فيسبوک گروپ

12/25/2010

؟؟کیا االلہ تعالیٰٰ حضرت عمر سے مصافحہ کرے گا

اھل سنت حضرات ،مسجدوں کے منبروں سے اصحاب ثلاثہ کے فضائل بیان کرتے ہیں ،مگر تحقیق نہیں کرتے کہ یہ احادیث صحیح بھی ہیں یا نہیں ، کہیں ایسا تو نہیں کہ بنو امیہ کی ٹیکسال سے یہ خود ساختہ فضائل تیا ر ہوے ہو اور عوام میں نشر کر دیے ہو ،خیر آ ج ہم ایسی حدیث پر بحث کریں گے جس میں حضرت عمر کی فضیلت بتائی گئی ہے کہ  قیامت کے دن اللہ حضرت صاحب سے مصافحہ کرے گا ، جبکہ یہ حدیث سند کے لحاظ ضعیف اور منکر ہے .انشاءاللہ ہم اس پر مکمل جرح  نقل کریں گے.

یہ منکر حدیث مندرجہ ذیل کتب حدیث میں موجود ہے 

    سنن ابن ماجہ ، ج 1، ص 76--77

    مستدرک امام حاکم،ج 3 ، ص 299

حدیث کا متن ملاحظہ کریں اور اس کے بعد سند

حضرت ابی بن کعب (ض) سے روایت ہے کہ نبی پاک (ص) نے فرمایا : الحق (اللہ ) سب سے پہلے (قیامت کے دن ) عمر سے مصافحہ کرے گا اور سب سے پہلے عمر کا ہاتھ پکڑ کر انھیں جنت میں داخل کرے گا

اس منکر روایت کی سند اس طرح ہے

ابن ماجہ کی سند

حدثنا اسماعیل بن محمد طلحی ،انبانا داود بن عطا المدینی ،عن صالح بن کیسان ،عن ابن شہاب ،عن سعید بن مسیب ،عن ابی بن کعب  قال 

مستدرک کی سند 

اخبرنا عبداللہ بن اسحاق ابن الخراسانی ،ثنا احمد بن محمد بن عبدالحمید الجعفی ، ثنا الفضل بن  جبیر الورق ، ثنا اسماعیل بن زکریا الخلقانی ،ثنا یحیی بن سعید ،عن سعید المسیب ، عن ابی بن کعب ،قال

تحقیق 
ابن ماجہ والی سند میں ایک راوی داود بن عطاء ہے ، جس کے بارے میں حافظ ابن حجر لکھتا ہے

ضعیف
(تقریب :307)

بخاری کہتا ہے : منکر الحدیث 

ابوزرعہ کے نزدیک بھی یہ منکر الحدیث ہے

امام نسائی کہتا ہے :ضعیف

ابن عدی کہتا ہے : اس کی  احادیث کثیر نہیں ہیں اور اس کی بعض احادیث میں نقارت پائی جاتی ہے 

دارقطنی نے اس کو متروک کہا ہے .

ابن حبان نے اس کو مجروحین میں لا کر اس پر جرح کی ہے 

حافظ ذہبی نے بھی اس کو ضعیف  کہا ہے 

مندررجہ بالا تمام جرح ،داود بن عطا پر آپ تہذیب ُُ الکمال مزی میں ملاحظہ کر  سکتے ہیں 
 (تہذیب الکمال ، ج 8، ص 420 )

ہمارے پاس جو سنن ابن ماجہ کا نسخہ ہے ،جو کہ  فوادعبد الباقی کی  تحقیق کے ساتھ ہے ، اس میں بھی اس روایت پر جرح منقول ہے 

مجمع الزوائد میں ہے کہ اس کی اسناد ضعیف ہیں ،اس کی سند میں داود بن عطا ہے ، اس کے ضعیف ہونے پر اتفاق ہے (علماء رجال  کا
 (سنن ابن ماجہ ،ج 1،ص 39)

یہی جرح سندھی نے بھی شرح سنن ابن ماجہ  میں کی ہے 
(سنن ابن ماجہ ، ج 1، ص 76--77)

حافظ ابن  کثیر ناصبی اپنی کتاب جامع المسانید میں اس روایت کے بارے میں لکھتا ہے  

یہ حدیث سخت منکر ہے بلکہ میرے  نزدیک اس کا  موضوع ہونا بعید ازمکان نہیں ہے .اس کی سند میں جو آفت ہے وہ داود بن عطاء کی وجہ سے ہے 
(جامع المسانید ،  ج 1،  ص 93)

علامہ البانی نے اس حدیث کو  منکر جدا`` یعنی سخت منکر حدیث کہا ہے 
(السلتہ الضعیفہ ،ج 5، ص 506) (  ضعیف ابن ماجہ : 13)

مستدرک والی سند پر جرح 

مستدرک والی سند ضعیف ہے 

حافظ ذہبی تلخیص مستدرک میں کہتا ہے : یہ حدیث موضوع ہے ،اس کی اسناد جھوٹی ہیں.اور یہی قول ابن الملقن کا ہے 
(تلخص مستدرک ، ج 3 ، ص 299)

حافظ العقیلی ، اس  سند کا راوی فضل بن جبیر الوارق کو  کتاب االضعفاء میں ذ کر کرتا ہے .
(کتاب االضعفاء،ص 1133)

الکامل ابن عدی ، تاریخ دمشق اور العلل المتناہیہ میں اس روایت کا ایک موضوع شاہد (تائید کرنے والی روایت ) بھی ہے 

اس روایت میں قاضی وہب بن وہب ابو البختری کذاب راوی ہے
(المیزان،ج7،ص 149) اور محمد بن ابی حمید الا نصاری ضعیف ہے .(تقریب:839)

ملاحظ کریں 
 (تاریخ دمشق ، ج 44،ص 158) 

خلاصہ : 
یہ روایت اپنی تمام سندوں کے ساتھ ضعیف و مردود بلکہ موضوع ہے .

میں اپنی یہ تحریر اپنی جدہ ماجدہ سیدہ فاطمہ الزھراء (ع) سے  منسوب کرتا ہو ں اور دعا کرتا ہوں ،کل محشر کے دن اللہ مجھے اور تمام  مومنین کو سیدہ (ع) کی شفاعت نصیب فرمائیں 
(آمین)

0 comments:

Post a Comment