عمر و عاص 6ھ ميں فتح مكہ سے چھ مہينے قبل اسلام لائے ، اور خليفہ عمر كے زمانے ميں مصر ان كے ہاتھوں فتح ہوا تو عمر كے حكم سے وہاں كے گورنر بن گئے ، خلافت عثمان كے چوتھے سال تك وہ وہاں كے گورنر رہے ، پھر عثمان نے انھيں معزول كر ديا ، اسى وجہ سے عمر و عاص اس گروہ ميں شامل تھے جنھوں نے عثمان كى شديد مخالفت كى ، ان كے خلاف پر چار كر كے لوگوں كو ابھارتے ، يہاں تك كہ عثمان قتل كر دئے گئے _اسكے بعد عمر وعاص معاويہ سے مل گئے اور انتقام خون عثمان كا نعرہ لگا كر على سے جنگ كي، انھيں كى عيارى سے جنگ صفين ميں قران نيزوں پر بلند كيا گيا ، جنگ اپنے اخرى مرحلے ميں تھى اور معاويہ كا كام تمام ہونا ہى چاہتا تھا كہ جنگ كا نقشہ پلٹ گيا _جب حضرت على (ع) كے سپاہيوں نے اپنى جانب سے ابو موسى اشعرى كو حكم بنايا تو معاويہ نے اپنى طرف سے عمر و عاص كو حكم بنايا ، اخر كا ر عمر و عاص نے ابو موسى كو دھوكا ديا كہ على كو خلافت سے معزول كر ديا جائے ، اور ذرا موقع دئے بغير انھوں نے معاويہ كو خليفہ نامزد كر ديا ، اس حسن خدمت كے بدلے اور پہلے سے طئے شدہ معاہد ے كے مطابق انھيں مصر كى حكومت مل گئي ، محمد بن ابى بكر كے قتل ہونے كے بعد 43ھ تك يا كچھ بعد تك مصر كے حكمراں رہے ، وہيں ان كا انتقال ہوا اور وہيں دفن كئے گئے استيعاب ، اسد الغابہ ، اور طبقات ديكھى جائے _مغيرہ بن شعبہ
مغيرہ بن شعبہ بن ابو عامر بن مسعود ثقفى ، جنگ خندق كے زمانے ميں اسلام لائے اسكے بعد مدينہ ہجرت كى ، جنگ حديبيہ ميں شريك تھے ، رسول خدا نے ان كو ابو سفيان كے ساتھ بنى ثقيف كے بتوں كو توڑنے كيلئے بھيجا ، مغيرہ كى انكھ جنگ ير موك ميں چلى گئي ، وہ عمر كى طرف سے بصرہ كے گورنر مقرر كئے گئے اور جب ان پر زنا كا الزام لگايا گيا اور لوگوں نے گواہى دى تو انھيں معزول كر ديا ، ليكن كچھ دن بعد كوفے كى گورنرى ديدى ، اخر كار جب وہ معاويہ كى طرف سے كوفے كے گورنر تھے انتقال كيا ، كہتے ہيں كہ انكى تين سو بيوياں تھيں اور بعض روايات ميں ہے كہ ايك ہزار عورتوں سے مسلمان ہونے كے بعد شادى كى (1)سعد بن ابى وقاص
ابو اسحق كنيت تھى ، سعد نام تھا جوابى وقاص كے بيٹے تھے ، ابى وقاص كا نام مالك بن اھيب تھا جو قريش كے قبيلہ زھرہ سے تھے _سبقت اسلامى ميں ان كا ساتواں نمبر ہے ، وہ مسلمانوں ميں پہلے تير انداز تھے جنگ بدر اور تمام غزوات ميں شركت كى ،فتح عراق كے موقع پر وہ سپہ سالار اسلام تھے ، انھوں ہى نے وہاں شھر كھولا اور شہر كوفہ كى بنياد ڈالى ، پھر عمر كى طرف سے وہاں كے گورنر ہوئے ، عمر نے انھيں مجلس شورى كا ايك ركن مقرر كيا تھا سعد نے قتل عثمان كے بعد گوشہ نشينى اختيار كر لى تھى ، اخر كا ر 50ھ ميں اس زھرسے جسے معاويہ نے عيارى سے انھيں كھلا ديا تھا انتقال كيا انھيں بقيع ميں دفن كيا گيا (2) اب ہم پھر اپنے مطلب پر واپس اتے ہوئے خليفہ عمر اور ام المومنين عائشه كے احترامات متقابل كا تجزيہ كرتے ہيں
1_ استيعاب درحاشيہ اصابہ ج2 ص18 _ 25 ، اصابہ ج2 ص30 _ 32
جس نے قيصر و كسرى كو زير نگين كيا ، انكى حكومت قبضے سے نكال كر اينٹ سے اينٹ بجادى ، جس نے اصحاب رسول پر كوڑے برساكر اپنى مطلق العنانى كا مظاہرہ كيا ، جس شخص كا نام سنتے ہى طاقتور سلا طين اور فرماں روا كانپ جاتے ، ہم ديكھتے ہيں كہ اپنے كو ام المومنين عائشه جيسى خاتون كے سامنے كسقدر حقير سمجھتا ہے ، عاجزى و انكسارى كا مظاہرہ كرتا ہے _
اپنى اخرى ارامگاہ كو انكى اجازت پر منحصر سمجھتا ہے
اسكا گھر شورى كا محل و مقام قرار ديتا ہے تاكہ وہيں عائشه كے گھر ميں مقتدر اسلامى حكومت و خلافت طئے پائے اور مسلمانوں كا حكمراں معين ہو ، اور اس ذريعے سے مسلمانوں كى نظر ميں ان كا مرتبہ و مقام زيادہ سے زيادہ بڑھے انھوں نے اپنے اس اقدام سے تمام دنيائے اسلام كى توجہ ان كے اور انكے گھر كى طرف موڑ دى اور خاص موقع شناسى كے ماتحت ان كا مرتبہ و مقام اسقدر بلند كيا كہ زندگى كى اخرى گھڑيوں ميں كوشش يہى رہى كہ مسلمانوں اور اسلامى معاشرے كى نظر ميں ان كا مرتبہ بلند تر رہے ، اس اقدام اور ان جيسے اقدامات سے عمر نے اپنى خلافت كے زمانے ميں ام المومنين كو اپنے ہمعصروں اور تمام مسلمانوں كے اسقدر ممتاز اور بر تر قرار ديا كہ انكى عظمت كے سامنے اسلامى معاشرہ حقير بن گيا ، اسكى وجہ سے وہ اسقدر طاقتور بن گئيں كہ ان كے بعد دو خلفاء سے انھوں نے شديد اختلاف كيا اور جنگ كرنے كيلئے نكل ائيں _
جى ہاں _ انھوں نے رسول كے دو دامادوںعثمان اور على سے اسقدر شديد اختلاف كيا كہ مسلمانوں كو ان كا خون بہانے كا حكم ديديا ، حالانكہ يہ دونوں اصحاب رسول اور مسلمانوں كے خليفہ تھے ، رسول خدا كے جانشين سمجھے جاتے تھے ، انھوں نے اپنے اثرات اور طاقت سے ايسے حوصلہ مندانہ اقدامات كئے ، اس بار بھى انھوں نے تاريخ اسلام كى رفتارپر اپنى ذہانت كى مدد سے حساس نقوش قائم كئے _
يہاں تك كہ جو كچھ بيان كيا گيا اسكا خلاصہ يہ ہے كہ جب حكومت وقت ، خاص طور سے خلافت شيخين كے زمانے ميں ام المومنين عائشه سے فتوى اور احكام حاصل كرتى ، انكى اہميت كو تمام ازواج رسول سے بڑھا چڑھا كر پيش
كرتى ، ان كا نام سب سے اوپر ليا جاتا ، ان كے نام كے درميان كسى دوسرى خاتون كا نام نہيں تھا ، اسكى تہ ميں يہ علت كار فرما تھى كہ خلافت اپنے تمام مرتبہ و مقام كے ساتھ ان كى طرف اپنى عنايات مركوز ركھتى تھى ، اور اسى راستے سے حكومت وقت اپنے مقاصد حاصل كرتى ، انكى ذاتى بلند پروازى كا ماحول تيار كرتى اور اج تك مسلمانوں اور اسلامى معاشرے ميں ان كا اسى وجہ سے رتبہ بلند ہے _
تمام ازواج رسول كے مقابل صرف انھيں كا مدينے سے نكلنا روكا گيا ، ان كے ساتھ دوسرے اصحاب كا ملنا جلنا بند كيا گيا ، اس زمانے ميں احاديث رسول كى روايت كم ہونے كى بنيادى وجہ يہى ہے ، كيونكہ زيادہ تر ان كے ہم عصر ، خاص طور سے مدينے كے باشندوں كو صحبت رسول كا شرف حاصل تھا ، اسى وجہ سے انكى احاديث ، دوسروں كى حديثوں كے مقابل حكومت شيخين كے زمانے ميں تعداد كے لحاظ سے بہت كم اور احتمال قوى ہے كہ سيكڑوں تك بھى نہيں پہونچتى ، يہ بھى احتمال ہے كہ اس مقدار كى حديثيں جو اس دور ميں روايت كى گئيں وہى احاديث ہيں جن سے ان كے باپ ابو بكر اور عمر كى خلافت كى تائيد ہوتى ہے ، ان ميں عثمان كا نام نہيں ہے جبكہ وہ خلافت شيخين كے زبردست حمايتى تھے ، اسى طرح فضائل ابوبكر و عمر كى حديثيں ان كے زمانہ حكومت ميں بطور نص كہى گئيں ، اسى عہد كى ہيں بلكہ ان لوگوں كے مرنے كے بعد انھوں نے تمام عمر ان كے فضائل و مناقب ميں حديثيں بيان كيں _
اور بالاخر ہم نے ديكھا كہ اس عہد كے ختم ہونے كے بعد عمر جو صحابى رسول تھے سلاطين زمان ان كے سامنے جھكتے تھے ، مختلف قوموں نے گردن جھكا دى تھى ، وہى عمر نے عائشه كى اسقدر جلالت قدر ظاہركرتے ہيں كہ انكى اجازت سے اپنى اخرى ارامگاہ قرار ديتے ہيں اور ان كے گھر كو دار الشورى بناديا ، اسى لئے ان كا وظيفہ تمام ازواج رسول سے زيادہ تھا ، مختلف موقعوں پر صرف انھيں سے سنت رسول دريافت كر كے شرعى ذمہ دارى حاصل كى گئي ، اكيلى انھيں كى شخصيت كو عالم اسلام ميں برترى دى گئي اور اپنے بعد عالم اسلام كے حاكم كى حيثيت سے متعارف كرايا گيا _
انھيں اتنى طاقت عطا كر دى گئي كہ ان كے بعد دونوں خليفہ سے مخالفت پر كمر بستہ ہو گئيں اور لوگوں كو ان كے قتل پر ابھارا اور اسطرح انھوں نے تاريخ اسلام كى رفتار متعين كرنے ميںحساس اور اہم ترين رول نبھايا_
ابو عبد اللہ اور ابوعمر و كنيت تھى ، عثمان بن عفان نام تھا ، قريش كے اموى خاندان ميں ابو العاص كى نسل سے تھے _
انكى ماں كا نام اروى تھا جو كريزبن ربيعہ بن عبد شمس كى بيٹى تھيں اروى كى ماں كا نام بيضاء بنت عبد المطلب تھا جو رسول كى پھوپھى تھيں ، عثمان ان لوگوں ميں ہيں جنھوں نے بہت پہلے اسلام قبول كيا _
انكى شادى رسول(ص) خدا كى بيٹى رقيہ سے ہوئي ، ان كے ساتھ حبشہ ہجرت كى وہاں سے واپسى كے بعد مدينہ ہجرت كى _
عثمان نے اپنى بيوى رقيہ كى عيادت كے بہانے جنگ بدر ميں شركت نہيں كى ،
جب رقيہ مر گئيں تو رسول كى دوسرى بيٹى ام كلثوم سے شادى كى ، ام كلثوم نے بھى باپ كى زندگى ہى ميں انتقال كيا ،
رسول(ص) خدا كى ان دونوں بيٹيوں سے عثمان كى كوئي اولاد نہيں ہوئي ; غلام مغيرہ ابو لولو كے ہاتھوں جب عمر زخمى ہوئے تو انھوں نے شورى كميٹى ميں عثمان كا نام بھى شامل كيا ،
ليكن اخرى مرحلے ميں شورى كميٹى كى ايك فرد عبد الرحمن كے انتخاب پر معاملہ منحصر ہو گيا ، اس ميں عبد الرحمن نے اعلان كيا كہ ميں خود خلافت سے دستبردار ہوتا ہوں اس شرط سے كہ ميں جسكى خلافت مان لوں تم لوگ بھى اسكو تسليم كر لو ،
جب انكى پيشكش مان لى گئي تو انھوں نے اعلان كيا كہ ميں اسى كى بيعت كروں گا جو كتاب اللہ اور
سنت رسول اور سيرت شيخين كى پيروى كرنے كا عہد كرے ،
پہلے يہ پيشكش على كے سامنے ركھى گئي ، على نے اخرى شرط (سيرت شيخين پر عمل ) قبول نہيں كى (1) نتيجے ميں عبد الرحمن عثمان كے ہاتھ پر بيعت كر لى كيونكہ انھوں نے عبد الرحمن كى تينوں شرطيں مان لى تھيں ، ان كے بعد عثمان كى بيعت بروز شنبہ پہلى محرم 24ھ سب نے كر لى _
عثمان خليفہ ہو گئے ، انھوں نے بارہ سال حكومت كى ، ہم انكى حكومت كا زمانہ دو حصوں ميں تقسيم كرتے ہيں ، ايك تائيد و حمايت كا دوسرا غصہ و بغاوت كا اخر كار وہى غصہ اور بغاوت يا ملك كى لا چاريوں كے خلاف عوامى قيام اور عثمان كے خاندان والوں كے كرتوت تھے ، جس نے عثمان كو تخت حكومت سے تختہ ء تابوت تك پہونچا ديا ، خليفہ بڑى اسانى سے قتل كر دئے گئے _
جيسا كہ ہم نے حالات ام المومنين كے ذيل ميں بيان كيا كہ عثمان كے قتل ميں عائشه نے بڑا اہم رول نبھايا ، عثمان كى تاريخ قتل ميں اختلاف ہے ، بارہ سے اٹھائيس ماہ ذى الحجہ 35ھ تك كے اقوال ہيں اسى طرح انكى عمر بھى 82سے 92 سال تك لكھى گئي ہے _
عثمان كا جنازہ تين روز بعد جنت البقيع كے باہر يہوديوں كے قبر ستان جس كا نام حش كوكب تھا ، اور بقيع اور اسكے درميان ديوار حائل تھى ، دفن كيا گيا ، جب معاويہ خليفہ ہوئے تو حش كوكب كى ديوار منہدم كر كے جنت البقيع ميں شامل كر ديا _
1_ عمر نے بستر مرگ سے چھ بزرگ نامور صحابہ كو خلافت كے لئے نامزد كيا ، اور طئے كيا كہ يہ لوگ تين روز كے اندر كسى ايك كو خليفہ منتخب كر ليں ، اگر ان ميں اكثريت كسى كو منتخب كر لے اور دوسرے مخالفت كريں تو انكى گردن مار دى جائے ، اور اگر تين تين دونوں طرف ہوں تو جدھر عبد الرحمن ہوں اسى كو خليفہ بنايا جائے ، عبد الرحمن نے موت عمر كے بعد خود كو خلافت سے دستبردار كر ليا اس شرط سے كہ جسكى وہ بيعت كريں سب لوگ اسے مان ليں ، عبد الرحمن اچھى طرح حضرت على كو پہچانتے تھے كہ وہ جاہ طلب سيرت شيخين كو ہرگز قبول نہ كريں گے ، چند روز حكومت كيلئے تئيس (23)سالہ رسول كى محنت برباد نہ كريں گے ، بلكہ عمر بھى اس بات كو جانتے تھے ،كيسے معلوم ہوا كہ انھوں نے عبد الرحمن كو اسكا حكم نہيں ديا ہوگا
انھيں باتوں كے پيش نظر عبد الرحمن نے على سے كہا ميں كتاب اللہ و سنت رسول اور سيرت شيخين كى شرط پر اپ كى بيعت كرتا ہوں ليكن على نے دين كے بدلے دنيا نہيں بيچى ، وہ جانتے تھے كہ اگر قبول نہ كيا تو حكومت نہ ملے گى ، اپ نے فرمايا كہ خدا و رسول كى روش پر بيعت قبول كرتا ہوںليكن سيرت شيخين پر عمل قبول نہيں ، ميں خود اپنى سيرت پر چلوں گا ، اگر عبد الرحمن نے يہ شرط على كے علاوہ كسى سے كى ہوتى تو وہ مان ليتا ، ليكن انھوں نے صرف اپنے داماد عثمان كے سامنے پيش كى ، اور عثمان نے بغير كے اسے قبول كر ليا ، واقعى سوچنے كى بات ہے كہ اخر سيرت شيخين كيا تھى كہ جسے عبد الرحمن نے پيش كيا اور على نے اسے مسترد كر ديا
خلافت عثمان كا ابتدائي زمانہ ابو بكر و عمر كى حكومت كى طرح گذرا ، اور عائشه ايسا سمجھ رہى تھيں كہ پہلے كى طرح خليفہ عثمان بھى ميرا احترام كريں گے ، اور دوسرى ازواج رسول پر ان كا امتياز محفوظ ہے ، ان كا اقتدار جيسا پہلے تھا اج بھى ہے ، يہى وجہ تھى كہ عائشه بھى قريش كے دوسرے سربر اوردہ افراد كى طرح عثمان كى تائيد و حمايت ميں امادہ تھيں ، انھوں نے عثمان كے بارے ميں بے دريغ احاديث بيان كيں ، انكى شخصيت و خلافت كى حمايت كا اعلان كيا _
جو احاديث عثمان كى مدح و ستائشے ميں مروى ہيں ان ميں عثمان كے قتل ہونے كى بات نہيں ہے ، زيادہ احتمال يہ ہے كہ يہ احاديث اسى مختصر زمانے ميں روايت كى گئيں ہيں جس زمانے ميں وہ تائيد و حمايت كرتى تھيں ، اس قسم كى احاديث كے نمونے مسند احمد بن حنبل سے نقل كئے جاتے ہيں _
عائشه كا بيان ہے كہ ميں اور پيغمبر خدا(ص) ايك لحاف ميں ليٹے ہوئے تھے ، اتنے ميں ابو بكر نے اندر انے كى اجازت مانگى ، پيغمبر(ص) نے اسى حالت ميں كہ وہ ميرى اغوش ميں زير لحاف تھے ، اجازت ديدى كہ اندر اجائيں ، ابو بكر اندر ائے اور اپنى باتيں كہنے كے بعد باہر چلے گئے ، ابو بكر كے بعد عمر نے انے كى اجازت مانگى ، اس بار بھى پيغمبر(ص) نے اسى حالت ميں بلاليا اور باتيں پورى كر كے روانہ كر ديا ، جب عمر باہر گئے تو عثمان نے پيغمبر (ص) سے ملاقات كى اجازت مانگى ، رسول خدا (ص) نے اس بار اٹھكر اپنے كپڑے درست كئے ، پھر اندر انے كى اجازت دى ، عثمان اپنے كام كے بعد واپس گئے ، اس موقع پر ميں نے رسول خدا (ص) سے كہا ، ابوبكر و عمر كو اپ سے ملنا تھا اپ نے اسى حالت ميں ان سے ملاقات كى ، نہ اٹھكر بيٹھے نہ كپڑے ٹھيك ٹھاك كئے ، ليكن جس وقت عثمان ائے تو اپ نے خود كو ا س طرح ٹھيك ٹھاك كيا جيسے اپ ان سے شرم كرتے ہيں ؟
رسول خدا (ص) نے فرمايا: عثمان بہت زيادہ شرميلے اور حيا دار ہيں ، ميں ڈرا كہ اگر اسى حالت ميں ميرے پاس ائے تو شرم و حيا كى وجہ سے اپنے مطالبات نہ بيان كريں گے _
ايك دوسرى روايت كى بناء پر ( 1) عائشه كا بيان ہے كہ رسول(ص) خدا بستر پر سوئے ہوئے ميرى چادر تانے ہوئے تھے ، يہاں تك كہ جب عثمان نے ملاقات كيلئے اجازت مانگى تو پيغمبر(ص) نے مجھے حكم ديا ، اپنے كپڑے پہن لو _
عائشه نے كہا ، اے رسول(ص) خدا ، ابوبكر و عمر كى امد پر اپ اتنے بے حواس نہيں ہوئے اب اپ عثمان كے انے پر اتنى تيارى كر رہے ہيں كہ اپنے كپڑے پہن رہے ہيں ؟
ايك دوسرى روايت ميں ہے كہ رسول خدا (ص) نے فرمايا :
اے عائشه ميں ايسا كيوں نہ كروں اور اسكا احترام نہ كروں حالانكہ خدا كى قسم فرشتے بھى عثمان سے شرم وحيا كرتے ہيں (2)
ميرے خيال ميں اس حديث كو خلافت عثمان كے زمانے ميں بيان كيا گيا ہے ، كيونكہ جيسا كہ ہم اس حديث ميں ديكھ رہے ہيں ، اس حديث ميں بھى خلفاء ثلثہ كے نام اسى ترتيب سے لئے گئے ہيں جس ترتيب سے وہ ہوئے ہيں ، يہ چيز بجائے خود ہميں سمجھاتى ہے كہ شيخين كے بعد جب عثمان مسند خلافت پر بيٹھے ہيں تو اسے بيان كيا گيا ہے _
نيز يہ بھى واضح ہوتا ہے كہ حديث بالا اس وقت بيان كى گئي ہے جب ابھى عائشه كو عثمان سے اختلاف نہيں ہوا تھا ، نہ رنجش ہوئي تھى ، بلكہ قتل عثمان سے بہت پہلے بيان ہوئي ہے ، بلكہ اس سے بھى بہت پہلے جب عائشه انتقام خون عثمان كيلئے كھڑى ہوئي تھيں ، روايت ہوئي ہے
كيو نكہ اگر اس كے علاوہ بات ہو تو اسميں دوسرى احاديث كے مانند ان كے قتل ہونے كا بھى تذكرہ ہوتا ، ان تمام باتوں كو نظر انداز بھى كر ديا جا ئے تو يہ بات بہت واضح ہے كہ رسول(ص) خدا خود ادب و اخلاق كا سمندر تھے ، اخلاق كے مربى تھے ، بنا بريں يہ حديث رسول كو اپنى زوجہ كے ساتھ لحاف ميں بتا رہى ہے ، بغير كسى شرم و حيا كے ايك كے بعد دوسرے صاحب كمرے ميں اتے ہيں ، اور انحضرت (ص) پر كوئي اثر نہيں ہوتا ،ليكن عثمان كے اتے ہى كپڑے درست ہوئے ، اپنى زوجہ عائشه كو بھى كپڑے درست كرنے كا حكم ديا ، پھر يہ كہ رسول(ص) خدا نے ان تينوں صحابہ ميں فرق مراتب كيوں قرار ديا ؟ اور كيا بات ہے كہ صرف عثمان ہى سے فرشتے شرم كرتے ہيں ؟
1_ صحيح مسلم ج7 ص117 ، باب فضائل عثمان _ مسند احمد ج 6 ص155
2_صحيح مسلم ج7 ص 116 ، كنز العمال ج6 ص376 _ تاريخ بن عساكر _ النساب الاشراف بلاذري
عثمان كى خلافت كے نصف اول ميں عائشه نے انكى حمايت كى ، خود بھى فرماں بردار تھيں اور ذرا بھى مخالفت و نافرمانى كى ہوا نہيں بنائي _
يہاں تك كہ اس موقع پر بھى كہ جب تمام ازواج رسول نے حج كا ارادہ كيا تو پہلے انھيں سے اجازت مانگى ، عائشه كا اس مرتبہ بيان ہے _
جب عمر مر گئے اور عثمان حكمراں ہوئے تو ميں نے ام سلمہ اور ميمونہ و ام حبيبہ سے ايك شخص كو عثمان كے پاس بھيج كر حج كى اجازت طلب كى _
عثمان نے جواب ديا ، سيرت عمر كا لحاظ كرتے ہوئے ميں بھى انھيں كى طرح حج كيلئے بھيجوں گا ، اسلئے تمام ازواج رسول ميں جو بھى ادائے حج كى خواہشمندہے ، ميں تيار ہوں _
عثمان نے اپنا وعدہ پورا كيا ، اورہمارے ساتھ سب ازواج كو بڑے اہتمام و حجاب كے ساتھ حج كے لئے روانہ كيا ، صرف زينب نہيں تھيںكيونكہ وہ زمانہ ء عمر ہى ميں مر چكى تھيں اور سودہ بنت زمعہ جنھوں نے وفات رسول كے بعد كبھى گھر سے قدم باہر نہيں نكالا (1)
اس سال عثمان نے ازواج رسول كے ساتھ حج كيا ، اور تحفظ و نگرانى كى تمام ذمہ دارى عبد الرحمن بن عوف اور سعد بن زيد كے حوالے كى _
يہ صفائي اور خلوص زيادہ دير نہ ٹك سكا ، گذرتے زمانے كے ساتھ عائشه اور عثمان كے درميان اختلاف ظاہر ہوگئے ،اخر كا ر عثمان نے عائشه كے وظيفہ كا دو ہزار اضافى حصہ كا ٹ ليا
تاريخ يعقوبى ميں ہے (2)عائشه و عثمان كے درميان رنجش ہوگئي اور عثمان نے وہ دو ہزار دينار جو عمر نے تمام ازواج كے مقابلے عائشه كو امتياز ى اضافہ كيا تھا كاٹ ليا ، اور دوسرى ازواج كى طرح ان كا بھى وظيفہ معين كيا _
عائشه و عثمان كے درميان اختلاف كى صحيح تاريخ ہميں معلوم نہيں ، بس ہم اتناہى جانتے ہيں كہ ان دونوں كا اختلاف نصف اخر ميں ظاہر ہواہم يہ بھى جانتے ہيں كہ يہ اختلاف كسى ايك واقعہ كے تحت نہيں ہوا بلكہ رفتہ رفتہ سلگتا ہوا شدت پكڑ گيا ، سنگين سے سنگين تر ہوتا گيا ، پھر عائشه اور عثمان كے درميان دراڑ عميق تر ہو گيا _
1_ طبقات بن سعد ج 8 ص 209
2_ تاريخ بن اعثم كوفى ص 155 _ تاريخ يعقوبى ج2 ص 132
اسى طرح ہم يہ بھى جانتے ہيں كہ عائشه پہلى شخص ہيں جنھوں نے پرچم بغاوت بلند كيا ، اور ناراض لوگوں كو اپنے گرد جمع كيا ، انكى قيادت كى يہاں تك كہ خليفہ قتل كر ڈالے گئے (1)
اور يہ بھى طئے ہے كہ جس وقت عثمان كے خلاف كشمكش و مخالفت كى اگ اور لوگوں كى شورش بھڑك رہى تھى ، اسوقت مسلمانوں كا كوئي بھى خاندان يا قبيلہ ابو بكر كے خاندان تيم سے زيادہ مخالفت ميں اگے نہ تھا (2)منجملہ ان امور كے جن سے عائشه اور عثمان كے درميان اختلاف زيادہ سے زيادہ بڑھتا گيا ، انجام كا ر دشمنى و نفاق ان دونوں ميں اشكار تر ہوا ان ميں وليد بن عقبہ كا مسئلہ ، ابن مسعود صحابى كے مسئلے پر عام طور سے لوگوں كو توجہ ہوئي ، ہم يہاں ہر ايك كے بارے ميں الگ الگ تجزيہ كريں گے _
ہم نے بتايا كہ عثمان كى فرماں روائي كے ابتدا ئي زمانے ميں ام المومنين عائشه كى زبر دست حمايت حاصل تھى ، وہ چھ سال تك خاتون صدر اسلام كى حمايت سے سرفراز رہے عثمان بھى عائشه كے احترام ميں كمى نہيں كرتے تھے ، ليكن گذرتے زمانے كے ساتھ رفتہ رفتہ ان دونوں كے درميان اختلاف ابھرتا گيا ، گروہ بندى اور محاذ ارائي شروع ہو گئي _
ام المومنين لوگوں ميں اپنے اثرات عثمان كو دكھانے كيلئے ہر حادثے سے بيش از بيش استفادہ كرتى تھيں ، عثمان كے خلاف لوگوں كے جذبات ابھارنے ميں ہر مسئلے سے فائدہ اٹھاتيں ، يہ عناد اور اختلاف اسقدر بڑھ گيا كہ دونوں ايك دوسرے كى جان كے دشمن ہو گئے
عثمان نے اپنے رضاعى بھائي وليد بن عقبہ كو حكومت كوفہ حوالے كر دى جو بد كار ، شرابخوار و كمينہ تھا ، كوفے كے باشندے ايسے حكمراں كى شكايت ليكر مجبور اً ائے ، يہ ام المومنين كو بڑا اچھا بہانہ ہاتھ لگا كہ عثمان كى اينٹ سے اينٹ بجا دى جائے _
1_ طبرى ج5 ص 172
2_ انساب الاشراف بلاذرى ج5 ص 68
اب ميں بھى تاريخ كے دريچے سے اس زمانے ميں وليد كے كرتوتوں پر لوگوں كے رد عمل اور عائشه كے احكامات پر ايك نظر ڈال رہا ہوں _
وليد بن عقبہ ، يہ شخص خاندان ابى معبط بن ابى عمرو كى فرد تھا جسكا نام ذكوان تھا ، ذكوان كو اميہ بن عبد الشمس نے خريد اتھا بعد ميں اپنا بيٹا بنا ليا وليد كى ماں كانام اروى بنت كريز بن ربيعہ تھا ، جو عثمان كى ماں تھى ، اس بناء پر وليد عثمان كامادرى بھائي تھا وليد باپ عقبہ مكے ميں رسول خدا كا پڑوسى تھا ، بعثت كے ابتدائي زمانے ميں انحضرت (ص) كى مجلس ميں اكثر اتا جاتا رہتا تھا _
ايك دن عقبہ كے يہاں كچھ مہمان ائے اور انحضرت سے خواہش كى كہ اس نشست ميں اپ بھى تشريف لائيں ، رسول خدا نے اسكى خواہش قبول فرمائي اسكے مہمان ہو گئے ، ليكن اپ نے اسكا كھانا نہيں كھايا اور شرط لگادى كہ اگر تم خدا كى وحدانيت اور ميرى رسالت پر ايمان لے ائو تو ميں تمھارا كھانا كھائوں گا ، عقبہ نے اپ كى بات مان كر ايمان كا اقرار كر ليا ، اسطرح وہ مسلمان سمجھا جانے لگا ، جب قريش كو يہ بات معلوم ہوئي تو كہنے لگے عقبہ بھى اپنے باپ دادا كے دين سے پھر گيا _
عقبہ كا ايك دوست تھا ، وہ اس واقعے كے وقت مكے ميں نہيں تھا شام كى طرف سفر ميں گيا تھا ، جس رات وہ شام سے واپس ايا تو اپنى بيوى سے بات چيت كے درميان پوچھا _
_محمد اور ان كے ماننے والوں كا كيا حال ہے ؟
_وہ لوگ سخت جد وجہد كى وجہ سے روز بروز ترقى كر رہے ہيں _
_ميرا دوست عقبہ كيا كر رہا ہے ؟
_وہ بھى باپ دادا كے دين سے پھر گيا ہے اور محمد كا دين قبول كر ليا ہے _
_عقبہ كا دوست جسكا نام بعض روايات ميں ابى بن خلف اور بعض ميں اميہ بن خلف ہے يہ ماجرا سنكر سخت پريشان اور بے چين ہوا اس نے رات بے چينى ميں گذارى ، صبح كو جب عقبہ اس سے ملنے ايا اور سلام كيا تو اس نے سر نہيں اٹھايا ، نہ اسكى طرف ديكھا ، اسے كوئي جواب نہيں ديا ، عقبہ نے پوچھا :
_كيا بات ہے كہ ميرے سلام كا جواب بھى نہيں ديتے _
_كيسے سلام كا جواب دوں ، تم تو باپ دادا كے دين سے پھر گئے ہو ؟
_قريش بھى ميرے بارے ميں يہى كہتے ہيں ؟
_ہاں
_ميں كيا كام كروں كہ ان كے دلوں كى صفائي ہو جائے ؟
_بہت اسان ہے ، محمد كى بزم ميں جاكر منھ ميں پانى بھر كے ان كے اوپر كلّى كرو اور جتنى گندى گالى ہو سكتى ہے انھيں دے ڈالو _
عقبہ نے اپنے ساتھى دوست كے حكم پر عمل كيا اور جو بات كسى طرح مناسب نہيں تھى اسے كر ڈالا _
رسول خدا (ص) نے اس كى اس ذليل حركت پر كوئي رد عمل ظاہر نہيں كيا صرف اپنا چہرہ صاف كيا پھر عقبہ كى طرف رخ كر كے فرمايا :
اگر مكہ كے باہر ميں نے تجھے پاليا تو تيرى گردن مار دوں گا _
ايك دوسرى روايت ميں ہے ، عقبہ كے دوست نے اسكى سر زنش كرتے ہوئے كہا :
_اے عقبہ، تم اپنے باپ دادا كے دين سے پھر گئے ہو ؟
_نہيں ، ايسا نہيں ہے ، ايك دن محمد ميرے مہمان ہوئے اور قسم كھائي كہ اگر ميں مسلمان نہيں ہو جائو نگا تو كھانا نہيں كھائونگا مجھے بڑى شرمندگى ہوئي انھيں خوش كرنے كے لئے زبان سے كلمہ پڑھ ليا سچ بتاتا ہوں كہ دل سے ايسا نہيں كيا ہے _
_اب ميں كبھى تمھارى صورت نہيں ديكھوں گا ، جب تك تم ان كے اوپر كلّى نہ كرو ، پھر انھيں طمانچے لگائو ، لاتوں اور گھونسوں سے انكى ضيافت كرو ، اسطرح ان سے اپنى بيزارى كا اظہار كرو _
عقبہ نے اپنے دوست كے اس حكم پر اسوقت عمل كيا جب انحضرت دار الندوہ ميں حالت سجدہ ميں تھے _
رسول خدا (ص) نے اس سے فرمايا :
اگر ميں تجھے مكہ سے باہر ديكھوں گا تو سر كاٹ لوں گا _
* * * *
عقبہ اس واقعہ كے بعد رسول خدا كا سخت ترين دشمن ہو گيا ، پھر تو اس نے بكرى كى اوجھڑى لى اور اسكى سارى غلاظت اپ كے دروازے پر پھنيك ايا (1)
جنگ بدر ہوئي تو عقبہ كے ساتھى مشركوں كے ہمراہ رسول خدا سے جنگ كے لئے نكلے ، عقبہ سے بھى كہا كہ اس جنگ ميں شريك ہو ، ليكن اس نے عذر كرتے ہوئے كہا كہ ، ميں اس شخص سے ڈرتا ہوں ، كيونكہ مجھ سے اس نے ايك دن كہا تھا اگر تجھے مكہ سے باہر ديكھوں گا تو گردن ماردوں گا _
دوستوں نے جواب ميں كہا :
تمہارى ران كے نيچے سرخ بالوں والا اونٹ ہے ، اگر ہم لوگ شكست كھا گئے تو اسانى سے ميدان بدر سے بھاگ جائو گے _
عقبہ كو اسكے دوستوں نے اتنا سمجھايا بجھايا كہ وہ راضى ہو گيا ، وہ سب اسے ميدان تك گھسيٹ لائے _
جنگ شروع ہوئي ،اور اسكى بھٹى گرم ہوتى گئي ، اخر كار خداوند عالم نے مسلمانوں كو فتح عطا كى ، اس ہنگامے ميں عقبہ كا شتر بھاگا اور اسے ايك ہموار ميدان ميں پہونچا ديا ، مسلمان اسكے سر پر پہونچ گئے اور ديگر ستر قيديوں كى طرح اسے بھى گرفتار كر ليا _
جب عقبہ كو خدمت پيغمبر ميں لائے تو اپ اسے گھورنے لگے پھر اپ نے اسكے قتل كا حكم ديديا
عقبہ نے قتل كا فرمان سنا تو چلانے اور فرياد كرنے لگا _
ہائے اپ ان تمام قيديوں ميں صرف مجھے ہى كيوں قتل كر رہے ہيں _
رسول خدا(ص) نے فرمايا ، تيرا گناہ بہت سنگين ہے ، تجھے اسلئے قتل كيا جارہا ہے كہ تو نے خدا ورسول سے كفر كيا اور ظلم كيا ، پھر اپ نے حضرت على كو حكم ديا كہ اسكا سر بدن سے جدا كر دو _
قران كى يہ ايت اسى واقعے كى طرف اشارہ ہے _
1_ طبقات بن سعد ج1 ص 86 مطبوعہ مصر
اور جس دن ظالم اپنے ہاتھوں كو اپنے دانتوں سے كاٹتا ہو گا ، كہے گا كاش ميں پيغمبر سے رسم و راہ ركھتا ، كاش ميں فلاں شخص كى بات نہ مانتا اس نے مجھے نصيحت قبول كرنے سے بہكا ديا ، جبكہ وہ ميرے پاس پہونچى تھى ، اور شيطان تو انسان كو بے سہارا چھوڑ نے والا ہے (1)
وليد اسى عقبہ كا بيٹا ہے جس دن مسلمانوں كے ہاتھوں مكہ فتح ہوا اور پيغمبر اسلام كے قبضے ميں ايا ، مشركوں اور گمراہوں كو بھاگنے كى راہ نہ رہى يہ وليد اسى دن مسلمان ہوا ، كچھ دن بعد رسول خدا نے اسكو قبيلہ بنى المصطلق كى زكواة وصول كر نے كيلئے بھيجا _
وليد تھوڑے ہى دن بعد واپس اگيا اور رپورٹ دى كہ قبيلے كے افراد مرتد ہو گئے ہيں ، زكات دينے سے انكار كر رہے ہيں _
وليد كے اس رپورٹ دينے كى وجہ يہ تھى كہ قبيلہ بنى المصطلق كے كچھ لوگ وليد كے انے كى خبر سنكر اسكے استقبال كيلئے ابادى سے باہر اگے تھے تاكہ فرستادہ ء رسول كو خوش امديد كہيں ، ليكن وليد نے انكى بھيڑ ديكھ كر اپنى دانست ميں يہ سمجھا كہ يہ لوگ برى نيت سے ائے ہيں ، بغير ان سے بات كئے تيزى سے مدينہ واپس لوٹ گيا اور يہ جھوٹى رپورٹ دے ڈالى _
رسول خدا (ص) نے خالد بن وليد كو مامور فرمايا كہ جا كر مذكورہ قبيلے كى حقيقت حال دريافت كرے اور رپورٹ دے ، خاص طور سے خالد كو انحضرت (ص) نے تاكيد فرمائي كہ خالد كسى معاملے ميں جلدى نہ كريں اور گہرائي كے ساتھ مسئلے كا تجزيہ كريں _
خالد نے واپس اكر رپورٹ دى كہ قبيلے كے افراد اسلام سے وابستہ ہيں ، ذرا بھى مرتد نہيں ہوئے ہيں ، ان حالات ميں يہ ايت نازل ہوئي جسميں خالد كو فاسق اور بد كردار كى حيثيت سے متعارف كرايا گيا _
1_ سورہ فرقان ايت 27 و29 ، سيرہ بن ھشام ج1 ص385 وج2 ص25، تفسير طبرى ،قرطبى ، زمخشرى ، ابن كثير ، در منثور نيشاپورى امتاع الاسماع ص61و90
اے وہ لوگو جو ايمان لائے ہو اگر كوئي فاسق اور بد كر دار تمھارے پاس كوئي خبر ليكر ائے تو تحقيق كر ليا كرو كہيں ايسا نہ ہو كہ تم كسى گروہ كو نادانستہ نقصان پہونچا بيٹھو اور پھر اپنے كئے پر پشيمان ہو (1)
يہ ہيں مسلمانوں كے خليفہ عثمان جو اپنے كو رسول خدا كا جانشين سمجھتے ہيں ، ايسے فاسق مشھور بد كردار كو صرف رشتہ دارى كى وجہ سے كوفے كى گورنرى سپرد كرتے ہيں ،اور سعد بن وقاص كو وہاں سے ہٹا ديتے ہيں جو كوفہ كے مطلق العنان حكمراں اور پيش روخليفہ حضرت عمر كے زمانے سے گورنر چلے ارہے تھے ، حالانكہ سعد نے حكومت عمر كے زمانے ميں ان كے حكم سے كوفہ كى بنياد ركھى تھى جو دلالوں كى سر حد تھى ، اور وہ فوجى جو ايران كى جنگ ميں شامل تھے ، وہيں سكونت پذير ہو گئے تھے ، كوفہ والے سعد كا بہت احترام كرتے تھے _
جب وليد كوفے پہونچا اور سعد كو اسكى ماموريت كى خبر ہوئي تو وليد كى طرف رخ كر كے تعجب سے پوچھا _
ہم لوگ ايك دوسرے سے دور تھے ، ہم نہيں جانتے تھے كہ تمھارى پچھلى مكارى و حماقت ميرے بعد ہو شيارى و سمجھدارى ميںبدل گئي نتيجہ ميں تم نے لياقت بہم پہونچالى _
يا حقيقت ميں يہ ہم ہيں كہ احمق و نادان ہو گئے ہيں ؟ وليد نے جواب ديا اے سعد خفا نہ ہو ، يہ حكومت و سلطنت ہے جو گيند كى طرح ايك ہاتھ سے دوسرے ہاتھ ميں پہونچتى رہتى ہے ، سعد نے اطمينان سے جواب ديا ہاں ، ميں ديكھ رہا ہوں كہ تم لوگ بہت جلد اسے ملوكيت ميں بدل دو گے (2) كوفے كے باشندوں نے بھى اس تبديلى اور حكومت كے تغير پر اپنى خفگى ظاہر كرتے ہو كہا :
عثمان نے سعد بن وقاص كے بہت برے جانشين كو مقرر كيا ہے ، حكومت وليد بن عقبہ كے مسئلے پر ابو الفرج نے اغانى ميں خالد بن سعيد اموى سے يوں روايت كى ہے _
1_ سورہ ء حجرات ايت 6 ----''ان جاء كم فاسق ...''
2_ حالات وليد ، استيعاب ، طبقات ، اسد الغابہ ، اصابہ ، اور كنز العمال اور ايت زير بحث سے متعلق تمام تفاسير ديكھى جا سكتي
عباس بن عبد المطلب ، ابو سفيان ، حكم بن ابى العاص ، وليد بن عقبہ ہى وہ مخصوص افراد تھے جو مسند حكومت پر عثمان كے پہلو ميں بيٹھتے تھے_
ايك دن عادت كے مطابق وليد خليفہ كے پاس بيٹھا تھا اتنے ميں عثمان كا چچا حكم اگيا ، عثمان احترام حكم ميں اپنى جگہ سے اٹھكر الگ بيٹھ گئے اور حكم كو اپنى جگہ پر بيٹھا يا
حكم كيلئے عثمان كے اس برتائو سے وليد بہت خفا ہوا ، ليكن سامنے كچھ نہ بولا ،ليكن جب حكم چلا گيا تو عثمان سے كہنے لگا _
اے امير المومنين جس وقت اپ نے ميرے اوپر حكم كو ترجيح دى تو ميرے دل ميں يہ دو شعر گونجے _
عثمان نے كہا ، اخر حكم قريش كا بزرگ ہے ، اسكا احترام ميرے اوپر واجب ہے ،ليكن وہ دو شعر كيا ہيں ؟ وليد نے يہ دو شعر پڑھے _
ميں نے ديكھا كہ اپنے چچا كى بھائي سے زيادہ قدر كرتا ہے ، حالانكہ يہ نئي بات ہے ، قديم زمانے سے ايسا نہ تھا _
جب ميں نے ايسا ديكھا تو ميں نے ارزو كى كہ (عمر و خالد ) عثمان كے دونوں فرزند بڑے ہو جائيں اور قيامت كے دن مجھے چچا پكاريں (1)
عثمان كا دل ان دو شعروں سے بھن گيا ، كيونكہ وہ مادرى بھائي تھا مزيد دل نہ دكھے اسلئے مملكت اسلام كا ايك گوشہ حوالے كرتے ہوئے كہا ''ميں نے تمھيں حكومت عراق عطا كى ''
اور اسطرح ايك گمنام اور قران كى زبان ميں فاسق ناموس اسلام كا مطلق العنان فرماں روا بنا ديا گيا _
اب نامناسب نہيں ہو گا كہ حكم كا بھى تعارف كر ا ديا جا ئے كہ وہ كون ہے اور اسكے كيا كرتوت ہيں كہ جسكا اتنا احترام عثمان جيسا خليفہ كر رہا ہے_
حكم بن ابى العاص عثمان كا چچا ہے اوراميہ بن عبد الشمس كے خاندان سے ہے ، بلاذرى جلد پنجم ص 27 پر لكھتا ہے :
1_
رايت لعم المرء زلفى قرابة
دوين اخيہ حادثا لم يكن قدما
فاء ملت عمراً ان يشب و خالدا
لكى يدعوانى يوم مزحمة عما
حكم جاہلى زمانے ميں رسول خدا كا ہمسايہ تھا ، بعثت كے بعد وہ تمام پڑوسيوں سے زيادہ انحضرت كى اذيت ميں كوشاں تھا ، حكم فتح مكہ كے بعد اسلام لايا اور مدينے ميں سكونت اختيار كر لى ، ليكن مسلمانوں كى قربت كے باوجود اپنى دينى سستى اور بد اعتقادى ميں مشھور تھا ، كيونكہ حكم اگر چہ اسلام لے ايا تھا ليكن رسول خدا كے پيچھے پيچھے چلتا اور اپ كى نقل كرتا تھا ، ہاتھ اور منھ سے اپ كو چڑھا تا تھا ، نماز كے وقت مسخرہ پن ميں انگليوں كو ٹيڑى اور سيدھى كرتا، اصطلاحى حيثيت سے وہ گويا جو كربن جاتا _
ايك دن وہ رسول خدا كے پيٹھ پيچھے جو كروں كى حركتيں كر رہا تھا كہ انحضرت نے ديكھ ليا ، اپ نے غصہ ميں حكم ديا _
ايسا ہى ہو جا _
انحضرت (ص) كى نفرين كا يہ اثر ہوا كہ وہ تمام عمر اسى حالت ميں رہا ، سر اور منھ ہميشہ كپكپاتا رہتا تھا ، عمر بھر كى تھر تھرى لگ گئي _
مسلمانوں كو حق تھا كہ حكم كے اسلام كے بارے ميں مشكوك رہيں ، كيونكہ وہ اپنے مسخرہ پن كے تا عمر عذاب كے باوجود رسول خدا كى اذيت سے باز نہيں اتا ، ايك دن انحضرت(ص) اپنى ايك بيوى كے ساتھ حجرے ميں تھے كہ وہ سوراخ سے جھانكنے لگا ، انحضرت ڈنڈا ليكر باہر نكلے اور فرمايا كون مجھے اس كمينے چھپكلى بچے سے نجات دے گا (1)
پھر اپ نے فرمايا ، يہ اور اس كے بيٹوں كو حق نہيں كہ ميرے ساتھ ايك شھر ميں رہيں ، اپ نے ان كو طائف ميں جلا وطن كر ديا _
رسول خدا كى وفات كے بعد عثمان نے ابو بكر سے سفارش كى كہ حكم اور اسكے بيٹوں كو مدينے واپس بلا ليا جائے ، ابو بكر نے بات نہ مانى اور كہا :
ميرى يہ جراء ت نہيں كہ جسے رسول(ص) خدا نے دھتكار ديا ہے اسے مدينہ واپس انے كى اجازت دوں _
جب عمر خليفہ ہوئے تو عثمان نے اپنے مطالبے كى تجديد كى ليكن عمر سے بھى جواب سنا ، ليكن جب خود خليفہ ہوئے تو حكم اور اسكے بيٹوں كو مدينہ واپس بلا ليا اور كہا :
1_ من غديرى من ھذا الوزغ اللعين
ميں نے رسول خدا كى خدمت ميں حكم كى سفارش كى تھى كہ حكم كو مدينہ بلا ليا جائے ، رسول(ص) خدا نے بھى اسے قبو ل فرما ليا تھا ، ليكن وفات رسول كى وجہ سے ايسا نہ ہو سكا _
مسلمان اس راندہ رسول كى مدينہ واپسى سے خو ش نہ تھے ، بلا ذرى ص225 پر لكھتا ہے حكم اسرار پيغمبر كو فاش كرتا ، انحضرت (ص) نے اس پر نفرين كى اور اسكے ساتھ بيٹوں كو بھى طائف جلا وطن كر ديا ، اور فرمايا وہ ميرے ساتھ ايك شہر ميں نہيں رہے گا _
حكم نے خلافت عثمان كے زمانے تك اپنے بيٹوں كے ساتھ طائف ميں گذر بسر كى ، يہاں تك كہ عثمان نے اسے مدينہ واپس بلا ليا ، صفحہ 28 پر ہے كہ عثمان كى اس حركت سے تمام مسلمان خاص طور سے انتہائي غم و غصہ ميں بھر گئے كہ انھوں نے حكم كو مدينہ واپس بلا ليا ، اور يمن كے قبيلہ ء خزاعہ كى ، وصولئي زكوة پر مامور كيا ، پھر تمام حاصل شدہ رقم جو تين لاكھ تھى اسى كو بخش دى ، ص 27 پر لكھا ہے كہ:
حكم خليفہ عثمان كے زمانے ميں مرا ، خود عثمان نے اس كى نما ز جنازہ پڑھى ، پھر اسكے احترام ميں حكم ديا كہ قبر پر خيمہ لگا يا جائے_
جى ہاں ، حكم جسے عثمان اپنى جگہ پر بٹھا تے ، خود اسكے ما تحت بيٹھتے ايسى اہم اور معروف شخصيت كے بارے ميں قارئين كيا فيصلہ كريں گے ؟
حكم كے حالات كيلئے استيعاب ، اسد الغابہ اور اصابہ ديكھى جائے _
ابو عبد الرحمن كنيت تھى ، عبد اللہ بن مسعود ھذلى نام تھا ، ان كے باپ مسعود قبيلہ زھرہ كے ہم پيمان تھے ، ابن مسعود سابقين اسلام ميں سے تھے ، اور اس وقت كہ جب كسى ميں ہمت نہ تھى كہ مكہ ميں بلند اواز سے قران پڑھ سكے انہوں نے اس بارے ميں پہل كى اور بلند اواز سے ايات الہى كو ان مشركين كے كانوں تك پہونچايا جو اس سے نا اشنا اور غافل تھے ، قريش نے فرزند مسعود كو سزا دئے بغير نہيں چھوڑا ، اپ كو اسقدر مارا كہ زخمى كر كے خون ميں لت پت ايك كونے ميں ڈال ديا رسول خدا(ص) انھيں اپنے پاس ركھتے ، وہ بھى رسول خدا كى دل و جان سے خدمت كرتے
يہاں تك كہ رسول خدا نے ان سے فرمايا ، جہاں تك ميرى اواز سن سكو تمھيں اجازت ہے _
ابن مسعود ہميشہ خدمت ميں رہے ، اپ سے كبھى جدا نہ ہوئے ، رسول خدا (ص) كى جوتياں اپنے پا س ركھتے اور پنھاتے ، اپ كے ساتھ ساتھ چلتے كبھى اپ كے اگے بھى چلتے تاكہ اپ كے محافظ رہيں ، جب رسول خدا نہاتے تو اپ پردہ كرتے تاكہ كوئي انحضرت (ص) كا بدن نہ ديكھ سكے ، جب اپ سوتے تو اپكى حفاظت كرتے ، اپ ہى انحضرت (ص) كو خواب سے جگاتے ابن مسعود نے حبشہ اور مدينہ دونوں ہجرت كى جنگ_ بدر اور دوسرى جنگوں ميں شريك رہے ، وفات رسول (ص) كے بعد اپ كى زندگى كے بارے ميں يہ ملتا ہے كہ (1)
عمر نے انھيں عمار ياسر كے ساتھ كوفہ بھيجا وہاں كے باشندوں كو خط لكھا كہ ميں عمار ياسر كو حكمراں بنا كر اور عبد اللہ بن مسعود كو انكا مشاور اور امور دين كا معلم بنا كر بھيج رہا ہوں ، يہ دونوں رسول خدا كے مخصوص اصحاب اور جنگ بدر ميں شريك رہے ہيں ، انكى پيروى كرتے ہوئے انكى باتيں دل و جان سے سنو ، ان كے فرماں بردار رہو ، اور اس بات كو سمجھ لو كہ ميں ابن مسعود كو بھيجكر تم لوگوں كو اپنے اوپر ترجيح دے رہا ہوں(2)
ابن مسعود كوفے والوں كو قران كى تعليم ديتے ، انھيں دينى مسائل بتاتے اسى كے ساتھ ساتھ وہ بيت المال كے خزانچى بھى تھے _
خليفہ عثمان نے اپنے رضائي بھائي وليد كو كوفے كا گورنر بنا ديا ، وليد كوفہ ايا اور حكمرانى كرنے لگا ، ليكن ابن مسعود كے ہاتھ ميں تمام ماليات كے امور رہے _
0 comments:
Post a Comment