لیت أشیاخی ببدر شهدوا
جزع الخزرج من وقع الأسل
لأهلوا و استهلوا فرحا
ثم قالوا یا یزید لا تشل
قد قتلنا القوم من ساداتهم
و عدلناه ببدر فاعتدل
لعبت هاشم بالملک فلا
خبر جاء و لا وحی نزل
لست من خندف إن لم انتقم
من بنی أحمد ما کان فعل
ترجمہ:
اے کاش میرے اجداد جو بدر میں قتل ہو گئے اگر زندہ ہوتے تو ان کےنالہ و فریاد ، گریہ و زاری کو دیکھتے۔
وہ " بیٹا خوش رہو" کہتے اور خود بھی خوشی سے پھولے نہ سماتے، اور کہتے اے یزید تم نے بہت اچھا کیا۔
ہم نے اس قوم کے بزرگوں اور مردوں کو قتل کر دیا ہے تاکہ ہمارے بدر میں مارے جانے والوں کے برابر ہو جائیں۔
بنی ہاشم نے صرف ڈھونگ رچایا تھا ورنہ نہ کوئی وحی نازل ہوئی اور نہ کوئی خبر آئی۔
میں اہل خندق میں سے نہیں ہوں کہ پیغمبر اسلام سے اپنا انتقام نہ لوں جو انہوں نے وہاں کیا۔
وہ " بیٹا خوش رہو" کہتے اور خود بھی خوشی سے پھولے نہ سماتے، اور کہتے اے یزید تم نے بہت اچھا کیا۔
ہم نے اس قوم کے بزرگوں اور مردوں کو قتل کر دیا ہے تاکہ ہمارے بدر میں مارے جانے والوں کے برابر ہو جائیں۔
بنی ہاشم نے صرف ڈھونگ رچایا تھا ورنہ نہ کوئی وحی نازل ہوئی اور نہ کوئی خبر آئی۔
میں اہل خندق میں سے نہیں ہوں کہ پیغمبر اسلام سے اپنا انتقام نہ لوں جو انہوں نے وہاں کیا۔
حوالہ
سیره ابن هشام جلد 3، صفحه 143 تاریخ طبری جلد 7،
اللهوف ص : 181، حیاه الحسین جلد3، صفحه
0 comments:
Post a Comment