اہل سنت کے بزرگ موٴرخین کی ایک جماعت نے معاویہ کی طبیعت، شراب نوشی کی طرف مائل ہونے کے واقعہ کو ایک تعجب خیز تاریخی واقعہ کے ضمن میں اس طرح نقل کیا ہے:
عثمان کی خلافت کے دورمیں جب معاویہ شام کا گورنراور عبدالرحمن بن سہیل انصاری فوج کا کمانڈر تھا ۔ اس زمانے میں شراب سے لدا ہوا ایک قافلہ عبدالرحمن کے پاس سے گذرا اور وہ ساری شراب معاویہ کی تھی یہ دیکھ کر عبدالرحمن نے نیزہ اٹھا کر اونٹوں کے اوپر حملہ کردیا، قافلہ کے محافظ غلاموں نے اس کا مقابلہ کیا اور اس کی خبر معاویہ کو پہنچا دی ۔ معاویہ نے حکم دیا کہ عبدالرحمن سے مقابلہ نہ کرو کیونکہ اس کی عقل خراب ہوگئی ہے ۔ عبدالرحمن نے اس کے جواب میں کہا : ہرگز ایسا نہیں ہے ۔ خدا کی قسم میری عقل صحیح و سالم ہے ۔ میں نے اس قافلہ پر حملہ اس لئے کیا ہے کہ رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ) نے ہمیں شراب سے منع کیا ہے ۔ خدا کی قسم اگر میں زندہ رہا اورمعاویہ کا وہ دردناک واقعہ جس کی پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ) نے پیشین گوئی کی تھی، میرے سامنے رونما ہوا تو میں اس کے پیٹ کو پھاڑ دوں گا یا اس راہ میں شہید ہوجاؤں گا(۱)۔

احمد بن حنبل اپنی کتاب مسند (۲) میں عبداللہ بن بریدہ سے نقل کرتا ہے : میں اپنے والد کے ساتھ معاویہ کے پاس گیا تو کھانا کھانے کے بعد شراب لائی گئی ، معاویہ نے شراب پی اور میرے والدسے بھی پینے کیلئے کہا۔ میرے والد نے کہا : جب سے پیغمبر اکرم(ص) نے شراب کو حرام کیا ہے اس وقت سے اب تک ہم نے شراب نہیں پی(۳)۔
1ـ اسد الغابه، ج 3، ص 299; ابن حجر، الاصابه، ج 2، ص 401; تهذیب التهذیب، ج 6، ص 192.
عثمان کی خلافت کے دورمیں جب معاویہ شام کا گورنراور عبدالرحمن بن سہیل انصاری فوج کا کمانڈر تھا ۔ اس زمانے میں شراب سے لدا ہوا ایک قافلہ عبدالرحمن کے پاس سے گذرا اور وہ ساری شراب معاویہ کی تھی یہ دیکھ کر عبدالرحمن نے نیزہ اٹھا کر اونٹوں کے اوپر حملہ کردیا، قافلہ کے محافظ غلاموں نے اس کا مقابلہ کیا اور اس کی خبر معاویہ کو پہنچا دی ۔ معاویہ نے حکم دیا کہ عبدالرحمن سے مقابلہ نہ کرو کیونکہ اس کی عقل خراب ہوگئی ہے ۔ عبدالرحمن نے اس کے جواب میں کہا : ہرگز ایسا نہیں ہے ۔ خدا کی قسم میری عقل صحیح و سالم ہے ۔ میں نے اس قافلہ پر حملہ اس لئے کیا ہے کہ رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ) نے ہمیں شراب سے منع کیا ہے ۔ خدا کی قسم اگر میں زندہ رہا اورمعاویہ کا وہ دردناک واقعہ جس کی پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ) نے پیشین گوئی کی تھی، میرے سامنے رونما ہوا تو میں اس کے پیٹ کو پھاڑ دوں گا یا اس راہ میں شہید ہوجاؤں گا(۱)۔
احمد بن حنبل اپنی کتاب مسند (۲) میں عبداللہ بن بریدہ سے نقل کرتا ہے : میں اپنے والد کے ساتھ معاویہ کے پاس گیا تو کھانا کھانے کے بعد شراب لائی گئی ، معاویہ نے شراب پی اور میرے والدسے بھی پینے کیلئے کہا۔ میرے والد نے کہا : جب سے پیغمبر اکرم(ص) نے شراب کو حرام کیا ہے اس وقت سے اب تک ہم نے شراب نہیں پی(۳)۔
1ـ اسد الغابه، ج 3، ص 299; ابن حجر، الاصابه، ج 2، ص 401; تهذیب التهذیب، ج 6، ص 192.

0 comments:
Post a Comment