بحارالانوار میں امالی شیخ سے اسناد کے ساتھ فضل بن یسار سے منقول ہے کہ حضرت امام جعفر صادق (ع) نے فرمایا:
اپنے نوجوانوں کوغالیوں سے بچائے رکھو کہیں انہیں خراب نہ کر دیں ،کیونکہ غالی روئے زمین پر اللہ کی بدترین مخلوق ہیں ، غالی اللہ تعالیٰ کی عظمت کو گھٹاتے ہیں اور خدا کے بندوں کے لئے ربوبیت کے دعویدار ہیں .اللہ کی قسم ! غالی تو یہودو نصاریٰ ،مجسوس اور مشر کین سے بھی بد تر ہیں ،
پھر امام (ع) نے فرمایا:
اگر ہماری طرف غالی لوٹ کر آئے تو ہم اسے قبول نہیں کریں گے اور اگر مقصر لوٹ کر آئے توہم اسے قبول کر لیں گے .آپ (ع) سے پوچھا گیا : فرزند رسول (ص) ! یہ کیسے ? فرمایا : اس لئے کہ غالی نماز،روزے،حج اور زکوٰٰۃ کی عادت ترک کر چکا ہوتا ہے پس وہ اپنی ترک عادت پر قدرت نہیں رکھتا لہذا خدا کی فرمانبر داری کی طرف واپس نہیں آسکتا ، جبکہ مقصر کو معرفت ہوجاتی ہے تو وہ عمل بھی کرتا ہے اور اطاعت و فرمانبرداری بھی
(منھاج البرعہ فی شرح نھج البلاغہ ، ج 2، ص 331، طبع ایران )
اللہ تعالیٰٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں غالیوں اور مقصروں کے شر سے محفوظ رکھے اور صحیح معنوں میں اطاعت و محبت اھل بیت (ع) کرنے کی توفیق عطا کرے
(آمین)
0 comments:
Post a Comment