اصحاب باوفااور انصاران باصفا کی شہادت کے بعد آپ کے اعزاواقربایکے بعد دیگرے میدان کا رزار میں آکر شہید ہوئے۔ بنی ہاشم میں سب سے پہلے جس نے شرف شہادت حاصل کیا وہ عبداللہ ابن مسلم ابن عقیل تھے
مہرخبررساں ایجنسی نے تاریخ اسلام کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ اصحاب باوفااور انصاران باصفا کی شہادت کے بعد آپ کے اعزاواقربایکے بعد دیگرے میدان کا رزار میں آکر شہید ہوئے۔ بنی ہاشم میں سب سے پہلے جس نے شرف شہادت حاصل کیا وہ عبداللہ ابن مسلم ابن عقیل تھےآپ حضرت علی(ع) کی بیٹی رقیہ بنت صہبابنت عبادبن ربیعہ بن یحییٰ بن عبدبن علقمہ ثعلبیہ کے فرزند تھے۔آپ میدان میں تشریف لائے اور ایسا حملہ شیرانہ کیا کہ روباہوں کی ہمتیں پست ہوگئیں۔آپ نے تین حملے فرمائے اور ۹۰دشمنوں کو فی النار کیا۔دوران جنگ میں عمر بن صبیح صیدادی نے آپ کی پیشانی پر تیر مارا۔آپ نے فطرت کے تقاضے پر تیر پہنچنے سے پہلے اپنا ہاتھ پیشانی پر رکھ لیا۔اور ہاتھ پیشانی سے اس طرح پیوست ہو گیا کہ پھر جدانہ ہوا۔پھر اس نے دوسرا تیرمارا جوصاحبزادے کے دل پر لگا،اور آپ زمین پر تشریف لائے ۔آپ کو خاک و خون میں غلطان دیکھ کر آپ کے بھائی محمد بن مسلم آگے بڑھے اور انھوں نے بھی زبردست جنگ کی بالآخر ابوجرہم ازدی اور لقیط اور ابن ایاس جہمی نے آپ کو شہید کردیا۔ ان کے بعد جعفر بن عقیل ابن ابی طالب میدان میں تشریف لے گئے۔آپ نے ۱۵زبردست دشمنوں کو فنا کے گھاٹ اتارا آخر میں بشربن خوط نے آپ کو شہید کر دیا۔ ان کے بعد جناب عبدالرحمن ابن عقیل میدان میں تشریف لائے۔آپ نے زبردست جنگ کی اور آپ کودشمنوں نے گھیرلیا۔آخر کارعثمان بن خالد ملعون کی ضرب شدید سے راہی جنت ہوئے۔ان کے بعد عبداللہ اکبربن عقیل میدان میں آئے اور زبردست قتال کے بعد عثمان بن خالد کے ہاتھوں شہید ہوئے ابومخنف کے مطابق عبداللہ اکبر کے بعد موسیٰ بن عقیل نے میدان لیا اور ۷۰آدمیوں کوقتل کرکے شہید ہوئے۔ان کے بعد عون بن عقیل اور علی بن عقیل درجہ شہادت پر فائز ہوئے۔ان کے بعد محمد بن سعید بن عقیل اور جعفر بن محمد بن عقیل اور احمد ابن محمد بن عقیل یکے بعد دیگرے میدان مٰیں تشریف لائے اور کار ہائے نمایاں کرکے درجہ شہادت حاصل کیا۔ان کے بعد محمد بن عبداللہ بن جعفر میدان میں آئے اور ۱۰دشمنوں کو قتل کرکے بدست عامر بن نہشل شہید ہوئے۔ان کے بعد عون بن عبداللہ بن جعفر میدان میں آئے اور ۳۰سوار۸پیادہ کو قتل کرنے کے بعد عبداللہ ابن بط کے ہاتھوں شہید ہوئے۔آپ کے بعد جناب حسن مثنے میدان میں تشریف لائے۔آپ نے زبردست جنگ کی اور اس درجہ زخمی ہوگئے ک جانبرہونے کا کوئی امکان نہ تھا۔بالآخرمقتولین میں ڈال دیئے گئے۔نتیجہ پر ان کا ایک رشتہ کا ماموں اسماابن خارجہ مکنی بہ ابی حسان انھیں اٹھا کر لے گئے۔ان کے بعد جناب قاسم(ع) میدان میں تشریف لائے۔اگرچہ آپ کی عمرابھی نابالغی کی حد سے متجاز نہ ہوئی تھی۔لیکن آپ نے ایسی جنگ کی کہ دشمنوں کی ہمتیں پست ہو گئیں۔آپ کے مقابلہ میں ارزق شامی آیا۔آپ نے اسے پچھاڑدیا۔اس کے بعد چاروں طر سے حملے شروع ہو گئے۔آپ نے ۷۰ دشمنوں کو قتل کیا آخر کار عمر بن معدبن عروہ بن نفیل ازدی کی تبغ سے شہید ہوئے۔مورخین کا بیان ہے کہ آپ کا جسم مبارک زندگی ہی میں پامال سم اسپاں ہو گیا تھا۔ان کے بعد عبداللہ ابن حسن میدان میں آئے اور زبردست جنگ کی۔آپ نے ۱۴دشمنوں کو تہ تیغ کیا۔آپ کوہانی ابن شیشہ ،خضرمی نے شہید کیا۔ان کے بعد ابوبکر ابن حسن میدان میں آئے آپ نے میمنہ اور میسرہ کو تباہ کر دیا۔آپ ۸۰دشمنوں کو قتل کرکے شہید ہوگئے۔آپ کو بقول علامہ سماوی عبداللہ ابن عقبہ غنوی نے شہید کیا ہے ان کے بعد احمد بن حسن میدان میں آئے۔اگرچہ آپ کی عمر ۱۸سال سے کم تھی لیکن آپ نے یادگار جنگ کی اور ۶۰سواروں کو قتل کر کے درجہء شہادت حاصل کیا۔ان کے بعد عبداللہ اصغرمیدان میں آئے۔آپ حضرت علی کے بیٹے تھے۔آپ کی والدہ لیلیٰ بنت مشعود تمیمی تھیں۔آپ نے زبردست جنگ کی اور درجہ ء شہادت حاصل کیا۔آپ ۲۱دشمنوں کو قتل کرکے بدست عبداللہ بن عقبہ غنوی شہید ہوئے۔بعض اقوال کی بناء پر ان کے بعد عمر بن علی میدان میں آئے اور شہید ہوئے۔طبری کابیان ہے کہ یہ کربلا میں شہید نہیں ہوئے۔اکثر مورخین کا کہنا ہے کہ عبداللہ اصغرکے بعد عبداللہ بن علی میدان میں تشریف لائے۔یہ حضرت عباس(ع) کے حقیقی بھائی تھے۔ان کی عمر بوقت شہادت ۳۵سال تھی۔آپ کو ہانی ابن ثبیت الخضر می نے شہید کیا۔ان کے بعدحضرت عباس (ع) کے دوسرے حقیقی بھائی عثمان بن علی (ع) میدان میں آئے۔آپ نے رجزپڑھی اور زبردست جنگ کی۔دوران قتال میں خولی ابن یزید اصبحی نے پیشانی مبارک پر ایک تیرمارا جس کی وجہ سے آپ زمین پر آرہے۔پھر ایک شخص نے جو قبیلہ اباں بن دارم کا تھا۔آپ کا سر کاٹ لیا شہادت کے وقت آپ کی عمر ۲۳ سال تھی۔ان کے بعد حضرت عباس(ع) کے تیسرے حقیقی بھائی میدان میں تشریف لائے اور بقول ابوالفرج بدست خولی ابن یزید اور بروایت ابومخنف بضرب ہانی ابن ثبیت الحضرمی شہید ہوئے۔شہادت کے وقت آپ کی عمر ۲۱سال تھی،ان کے بعد فضل بن عباس بن علی (ع) میدان میں تشریف لائے اور مشغول کارزار ہوگئے۔آپ نے ۲۵۰دشمنوں کو قتل کیا بالآخر چاروں طرف سے حملہ کرکے آپ کو شہید کر دیا گیا۔ان کے بعد حضرت عباس (ع) کے دوسرے بیٹے قاسم ابن عباس میدان میں تشریف لائے۔آپ کی عمر بقول امام اسفرائنی ۱۹ سال کی تھی۔آپ نے۸۰۰دشمنوں کو فنا کے گھاٹ اتار دیا۔اس کے بعد امام حسین (ع) کی خدمت میں حاضر ہوکر پانی مانگا۔پانی نہ ملنے پر آپ پھر واپس گئے اور ۲۰سواروں کو قتل کر کے شہید ہوئے۔
ان بنی ہاشم کے بہادرنونہالوں کی شہادت کے بعد حضرت عباس (ع) علمدار میدان میں حصول آب کے لیے تشریف لائے اور کارنمایاں کرکے شہیدہوگئے۔آپ کے تفصیلی حالات کے لیے ملاخطہ ہو کتاب ذکرالعباس مولفہ حقیر،مطبوعہ لاہور۔آپ کے مختصر حالات یہ ہیں کہ آپ ۴شعبان ۲۶ئھج مطابق ۱۸مئی ۶۴۷ءء بروزمنگل کو مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے۔آپ امام حسین (ع) کے مستقل علمبردار تھے۔آپ کو کربلا میں جنگ کرنے کی اجات نہیں دی گئی صرف پانی لانے کا حکم دیا گیا تھا۔آپ کمال وفاداری کی وجہ سے نہرفرات میں داخل ہو کر پیاسے برآمد ہوگئے تھے۔آپ کا ذاہناہاتھ خیمہ میں پانی پہنچانے کی سعی میں زید ابن ورقاکی تلوار سے کٹ گیا تھا،اور بایاں ہاتھ حکیم ابن طفیل کی تلوار سے کٹا۔پھر ایک تیر مشکیزہ پر لگاا ور سار ا پانی بہہ گیا۔پھر ایک تیر آپ کے سینے میں لگا۔اس کے بعد لوہے کا گرز سر پر پڑا اور آپ زمین پر آرہے۔آپ نے اما م حسین (ع) کو آوازدی امام حسین (ع) نے کمر تھام کر فریاد کی"الان انکسرظھری"۔ہائے میری کمر ٹوٹ گئی۔آپ کا لقب سقااور کنیت ابوافضل وابوقربہ تھی۔آپ بھی یوم عاشورا شہید ہوئے۔آپ کی تاریخ شہادت مولیناروم نے مصرعہ"سردین رابریدبے دینے"سے نکالی ہے۔شہادت کے وقت آپ کی عمر ۳۴سال چند ماہ کی تھی۔
حضرت عباس علیہ السلام کی شہادت کے بعد حضرت علی اکبر(ع) نے اذن جہاد کی سعی بلیغ کی۔بالآخر آپ کامیاب ہو کر میدان میں تشریف لائے۔آپ کو امام حسین (ع) نے اپنے ہاتھوں سے آراستہ کیا۔حضرت علی (ع) کی تلوار حمائل کی زرہ پہنائی اور پیغمبراسلام کی سواری کے گھوڑے پر سوار فرمایا جس کا نام عقاب یا مرتجز تھا۔روانگی کے وقت امام حسین (ع) نے بارگاہ احدیت میں ہاتھوں کو بلند کرکے کہا۔"میرے پالنے والے اب تیری راہ میں میرا وہ فرزند قربان ہو نے کو جارہا ہے جو صورت وسیرت میں تیرے رسولِ کریم سے بہت مشابہہ ہے میرے مولا جب میں نانا کی زیارت کا مشتاق ہوتا تھا تو اس کی صورت دیکھ لیا کرتا تھا۔مالک اس کی تو ہی مدد فرمانا۔علماء نے لکھا ہے کہ میدان میں پہنچنے کے بعد حضرت علی اکبر (ع) نے رجز پڑھی اور مقابلہ شروع ہوگیا۔اور ایسی زبردست جنگ ہوئی کہ دشمنوں کے دانتوں پسینے آگئے۔صفوں کی صفیں الٹ گئیں۔ایک سوبیس دشمن فی الناروالسقر ہوگئے۔حضرت علی اکبر (ع) جو تین دن کے بھوکے اور پیاسے تھے۔باپ کی خدمت میں حاضر ہوئے،اور عرض کی بابا جان !پیاس مارے ڈالتی ہے۔پانی کی کوئی سبیل کر دیجئے امام حسین (ع) کے پاس پانی کہاں تھا جو زخموں سے چور شہزادہ علی اکبر جیسے بیٹے کی آخری فرمائش پوری فرماتے ۔آپ نے کہا بیٹا پانی تو تھوڑی ہی دیر میں نانا جان پلائیں گے۔البتہ اپنی زبان میرے منہ میں دے دو۔علی اکبر (ع) نے بے چینی میں زبان تو منہ میں دے دی۔لیکن فوراََ ہی کھینچ لی۔اور کہا بابا جان"لسانک ایبس من لسانی"۔آپ کی زبان تو میری زبان سے بھی زیادہ خشک ہے۔پھر امام حسین(ع) نے رسولِ کریم کی ایک انگھوٹھی علی اکبر کے منہ میں دی اور فرمایا بیٹا جاؤ،خداحافظ۔
حضرت علی اکبر (ع) دوبارہ میدان میں پہنچے،طارق ابن شیث جس سے عمر سعد نے حکومت رقہ اور موصل کاوعدہ کیا تھا۔علی اکبر کے مقابلہ میں آگیا۔آپ نے کمال جوانمردی سے اس پر نیزے کاوار کیا نیزہ اس کے سینے میں لگ کر پشت سے دوبالشت باہر نکل گیا۔اس کے مرتے ہی اس کا بیٹا عمر طارق میدان میں آگیا۔آپ نے اسے بھی قتل کر دیا۔پھر طلہ ابن طارق سامنے آیا آپ نے اس کاگریبان پکڑ کر اسے پچھاڑدیا۔یہ دیکھ کر عمر سعد نے مصراع ابن غالب کو حکم مقابلہ دیا۔وہ علی اکبر کے سامنے آکردوٹکڑے ہو گیا۔اس کے قتل ہونے سے لشکر میں ہلچل مچ گئی۔عمر سعد نے محکم ابن طفیل ....اور ابن نوفل کو دو ہزارسواروں کے ساتھ علی اکبر پر حملہ کرنے کا حکم دیا۔علی اکبر نے نہایت دلیری سے حملہ کا جواب دیااور پیاس سے بے چین ہو کر آپ امام حسین (ع) کی خدمت میں پھر حاضر ہوئے۔اور پانی کا سوال کیا۔آپ نے فرمایا ۔بیٹا!اب تمھیں ساقی کو ثر ہی سیراب کر یں گے۔نورنظر جان پدر جلد جاؤ،رسولِ کریم انتظار فرمارہے ہیں۔حضرت علی اکبر (ع) میدان میں واپس آئے۔دشمنوں نے یورش کر دی،آپ نے شیرگرسنہ کی طرح حملے کئے اور تھوڑی دیر میں ۸۰دشمنوں کوقتل کر ڈالا۔بالآخر منقذبن مرہ عبدی اور ابن نمیر نے سینے میں نیزہ مارا،آپ کے ہاتھ سے عنان فرس چھوٹ گئی اور آپ گھوڑے کی گردن میں لپٹ گئے۔گھوڑا جس طرف سے گزرتا تھا۔آپ کے جسم پر تلواریں لگتی تھیں۔یہاں تک کہ آپ کا جسم پارہا پارہ ہو گیا۔آپ نے آواز دی۔" یاابتاہ ادرکنی"۔بابا جان خبر لیجئے!امام حسین (ع) دوڑ کر پہنچے لیکن آپ سے قبل حضرت زینب پہنچ گئیں،علماء نے لکھا ہے کہ زینب نے وہاں پہنچ کر اپنے کو علی اکبر (ع) پرگرادیا تھا۔امام حسین (ع) نے انھیں خیمہ میں پہنچایااور علی اکبر کے چہرے سے خون صاف کیااور کہا اے بیٹے تیرے بعد اس زندگانی دنیا پر خاک ہے۔پھر آپ نے علی اکبر کو خیمہ میں لے جانے کی سعی کی۔لیکن ہر قسم کے ضعف نے کامیاب نہ ہونے دیا۔بالآخر بچوں کو آواز دی۔بچو!آؤاور میری مدد کرو۔چنانچہ بچوں کی امداد سے علی اکبر (ع) کالاشہ خیمہ کے قریب لایا گیا۔اور محذرت خصمت میں کہرام عظیم برپا ہوگیا،روضة الشہدا ۳۶۸ کشف الغمہ ۷۵ ابصارالعین ۳۴علامہ سماوی لکھتے ہیں کہ حضرت علی اکبر (ع) کا اصلی نام علی لقب اکبراور کنیت ابوالحسن تھی۔آپ کی عمر شہادت کے وقت ۱۸سال تھی۔
علامہ اربلی لکھتے ہیں کہ جب اما م حسین علیہ السلام بے یارومددگار ہوگئے تو آپ خود بقصد شہادت میدان کے لیے عازم ہوئے اور وہاں پہنچ کر آپ نے"ھل من ناصرینصرنا"۔کی آواز بلند کی ،جنوں کے ایک گروہ عظیم نے سعادت نصر ت حاصل کرنے کی خواہش کی آپ نے انھیں دعائے خیر سے یاد فرمایااور نصرت قبول کرنے سے یہ کہتے ہوئے انکار کر دیا کہ مجھے شرف شہادت حاصل کرنا ہے۔اور میں نے آواز استغاثہ اتمام حجت کے لیے بلند کیا ہے۔میرا مقصد یہ ہے کہ دشمنانِ خداورسول کے لیے میری مددنہ کرنے کا کوئی بہانہ باقی نہ رہے۔ابھی آپ جنون سے محوگفتگو تھے کہ ناگاہ حضر ت امام زین العابدین علیہ السلام اپنی کمال علالت کے باوجود ایک عصائے لیے ہوئے خیمہ سے نکل آئے امام حسین نے جنابِ ام کلثوم کو آوازدی۔بہن فوراََ عابد بیمار کو روکو کہیں ایسا نہ ہو کہ سادات کا سلسلہ نسل ونسب ہی ختم ہوجائے۔
سید الشہداء نے آواز استغاثہ کا اثر جب اپنے خیموں کے باشندوں پر دیکھا،توفوراََ واپس تشریف لاکر سب کو سمجھایا اور اپنی موت کا حوالہ دے کر اسرار امامت امام زین العابدین علیہ السلام کے سپرد فرمایا۔آپ روانہ ہواہی چاہتے تھے کہ بروایتے جناب سکینہ گھوڑے کے سم سے لپٹ گئیں۔امام حسین (ع) نے انھیں سینے سے لگایا۔رخسار کابوسہ دیا۔صبر کی تلقین کی اور جناب زینب کو سکینہ کی نگہداشت کی ہدایت فرمائی۔اس کے بعد حضرت علی اصغر (ع) کو جنھوں نے بروایتے اپنے کو جھولے سے گرا دیا تھا۔امام حسین (ع) نے بڑھ کر اپنی آغوش میں لیا اور مقتل کی طر ف روانہ ہو گئے۔
میدان میں پہنچ کر آپ ایک ٹیلہ پر بلند ہوئے اور آپ نے قوم اشقیا کو مخاطب کرکے کہا کہ دیکھومیں اپنے ششما ہے بچہ کو پانی پلانے کے لیے لایا ہوں۔اس کی ماں کا دودھ خشک ہو گیا ہے اور اس کی زبان سوکھ گئی ہے۔خدارااسے پانی پلا کر اس کی جان بچالو،اور سنو!اگر میں تمھارے زعم ناقص میں گناہگارہوسکتا ہوں تو میرے اس معصوم بچے میں گناہ کی صلاحیت نہیں ہے۔یہ تو بے خطا ہے۔اس صدائے پرتایثر کا اثر یہ ہوا کہ لشکر کا مزاج بگڑنے لگا۔شقی القلب لشکری روپڑے ،عمر سعد نے جب یہ دیکھا،فوراََ حرملہ ابن گاہل ازدی کو حکم دیا۔اقطع کلام الحسین ۔حسین (ع) کے کلام کو نوک تیر سے قطع کر دے۔حرمہ نے ترسہ شعبہ چلا کمان ہیں جوڑا اور گلوئے علی اصغر کی طرف رہا کیا تیر جو زہر میں بجھا ہوا تھا گلوئے علی اصغر پر لگا اور اس نے علی اصغر کے گلے کے ساتھ ساتھ امام حسین (ع) کا بازو بھی چھید دیا۔امام حسین (ع) نے بچے کو سینے سے لگا کر اس کے خون سے چلو بھر لیا اور چاہا کہ آسمان کی طرف پھینکیں۔جواب آیا۔یہ خون ناحق ہے اسے اس طرف نہ پھینکئے ،ورنہ قیامت تک کے لیے بارش کا سلسلہ بند ہو جائے گا۔آپ نے چاہا کہ اسے زمین کی طرف ہی پھینک دیں،ادھر سے بھی جواب مل گیا۔تو آپ نے اسے چہرئہ مبارک پر مل لیا۔اور فرمایا۔"ھکذاالاقی جدی رسول اللہ"۔ میں اسی طرح اپنے جدنامدار حضرت محمد مصطفےٰ (ص) کی خدمت میں پہنچوں گا اس کے بعد آپ نے ایک ننھی سی قبر تلوار سے کھودی اور اس میں حضرت علی اصغر (ع) کو دفن فرمادیا۔
ننھی سی قبر کھودکے اصغر(ع) کو گاڑ کے
شبیر اٹھ کھڑے ہوئے دامن کوجھاڑ کے
حضرت علی اصغر (ع) کی شہادت کے بعد نہ سرکار ہے نہ دربارنہ لشکر ہے۔نہ علمدار،علی اصغر (ع) کو ننھی سی قبر کھود کر دفن فرماتے ہیں اور تن تنہا خیام حرم کی طرف آتے ہیں اور اہلبیت (ع) سے رخصت ہوتے ہیں اور فرماتے ہیں اے زینب (ع)،اے ام کلثوم،اے رقیہ ،اے رباب(ع)،اے سکینہ (ع) علیکن منی السلام سلام الوداع۔یہ میری آخری رخصت ہے۔اے بہنو!اے بیبیو!اے بیٹیو!بس خدا حافظ وناصر ہے اور وہی حامی و مدد گار ہے۔بہن زینب دیکھنا،ہرمصیبت میں ،ہر بلا میں خدا کو یادرکھنا۔اپنے رحیم وکریم خالق کو نہ بھولنا ،عنان صبر کو ہاتھ سے نہ چھوڑنا۔راہ الہی میں ہر ایک رنج ومصیبت کو راحت سمجھنا،رسی سے ہاتھ بندھیں تو اف نہ کرنا۔چادر چھینے تو غم نہ کھانا۔اماں کے صبر اور بابا کے حلم کے جو ہر دکھلانا۔نانا رسول تمھارے مدد گار،اور خدا تمھاراحامی ہے،ہاں لٹنے کے لیے تیار ہو جاؤ قید ہونے کے لیے کمروں کو کس لو،چادروں کو اچھی طرح اوڑھ لومقنعوں کو مضبوطی سے باندھ لو،اے بہن زینب یہ یتیم بچے ،یہ اسیران اہل بیت (ع) کا قافلہ بس تمھارے ساتھ ہے۔بیمار کر بلا سید سجادزین العابدین کو غش سے جگادو،ہوشیار کردو،اب طوق وزنجیر پہننے اور قید واسیر ہونے کا وقت آگیا ہے۔بیڑیاں پہننے اور کانٹوں پر پیدل چلنے کا زمانہ قریب ہے۔اب جنگل کے کانٹوں بھرے راستے ہیں اور صحرانوردی ہے۔کبھی کوفہ دشام کے بازار ہیں اور خلقت کا ہجوم ہے۔تماشائیوں کا مجمع ہے،ماں بہنوں کے ننگے سرہیں اونٹوں کی مہارہے اور زین العابدین (ع) ہے،یزید اور ابن زیاد کے دربار میں شمر کے تاز یانے ہیں اور ہمارا لاڈلا بیمار ہے۔ اے زین العابدین (ع)
پیاسا گلا کٹائے یہ عہدہ ہے باپ کا
پہنوگلے میں طوق یہ حصہ ہے آپ کا
بس ہمارے بعدد نیا کے امام تم ہو۔اے جان پدر اس کشتی کی ملاحی اب تیری ذات پر ہے۔دیکھنا باپ کی محنت رائیگاں نہ جانے پائے،عنان صبروتحمل ہاتھ سے نہ چھوٹے۔کربلا سے کوفہ اور کوفہ سے شام تک ماں بہنوں کے قافلوں کے ساتھ بیڑیاں پہنے،طوق ڈالے۔ننگے پاؤں جاؤ۔صبرو رضائے الہی کے جو ہر دکھلاؤ۔توحید کے خطبے پڑھو۔ہدایت کے راستے بتاؤ۔ہاں ہاں بیٹا دیکھنا ۔بیڑی پہن کر سلسلہ صبر چھٹ نہ جائے،بس ہم راہ رضاسر سے طے کرنے کو تیارہیں اور تم اپنے پیروں سے طے کرنا۔راہ الہی میں خاردار طوق کو پھولوں کا ہار سمجھنا اور عشق الہی میں لوہے کی تپتی بیڑیوں کو محبت خدا کی زنجیریں جاننا۔
پھٹے پرانے کپڑے منگاتے ہیں۔پوشاک کے نیچے پہنتے ہیں،انھیں بھی جگہ جگہ سے چاک فرمادیتے ہیں۔سبب پوچھا جاتا ہے تو فرماتے ہیں کہ میرے شہید ہوجانے کے بعد یہ ظالم شقی میرالباس بھی لوٹیں گے اور کپڑے بھی اتاریں گے۔شائد یہ پھٹے پرانے کپڑے نیچے دیکھ کر چھوڑدیں اور اس طرح میری لاش برہنگی سے بچ جائے ۔
بہن کو رخصت فرماکر،بیبیوں کو الوداع کہہ کر،ماں کی کنیز فضہ پالنے والی فضہ کو بھی سلام کرکے بالی سکینہ سینہ پر سونے والی لاڈلی بیٹی کو چھاتی سے لگا کر منہ چومتے اور فرماتے تھے"بیٹی"خدا کے سپر د کیا۔خیمہ کا پردہ اٹھا،باہر تشریف لائے۔بہن نے رکاب تھامی،ذوالجناح پر سوار ہوئے اور میدان کا رزار کو روانہ ہوگئے-
0 comments:
Post a Comment