْلَىٰ وَنِعْمَ النَّصِيرُ
الحج:٧٨

اور اللہ کے بارے میں اس طرح جہاد کرو جو جہاد کرنے کا حق ہے کہ اس نے تمہیں منتخب کیا ہے اور دین میں کوئی زحمت نہیں قرار دی ہے یہی تمہارے بابا ابراہیم علیھ السّلام کا دین ہے اس نے تمہارا نام پہلے بھی اور اس قرآن میں بھی مسلم اور اطاعت گزار رکھا ہے تاکہ رسول تمہارے اوپر گواہ رہے اور تم لوگوں کے اعمال کے گواہ رہو لہذا اب تم نماز قائم کرو زکوِٰ اداکرو اور اللہ سے باقاعدہ طور پر وابستہ ہوجاؤ کہ وہی تمہارا مولا ہے اور وہی بہترین مولا اور بہترین مددگار ہے

ان جملہ آیات میں ملت ابراہیمی کی پیروی کا حکم دیا گیا ہے .حضرت یوسف (ع) قید خانہ میں دو قیدیوں کے خوابوں کی تعبیر فرمانے سے پہیلے اپنے نین کی تبلیغ کرتے ہوئے فرماتے ہیں

وَاتَّبَعْتُ مِلَّةَ آبَائِي إِبْرَاهِيمَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ
(یوسف:38)
میں اپنے باپ دادا ابراہیم -اسحاق اور یعقوب کے طریقے کا پیرو ہوں

ان آیات میں سابقہ انبیاء کی یاد کو دین کی بنیاد بنایا جا رہا ہے یعنی انبیائے سابقہ اور ان کی امتوں کے حالات کو یاد رکھتے ہوئے انبیاء کی سنت کی پیروی کرنا بھی سنت انبیاء ہے .ارشاد باری تعالیٰٰ ہوتا ہے

إِنَّا أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ كَمَا أَوْحَيْنَا إِلَىٰ نُوحٍ وَالنَّبِيِّينَ مِن بَعْدِهِ ۚ
(النساء:163)

ہم نے آپ کی طرف اسی طرح وحی نازل کی ہے جس طرح نوح علیھ السّلام اور ان کے بعد کے انبیائ کی طرف وحی کی تھی

سابقہ امتوں اور رسول محمد (ص) سے پہلے تشریف لانے والے انبیاء کرام کے احوال اور دین ابراہیم کے حوالے سے حاصل ہونے والا علم اھل ایمان کے قلوب میں یاد کی صورت میں منور ہوکر قدم قدم پر ہمارے لئے ہدایت کی روشنی مہیا کرتا ہے

یاد کا مضمون انتہائی وسیع ہے اور یہاں موضوع سے متعلقہ نکات ذہن نشین کرنے کے لئے اتنا کافی ہے کہ ہم "یاد" کے قرآن حکیم میں جو الفاظ استعمال ہوئے ہیں ان کا مطالعہ کریں. اس حوالے سے "ذکر" کا لفظ قرآن میں کم وبیش 267 مرتبہ استعمال ہوا ہے.اس کا مطلب ہے :یاد کر لینا، یاد دلانا، محفوظ کر لینا

اسی یاد کو برقرار رکھتے ہوئے ہم آل ابراہیم (ع) کی نشانی "امام حسین (ع) " کی یاد کو مناتے ہیں اور اس یاد کو منانے کا مقصد ہی یہ ہے کہ غم حسین (ع) کے ساتھ ساتھ فلسفہ حسینی (ع) کو بھی یاد رکھا جائے تاکہ حسین (ع ) کے عزادر وقت کے یزید لعین سے مقابلہ کر سکیں .عزاداری امام حسین (ع) کو منانا ، شعائز اسلامیہ میں ہے اور آج جو عزاداری کی مخالفت کرتا ہے وہ حقیقت میں اسلام دشمن اور یزید دوست انسان ہوتا ہے .مگر یہ یاد آل ابراہیمی ہے ، جس کو کوئی دشمن نہیں مٹاسکتا ،جتنا اس یاد حسین (ع) کو دبایا جائے گا ، یہ اُُسی قدر جوش وجذبہ سے بلند ہونگی اور آخرکار ہر قوم پکار اُُٹھے گی کہ ہمارے ہیں حسین ع

ماتم اور نوحہ سنی کتابوں سے 3










امام حسین کی زیارت کی فضیلت


امام حسین کی زیارت کی فضیلت

ماتم اور نوحہ سنی کتابوں سے 2








ماتم اور نوحہ سنی کتابوں سے