فيسبوک گروپ

12/25/2010

فضیلت ابوبکر میں ایک ضعیف روایت

کچھ عرصے قبل ایک کتاب ضرب حیدری ،غلام رسول قاسمی کی  منظر عام پر  آئی جس میں تفضیلیوں کی رد کی ناکام کوشش کی گئی اور فضیلت ابو بکر کو ثابت کرنے کے لئے پر قسم کی ضعیف اور موضو ع روایت سے استدلال کیا گیا.آج ہم اسی کتاب سے ایک حدیث پر جرح کو نقل کریں گے .

ضرب حیدری کے صفحہ 48 پر ایک باب بنام "احادیث میں افضلیت صدیق "  باندھا گیا اور اس میں موضوع روایات سے استدلال کیا گیا ،انہی موضوع روایات میں سے ایک روایت جامع ترمذی سے نقل کی گئی یعنی
" کسی قوم  کو یہ زیب نہیں دیتا کہ ابوبکر کی موجودگی میں کوئی اور امامت کرے  "
(ضرب حیدری ، ص 48)

افسوس اس ضیعف روایت کو نقل کیا گیا مگر سند کو مولف کتاب، ہضم کر گیا جیسے ابوبکر صاحب باغ فدک کو ہضم کر گئے تھے

آج ہم اس روایت کی سند پر مکمل تبصرہ کریں ،رجال اھل سنت کی مدد سے اور ثابت کریں گے کہ محدثین اھل سنت اس روایت کی کیا حیثیت بیان کرتے ہیں

یہ  روایت جامع ترمذی ،ج 6، ص 51،باب42 میں موجود ہے .اس روایت کی سند اس طرح ہے

حدثنا نصر بن عبدالرحمان کوفی ،قال:حدثنا احمد بن بشیر،عن عیسیٰ بن میمون الانصاری ،عن قاسم بن محمد ،عن عائشہ ،قالت

اس روایت کی سند میں ایک راوی عیسیٰٰ بن میمون الانصاری موجود ہے ،اس کے بارے میں علمائے رجال اس طرح جرح کرتے ہیں  

حافظ ابن حجر عسقلانی کے نزدیک یہ ضعیف ہے 

(تقریب :  772)

یحییٰٰ بن معین : یہ کچھ شے نہیں ہے

عمرو بن علی اور ابو حاتم : متروک الحدیث ہے

بخاری : منکر الحدیث

نسائی : یہ ثقہ نہیں ہے

(تہذیبُُ الکمال مزی ، ج 23،ص 50 تا 51)

ابن حبان نے کہا ہے کہ عیسیٰٰ بن میمون جتنی احادیت روایت کرتا ہے وہ سب کی سب موضوعات میں شمار ہوتی ہیں

(میزان ،ج 3،ص  326)

ترمذی نے جامع ترمذی میں ایک حدیث کو درج  کرنے کے بعد عیسی ٰ بن میمون کے بارے میں کہا ہے کہ یہ حدیث میں ضعیف ہے 

 (جامع ترمذی ، ج 2، ص 385)

شیخ البانی نے بھی اس حدیث کو سخت ضعیف قرار دیا ہے 

(السلسلتہ الضعیفہ ، ج 10،ص 365)

تمام ناصبی حضرات کو شرم کرنی چاہیئے کہ وہ اپنی  خلیفہ کی فضیلت ثابت کرنے کے لئے سخت قسم کی ضعیف روایات سے استدلال کرتے ہیں ،کچھ تو خوف خدا کرو 

انشاءاللہ ، امام علی (ع) کا بیٹا ،امام محمد مہدی  (ع) ضرور ناصبیوں کے سروں پر ضرب حیدری لگائے گا
 

0 comments:

Post a Comment