پہلے سے رسم چلى ارہى تھى كہ ہر گورنر جب چاہتا بيت المال سے قرض لے ليتا پھر معين مدت ميں واپس كر ديتا ، وليد نے بھى ايسا ہى كيا قرض كى معينہ مدت ختم ہونے كے بعد ابن مسعود نے اس سے تقاضا كيا ، پھر ٹال مٹول ہوا تو اپ نے اصرار كيا ، ابن مسعود كى يہ گستاخى وليد كيلئے ناقابل برداشت تھى ، ايك خط عثمان كو لكھ كر اس مزاحمت سے چھٹكارے كے سلسلے ميں مدد كى درخواست كى ، عثمان نے ابن مسعود كو فوراً خط لكھا (تمہارى حيثيت ميرى جانب سے صرف خزانچى كى ہے ، جو روپيہ بھى وليد خزانے سے لے تمھيں اسكے مطالبے كا حق نہيں )
1_ مسند احمد بن حنبل ج 5ص389 ، مستدرك ج3ص 315 و 320 ، حليہ ابو نعيم ج1ص 126 و 127 كنزالعمال ج 7ص 55 ، بخارى كى بعض روايات خود اپ ہى سے مروى ہيں 2_ اسد الغابہ 3/ 258
جب يہ خط ابن مسعود كو ملا وہ سمجھ گئے كہ اس اہم ذمہ دارى كو وہ بخوبى نبھا نہ سكيں گے ، انھوں نے خزانے كى چابى وليد كے سامنے ڈالتے ہوئے كہا :
ميں اج تك سمجھتا تھا كہ مسلمانوں كے مال كا محافظ ہوں ، ليكن يہ نہيں معلوم تھا كہ تمھارا خزانچى ہوں ، مجھے اسكى ضرورت نہيں ، ميں اس عہدے سے استعفا ديتا ہوں_ (1)
ابن مسعود خزانچى كے عہدے سے مستعفى ہونے كے بعد بھى كوفے ہى ميں رہے اس واقعے كے بارے ميں عقد الفريد ميں ہے كہ :
ابن مسعود نے مسجد كوفہ ميں مسلمانوں سے خطاب كيا ، اے كوفہ والو تمھيں معلوم ہونا چايئے كہ اج رات تمہارے بيت المال سے ايك لاكھ كم ہو گيا ہے ، بغير اسكے كہ امير المومنين حكم ديں ،يا ميرى ذمہ دارى ختم كريں وہ نكال ليا گيا ہے _
وليد نے سارى كہانى اور ابن مسعود كى باتيں عثمان كو لكھ ديں عثمان نے بھى ابن مسعود كو اس عہدے سے برطرف كر ديا (2)
بلاذرى انساب الاشراف ميں لكھتے ہيں كہ :
جس وقت ابن مسعود نے وليد كے سامنے چابى پھينكى تو غصے سے كہا ، جو شخص احكام خدا كو اپنى خواہش كے مطابق پھرائے تو خدا وند عالم اسكى عاقبت خراب كردے گا ، اور جو شخص اپنى خواہش كے مطابق اسے بدل دے تو خدا اس پر غضبناك ہوتا ہے ، ميں عثمان كو ايسا ہى پا رہا ہوں ، كيا يہ جائز ہے كہ سعداور وقاص جيسى شخصيت كو ہٹا كر كوفے كى گورنرى وليد كو ديدى جائے ؟
ابن مسعود اكثر فرماتے ، سب سے اچھى بات قران ميں خدا كى بات ہے ، اور سب سے پسنديدہ راستہ وہى ہے جسے پيغمبر خدا نے دكھايا ، اور بد ترين كام بدعت ہے ، اور ہر بدعت گمراہى ہے ، اور گمراہى كا نتيجہ اتش دوزخ ہے (3) وليد نے يہ سارى باتيں اور ابن مسعود كى طنزيہ تقرير يں عثمان كو لكھ ماريں اخر ميں لكھا كہ ابن مسعود تمہارى برائياں كرتے ہيں ، تمھيں گالياں ديتے ہيں ، عثمان نے ان كو مدينے بلا بھيجا _
1_ انساب الاشراف بلاذرى ج5ص 36
2_عقد الفريد ج2 ص272
3_ ا نساب الاشراف ج5ص36
جس وقت كوفہ والوں كو مدينے ميں ابن مسعود كے حاضر ہونے كى خبر ملى اپ كے گرد جمع ہو گئے ، ان سے كہا كہ اپ نہ جايئے _
يہيں ہم لوگوں كے پاس رہيئے ہم لوگ اپ پر اذيت نہ ہونے ديں گے ابن مسعود نے ان لوگوں كو جواب ديا _
انہوں نے ميرے اوپر اطاعت كا حق ڈالا ہے ، جہاں تك ميرى بات ہے ميں نہيں چاہتا كہ ان كے اوپر فتنے كا دروازہ كھولنے والا پہلا شخص بنوں اور ان كے حكم كى نافرمانى كروں (1)
استيعاب ميں ہے كہ ابن مسعود نے كوفے والوں كو يہ جواب ديا ، يہ اوضاع و احوال اپنے پيچھے فتنے لئے ہوئے ہيں ، مجھے پسند نہيں كہ فتنہ ميرے ہاتھوں شروع ہو _
كوفے كے باشندے ابن مسعود كو رخصت كرنے دور تك گئے ، انھوں نے تمام لوگوں كو تقوى اور احكام خداوندى پر عمل كرنے كى نصيحت كى پھر ان لوگوں سے كہا كہ اپنے گھروں كو واپس جائيں ، اور خود مدينے كى طرف چل پڑے _
كوفے والوں نے بھى ابن مسعود كى ستايش كى ، جس وقت وہ مدينے كى طرف روانہ ہوئے تو انكى زحمتوں اور حقوق كا شكريہ ادا كرتے ہوئے كہنے لگے ، خدا وند عالم اپ كو جزائے خير دے ، اپ نے ہمارے ناواقفوں كو دين سے اشنا كيا ، اور واقفكاروں كو دين كا ثبات عطا كيا ، ہميں قران سكھايا ، دين و ائين سے اشنا كر كے بينا كيا ، واقعى اپ اچھے مسلمان ، اچھے خير خواہ اور مہربان بھائي كى طرح رہے ، پھر الوداع كہكے سبھى لوٹ گئے (2)
ابن مسعود مدينہ پہونچكر سيدھے مسجد ميں گئے ، اس وقت عثمان منبر پر تقرير كر رہے تھے ، ابن مسعود كو ديكھا تو گفتگو كا رخ بدل كے بولے _
يہ ديكھو چوپايہ پست خصلت اور پھكڑ تمہارے درميان اگيا ، مانند اسكے كہ جب روٹيوں كى طرف ہاتھ بڑھايا جائے تو جو كھايا ہے قئے كر دے _
ابن مسعود نے عثمان كے زخم زبان كا جواب ديا :
نہيں ، عثمان ميں ايسا نہيں ہوں ، بلكہ ميں وہ صحابى رسول ہوں جسے جنگ بدر اور بيعت رضوان ميں شريك ہونے كا فخر حاصل ہے (3)
1_ ا نساب الاشراف بلاذرى ج 5ص36
2_ استيعاب ميں حالات بن مسعود ديكھئے
3_ ابن مسعودنے اس جواب سے عثمان پر طنز كيا ، كيونكہ عثمان نہ تو جنگ بدر مين شريك تھے نہ بيعت رضوان ميں
عائشه بھى حجرے سے چيخ پڑيں ، ارے عثمان تم رسول كے ہمدم اور صحابى كے لئے ايسى بات كہہ رہے ہو؟
عثمان نے عائشه كے جواب ميں چلا كر كہا ، خاموش رہو ، اور پھر حكم ديا كہ ابن مسعود كو مسجد سے نكال باہر كر ديا جائے _
خليفہ كے حكم سے ابن مسعود كو بڑے توہين اميز انداز ميں مسجد سے نكالا گيا ، عبداللہ زمعہ نے انكو زمين پر پٹك ديا ، يہ بھى كہتے ہيں كہ عثمان كے غلام يحوم نے انھيں دونوں ٹانگيں پكڑ كر اٹھا يا اور اتنى زور سے زمين پر پٹكا كہ پسلياں ٹوٹ گئيں_
حضرت علي(ص) جو اس سارے منظر كو ديكھ رہے تھے _فرمايا اے عثمان صرف وليد بن عقبہ كى رپورٹ پر صحابى رسول خد(ص) ا كے ساتھ يہ سلوك كر رہے ہو؟ عثمان نے جواب ديا نہيں ،صرف وليد كى رپورٹ ہى نہيں ،ميں نے زبيد بن صلت كندى كو بھى تحقيقات كے لئے كوفہ بھيجا تھا ، ابن مسعود درد كى شدت سے تڑپ رہے تھے ،چلانے لگے ، خون عثمان حلال ہے حضرت على نے عثمان كو جواب ديا _
تم نے زبيد جيسے غير معتبر پر اعتماد كيا ہے ، يہ فرمايا اور ابن مسعود كو علاج كرانے كيلئے اپنے گھر ليكر چلے گئے _
ا بن مسعود اس حادثے كے بعد مدينے ہى ميں رہے ،عثمان نے انھيں مدينے سے باہر جانے كى اجازت نہيں دى ، يہاں تك كہ جب وہ اچھے ہو گئے تو روميوں سے جہاد كيلئے انھوں نے اجازت مانگى ليكن عثمان نے اجازت نہيں دي_
اس خاص موقع پر روايت ہے كہ جب ابوذر ان سے اجازت مانگ رہے تھے ، اور عثمان ابھى اجازت دينے نہ دينے كى كشمكش ميں تھے كہ مروان بول پڑا _
اس شخص نے عراق كو تمہارے خلاف بھڑ كايا ، عراقيوں كو تم سے بد گمان كيا ، اب شام كى بارى ہے ،يہ چاہتا ہے كہ وہاں كے لوگوں كو تمہارے خلاف بغاوت پر ابھارے اس طرح ابن مسعود زندگى بھر مدينے سے باہر نہ جاسكے، حقيقت ميں وہ نظر بند تھے ،يہاں تك كے قتل عثمان كے دو سال قبل انھوں نے انتقال فرمايا، اس درميان ابن مسعود مدينے ميں تين سال رہے بن مسعود اور عثمان كے درميان اخرى بات چيت بہت زيادہ لائق توجہ ہے _
جس وقت وہ بستر بيمارى پر پڑے زندگى كے اخرى لمحے گن رہے تھے ، عثمان انكى عيادت كے لئے سرھانے پہونچے اور كہا ، كيا تكليف ہے
اپنے گناہوں كا بوجھ
كيا خواہش ہے ؟
خداوند عالم كى بخشش و رحمت
كيا علاج كيلئے ڈاكٹر بلائوں؟
ڈاكٹر نے خود ہى مجھے بيمار كيا ہے
كيا تمہارا وظيفہ دينے كا حكم ديدوں
( دو سال سے بن مسعود كا وظيفہ بند تھا(1))
جب مجھے اسكى ضرورت تھى تم نے نہيں ديا، اب جبكہ ضرورت نہيں ہے ، تم مجھے دينا چاہتے ہو،
تمہارے بيٹوں كيلئے باقى رہے گا_
انكى روزى خدا ديتا ہے،
خدا سے دعا كرو كہ ( جو كچھ ميں نے تم پر ظلم ڈھايا ہے ) معاف كر دے
خدا سے دعا كرتا ہوں كہ تم سے ميرا حق لے،
ابن مسعود نے وصيت كى تھى انكى نماز جنازہ عمار ياسر پڑھائيں ، عثمان ميرے جنازے ميں شريك نہ ہوں ، ان كى وصيت كے مطابق عمل كيا گيا اور عثمان كو خبر كئے بغير جنت البقيع ميں دفن كر ديا گيا (2)
جب عثمان كوا بن مسعود كے مرنے كى خبر ملى تو سخت غصہ ہوئے اور كہنے لگے ، مجھے خبر ديئے بغير تم لوگوں نے ايسا كرديا؟
عمار ياسر نے جواب ديا ،انھوں نے خود وصيت كى تھى كہ تم ان كى نماز جنازہ نہ پڑھائو، عبداللہ بن زبير نے اسى كے مناسب حال شعر كہا ہے ، ميں جانتا ہوں كہ ميرے مرنے كے بعد نوحہ وزارى كرو گے حالانكہ تم نے ميرى روٹى روزى بند كردى تھى (3)
1_ تاريخ بن كثير ج7 ص163 ، يعقوبى ج2 ص197 ، مستدرك ج3 ص13
2_ابن مسعود كى وفات 32ھ ميں ہوئي زبير نے انھيں راتوں رات عثمان كو خبر كئے بغير دفن كر ديا ، وفات كے وقت انكى عمر ساٹھ سال سے زيادہ تھى ،
3_ لاعرفتك بعد الموت تندبني .................... و فى حياتى ما زودتنى زادي
ابن مسعود كے يہ مختصر حالات تھے، ليكن وليد بن عقبہ كى حكومت كوفہ كى صرف يہى ايك داستان نہيں بلكہ اسكى حكمرانى كے زمانے ميں انتہائي بلا خيز اور فتنہ انگيز واقعات سرزد ہوئے ، چنانچہ مسيحى شاعر ابوزبيد اور شعبدہ باز يہودى كے ساتھ اس كے سلوك مشہور ہيں_
ابو الفرج كتاب اغانى ميں ابن اعرابى كا بيان يوں روايت كرتا ہے جس وقت وليد اپنے مادرى بھائي عثمان كى طرف سے كوفہ كا گورنر بنا تو شرابى اور عيسائي شاعر ابو زبيد سے اسكى گاڑھى چھننے لگى ، وليد نے اسكو عقيل كى ملكيت والے گھر ميں ٹھہرايا ، پھر اسے بخش ديا ، يہ گھر زبيد جيسے شرابى شاعر كو دينے سے پہلى بار كوفے كے باشندے وليد كى برايئاں بيان كرنے لگے ، كيونكہ ابو زبيد عيسائي تھا ،جب وہ وليد كے پاس جاتا ، تو اسكا راستہ مسجد كوفہ ميں ہونے كى وجہ سے وہيں سے وليد كے پاس جاتاوہ رات بھر شراب كے جام چھلكاتا، پھر صبح كو شدت مستى سے بيخود ہو كر لڑ كھڑاتا ہوا مسجد ہى عبور كر كے اپنے گھر پہونچتا _
وليد كى يہ روش دين سے لاپرواہى ،اور مسلمانوں كے احساسات و معتقدات سے بے اعتنائي كا پتہ ديتى ہے كوفے والے تو يہ چاہتے تھے كہ وليد شراب پينا چھوڑ دے _
خلاف شرع كام كرنا بند كرے ، ابو زبيد جيسے شرابى مصاحب سے اپنا ناتہ توڑے ، اس كے بر عكس اس نے دو وسيع زميندارى شام دحيرہ ميں محل كے ساتھ اسكو بخش دى ، اور صرف اسى كے چوپايوں كى چراگاہ كو مخصوص كر كے ، دوسروں كو اس كے استفادے سے محروم كر ديا ، ابو زبيد نے بھى اسكى خصوصى مہربانى كے بدلے مدحيہ اشعار كہے اور اسكا شكر يہ ادا كيا ،(1)
بلاذرى لكھتا ہے _ وليد نے اپنے عيسائي شاعر و مصا حب ابو زبيد كے لئے مسلمانوں كے بيت المال سے شراب اور سور كاگوشت مقرر كيا تھا ، اسكے مقربين نے مشورہ ديا كہ اس سے عوامى احساسات بھڑك اٹھيں گے ،لوگ اپ كے خلاف ہو جائيں گے _
نتيجے ميں وليد نے شراب اور سور كا گوشت تو روك ديا ليكن حكم ديا كہ اسكى جتنى قيمت متعين ہوتى ہے
1_ اغانى ج3 ص 182_ 83
اسے ماہانہ دى جائے پھر اس پر اضافہ بھى كيا ، يہ كوفے كا گورنر عيسائي ابو زبيد كو مسلمانون كى مسجد سے گذرنے كى اجازت دئے ہوا تھا(1)
ايك دوسرى نا مناسب حركت وليد جسكى وجہ سے لوگ اسكے مربى عثمان سے بہت زيادہ بد ظن ہوئے يہ تھى كہ وليد نے حكم ديا تھا كہ ايك يہودى جو كر اپنى جادوگرى كى دوكان مسجد ميں لگا كر اپنے شعبدے دكھائے اور گورنر صاحب كى تفريح كا سامان فراہم كرے _
لوگوں نے وليد كو بتايا كہ زرارہ نام كا ايك يہودى كرتب ميں مشہور ہے وہ شعبدہ ، جادو اور سحر كى تمام قسموں ميں مہارت ركھتا ہے ، يہيں بابل كے پل كے پاس ديہات كا باشندہ ہے ، وليد نے حكم ديا ،اسے كوفہ لايا جائے تاكہ وہ اپنے ہاتھوں كے كرتب اورميٹھے شعبدوں كا تماشہ دكھائے ، وليد كے پيادوں نے اسكے حكم كى تعميل ميں سامنے لاكر حاضر كر ديا ، اس نے بھى حكم ديا كہ مرد يہودى مسجد كوفہ كے صحن ميں اپنے جادو كے كرتب كى دوكان لگادے ، اپنے ہنر كے تماشے اعلى حكام اور مسلمان پڑوسيوں كو دكھائے_
اسكى نمائشے كا ايك تماشہ يہ تھا كہ اندھيرى رات ميں بڑا سا ہاتھى گھو ڑے پر سوار تماشائيوں كو دكھا ديتا تھا_
ايك دوسرا كرتب يہ تھا كہ وہى شعبدہ باز اپنے كو اونٹ كى شكل ميں ہو كر رسى پر چلتا ہوا لوگوں كى نگاہوں كو دكھاتا تھا پھر وہ خود ہى ايك خچر كى شكل ميں ہو جاتا تھا جو اس اونٹ كے منھ ميں داخل ہو كر اسكے مخرج سے نكل جاتا تھا_
سب سے اخر ميں تماشہ دكھاتے ہوئے ايك تماشائي كو مجمع سے گھسيٹ لاتا تھا ،پھر بے دھڑك اسے تلوار سے قتل كر كے ،سر وبدن الگ الگ كر ديتا تھا ، پھر سارے تماشائي حيرت كے مارے پھٹى پھٹى انكھوں سے ديكھتے كہ وہ اس مقتول كے جسم پر تلوار پھير رہا ہے اور مقتول زندہ ہو كر اٹھ كھڑا ہو تا ہے _
جندب بن كعب ازدى اسى تماشائيوں كى جماعت ميں ،موجود تھے ، انھوں نے شعبدہ باز يہودى كے سارے تماشے اپنى انكھوں سے ديكھے جو شيطان اور گمراہى كى مسلسل كاروائيوںسے خدا كى پناہ طلب كر تے رہے ، جس سے انسان خدا كى ياد سے غافل ہو رہا تھا ،انھيں يقين تھا كہ يہ سب كچھ نظر بندى اور شعبدہ بازى ہے جسے اسلام نے سختى كے ساتھ منع كيا ہے ،بس پھر كيا تھا ،انھوں نے دير كرنا جائز نہيں سمجھا اور تلوار سونت لى ، ايك ہى وار ميں اس
1_ انساب الاشراف بلاذرى ج 5 ص 29_ 30
يہودى كا سر تن سے جدا كر كے چلائے
جاء الحق و زھق الباطل ان الباطل كان ذھوقا
حق اگيا اور باطل نيست ونابود ہو گيا باطل كو تو نيست و نابود ہونا ہى تھا _
يہ بھى كہتے ہيں كہ يہ سارا واقعہ دن كا ہے ،رات كا نہيں ، جندب كے پاس تلوار نہيں تھى ، وہ بازار گئے اور تلوار بنانے والے سے تلوار خريدى اور واپس اكر اس شعبدہ باز يہودى كى گردن مارى ، پھر وہ چلائے _
اگر تو سچا ہے تو اپنے كو زندہ كر لے _
جو بھى صورت ہو ، يہ وليد تھا جس نے مسجد كو شعبدہ باز يہودى كے تماشے كا مركز بنا ليا تھا جبكہ وہ عبادت كى جگہ ہے اور يہ جندب تھے كہ اس شعبدہ باز كو قتل كر كے عثمان كے بد كار حاكم كى تفريح كر كرى كركے اسكے عيش وعشرت ميں اندھيرا كر ديا _
اس مرتبہ تو وليد غصے ميں بھڑك اٹھا ،اس نے جندب كى گستاخى ديكھ كر حكم ديا كہ يہودى زرارہ كے انتقام خون ميں جندب كو قتل كرديا جائے ،ليكن ان كے رشتہ دار جو قبيلہ ازدسے تھے جندب كى حمايت ميں كھڑے ہو گئے انھوں نے قتل ہو نے سے بچا ليا ، نا چار وليدنے حيلہ شروع كيا اور قتل كو نظر انداز كركے بظاہر اسكے قتل سے در گذر كيا اور حكم ديا كہ جندب كو قيد كر ليا جائے _
جندب كو جيل ميں ڈال ديا گيا ، اور جيلر جس كا نام دينار تھا اسكے حوالے كر ديا گيا ، دينار كو جب قيد ہونے كى وجہ معلوم ہوئي ، جندب كى زھد و پار سائي اس نے خود انكھوں سے ديكھى ،يہ ديكھا كہ وہ تمام رات صبح تك عبادت ميں مصروف رہتا ہے ، اس نے جائز نہيں سمجھا كہ ايسے زاہد اور با ايمان شخص كے خون سے اپنا دامن الودہ كر ے جيلرنے ان سے كہا :
ميں دروازہ كھول رہا ہوں ، تم بھاگ جائو ، سلامتى سے اپنى جان بچالے جائو _
اگر ميں ايسا كروں تو تمہيں نہيں چھوڑا جائے گا تمہيں قتل كرديا جائے گا _
ميرا خون رضائے خدا كے لئے بہے گا ولى خدا كى نجات ميں بہے گا ، ميرى جان اتنى قيمتى كہاں ؟
اخر كار دينار جيلر كے اصرار سے جندب نے قدم باہر نكالا اور جيل سے فرار كر گئے _
صبح سويرے وليد نے جندب كے حمايتيوں سے دور تہيہ كئے ہو ا تھا كہ جندب كو قتل كرے اس نے حكم ديا كہ جندب كو خدمت ميں حاضر كيا جائے ، وليد كے پيادے جيل سے خالى ہاتھ واپس ائے ،انھوں نے خبر دى كہ جندب جيل سے فرار كر گئے ، خود سر اور بد كار حاكم كوفہ وليد كو دينار جيلر كى سہل انگارى پر بڑا غصہ ايا ،لال بھبھوكا سرخ انگارہ ہو گيا ، حكم ديا
كہ اس تساہليء پر دينار كو قتل كرديا جائے ،(1)اور اسكا بدن مزبلہء كوفہ ميں دار پر لٹكا ديا جائے(2)
ادھر جندب قيد خانے سے بھاگ كر مدينہ پہونچے، وہيں سكونت اختيار كر لى جب عثمان كو معلوم ہوا تو انھوں نے ان كو سخت و سست كہا اس وقت حضرت على نے انكى سفارش كى عثمان نے امام كى سفارش مان لى ، وليد كو خط لكھا كہ جندب سے كوئي مزاحمت نہ كى جائے ،اس طرح جندب پھر كوفہ واپس چلے گئے _
جب حاكم كوفہ وليد كى بدكارياں اور خلاف شرع حركتيں بہت زيادہ ہو گيئں تو رد عمل بھى ہوئے ،عثمان كے ناروا سلوك كى وجہ سے لوگوں كا غم و غصہ حد سے زيادہ بڑھ گيا ، باتيں ايك منھ سے دوسرے منھ رينگنے لگيں ايسے ميں عمر وبن زرارہ بن قيس نخعى اور كميل بن زياد نخعى يہ دونوں ہى كوفے كے سربر اوردہ لوگوں ميں تھے ، يہ پہلے افراد تھے جنھوں نے عثمان كى بيعت كا قلادہ گردن سے اتار پھينكا اور على كى بيعت كا اعلان كر ديا، لوگوں كو اپنے پاس جمع كر كے يہ تقرير كى _
اے لوگو عثمان حالانكہ حق و باطل كے درميان تميز ركھتے ہيںليكن جان بوجھ كر پس پشت ڈالتے اورنظرانداز كرتے ہيں پست اور كمينے لوگوں كو نيك اور تقوى شعاروں پر مسلط كر ديا ہے انھيں اقتدار و حكومت ديديا _
اس اجتماع ميں خالد بن عرفطہ بھى تھا ، فورا جا كر اس نے وليد كو خبر دى عمر وبن زرارہ كا واقعہ اور اسكى بھڑكانے والى تقرير سب بيان كر ڈالى _
وليد غصے ميں بھر گيا ،اس نے چاہا كہ خود سوار ہو كر جائے اور تمام لوگوں كو منتشر كردے ليكن اسكے مصاحبين اڑے اگئے_
اور سمجھا يا كہ وہ جتنا سمجھ رہا ہے يہ معاملہ اس سے بھى زيادہ خطرناك ہے ، كيو نكہ تمام لوگ بھڑ كے ہوئے ہيں ،ھنگامے پر امادہ ہيں اپنے حال پر رحم كرو اور فتنے كى اگ كو زيادہ ہوا نہ دو اسى درميان مالك بن حارث نے پيشكش كى كہ اگر وليد چاہے تو ان تمام لوگوں كا جوش ٹھنڈا كردوں وليد نے اثبات ميں جواب ديا
1_ مروج الذھب مسعودى ج 1 ص37_43___اغانى ج4_ 186
2_مولف محترم نے واقعہ جندب اور يہودى جادوگر كے مختلف روايات كو مختلف منابع سے يكجا كيا ہے موجودہ حوالہ سب سے زيادہ كامل تر ہے اس لئے صرف اسى پر اكتفا كيا گيا،(سردارنيا)
وہ اس اجتماع ميں پہونچا اور ان سے گفت و شنيد كرنے لگا انھيں فتنہ و اشوب سے ڈرا كر ،سب كو ٹھنڈا كر ديا _
وليد بھى نچلا نہيں بيٹھا، ا س نے شور ش اور عمرو بن زرارہ كى تقرير كا كچا چٹھا عثمان كو لكھ مارا ، پھر مدد كى درخواست كر كے اس صورتحال ميں خليفہ سے پوچھا كہ مجھے كيا كرنا چايئے؟
عثمان نے جواب ميں خط لكھا_
ابن زرارہ عرب بدو ہے ،بد معاش ہے اسے شام جلا وطن كر دو وليد نے خليفہ كے حكم سے ابن زرارہ كوشام جلا وطن كرديا(1)
جس وقت ابن زرارہ حق گوئي كے جرم ميں لا چار ہو كر كوفہ چھوڑ رہے تھے ، مالك اشتر،اسودبن يزيد ،علقمہ بن قيس اور قيس بن فہدان انھيں الوداع كہتے ہوئے دور تك گئے ،اس موقع پر قيس نے يہ دو شعر پڑھے _
خدا كى قسم ، رب كعبہ كى قسم خدا كى خشنودى كا پوشيدہ و علانيہ طلبگار ہوں _
ضرور بالضرور ہم وليد اور اسكے اقا عثمان كو جو گمراہى كى جائے پناہ ہے ،حكومت و خلافت سے كھرچے پھينكيں گے(2)
جب كوفے كے مختلف لوگوں كى طرف سے بے شمار شكايتيں وليد كے خلاف عثمان كے پاس پہونچيں تو مجبور ہو كر سوچا كہ ظاہرى طور سے اور لوگوں كو دكھانے كيلئے اس كا سخت نوٹس ليا جائے اور اس سلسلے ميں اپنے ازاد كردہ غلام حمران كو انكوائرى كے لئے بھيجا تاكہ صورتحال سے جائزہ لے اور لوگوں كے ساتھ وليد كے سلوك كى رپوٹ دے ليكن وليد نے اس بلند مرتبہ حكومت كى انكوائرى كو دولت سے خريد ليا ،اس كے ہاتھ رشوت سے بھر كر خالى ہاتھ مدينہ واپس كرديا ، اور عثمان كى تمنا كے مطابق وليد كى شان ميں قصيدے پڑھ ڈالے ، عثمان نے راحت كى سانس لى اور خود كو اس روح فرسا غم سے فارغ كر ليا _
1_ عمر بن زرارہ كے حالات كيلئے ديكھئے اسد الغابہ ج2 ص 201_202ج4ص104
2_
اقسم باللہ رب البيت مجتہدا
ارجوالثواب لہ سر او اعلانا
لاخلعن اباوھب و صاحبہ
كھف الضلالة عثمان بن عفانا
كچھ دن بعد مروان (1)نے حمران سے ملاقات كركے وليد كے بارے ميں صحيح صورتحال جاننے كيلئے اس سے پوچھا :
حمران نے جواب ديا ، وہاں كے حالات سخت بحرانى ہيں مروان نے بھى جو كچھ بيتى تھى خليفہ كے گوش گذار كر ديا ،
عثمان نے اس خيانت كے جرم ميں حمران كى جھوٹى رپورٹ كا سخت نوٹس ليتے ہوئے اسے بصرہ جلا وطن كرديا ، پھر اسے وہيں بصرہ ميں ايك اچھا سا گھر بھى عطا فرمايا (2)
1__ محترم قارئين ،مروان حكم كو ائيندہ صفحات ميں اچھى طرح معلوم كرليں گے ،اسكى نفسياتى و اخلاقى حالت نيز اسكے معتقدات كا انداز ہو جائے گا، ليكن يہاں ايك بات كى طرف دھيان دلا نا ضرورى ہے كہ مروان اس خوان سے بہت بڑے حصے كا قائل تھا وہ جانتا تھا كہ عثمان نے جس اموى خاندان كى حكمرانى مستحكم كى ہے اسكا ثبات اسى حالت ميں ممكن ہے كہ حكمرانوں كى سستى و غفلت كو ختم كيا جائے ، عثمان كے نور چشم وليد جيسوں كى حركتوں سے اسكى مشام ميں بوئے انقلاب پہونچنے لگى تھى ، وہ چاہتا تھا كہ انقلاب كى جڑ ختم كر دى جائے اس لئے اس نے خليفہ كے سامنے صحيح صورتحال ركھ دى ، ورنہ اس نے رسول اكرم كى زحمتوں اور دين اسلام كے تحفظ كے لئے ايسا نہيں كيا تھا ، نہ اسے اسلامى درد تھا
2_ انساب الاشراف بلاذرى ج5 ص 31
كوفے پر وليد كى حكومت پانچ سال تك رہى ، اس طويل مدت كے درميان اس نے اذربائيجان كے علاقوں ميں مشركوں سے جنگ كى ، ليكن جيسى اسكى سيرت تھى اور ايمان خام تھا اس حساس موقع پر بھى اس سے ايسى لغزش ہو گئي كہ حد جارى كى جاتى ،قوم كے بزرگ جمع ہوئے كہ اس پر حد جارى كريں ،اسى درميان حذيفہ نے قانون الہى كے نفاذ كى مخالفت كر دى ،ان كى دليل يہ تھى كہ يہ شخص اسلاميء فوج كا سپہ سالار اس وقت محاذ جنگ پر ہے ، نتيجے ميں اس پر حد جارى نہيں ہوئي (3)
ميں نہيں جانتا كہ وليد حد كا مستوجب كيوں تھا ؟ شراب پينے كى وجہ سے يا كسى دوسرے ارتكاب حرام كى وجہ سے ، ليكن ايك بات مسلم ہے كہ وہ شراب كا رسيا تھا ، اور يہ برى لت اسميں اتنى تھى كہ عام مورخين كے مطابق وہ حد جارى ہونے كا مستوجب قرار پايا _
ابوالفرج اغانى ميں لكھتے ہيں ،وليد بن عقبہ زناكار اور شرابى شخص تھا ، ايك دن صبح سويرے مستى كى حالت
3_ بلاذرى ج5 ص35
ميں نماز پڑھانے ايا ،اس نے دو ركعت كے بجائے چار ركعت پڑھا دى _
حالت نماز ميں اس نے گنگنانا شروع كر ديا _
دل شباب و سنگيت كا رسيا ہے ،درانحاليكہ كہ جوان سے دونوں كا اثر ختم ہو گيا ہے (1)
جب اپنى دانست ميں اس نے نماز ختم كى تو مامومين كى طرف رخ كر كے بولا ،اگر كہو تو نماز كى چند ركعتيں اور بڑھا دوں ،اسى حالت ميں جو كچھ پيٹ ميں تھا قئے كردي(2)
اس بارے ميں مسعودى لكھتا ہے كہ:
وليد اپنے مصاحبوں ، گويوں اور سازندوں كے ساتھ تمام رات بادہ گسارى كر تا تھا ، ايك دن جب موذن نے صبح كى اذان دى تو وليد نے شب خوابى كے لباس ہى ميں بحالت مستى نماز پڑھانے پہونچ گيا ، محراب ميں لوگوں كو نماز پڑھانے كھڑا ہوا _
اس نے دو ركعت كے بجائے چار ركعت پڑھا دى ، اپنا سجدہ طويل كر ديا ، بجائے تسبيح كے مسلسل كہتا رہا _
پيو اور مجھے پلائو ،جام چھلكائو
اور جب اپنے خيال ميں نماز سے فارغ ہوا ،لوگوں كى طرف رخ كر كے بولا اگر تم لوگ كہو تو چار ركعت سے زيادہ پڑھا دوں _
عتاب ثقفى پہلى صف ميں تھے ، بالكل وليد كے پيچھے نماز پڑھ رہے تھے ، چلانے لگے_
خدا تيرا ناس مارے ، تجھے كيا ہوا ہے ، خدا كى قسم ، مجھے خليفہ كے سوا كسى پر حيرت نہيں ہوتى كہ تيرے جيسے شخص كو ہم پر حكمراں بنا ديا ہے _
دوسرے لوگ بھى وليد كو كنكرياں مارنے لگے ، جب عثمان كے مادرى بھائي اور كوفے كے حكمراں نے اپنا قافيہ تنگ ديكھا تو ڈگمگاتے ہوئے اہستہ اہستہ چل كر اپنے كو دار الامارہ ميں پہونچايا ، حالا نكہ وہ يہ اشعار گنگنا رہا تھا_
1_ علق القلب ربابا بعد ما شابت و شابا
2_ اغانى ج4 ص178
ميں ہرگز شراب اور حسين دوشيزہ سے منھ نہ موڑوں گا، اپنے كو اس بھلائي اور لذت سے محروم نہيں ركھوں گا ، بلكہ اتنى شراب پيوں گا كہ سارا بھيجا سيراب ہو جائے پھر لوگوں كے درميان سے دامن بچا كر نكل جائوں گا_
كوفے كے عوام اخر كار وليد كى بدترين حركتوں سے تنگ اگئے اور جب انہوں نے اپنى متعدد شكايتيں اسكے بارے ميں بے اثر ديكھيں تو سب نے يہ رائے قائم كى كہ وليد كى شرابخوارى اور مستى كى پكى دليل اور دين و دنيا سے لا پرواہى كے نا قابل ترديد ثبوت خليفہ كے سامنے پيش كئے جائيں ، ہو سكتا ہے كہ خليفہ ہمارى دليل و ثبوت مان جائے اور ان كے درد دل اور مصائب دور كرنے كى طرف توجہ كرے ، اس رائے پر عمل كرنے كے سلسلے ميں بزرگان قوم نے مناسب سمجھا كہ وليد كى وہ انگوٹھى جس پر اسكا نام نقش ہے ، اور اسى سے وہ خطوں پر مہر كرتا ہے ، عثمان اسے خوب پہچانتے ہيں ،وليد كى مستى كے وقت اتار ليا جائے اور اسى كو خليفہ كے سامنے قطعى ثبوت كے طور پر پيش كيا جائے _
اس سلسلے ميں بلاذرى لكھتا ہے كہ :
جس دن وليد نشے كى حالت ميں نماز پڑھا رہا تھا ابوزينب نے اپنے دوست زھير بن عوف ازدى سے مدد چاہى كہ انگوٹھى نكالنے ميں اسكى مدد كرے ، زھير نے مدد كرنے پر امادگى ظاھر كى دونوں خاص طور سے اس فكر ميں تھے ،اتفاق سے اس دن وليد نماز عصر پڑھانے بھى نہيں ايا ، ابو زينب نے در بان كے ہاتھ ميں كچھ رشوت تھما دى ، دربان نے رشوت ديكھى تو الگ ہٹ گيا اور راستہ ديديا ابو زينب اور زھير گھر ميں داخل ہو گئے
وہ عجيب اور نفرت انگيز منظر تھا ، وليد نشے ميں دھت ہے ، اسے اپنے سر اور پير كا ہوش نہيں ، ان دونوں نے اٹھا كر اسے بستر پر لٹا ديا اس نے بستر پر ہى قئے كر دى ، ابو زينب نے اس سے زيادہ دير مناسب نہيں سمجھى دونوں نے انگوٹھى اتار لى اور باہر نكل گئے _
ابو زينب اپنے تين اور معزز ساتھيوں كے ساتھ كوفے سے بصرے كے راستے مدينہ كى طرف چل پڑے ،
اخر كار حاكم كوفہ وليد كى شكايت ليكر خليفہ عثمان كى خدمت ميں حاضر ہوئے
پہلے انہوں نے اپنى عرض خليفہ كے سامنے پيش كى اگر چہ ہميں اميد نہيں كہ اپ ہمارى شكايات پر توجہ ديں گے ،ليكن ہم اپنى ذمہ دارى سمجھتے ہيں كہ اپنى شكايات اپ كے گوش گذار كر ديں _
عثمان نے پوچھا ، مطلب كيا ہے ؟
ان لوگوں نے وليد كى سارى باتيں بيان كيں پيش امدہ تمام تفصيلات كى تشريح كر كے كوفے كى لا چارى كا نقشہ پيش كيا _
عبدالرحمن بن عوف اس بزم ميں موجود تھے ، شكايت كرنے والوں سے پوچھا ، مطلب كيا ہے ؟كيا كہہ رہے ہو وليد كو كيا ہو گيا ہے ؟ كيا وہ ديوانہ ہو گيا ہے ؟
شكايت كرنے والوں نے كہا :
نہيں بلكہ وہ شراب كے نشے ميں مست و بے خود ہو گيا تھا_
اس وقت عثمان نے ابو زينب سے پوچھا؟
تم نے خود ميرے بھائي كو شراب پيتے ديكھا_
جندب نے جواب ديا
نہيں ،ميں نے كبھى نہيں ديكھا ، ليكن ميں گواہى ديتا ہوں كہ ميں نے اسے نشے كى حالت ميں ديكھا ہے وہ قئے كر رہا تھا ،اور سارى قئے اسكے بدن پر ارہى تھى ، ميں نے اسكى مستى و بے خبرى كى حالت ميں انگوٹھى اتار لي_
عثمان نے پوچھا:
تم نے كيسے سمجھا كہ وليد نے شراب پى ہے؟
انہوں نے جواب ديا
ہم لوگ كيسے نہيں سمجھيں گے كہ وليد نے شراب پى ،جبكہ ہم نے خود زمانئہ جاہليت ميں شراب پى ہے ، انھوں نے وليد كى انگوٹھى دكھائي ، اور اسے قطعى ثبوت كے طور پر پيش كيا _
عثمان سخت بد حواس ہو رہے تھے ، لگے گواہوں كو ڈرانے دھمكانے ، سخت سے سخت سزا دينے كى بات كہہ كے گواہوں اور شكايت كرنے والوں كے سينے پر ہاتھ مار كے بھگا ديا _
ابو زينب ہزاروں اميد و ارزو ليكر مدينے ائے تھے ،عثمان كى خدمت ميں پيش ہوئے تھے سارى تفصيل بيان كى تھى ، قطعى ثبوت بھى پيش كيا تھا_
عثمان نے صرف يہى نہيں كى كہ وليد كى شرابخوارى اور اسى حالت ميں نماز پڑھانے كى شكايت پر توجہ نہيں دى بلكہ سب كو ڈنڈا دكھايا ، گالياں ديں اور برا بھلا كہا_
يہ تمام شكايت كنندگان ڈنڈے اور تازيانے كھا كر حضرت على (ع) كى خدمت ميں ائے ، ان سے مسئلہ حل كرنے كى گذارش كى _
حضرت على (ع) نے عثمان سے ملاقات كي، بات چيت كے درميان اعتراض كيا كہ حدود الہى كو معطل كر رہے ہو ، اپنے بھائي كے خلاف گواہوں پر ڈنڈے بر سا رہے ہو ، تم قانون خدا متغير كر رہے ہو (1)
شكايت كنندگان نے عائشه سے بھى ملاقات كى تھى انھو ں نے عثمان سے چلا كر كہا :
شرعى حدود جارى نہيں كر رہے ہو ، گواہوں كى بے عزتى كر رہے ہو (2)
شكايت كرنے والوں نے گواہى دى تھى كہ وليد بن عقبہ حاكم كوفہ نے شراب پى ہے وہى شراب جو جاہليت ميں ميں پى جاتى ہے _(3)
انہوں نے گواہى دى تھى ،وليد نشے ميں دھت تھا ، اس نے دو ركعت كے بجائے چار ركعت نماز پڑھا دى پھر نمازيوں كى طرف رخ كر كے كہا :
اج بہت زيادہ موج ميں ہوں اگر چاہو تو اس سے زيادہ پڑھا دوں ، اسى وقت اس نے محراب مين قئے كردى (4)
انہوں نے گواہى دى كہ الفاظ نماز كے بجائے گيت وسنگيت گنگنا رہا تھا ، اسكى انگلى سے انگوٹھى بھى نكال لى تھى ، يہ زبردست ثبوت تھا ان تمام باتوں كے با وجود ان كاكوئي مداوانہ ہوا، انھيں تكليف جھيلنى پڑى ، توہين ہوئي گالياں سنيں ، ڈنڈے سے تواضع ہوئي، اخر انھيں جان سے مارنے كى دھمكى دى گئي_
1_ مروج الذھب مسعودى ج2 ص336
2_ بلاذرى ج5 ص33
3_ مروج الذھب مسعودى ج2 ص336
4_ مروج الذھب مسعودى ج2 ص336
ابوالفرج اغانى ميں لكھا ہے ، عثمان نے ان لوگوں كے اعتراض كے جواب ميں كہا ، مگر بات يہ ہے كہ ہر شخص اپنے امير و حكمراں پر كڑھتا ہے ، اس پر تہمت لگاتا ہے ، اس صورتحال مين صحيح حكم صادر كروں گا كہ تم لوگوں كى اچھى طرح خبر لى جائے اور سر زنش كى جائے _
يہ گروہ عثمان كى سزا كے ڈر سے عائشه كے گھر مين پناہ گزيں ہو گيا ، جب عثمان نے صبح سويرے عائشه كے گھر سے تلخ و تند باتيں سنيں تو بے اختيار چلائے _
كيا عراقى سركشوں اور بد كاروں كو عائشه كے گھر كے سوا دوسرى كوئي پناہ گاہ نہ ملى _
عائشه نے جب يہ توہين اميز اور نا قابل معافى دشنام عثمان كا اپنے بارے ميں سنا تو رسول خدا كى جو تياں ہاتھ ميں ليں اور اپنے سر پر ركھكر بلند اواز سے چلا ئيں _
كتنى جلدى تم نے اس صاحب كفش رسول كى سنت سے منھ موڑليا_
عائشه كى يہ بات بجلى كى طرح ايك منھ سے دوسرے منھ تك پہونچتى گئي ، پھر سارے مدينے والوں كے كانوں تك پہونچ گئي مسجد كے پاس لوگوں كا ہجوم ہوگيا، لوگوں كى زبان پر صرف عائشه اور عثمان كى بات تھى ، لوگوں كى باتيں ا س قدر ہيجان انگيز تھيں كہ اخر كار لوگوں ميں اختلاف پيدا ہو گيا ، اسى وقت دو شدت پسند پارٹياں بن گئيں_
بعض لوگوں نے عائشه كے اس اقدم پر تعريف و تحسين شروع كى اور كچھ منھ بنا كر سرزنش كرنے لگے _
عورتوں كو ان باتوں سے كيا مطلب؟
دونوں پارٹيوں كے مظاہرے موافقت و مخالفت ميں بڑھتے گئے نوبت يہاں تك پہونچى كہ ايك دوسرے كى جان كو اگئے ، اپس ميں سنگريزے ، جوتياں اور ڈنڈے برسانے لگے _
اس موقع پر بلاذرى نے اضافہ كرتے ہوئے لكھا ہے _
ام المومنين كے اعتراض كے مقابل عثمان چپ نہيں بيٹھے ، بڑے تلخ و تند انداز ميں چلائے تجھے معاملا ت ميں دخل دينے كا كيا حق ہے ، تجھے تو حكم ديا گيا ہے كہ اپنے گھر ميں چين سے بيٹھ _ اس اعتراض اور سر زنش كى وجہ سے لوگ دو گروہ ميں بٹ گئے ، كچھ لوگوں نے عثمان كو حق بجانب ٹھہرايا ، انكى تائيد و تصديق كى ، اور كچھ لوگ عائشه كى حمايت ميں چلانے لگے _
معاملات ميں دخل دينے كا ان سے زيادہ سزا وار كون ہے؟ دونوں پارٹيوں كى باتيں بڑھتى گئيں ، نوبت يہ اگئي كہ
ايك دوسرے كے سروں پر جوتے برسانے لگے اور جو رم پيزار رونما ہوئي تھى _ اس واقعے كو يعقوبى نے اپنى تاريخ ميں ،ابن عبدالبر نے استيعاب ميں لگ بھگ اسى طرح لكھ كر ام المومنين عائشه كے تاثير اقدام كى نشاندہى كى ہے_ اس واقعے كے بعد طلحہ و زبير عثمان كے پاس گئے اور سخت سرزنش كرتے ہوئے بولے
ہم ابتدا ہى ميں تم سے كہا تھا كہ وليد كو مسلمان كے كسى معاملے ميں مامور نہ كرو ، مگر تم نے ہمارى باتوں كو اھميت نہيں دى نہ مانا ، اب بھى دير نہيں ہوئي ہے جبكہ ايك گروہ نے اسكى شرابخوارى و مستى كى گواہى دى ہے ،تمہارى بھلائي اسى ميں ہے كہ كام كاج سے الگ كردو _
حضرت على (ع) نے بھى فرمايا :
وليد كو عہدے سے سبكدوش كردو ، جيسا كہ گواہوں نے چشم ديد گواہى دى ہے اس كے اوپر حد شرعى بھى جارى كرو _
اور مسجد كوفہ كے منبر كى تطہير
عثمان مجبور ہو گئے كہ وليد كو حكومت كوفہ سے معزول كريں مدينہ بلائيں ،اور نيا گورنر كوفہ كيلئے معين كريں _
انھوں نے سعيد بن العاص (1) كو حكومت كوفہ پر مامور كيا اور حكم ديا كہ وليد كو مدينہ روانہ كر ديں (2)
1_سعيد بن عاص بن اميہ ، اسكى ماں كا نام ام كلثوم بنت عمر عامرى تھا ، ہجرت كے پہلے يا دوسرے سال پيدا ہوا ، اسكا باپ عاص جنگ بدر ميں على كے ہاتھ سے قتل ہو ا تھا ، عمر بيان كرتے ہيں كہ ميں خود جنگ بدر ميں اپنى انكھو ں سے ديكھ رہا تھا كہ عاص شير كى طرح ميدان ميں چنگھاڑتا ہوا ايا اور على نے ايك ہى ضربت ميں خاك چٹا دى ، سعيد ان نامى گرامى جوانوں اور خطيبوں ميں تھا جس نے عثمان كے حكم سے قران لكھا ، عثمان نے وليد كے بعد اس كو گورنر كوفہ بنايا اس نے اپنے ايام حكومت ميں طبرستان اور دوسرے ايرانى ملكوں كو فتح كيا ، جب عثمان قتل ہوئے تو سعيد گوشہ نشين ہو گيا ، جمل وصفين ميں شريك نہيں ہوا تو اس نے سعيد كو بلايا اور على كے خلاف ،اسكى مدد نہ كرنے پر سرزنش كى ، اس نے عذر معذرت كى ، پھر معاويہ نے مدينہ كا گورنر بناديا معاويہ جب بھى سعيد كو معزول كرتا مروان كو مدينہ كا گورنر بناتا اور مروان كو معزول كرتا تو سعيد كو بناتا سعيد كى موت59ء ميں ہوئي ، اصايہ ، استيعاب اور اسدالغايہ ديكھئے
2_بلاذرى 5_35
سعيد جب كوفہ پہونچا تو وليد كو پيغام ديا كہ تمھيں اميرالمومنين نے مدينہ حاضر ہونے كا حكم ديا ہے _
ليكن وليد نے كچھ دن حكم ميں ٹال مٹول كيا ، گويا سنا ہى نہيں ، ناچار سعيد نے كہا كہ ،اپنے بھائي كے پاس جلدى جائو كيونكہ انھوں نے مجھے حكم ديا ہے كہ تمھيں ان كے پاس بھيجوں ، پھر فرمان صادر كيا كہ دارالامارہ خالى كر كے ميرے حوالے كرو _
وليد نے مجبور ہو كر اطاعت كرتے ہوئے حكومت اس كے حوالے كى اور خود عمارہ بن عقبہ كے مكان ميں ٹھر گيا _
اس وقت سعيد نے حكم ديا كہ مسجد كوفہ كے منبر كو پاك كيا جائے ، وہ كسى حال ميں بھى اس حكم پر عمل كو روكنے كيلئے امادہ نہيں تھا كہ كہيں بات نہ بڑھ جائے _
كچھ بنى اميہ كے اہم افراد جو سعيد كے حمايتى اور اسى كے ساتھ كوفہ ائے تھے انھوں نے خواہش كا اظہار كيا كہ منبر پاك كرنے كا كام نہ كيا جائے ، خاص طور سے انھوں نے ياد دلا يا كہ اگر تمھارے سوا كوئي اور يہ كام كرتا تو تمہيں روكنا چايئےھا، كيونكہ اس عمل سے وليد پر ہميشہ كيلئے كلنك كا ٹيكہ لگ جائے گا (كيو نكہ يہ دونون ہى بنى اميہ كے خاندان سے تھے )
ليكن سعيد نے كسى كى بات نہ مانى ، اخر كار اس نے طئے كرديا كہ بہرحال منبر كو دھويا جائے اور دار الامارہ كى تطہير كى جائے (1)
اغانى ميں ہے كہ عثمان نے وليد كو فرمان صادر كيا كہ مدينہ ائے اس نے جب مدينہ چلنے كيلئے كوفہ چھوڑا تو ايك گروہ جسميں عدى بن حاتم بھى تھے ، اس كے ساتھ ہوگيا كوفے سے نكلا تاكہ خليفہ كے پاس جاكر وليد كے كرتوتوں كا عذر تراشيں ، اس سفر كے درميان ايك دن وليد نے رسم عرب كے مطابق اونٹوں كيلئے يہ حدى پڑھنے لگا (2)
لا تحسنا قد نسينا الايجاف
والنشوات من عقيق اوصاف
وعرف قينات علينا عراف(3)
1_ اغانى ج4 ص 1181_
2_ قديم زمانے سے عرب ميں رسم تھى كہ سفر كے درميان خاص طور سے لمبے سفر ميں اونٹوں كو تيز ھنكانے كيلئے ترنم كے ساتھ موزون شعر پڑھتے تھے اسطرح اونٹ وجد ميں اكر اپنى تھكن بھول جائے ، مسافروں كو لطف بھى اتا تھا ، اس انداز شعر كو حدى كہتے ہيں ،واضح بات ہے كہ حدى ميں ايسے ہى اشعار پڑھے جايئں گے جو اسكى شخصيت كى عكاسى كرتے ہوں يا مسافر كے ھدف كا اظہار ہو(سردارنيا)
3_ اس شعر كا مطلب يہ ہے ، يہ گمان بھى نہ كرنا كہ شترا ن راہوار كے سواروں كو ہم نے فراموش كر ديا ہے اور شراب كينہ كى ياديں بھلا دى ہيں اور دوشيزائوں كى بھڑكيلى اوازيں اور نغمے ميںبھول گيا ہوں
يہ سنتے ہى عدى اس پر برس پڑے ،ذرا دھيرج رہو تاكہ ديكھوں كہ اتنا سب كچھ ہونے كے بعد اب تم ہم لوگوں كو كہاں گھسيٹتے ہو_
جب وليد مدينے ميں عثمان كے پاس پہونچا اور گواہوں نے اسكے روبرو گواہى دى تو عثمان اس پر حدّ جارى كرنے كيلئے مجبور ہو گئے ، اسكے اوپر برديمانى كا جبہ اوڑھايا گيا تاكہ تازيانوں كى ضربيں اثر انداز نہ ہوں ، پھر حد جارى كرنے كيلئے كمرے ميں لے گئے_
0 comments:
Post a Comment