فيسبوک گروپ

12/25/2010

فقہُُ الحدیث:اگر زوال سے پہلے یا اس کے بعد شوال کا چاند ثابت ہو جائے تو اس کا حکم

جیسا کہ آپ لوگوں کو علم ہے کہ اس سال ہمارے ملک پاکستان میں شیعہ امامیہ میں جو مقلد تھے حافظ بشیر حسین صاحب کے, انھون نے تیسواں روزہ رکھا تو زوال کے بعد معلوم ہوا کہ ان مومنین کے مرجع کے نزدیک عید ہے اور یہ لوگ اپنے روزے افطار کر لیں ،تب ہم سے بھی استفتا ء ہوا کہ ایسے میں عید کی نماز کا کیا حکم ہے کہ اسی دن پڑھی جائے یا اگلے دن .ہم اس بات کا جواب بھی حدیث معصوم (ع) سے لیتے ہیں کہ وہ اس بارے میں کیا حکم صادر کرتی ہیں. 

روى محمد بن قيس عن أبي جعفر عليه السلام قال: " إذا شهد عند الامام شاهدان أنهما رأيا الهلال منذ ثلاثين يوما أمر الامام بإفطار ذلك اليوم إذا كانا شهدا قبل زوال الشمس، وإن شهدا بعد زوال الشمس أمر الامام بإفطار ذلك اليوم وأخر الصلاة إلى الغد فيصلي بهم 

(من لا يحضره الفقيه،ص 191،باب:145،حدیث:2037)

ترجمہ

محمد بن قیس حضرت امام محمد باقر (ع) سے روایت کرتے ہیں کہ امام (ع) نے فرمایا:جب دو عادل آدمی امام کے پاس شہادت دیں کہ انہوں نے تیس ماہ رمضان کو شوال کا چاند دیکھا ہے تو یہ شہادت اگر زوال آفتاب سے پہلے ہو تو امام لوگوں کو روزہ افطار کرنے کا حکم دے گا (اور نماز بھی پڑھا جائے گا)  اور اگر زوال آفتاب کے بعد ہو تو روزہ افطار کرنے کا حکم تو دے گا مگر نماز عید کو دوسرے دن تک موخر کر دے گا اور سب لوگو ں کے ساتھ نمازعید پڑھے گا.

(من لا يحضره الفقيه،ص 191،باب:145،حدیث:2037)

:سند حدیث کی تحقیق

سند کے لحاظ سے یہ حدیث ابراهيم بن هاشم  کی وجہ سے حسن کے درجہ کی ہے 
امام الخوئی (رہ) نے شیخ صدوق (رہ) سے محمد بن قیس تک کے طریق کو صحیح کہا ہے 
(المعجم ، ج 18،ص 168)

0 comments:

Post a Comment