فيسبوک گروپ

12/28/2010

تاريخ اسلام ميں عايشه کاکردار دوران پيغمبر تا خلفا ثلاثه 5

ليكن جيسا كہ ہم نے بتايا خلافت شيخين (ابو بكر و عمر )كے زمانے ميں اس خيال سے كہ ان كے گروہ نے دوسرے گروہوں پر بنام مدينہ پيش دستى كر كے زمام حكومت قبضے ميں كر ليا تھا ، بہت خوش تھيں اورذہن ودماغ كو بڑا سكون و اطمينان نصيب ہوا تھا كيونكہ اس زمانے ميں جو شخص خليفہ ہے يا جو اس كے حوالى موالى ہيں انكے نزديك ان كا مرتبہ و مقام سارى دنيا ميں اور دنيائے اسلام ميں بہت بڑھ گيا تھا ، اسكى وجہ سے دنيا بھر كى اور سارے مسلمان كى توجہ انھيں كى طرف مڑ گئي تھى ، تمام ازواج رسول كے مقابلے ميں صرف انھيں كى طرف گردن جھكتى تھى ، رسول خدا كى دوسرى تمام خواتين سے ان كا مرتبہ بلند تر ہو گيا تھا _
رسول خدا(ص) نے رحلت فرمائي تو اپ كى ازواج قيد حيات ميں تھيں ، ليكن تاريخ ہميں يہ نہيں بتاتى كہ عمر و ابو بكر نے عائشه كے علاوہ كسى بھى زوجہ ء رسول كو خاص مرتبہ و مقام عطا كيا ہو ، كيا معاملات كے تصفيے ميں يا فتوى كے سلسلے ميں ان كے علاوہ كسى كى طرف رجوع كيا جاتا ہو _
ہمارى اس دليل كو طبقات بن سعد ميں ملاحظہ كيا جاسكتا ہے جنھوں نے محمد بن ابى بكر كے فرزند قاسم كا قول نقل كيا ہے ، وہ لكھتے ہيں :
عائشه زمانہ حكومت ابو بكر ، عمر اور عثمان ميں اكيلى وہ خاتون تھيں جو فتوى صادر كرتيں تھيں ، اور يہ صورتحال زندگى كے اخرى لمحے تك رہى (1)
دوسرى جگہ محمود بن لبيد كا قول لكھا ہے :
عائشه زمانہ حكومت ابوبكر و عمر و عثمان ميں فتوى صادر كرتيں اور احكام نافذ كرتى تھيں ، اور اخرى عمر تك يہ سلسلہ جارى رہا _

1_ طبقات بن سعد ج8 ص375
ابو بكر اور عمر كے علاوہ تمام صحابائے كبار ان سے مراجعہ فرماتے ، رسول(ص) خدا كى سنت اور مختلف مسائل ان سے پوچھتے اور انھيں سے حكم حاصل كرتے _
ان تمام باتوں كو جانے ديجيئے ، عمر نے جس وقت تمام ازواج رسول كا وظيفہ مقرر كيا تو عائشه كو سب پر مقدم ركھا ان كے حقوق دوسروں سے زيادہ قرار دئے
يہ معاملہ طبقات بن سعد ميں مصعب بن سعد كا قول اس طرح نقل كيا ہے _ عمر نے ازواج رسول كا ماہانہ وظيفہ دس ہزار مقرر كيا اور عائشه كو سب پر مقدم كر كے بارہ ہزار مقرر كيا ، عمر كى دليل يہ تھى كہ عائشه رسول خدا كى سب سے زيادہ چہيتى بيوى تھيں(1)
اس صورتحال كے با وجود خليفہ وقت عمر بن خطاب تمام ازواج رسول پر انھيں مقدم قرار دينے فتوى حاصل كرنے ، سنت رسول معلوم كرنے ، تمام مسلمانوں ميں ان كا مرتبہ و مقام بڑھانے ، دوسروں كے مقابل ان كا زيادہ وظيفہ مقرر كرنے كے با وجود ام المومنين عائشه كو دوسرى ازواج رسول كى طرح مدينے سے باہر جانے كى اجازت نہيں ديتے تھے ، يہاں تك كہ حج و عمرہ كى بھى اجازت نہيں ديتے تھے _
عمر كى سياست يہ تھى كہ بڑے اور مشھور صحابہ مدينے سے باہر نہ جائيں اسى بنياد پر جب زبير نے جنگ ميں شركت كرنے كى اجازت چاہى تو جواب ديا (2)نہيں ، مجھے اتفاق نہيں ہے ،

1_ طبقات بن سعد ج8 ص67 ، اجابہ 71 _75،كنز العمال ج7 ص116 منتخب كنز ،اصابہ ج4 س249 ، طبرى ج4 ص161 ، ابن كثير ج2 ص247 _مستدرك ج4 ص 8 _ شرح نہج البلاغہ ج3 ص 154 _ بلاذرى ص 454 _ 455 احكام السلطانيہ ماوردى ص 222_ واضح ہو كہ يہ خلافت كا سياسى مقتضا تھا كہ عائشےہ كو رسول كى چہيتى بيوى كى حيثيت سے متعارف كرايا جائے ليكن حقيقت ايسى نہيں تھى ، بلكہ خلافت نے اپنے زمانے ميں اس بات كو مشھور كيا
2_ ابن ابى الحديد ج4 ص457 ،تاريخ خطيب بغدادى ج7 ص453
كيونكہ ميں اس بات سے ڈرتا ہوں كہ اصحاب رسول لوگوں كے درميان پھيل جائيں گے تو گمراہى پھيلائيں گے(1)
ليكن عمر نے اپنى عمر كے اخرى سال ازواج رسول كو مدينے سے باہر جانے كى پاليسى بدل دى تھى ، يہ بات طبقات بن سعد ميں اس طرح ہے _
عمر بن خطاب ازواج رسول كو مدينے كے باہر جانے سے روكتے تھے ، يہاں تك كہ حج و عمرے كيلئے بھى جانے سے روكتے ، ليكن 23 ھ ميں جبكہ انھوں نے اخرى حج كيا تمام ازواج نے سوائے زينب اور سودہ كے ان سے اجازت چاہى كہ حج كيلئے مدينے سے باہر جائيں سودہ اور زينب نے حج كيلئے بھى گھر سے قدم باہر نہ نكالا ، وہ كہتى تھيں _
ہم وفات رسول كے بعد ہرگز اونٹ كى پشت پر سوار نہيں ہوئے ، يہ اس بات كا كنايہ تھا كہ انھوں نے كبھى سفر نہيں كيا _(2)
خود سودہ كہتى ہيں ، ميں نے رسول (ص) خدا كى حيات ميں حج و عمرہ كيا اب حكم رسول كے مطابق گھر ميں بيٹھى ہوں _
بہر حال عمر نے ازواج رسول كى درخواست منظور كى اور حكم ديا كہ ان كے لئے ھودج تيار كئے جائيں ، ان پر سبز رنگ كى محمليں سجائي گئيں تاكہ ازواج رسول لوگوں كى انكھوں سے پوشيدہ رہيں ،

1_ واقعى عمر كس بات سے ڈرتے تھے اور لوگوں كے گمراہى كا انديشہ كيوں تھا ؟ كيا انھيں اسكا ڈر تھا كہ اصحاب رسول لوگوں كے درميان جا كر حلال و حرام اور قوانين اسلام متغير كر كے گمراہى پھيلائيں گے ؟يا اس سے ڈر تے تھے كہ بعض اكابر صحابہ كے بارے ميں اصحاب رسول كى لوگوں كو جانكارى ہو جائے گى ، اور لوگ خلافت كے افراد سے بد ظن ہو جائيں گے ؟ يا بعض كو مدينے سے اسلئے جا نے نہيں ديتے تھے كہ انكى مخالفت كا انديشہ تھا ؟ بہر حال يہ مسئلہ الگ سے علمى استدلال كے ساتھ مطالع كا مستحق ہے ، عمر جيسے ھوشمند اور زيرك كى بات كو يو نہى نہيں اڑ ايا جا سكتا ، ان كے اقدام كو عوامى رنگ دنيا انصاف سے بعيد ہے انكى دور انديشى اور سياسى بصيرت پر ظلم ہے (سردار نيا )
2_ زينب اور سودہ كے گھر سے نہ نكلنے كى وجہ يہ تھى كہ رسول خدا نے اخرى حج ميں انھيں ازواج سے فرمايا تھا ، اس حج كے بعد تم سب كو گھر ميں بيٹھى رہنا ہے ، يہ بھى فرمايا كہ ميرے بعد تم ميں سے جو بھى تقوى اختيار كرے اور حكم كى مخالفت نہ كرے اور اپنے گھروں ميں نچلى بيٹھى رہے گى ، گھر سے قدم باہر نہ نكالے گى ، وہ قيامت ميں بھى ميرى زوجہ رہے گى طبقات بن سعد 8/ 208
پھر ان كى نگرانى ميں عثمان اور عبد الرحمن بن عوف(1) كو معين كر كے ضرورى احكامات صادر كئے گئے ا ور اسطرح انھوں نے مدينے سے مكہ سفر كيا _
عثمان اگے اگے سوارى ہانك رہے تھے ، كبھى كبھى بلند اواز سے اعلان كرتے ، خبر دار ، كسى كو حق نہيں كہ محمل كے قريب ائے اور خواتين رسول كو ديكھے _
پھر وہ خود بھى كسى كو ان سے قريب انے سے روكتے ، چنانچہ راستے ميں ايك شخص محمل كے قريب ايا تو اسے للكارا _
دور رہو ، دور رہو _
عبد الرحمن سوارى كے پيچھے پيچھے تھے ، انھوں نے بھى ہانك لگائي ، الگ رہو _
مسور بن مخرمہ (2)كا بيان ہے:
اتفاق سے اگر كوئي شخص اپنى سوارى ٹھيك كرنے كيلئے راستے ميں ٹھر گيا اور اونٹ بيٹھا ديا تو عثمان جو قافلے كے اگے اگے چل رہے تھے ، اسكے قريب جا كر كنارے كرديتے اور اگر راستہ وسيع ہوتا تو حكم ديتے كہ قافلہ اپنا راستہ بدل كر اس مرد سے كنارے ہو جائے ، اور داہنے يا بائيں راستے سے نكل جائے ، اگر اس كے علاوہ صورتحال ہوتى تو قافلے كو حكم ديتے كہ قافلہ ٹھر جائے تاكہ اس شخص كا كام ختم ہو جائے اور اپنى سوارى پر سوار ہو كر اگے بڑھ جائے ، اسكے بعد عثمان حكم ديتے كہ قافلہ اگے چلے ، ميں خود گواہ ہوں كہ انھوں نے مكے سے چلنے والے لوگوں كو جو مخالف سمت سے سامنے ائے تھے ، حكم ديا كہ راستے كے داہنے يا بائيں جانب اپنے اونٹوں كو بٹھا ئيں تاكہ قافلے پر نگاہ پڑنے كا فاصلہ دور ہو جائے _

1_ ابو محمد ، عبد الرحمن بن عوف قريش كے بنى زھرہ سے تھے ، انكى ماں شفا بھى اسى قبيلے سے تھيں ، عام الفيل كے دس سال بعد پيدا ہوئے ، جاہلى زمانے ميں عبد عمر يا عبد كعبہ نام تھا ، رسول خدا نے ان كے اسلام قبول كرنے كے بعد عبد الرحمن نام ركھا ، انھوں نے حبشہ اور مدينے مين ہجرت كى ، جنگ بدر ميں اور تمام جنگوں ميںشركت كى ، عمر نے انھيں شورى كى ايك فرد نامزد كيا تھا ، عبد الرحمن نے 31ھ يا يا32ھ مدينے ميں انتقال كيا اور بقيع ميں دفن كئے گئے ، اصابہ 2/ 408 _ 410 استيعاب در حاشيہ اصابہ ، اسد الغابہ 3/ 313 _ 317 ملاحظہ ہو
2_ ابو عبد الرحمن كنيت تھى ، مسوربن مخرمہ بن نوفل نام تھا ، قبيلہ قريش كے بنى زھرہ كى فرد تھے ، انكى ماں عاتكہ بنت عوف ، عبد الرحمن بن عوف كى بہن تھيں ، مسور ہجرت كے دوسرے سال پيدا ہوئے ، اور جس سال شاميوں نے ابن زبير پر چڑھائي كى اور خانہ كعبہ پر منجنيق سے گولے برسائے ، يہ مسور وماں حجر اسماعيل ميں نماز پڑھ رہے تھے ايك پتھر انھيں لگا اور مر گئے ، انكى موت ربيع الاول 64 ھ ميں ہوئي ، اسد الغابہ 4/ 365 ، طبقات بن سعد ، استيعاب اور اصابہ ديكھى جائے
عمر راستے ميں جہاں بھى منزل قرار ديتے ازواج رسول وہيں اترتى تھيں ، انھيں اكثر گھاٹى كے اندر ركھا جا تا اور وہ خود گھاٹى كے دہانے پر قيام كرتے ، يا بعض روايات كى بنا پر ان ازواج رسول كو گھاٹى كے انتہائي حصے پر ركھا جاتا جہاں تك پہونچنے كا راستہ نہيں ہوتا ، يہ بھى كہتے ہيں كہ ان كى منزل درختوں كے سائے ميں ركھى جاتى اور كسى حال ميں بھى لوگوں كو اجازت نہيں تھى كہ ان كے پاس سے گذرے_
ام المومنين عائشه نے صرف اسى حج ميں مدينے سے قدم باہر نكالا ، پھر تمام زمانہ خلافت عمر ميں كبھى مدينے سے باہر نہيں گئيں ، وہ بڑے سكھ چين سے احترام كے ساتھ اپنے ہى گھر ميں زندگى گذارتى رہيں ارباب حكومت و اقتدار بعض معاملات ميں انھيں فتوى كے سلسلے ميں رجوع كرتے اور ان كے احكام پر عمل كرتے _
وہ بھى ان كے جواب ميں مناسب حال حديث رسول سناتى تھيں ، وظيفہ كے امتياز كے علاوہ يہى ايك بات كہ ارباب اقتدار صرف انھيں سے فتوى اور احكام حاصل كرتے اس كا ثبوت ہے كہ وہ حكومت كى نظر ميں تعظيم و احترام كى مستحق تھيں ، جس خاتون كى خود خليفہ تعظيم كرے اسكى دوسرے افراد كس قدر تعظيم كرتے ہوں گے يہ ہر شخص سمجھ سكتا ہے _
اب يہ ...
اس فصل كو ايك واقعے پر ختم كيا جاتا ہے ، جس سے اندازہ ہو تا ہے كہ خليفہ عمران كا كسقدر احترام كرتے تھے _
ازاد كردہء عائشه ذكوان كا بيان ہے كہ مال غنيمت كى ايك ٹوكرى فتح عراق كے بعد خليفہ عمر كى خدمت ميں پيش كى گئي ، اسميں ايك موتى تھا عمر نے اپنے ساتھيوں سے پوچھا ، جانتے ہو اس موتى كى قيمت كيا ہے ؟
سب نے كہا ، جى نہيں ، وہ لوگ يہ بھى نہيں سمجھ پا رہے تھے كہ اسے مسلمانوں ميں كسطرح سے تقسيم كيا جائے _
عمر نے كہا ، كيا تم لوگ اجازت ديتے ہو كہ موتى عائشه كو ديديا جا ئے ، كيونكہ رسول خدا ان كو بہت پيار كرتے تھے ؟
سب نے كہا ، جى ہاں
عمر نے وہ موتى عائشه كے پاس بھيجوا ديا
عائشه نے كہا ،خدا نے عمر كو كتنى عظيم فتح عطا كى ہے ؟(1)_

1_ سير النبلاء ج2 ص 133 _ مستدرك حاكم و تلخيص ذھبي
قريب قريب يقين كے ساتھ يہ بات كہى جا سكتى ہے كہ ام المومنين عائشه كى احاديث ان كے باپ ابوبكر كے زمانے ميں اور اسى طرح عمر كے زمانے ميں بہت كم گڑھى گئيں ، كيونكہ ان ايام ميں لوگوں كى تمام توجہ فتوحات كى طرف تھى بار بار لشكر كشى كى وجہ سے مال غنيمت حاصل ہو رہا تھا _
دوسرے يہ كہ عام طور سے فكرى ہم اہنگى اور عدم اختلاف تھا ، سبھى لوگوں نے پورے طور سے ان لوگوں كى خلافت مان لى تھى ، اور يہ كہ تمام مدينے كے باشندے كم و بيش صحبت رسول سے فيضياب تھے يا اصحاب كے ہم عصر تھے ، اسلئے بطور كلى حديث كى مقدار عددى اعتبار سے بہت كم تھى ، اور اس وقت زيادہ حديثيں گڑھنے كى ضرورت بھى نہيں تھى _
ليكن ان تمام حالات كے باوجود اس زمانے ميں بھى عائشه كى احاديث نقل كى گئيں ہيں ، جو حكومت وقت (ابو بكر و عمر ) كے اثبات ميں ہيں ، كيونكہ عائشه كى شخصيت اپنے باپ اور ان كے جگرى دوست عمر كى حكومت كے سخت ترين طرفداروں ميں سے تھى ، لوگوں كے دل ميں بہتر اور گہرے انداز ميں ثابت و راسخ كرنے كيلئے اس سے بہتر كيا تھا كہ ان كے مرتبہ و مقام كے بارے ميں رسول خدا كے ارشادات بيان كئے جائيں ، انھيں پيغمبر كى نظر ميں بلند مقام اور اہم ترين بتايا جائے _
اب يہاں بطور نمونہ اس قسم كى چند حديثيں نقل كى جاتى ہيں جنھيں حكومت ابو بكر و عمر كے زمانے كى سمجھنا زيادہ مناسب ہے _
يہ حديث مسلم نے اپنى صحيح ميں قول عائشه نقل كيا ہے جو اسى قسم كى ہے توجہ فرمايئے
عائشه كہتى ہيں كہ رسول(ص) خدا جسوقت بستر بيمارى پر تھے ، مجھ سے فرمايا ، اپنے باپ اور بھائي سے كہو كہ ميرے پاس ائيں تاكہ ميں ايك وصيت لكھ دوں ، كيونكہ ميں اس بات سے ڈرتا ہو ں كہ كوئي خام طمع اميد لگائے يا كہے كہ ميں خلافت كا زيادہ حقدار ہوں ، حالانكہ خدا و مومنين سوائے ابوبكر كے كسى دوسرے كو اسكا حقدار نہيں سمجھتے (1)
بخارى بھى ابو مليكہ سے ايسى ہى روايت نقل كرتے ہيں :

1_ صحيح مسلم باب فضائل ابو بكر ج7 ص110 ، مسند احمد ج6 ص47_144،و طبقات بن سعد ، و كنز العمال _ منتخب كنز
عائشه نے كہا كہ جب رسول(ص) خدا كى بيمارى شدت پكڑگئي تو عبد الرحمن بن ابى بكر سے فرمايا ، شانے كى ہڈى (1) يا كوئي تختى ميرے لئے فراہم كرو كہ ابو بكر كے بارے ميں وصيت ان كے نام كے ساتھ لكھ دوں تاكہ كوئي انكى مخالفت نہ كرے (2)
ليكن جيسے ہى عبد الرحمن اٹھے كہ حكم رسول بجالائيں ، رسول خدا (ص) نے فرمايا اے ابو بكر خدا و مومنين ہرگز اجازت نہ ديں گے كہ تمھارے خلاف نزاع بڑھے (اور چونكہ پيغمبر كے ارشاد كے مطابق خدا و مومنين خلافت و حكومت ابوبكر كے بارے ميں اج تك كسى قسم كے اختلاف كى اجا زت نہيں دے رہے ہيں اسلئے وصيت لكھنے كى ضرورت نہيں )
يہ بھى صحيح مسلم ميں ابو مليكہ كا قول مروى ہے، كہ عائشه سے پوچھا گيا ، اگر فرض كيا جائے كہ رسول خدا اپنا جا نشين معين كريں تو كس كا انتخاب فرمائيں گے ؟
عائشه نے جواب ديا ، ابو بكر كو
ابو بكر كے بعد كس كو خلافت كے لئے نامزد كريں گے ؟
عمر كو
ان كے بعد ؟
ابو عبيدہ جراح كو (3)
اس طرح كى روايات جنھيں ام المومنين عائشه سے فضائل شيخين ميںروايت كى گئيں ہيں بہت زيادہ ہيں ، ہم ان روايات كو تحقيق كے باب ميں انكا تجزيہ كريں گے ، يہاں اسے بطور نمونہ پيش كيا گيا _

1_ اس زمانے ميں كاغذ كى جگہ شانے كى ہڈى استعمال كى جاتى تھى
2_ صحيح مسلم ج7 ص110 ، طبقات بن سعد ،مسند احمد ، مستدرك ، كنزل العمال منتخب _ مستدرك ميں ابو عبيدہ نام ملتا ہے
3_ ابو عبيدہ جراح كا نام عامر بن عبد اللہ قرشى فہرى تھا ، سابقين اسلا م ميں تھے ، دونوں ہجرت ميں شريك ہوئے ، عمر كى طرف سے حاكم شام ہوئے 18ھ ميں وہيں مرض طاعون ميں انتقال كيا ، اور بعد ميں اردن ميں دفن كئے گئے ، استيعاب ، اصابہ اسد الغابہ
يہ احتمال زيادہ ہے كہ اس قسم كى احاديث كى روايت اور شہرت ابو بكر اور عمر كے زمانہ ء خلافت ميں ہوئي ، كيونكہ ان دونوں خلفاء راشدين كا نام ايك كے بعد دوسرے كا ترتيب سے ليا گيا ہے ، ليكن يہ كہ اگر رسول كسى كو خليفہ بنانا چاہتے تو اسى ترتيب سے خليفہ بنا تے _
ہم اس قسم كى احاديث كو چار حصوں ميں تقسيم كرتے ہيں
پہلى قسم ان احاديث كى ہے جن ميں چاروں خلفاء كے نام اسى ترتيب سے على ابن ابى طالب تك لئے گئے ہيں _
جس ترتيب سے خليفہ بنے ہيں ، ميرے خيال ميں ايسى حديثيں حضرت على بن ابى طالب كے بعد بنائي گئي ہيں ، جبكہ چاروں خلفاء كا زمانہ ختم ہو چكا تھا _
محب طبرى نے رياض النضرہ ميں حديث رسول كو نقل كيا ہے وہ اسى قسم ميں اتى ہيں _
رسول خد(ص) ا نے فرمايا: ميں اور ابو بكر ، عمر ، عثمان اور على حضرت ادم كى خلقت سے ہزار سال پہلے انوار كى شكل ميں عرش كے دا ہنى جانب تھے ، جب ادم خلق ہوئے تو خدا وند عالم نے ہميں انكى پشت ميں قرار ديا اور اسى طرح پاكيزہ اصلاب ميں منتقل ہوتے رہے ، يہاں تك كہ مجھے صلب عبد اللہ ميں ابو بكر كو صلب ابو قحافہ ميں عمر كو صلب خطاب ميں ، عثمان كو صلب عفان اور على كو صلب ابو طالب ميں منتقل كيا _
پھر خدا وند عالم نے ان سب كو ميرے لئے چن ليا ، نتيجے ميں ابو بكر كو صديق اور عمر كو فاروق ، عثمان كو ذوالنورين اور على كو ميرا وصى قرار ديا ،پس جو شخص بھى ميرے اصحاب كى برائي كرے وہ ايسا ہے جيسے اس نے ميرى برائي كى ، اور جو شخص بھى مجھے دشنام دے اس نے خدا كو دشنام ديا ، اور جو شخص خدا كو دشنام ديگا اسے اوندھے منھ جہنم ميں جھونك ديا جائے گا
اس حديث كا وضعى زمانہ خود بخود روشن ہے
1_ اس قسم كى احاديث كا گڑ ھا جانا اور شائع ہونے كا زمانہ اس وقت كو سمجھنا چاہيئے جب چاروں خلفاء كى خلافت ختم ہو چكى تھى ، بلكہ بہت بعد ميں ہونا چاہيئے كيونكہ ميرى بيان كى ہوئي باتوں كے علاوہ اس حديث ميں دشنام دينا اور برا بھلا كہنے كى بات ہے ، اور ہم جانتے ہيں كہ سب و شتم كى رسم حكومت معاويہ كے زمانے ميں اور اسكے بعد
جارى ہوئي ، اور اسكا حكم اسى نے ديا تھا ، رسول خدا كے زمانے ميں يہ رسم نہيں تھى كہ كوئي كسى صحابى كو دشنام دے اور اس حكم كا خدا و رسول كى جانب سے مستحق قرار پائے _
2_ اگر چہ اس حديث ميں چاروں خلفاء كا نام ترتيب خلافت كے لحاظ سے ايا ہے ، اس قسم كى احاديث امام كے زمانے ميں نہ گڑھى جا سكتى ہے نہ مشھور كى جا سكتى ہے كيونكہ جس وقت امام نے خلافت قبول فرمائي تو تمام لوگ پورے طور سے دو گروہوں ميں بٹ گئے تھے ، ايك گروہ شدت سے عثمان كو برا بھلا كہہ رہا تھا ، دوسرا گروہ بھى حضرت على (ع) ولى كو اچھا نہيں سمجھ رہا تھا ، انھيں اچھائيوں كے ساتھ ياد نہيں كرتا تھا ،، اس صورتحال ميں كون شخص ايسى حديث وضع كر سكتا ہے ؟
3_ حكو مت معاويہ ميں بھى اگر چہ سب و شتم كا بازار ہر جگہ گرم تھا حديثيں گڑھنے ميں لوگ ايك دوسرے سے بازى ليجانے كى كوشش كر رہے تھے ، ليكن بنيادى حيثيت سے اس كو صرف على اور انكى اولاد اور بنى ہاشم كے خلاف مخصوص ركھا گيا تھا ، اور اموى سياست اس بات كى متقاضى تھى كہ حضرت على كو ديگر خلفاء راشدين سے الگ كر ديا جائے ، ان كا نام اس ستون سے حذف كر ديا جائے ، ان تينوں كو ہر حقيقت سے على پر برترى دى جائے ، اور ہم جانتے ہيں كہ يہى سياست اخرى حكومت بنى اميہ تك جارى رہى _
4_ ان تمام باتوں كے بعد ہم يہ كہے بغير نہيں رہ سكتے كہ اس حديث كے وضع و انتشار كا زمانہ اس عہد ميں متعين ہوتا ہے جب بنى اميہ كا زوال ہو رہا تھا اور بنى عباس كو اقتدار ملنے كے اثار نماياں تھے _
اسكى دليل يہ ہے كہ خلفاء بنى عباس بھى جنھوں نے اپنے چچا كے فرزندوں علويين كے نام پر اقتدار حاصل كيا تو اپنے سلف بنى اميہ كى طرح معمولى بہانوں سے علويوں كا بے رحمانہ خون بہايا _
ان باتوں كى بنياد پر اس حديث كے وضع و انتشار كا زمانہ يہى متعين ہوتا ہے كہ بنى اميہ كا دور ختم ہو رہا تھا اور اہلبيت كے نام پر لوگوں كو دعوت دى جا رہى تھى ، كيو نكہ يہى موقع تھا جب بنى ہاشم كے دونوں خاندان علوى اور عباسى مل كر اموى اقتدار كو اكھاڑ پھينكنے كى سعى كر رہے تھے اور بنى عباس كى سياست اس موقع پر ايسى تھى كہ اموى سياست كو ذكر دينے كيلئے نام على كو خلفاء ثلثہ كے نام كے ساتھ شائع كيا جائے در انحاليكہ ہم جانتے ہيں كہ خلفاء بنى اميہ ان تينوں خلفاء كو ہٹا كر صرف على ہى پر سب و شتم كرتے تھے ، حضرت على (ع) كے نام كو خلفاء راشدين كى فہرست سے حذف كر ديا تھا _
ايسا گمان ہوتا ہے كہ بنى عباس اتنے ہى پر مطمئن نہيں ہوئے انھوں نے قدم اگے بڑھايا اور بنى اميہ كى
سياست اور ان كے دعوے كو باطل كرنے كيلئے خاص طور سے عثمان كا نام خلفاء كى فہرست سے حذف كر ديا ، درج ذيل حديث ميرے اس دعوے كى واضح دليل ہے كہ اسى عہد ميں بنائي گئي ہو گى _
جابر بن عبد اللہ انصارى روايت كرتے ہيں كہ ہم رسول خدا كے ساتھ مدينے كے ايك باغ ميں تھے ، اچانك اپ نے ميرى طرف رخ كر كے فرمايا ، ابھى تمھارے پاس ايك شخص ائے گا جو جنتى ہو گا _
ہم نے گردن اٹھا ئي كہ اس جنتى شخص كو ديكھيں اتنے ميں ابوبكر اگئے ، ہم نے انھيں اس بشارت كى مباركباد دى _
ذرا دير نہ گذرى تھى كہ رسول (ص) خدا نے دوسرى بار فرمايا :
ايك جنتى شخص ابھى تمھارے پاس ائے گا _
ہم نے سر اٹھايا تو ديكھا كہ عمر پہونچے ، ہم نے انھيں اس بشارت كى تہنيت پيش كى ذرا دير بعد تيسرى بار رسول (ص) خدا نے فرمايا ، ايك جنتى شخص تمہارے پا س ائے گا اور پھر رسول(ص) خدا نے درخت خرما كى شاخ كے نيچے اپنے ہاتھ اسمان كى طرف بلند كر كے فرمايا :
خدا وند كيا اچھا ہو كہ تو ارادہ فرمادے كہ وہ شخص على ہو اتنے ميں على پہونچے ، ہم نے اس عظيم موھبت پر انھيں تہنيت پيش كى _
ہم جو اس حديث كے صحيح نہ ہونے كى بات كہہ رہے يہ اس وجہ سے نہيں ہے كہ ہم رسول خدا اور ان ذريت طاہرہ اور تقوى شعار صحابہ كے فضائل كا انكار كر رہے ہيں ، نہيں ، ہر گز ايسا نہيں ، ہم ہرگز ان كے فضائل كے منكر نہيں ، ليكن يقين نہيں اتا كہ خدا نے صرف انھيں گروہ صحابہ كو جو مسند خلافت پر برا جمان ہوئے ، اور جو لوگ اس مرتبے پر فائز نہيں ہوئے ان كے درميان اس حد تك فرق كے قائل ہو جائيں كہ انكى طينت كو نور سے اور انكى طينت كو مٹى سے خلق كيا جائے_
ان باتوں كے علاوہ اور دوسرے دلائل جو ائندہ بيان كئے جائيں گے خود ہى حق ديتے ہيں كہ اس قسم كى احاديث كو صحيح و درست ماننے ميں جو خلفاء راشدين كا انكى خلافت كى ترتيب سے پئے در پئے ايا ہے شك اور ترديد كى نظر ڈاليں _
دوسرے قسم كى احاديث ميں وہ حديثيں اتى ہيں جن ميں تينوں خلفاء كا نام اول سے عثمان تك يكے بعد ديگرى ايا ہے _
ہمارے عقيدے كے مطابق اور پہلے قسم كى احاديث كے بارے ميں جو كچھ عرض كيا گيا اس كى روشنى ميں اس قسم كى احاديث بھى عثمان كى حكومت كے زمانے ميں گڑھى گئي ہيں ان سے پہلے نہيں گڑھى گئي ہيں ، چنانچہ ان ميں سے كچھ احاديث ميں عثمان كے قتل ہونے كا بھى بيان ہے ، اس سے يہى اندازہ لگايا جا سكتا ہے كہ عثمان كے قتل كے بعد يہ
حديثيں گڑھى گئي ہيں ، تاريخ قتل سے پہلے نہيں _
تيسرے قسم كى احاديث وہ ہيں جن ميں فقط شيخين كا نام ہے ، ايك كے بعد دوسرے كانام ايا ہے ، ہمارا تو اس بارے ميں عقيدہ يہ ہے كہ اس قسم كى احاديث عمر كے بر سر اقتدار انے كے بعد گڑھى گئي ہيں ، انكى خلافت سے پہلے نہيں _
چوتھے قسم كى احاديث وہ ہيں جن ميں صرف خلافت ابوبكر كا نام ہے اور چونكہ ان ميں صرف ابوبكر كا نام ہے عمر كا نام درميان ميں نہيں ہے اسلئے گمان قوى ہے كہ عمر كى حكومت سے پہلے ان كو گڑھا گيا ہے ، اس بنا ء پر احتمال يہ پيدا ہوتا ہے كہ ابو بكر كے نام سے وصيت لكھنے كى حديث ان كے خليفہ ہو جانے كے بعد روايت كى گئي ہے كيو نكہ ان ميں عمر كا نام نہيں ہے _
ليكن يہ حديث كہ (اگر يہ بات طئے كى جاتى كہ رسول خدا (ص) كسى كو اپنا جانشين بنائيں تو پہلے ابو بكر كو معين كر تے ، ان كے بعد عمركو اور ان كے بعد ابو عبيدہ جراح كو )گمان قوى ہے كہ يہ حديث عمر كى حكومت كے زمانے ميں عثمان سے پہلے گڑھى گئي ہے ، كيونكہ عمر خود ابو عبيدہ كے بارے ميں كہتے تھے كہ اگر ابو عبيدہ زندہ ہوتے تو انھيں كو خليفہ بناتا _
ہم نے بعض ان احاديث عائشه كو يہاں بيان كيا جنكى اشاعت خلافت شيخين كے زمانے ميں ہوئي حا لانكہ اس قسم كى ڈھير سارى احاديث موجود ہيں ، جنھيں ہم خلافت شيخين كا زمانہ ختم ہونے كے وقت سمجھنے پر مجبور ہيں انہيں ميں يہ حديث ہے كہ جناتوں نے عمر كى نوحہ سرائي كى اس حديث كى اشاعت قتل عمر كے بعد يا شايد بہت بعد ميں شائع ہوئي ہو گي_
ہم نے اس سے پہلے كى فصل ميں بيان كيا كہ عائشه نے اپنے باپ ابو بكر اور ان كے پرانے ساتھى عمر كى حكو مت كى تائيد اور استحكا م كے لئے احاديث رسول بيان كيں ان ميں بعض كا تجزيہ كر كے كہا ہے كہ ان احاديث كى پيدائشے اور اشاعت كسى طرح بھى ابو بكر و عمر كے زمانے سے ميل نہيں كھاتيں ، بلكہ كئي سال بعد ان دونوں كى حكومتيں ختم ہو نے كے بعد زبانوں پر اتى ہيں ، انھيں ميں ايك حديث ہے جناتوں كى نوحہ خوانى عمر كے سوگ ميں ، جس كے بارے ميں احتمال قوى ہے كہ عمر كے موت كے كافى دنوں بعد يہ گڑھى گئي ہے ، متذكرہ حديث اس طرح ہے _
ام المومنين عائشه سے روايت كى گئي ہے كہ عمر كے قتل ہونے كے تين دن پہلے جناتوںنے مجلس عزا منعقد كى اور نوحہ خوانى كرتے ہوئے يہ اشعار پڑھے _
ابعد قتيل بالمدينہ اظلمت لہ الارض ، تھتز العضاہ يا سوق جزى اللہ خيراً من امام و باركت يد اللہ ، فى ذاك الاديم الممزق فمن يسع او يركب،جناحى نعامة ليد رك ما قدمت بالامس، ليسبق قضيت اموراً ، ثم غادرت بعدھا بوائق فى اكمامھا لم تفتق فما كنت اخشى ان يكون وفاتہ بكفى سبتى ازرق العين مطرق
استيعاب ج2ص 241 _كتاب الاغانى ج8ص 192
كيا اس مقتول كے بعد جو مدينہ ميں اپنے خون ميں نہايا اور دنيا تيرہ و تار ہو گئي ، روئے زمين پر دوبارہ بھى سبزہ اگے گا ؟
خدا وند عالم ہم سب كى طرف سے تمہارے جيسے امام كو جزائے خير دے ، اور تيرے شكم دريدہ كو اپنى رحمت اور كرم كا مورد قرار دے _
كوئي شخص بھى ہو لاكھ فكر كرے كہ تيرى طرح كارنامے انجام دے جو تو كر گيا اسے انجام دے ڈالے ہرگز عہدہ بر انہ ہو سكے گا ، اپنى حكمرانى كے زمانے ميں كاموں كو بڑے اچھے ڈھنگ سے انجام ديا ليكن تيرے بعد كتنے ہى فتنوں نے سر ابھارا ہے _
كبھى خواب و خيال ميں بھى نہ سوچا گيا تھا ، وہ يہ ديكھنے كو ملا كہ ايسے امام كى موت ايسے بد خصلت دشمن نيلى انكھ والے بھڑيئے كے ہاتھوں انجام پائے گى ہمارے خيال ميں يہ اشعار عمر كى موت كے بہت بعد كى پيدا وار ہيں _
كيونكہ ...
1_ متذكرہ اشعار ميں اٹھے ہوئے فتنوں كى طرف اشارہ كيا گيا ہے جو عثمان كى خلافت كے نصف اخر ميں پيش ائے ، نہ كہ عمر كے اخرى زمانے ميں يا عثمان كے اوائل حكومت ميں ذرا اس مصر عے پر توجہ فرمايئے ...ليكن تمہارے بعد كيسے كيسے سوئے ہوئے فتنے ظاہر ہوئے_
2_ اگر ہم مان بھى ليں كہ فتنہ ظاہر ہونا غير واضح كنايہ ہے ، پھر قاتل عمر كا تعارف اسقدر واضح كيسے ، وہ بھى جرم كے تين دن يا كچھ پہلے يہ ايسا معاملہ ہے كہ حادثہ واقع ہو جانے كے بعد ہونا چاہيئے نہ كہ اس سے پہلے _
3_ ام المومنين عائشه كے قول كى بناء پر جناتوں نے پاپ بھرے واقعے كے تين روز قبل اور وہ بھى نيلى انكھ والا بھيڑيا صفت كے ہاتھوں ، يہ ايسا معاملہ ہے جو قران كے واضح نص كے خلاف ہے كيونكہ كلام خدا كے بموجب ان جناتوں كو داستان سليمان پيغمبر ميں دو قدم بعد كى خبر نہ تھى ، تين روز پہلے كى بات تو دور كى ہے ، وہ سليمان پيغمبر كى موت كو نہ سمجھ سكے يہى جنات پورے ايك سال رنج و عذاب جھيلتے رہے ، حضرت سليمان كى موت ان كے چند قدم كے فاصلے پر ہوئي تھى ليكن وہ بے خبر رہے ، سليمان مرنے كے بعد ايك سال اپنے عصا كے سہارے ٹكے رہے وہ سليمان كو چند قدم كے فاصلے
سے ديكھتے رہے ، رات دن قصر بنانے ميں اپنى جان كھپاتے رہے ، اخر ايك سال بعد جب ديمك نے عصا كھا ليا تو عصا ٹوٹ گيا ، اور سليمان كا جسد بے جان زمين پر گرا ، اسوقت جناتوں كو معلوم ہوا كہ ہم نے ايك سال تك بلا وجہ جا ن كھپائي ، اس حساب سے اپ ہى بتايئےہ اس وحشتناك راز يعنى موت عمر كى تين دن پہلے سے انھيں اطلاع ہو گئي ، اور حصباء كى سر زمين پر ام المومنين كے سامنے انھو ں نے خليفہ كے سوگ ميں مجلس عزا منعقد كى ؟ بہر حال يہ حديث عمر كى وفات كے بعد روايت ہوئي ہو گى اس سے پہلے نہيں ، پھر يہ كہ اسے ام المومنين عائشه كے ابيات سمجھيں تب تو يہ صورتحال بنتى ہے _
جبكہ ہم ديكھتے ہيں كہ ابو الفرج نے اغانى (1) ميں شماخ شاعر كے حالات لكھتے ہوئے بتايا ہے كہ اس كے دو بھائي تھے دونوں ہى شاعر تھے ، ايك كا نام مزرد تھا اور دوسرے كا جزء ، اسى نے عمر كا مرثيہ كہا ہے ،
عليك سلام من امير و باركت ...يد اللہ فى ذاك الاديم الممزق _
اسكے بعد وہ تمام اشعار ہيں جنھيں شروع ميں نقل كيا گيا _
اور اشتقاق ميں كہتا ہے (2) كہ ضرار كے تين فرزند تھے جنھوں نے اسلام كا زمانہ پايا ، ان ميں ايك كا نام جزء تھا ، اسى نے عمر كا مرثيہ كہا _
عليك سلام اللہ ... اخر تك تمام اشعار
بہر حال ايسا معلوم ہوتا ہے كہ ان اشعار كو شماخ يا اسكے بھائي جزء سے اسى زمانے ميں منسوب كيا گيا _
ايك دوسرى روايت كى بنياد پر ام المومنين نے اپنى بہن ام كلثوم بنت ابى بكر كيلئے جو واقعہ گذرا اسے يوں بيان كيا ہے _ عمر نے جو اخرى حج كيا اسميں ازواج رسول كو اجازت دى كہ وہ بھى حج كريں ، اس سفر ميں عمر نے جب حصباء سے كوچ كيا تو ميں نے ايك شتر سوار كو ديكھا جو اپنا پورا چہرہ چھپائے ہوئے تھا صرف اسكى انكھيں نظر اتى تھيں ، اس نے پوچھا ، كيا وہ (عمر ) يہاں ٹھرے تھے ؟

1_ اغانى ج 8ص 194 شماخ اور اسكے بھائيوں نے جاہليت اور اسلام دونوں زمانہ پايا ، ان ميں سب سے مشھور شاعر شماخ ہے ، جسكا شعر ى ديوان بھى مرتب كيا گيا ہے ، اس نے عثمان كے زمانے كى بعض جنگوں ميں شركت كى ہے ، اصابہ 2/ 152 ، اسد الغابہ 4/ 351
2_ اشتقاق ص 286 _ اسد الغابہ حالات عمر ، ديوان حماسہ ص 109 ديكھى جائے
ايك شخص نے جواب ديا ، ہاں اس جگہ وہ ٹھہرے تھے _
يہ سنكر شتر سوار نے اپنا اونٹ بٹھايا اور بلند اواز سے عمر كے ماتم ميں يہ اشعار پڑھنے لگا ،(ابعد قتيل ...اخر اشعار تك )
ميں نے اپنے ايك ساتھى كو حكم ديا كہ نوحہ پڑھنے والے كو پہچان كر مجھے بتائے ، وہ گيا ليكن نا كام واپس ايا كيونكہ اس نے منھ چھپائے ہوئے شتر سوار كو وہاں نہيں پايا ، حالانكہ وہ ميرے سامنے عمر پر نوحہ پڑھ رہا تھا ، خدا كى قسم ميں سمجھتى ہوں كہ وہ جناتوں ميں سے تھا _
اسكے بعد حديث ميں يہ ہے كہ :
جب عمر قتل كرديئےئے تو لوگوں نے ان اشعار كو فرزند ضرار كى طرف منسوب كر ديا _
اس روايت كو ابو الفرج نے اغانى ميں شماخ كے حالات زندگى بيان كرتے ہوئے لكھا ہے ، ابن عبد البر نے استيعاب ميں حالات عمر كے ذيل ميں لكھا ہے ، ليكن طبقات بن سعد ميں ذرا سى لفظى تبديلى كے ساتھ دونوں روايتيں ہيں ،ليكن تينوں روايتوں كا مفہوم ايك ہى ہے _
ابن حجر نے اصابہ ميں صحت سند پر زور ديتے ہوئے اس روايت كو عائشه كى بہن ام كلثوم كے واسطے سے نقل كيا ہے _
جس حديث كى سند كو ابن حجر صحيح سمجھتے ہيں وہ اس طرح مروى ہے كہ ان شعروں كى شھرت شماخ يا اسكے بھائيوں كى طرف سمجھى جا سكتى ہے _
وجہ يہ ہے كہ اس حديث ميں وضاحت ہے كہ ام المومنين خود ہى عمر كے ساتھ اخرى حج بجالاتے ہوئے مشعر الحرام ميں خود ديكھا كہ جناتوں نے عمر كے سوگ ميں نوحہ خوانى كى ، اسميں ذرا بھى شك اور ترديد كى گنجائشے نہيں ، اور جب ام المومنين عائشه نے ايسا فرمايا ہے تو يقينى طور سے جناتوں نے عمر كے قتل سے تين روز قبل عمر كے سوگ ميں نوحہ خوانى كى ، خليفہ اسى سفر سے واپسى كے بعد مدينے ميں قتل كئے گئے ، اس واقعے كے بعد لوگوں نے اپنى زبانوں پر دہرايا ، اور نا دانستہ طور پر ضرار كے فرزندوں كى طرف منسوب كر ديا _
ام المومنين نے خود ديكھا كہ شتر سوار منھ چھپائے قيام گاہ عمر سے اسى وقت جبكہ انھوں نے كوچ كيا تھا تلاش كرنے لگا ، ايك دوسرے مجھول الحال نے انكى قيام گاہ بتائي پھر نقاب دار شخص نے اپنا اونٹ بيٹھايا اور عمر كى موت كا مرثيہ پڑھنے لگا ، ٹھيك اسى وقت ام المومنين نے اپنے قافلے كے ساتھى كو وہاں بھيجا كہ نقاب پوش كا پتہ لگائے ليكن وہ
ادمى غائب ہو چكا تھا ، اس بنا ء پر ذرا بھى شك نہيں رہ جاتا كہ وہ نقاب پوش جنات تھا ، ورنہ وہ كيسے انكھوں سے پنہاں ہو جاتا ، اور كسى نے اسكو نہيں ديكھا ؟ اسى وجہ سے ام المومنين نے قسم كھائي (فواللہ انى لا حسبہ من الجن )خدا كى قسم ميرا تو يہى گمان ہے كہ وہ جنات تھا ، اب جبكہ ام المومنين نے اپنى انكھوں سے ديكھا اور قسم كے ذريعے بات ميں مزيد تاكيد پيدا كى تو كيا كسى كے لئے شك اور ترديد كى گنجائشے رہ جاتى ہے كہ ان اشعار كو جنات كے سوا كسى نے عمر كے قتل سے تين دن پہلے پڑھا ہو ؟
اس قسم كے بعد جو بھى دعوى كرے كہ يہ اشعار ضرار نے موت عمر كے بعد كہے ہيں اسے نہ مانيئے ، كيونكہ اسكا دعوى باطل ہو جائے گا ، وجہ يہ ہے كہ يقين حاصل ہو جاتا ہے كہ ان اشعار كو جناتوں نے موت عمر سے پہلے پڑھا ہے ، منى ميں پڑھا ہے اور عمر كے مدينہ پہونچنے سے پہلے پڑھا ہے _
اوپر جو كچھ كہا گيا اس كے علاوہ جو چيز مجھے اس حديث كى صحت كے بارے ميں مشكوك بناتى ہے يہ ہے كہ بالفرض اگر ہم مان ليں كہ جنات كو ديكھنا اور نوحہ پڑھنا صرف ام المومنين نے ديكھا تو ہميں ماننا پڑے گا كہ ہزاروں حاجيوں نے جو منى ميں موجود تھے اس جنات كو ديكھنے سے محروم رہے ، وہاں اكيلى ام المومنين ہى تو موجود نہيں تھيں ، بلكہ دوسرى ازواج رسول بھى تھيں ، زينب اور سودہ ہر منزل پر ان كے ساتھ ساتھ رہيں ، جہاں ٹھہرتيں يہ بھى ٹھہر جاتيں ، جہاں سے كوچ كرتيں يہ بھى كوچ كرتيں ، پھر ان ازواج رسول نے واقعہ كا مشاہدہ كيوں نہ كيا كہ سوگ عمر ميں جناتوں كے نوحے كى روايت صرف ام المومنين عائشه نے كى ہے ، اس مرثيے كو ادمى سے منسوب ہونے كى ترديد ميں اور بقول ام المومنين عائشه جناتوں كے ہونے كى تاكيد ميں طبقات بن سعد ميں ہے جو بطريق موسى بن عقبہ روايت كى گئي ہے (عائشه نے پوچھاكہ يہ شعر پڑھنے والا كون ہے ؟)
جزى اللہ خير ا من امام و باركت
لوگوں نے جواب ديا ضرار كا فرزند
عائشه كا بيان ہے كہ يہ سننے كے بعد ميں نے ضرار كے بيٹے سے ملاقات كى اور يہ بات اس سے پوچھى ، اس نے قسم كھا كر كہا كہ ميں اس موقع پر منى ميں تھا ہى نہيں _
ميرے لئے فرق نہيں كہ اس روايت كى سند گذشتہ حديث ام المومنين كے مانند صحيح ہے يا ابن حجر كے بقول
ضعيف ہے (1)، يہاں بات صرف اتنى ہے كہ مجھے اس حديث سے يہى سمجھ ميں اتا ہے كہ ان اشعار كے بارے ميں كہ وہ ادمى تھا يا جنات تھا ، اس وقت كے حاضر ين كو بھى شك اور ترديد تھا _
اسى بنياد پر اخرى حديث كا شبہ ختم كرنے كيلئے اسى كے گرد ا گرد دو حديث صحيح سند كے ساتھ ام المومنين سے روايت كى گئي _
ام المومنين خلافت شيخين كے تمام زمانے ميں خلافت كى طرف سے خاص توجہ و احترام كى مستحق سمجھى جاتى تھيں ، وہ بھى اسكے مقابلے ميں خلافت كے خصو صى احترام كو ملحوظ ركھتيں خليفہ كى عظمت نماياں كرتيں ، ان كا مرتبہ لوگوں كى نظر ميں بڑھاتى تھيں ، مرتبہ خلافت كے حضور اپنى فروتنى سے تمام مسلمانوں كى خود سپردگى كا ماحول تيار كرتيں _
خلافت بھى عائشه كى شخصيت كا احترام ، انكى رضا جوئي اور بزرگى دو بالا كرنے اور دوسرى ازواج انھيں ترجيح دينے سے غفلت نہيں برتتى تھيں_
اس متقابل احترامات كى تمام زمانہ خلافت شيخين ميں رعايت كى گئي خاص طور سے عمر كى موت كے وقت تك قائم رہا ، احترام و الفت نيز دونوں طرف سے جھك كر ملنے كا نمونہ عمر اور عائشه كے مكالمہ سے ظاہر ہے_
بخارى نے فضائل اصحاب نبى كے باب ميں ، اور ابن سعد نے طبقات ميں عمر وبن ميمون كے طويل بيان كے ضمن ميں لكھا ہے كہ :
عمر نے اپنے بيٹے عبد اللہ كو حكم ديا كہ ام المومنين عائشه كى خدمت ميں جائو ، اور ميرى طرف سے يہ پيغام پہونچا ئو كہ عمر سلام عرض كرتا ہے اور استدعا كرتا ہے كہ مجھے مرنے كے بعد رسول اور ابو بكر كے پہلو ميں دفن ہونے كى اجازت مرحمت فرمائيں _
عبد اللہ اسى وقت ام المومنين كى خدمت ميں پہونچے تو ديكھا كہ وہ بيٹھى ہوئي رورہى ہيں ، عبد اللہ نے باپ كا پيغام ديا تو عائشه نے جواب ميں كہا ، ميں نے وہ جگہ خود اپنے لئے مخصوص ركھى تھى ، ليكن خليفہ كو اپنے اوپر ترجيح ديتى ہوں _
عبد اللہ اثبات ميں جواب پاكر خدمت خليفہ ميں پہونچے ، عمر نے پوچھا كيا خبر ہے ؟

1_ اصابہ ج3 ص 385 _ 386
نتيجہ اپ كى توقع كے مطابق ہے ، ام المومنين نے اجازت ديدى _
خدا كا شكر ، ميں اس مسئلے ميں بہت فكر مند تھا _
ابن عبد ربہ عقد الفريدميں لكھتے ہيں كہ :
عمر نے اپنى باتوں كے درميان چھ ادميوں كو خلافت كا نمائندہ بناتے ہوئے كہا ، عائشه كى اجازت اور رائے سے ان كے گھر ميں ا نا اور باہم ايك دوسرے سے مشورہ كر كے ايك شخص كو خليفہ مقرر كر لينا _
جب عمر مر گئے تو انھيں دفن كر ديا گيا ، مقداد بن اسود جو اس شورى كميٹى كے ممبر تھے انھوں نے سب كو عائشه كے گھر ميں انكى اجازت ليكر جمع كيا ، اسى وقت عمر و بن عاص اور مغيرہ بن شعبہ ائے اور عائشه كے دروازے پر بيٹھ گئے ،سعد بن وقاص نے ان دونوں كو سنگريزے مار كر وہاں سے بھگا ديا اور كہا :
تم ہم سے يہ كہنا چاہتے ہو كہ ہم بھى خليفہ مقرر كرنے كيلئے شورى كميٹى كے ايك ممبر تھے اور عائشه كے گھر ميں موجود تھے ، اسطرح تم دونوں اپنے كو ہم لوگوں كے ہم پلہ قرار دينا چاہتے ہو ؟
اب جبكہ بات ان چار كى ہوتى ہے ، ان كا تعارف فائدے سے خالى نہيں _
مقداد بن اسود كندى _ عمر بن ثعلبہ كے فرزند تھے ، ليكن انھوں نے جاہلى زمانے ميںكسى خاندان كى فرد كو قتل كر ديا تھا اسلئے حضر موت كى طرف بھاگ گئے تھے ، وہيں قبيلہ كندہ كے ہم پيمان بن گئے ، پھر وہاں ابو شمر سے جھگڑا ہو ا ، اسكى پنڈلى كو تلوار سے زخمى كر ديا جسكى وجہ سے مكہ بھاگنا پڑا وہيں اسود بن عبد يغوث كے ہم پيمان ہوگئے ، انھيں كے فرزند كہے جانے لگے اس تاريخ سے انھيں مقداد بن اسود كہا جانے لگا ، جب خدا نے ايت نازل كر كے حكم ديا كہ ادعوھم لابائھم (لوگوں كو ان كے باپ كے نام سے پكارو )تو انھيں مقداد بن عمر و كہكے پكارا جانے لگا ، مقداد كا انتقال 33ھ ميں ہوا _
انكى كنيت ابو عبد اللہ يا ابو محمد تھى ، عمر وعاص قريش كے قبيلہ بنى سھم سے تھے ان كى ماں كا نام نابغہ بنت حرملہ تھا ، جو ايك جنگ ميں غنيمت كى شكل ميں بازار عكاظ ميں بكنے ائي ، اسے مغيرہ كے بيٹے وفا نے خريد كر پہلے عبد اللہ بن جد عان اور بعد ميں عاص بن وائل كو ديديا ، اخر نابغہ سے عمرو عاص پيدا ہوئے ،(عمر و عاص كى ماں نابغہ دور جاہليت كى مشھور ترين رنڈى تھى )
قريش نے عمر و عاص كو حبشہ بھيجا تاكہ نجاشى كى رائے جعفربن ابى طالب اور دوسرے ان مسلمانوں كے بارے ميں بدل سكے جنھوں نے حبشہ ہجرت كى تھى ، اور ان سب كو مكہ واپس لا سكے ، نتيجے ميں نجاشى نے عمر و كو اپنى بارگاہ سے دھتكار ديا _

0 comments:

Post a Comment