اھل سنت کے عالم ڈاکٹر پروفیسر خورشید احمد فارق ،جو کہ دہلی یونیورسٹی میں پروفیسر بھی رہ چکے ہیں ،اپنی کتاب حضرت عمر کے سرکاری خطوط میں بیان کرتے ہیں کہ
ان (عمر) کا اجتہاد آزاد اور با جرات تھا وہ اگر کسی بات کو درست سمجھتے یا خلافت کے مفاد میں تو اسے بے دھڑک اختیار کرلیتے تھے ، چاہے ایسا کرنے میں سنت رسول (ص) اور عمل صدیق کی مخالفت ہی کیوں نہ کرنی پڑتی ، اگر حالات کا تقاضا ہوتا تو وہ قرآن کے ضابطوں کو بھی نظر انداز کر دیتے تھے
(حضرت عمر فاروق کے سرکاری خطوط، ص 25 ، ناشر ادارہ اسلامیات انار کلی لاھور )
تبصرہ
ڈاکٹر خورشید صاحب کے الفاظ خود واضح ہیں ان پر تبصرہ کی ضرورت نہیں
اھل سنت حضرات اپنے اس عالم کے بارے میں کیا کہیں گے،کیا سپاہ یزید،ڈاکٹر خورشید صاحب کو بھی حقائق بیان کرنے پر کافر قرار دے گی
1 comments:
ye alim sunni nahi ,balke taqya ke bhes men khatmal he..ham quraan ki baat ko mane ge na ke is ghadhy ki baat ko.sahaba ke khilaf jo bhi boly ga us ki baat mardood he q k sahaba ka hidayat yafta or jannati hona quraan se saabit.kisi kutty ke bhonkny par ham sahaba ko bura nahi kahen ge.
Post a Comment