skip to main |
skip to sidebar
ابراہيم كى ولادت 8ھ ميں ہوئي ، انصار كو اس سے بڑى خوشى ہوئي تھى انھوں نے ماريہ كى ضرورت پورى كرنے ميں ايك دوسرے سے بارى لے جانے كى كوشش كى اور بوجھ بٹانے كى ہر ممكن سعى كى ، كيونكہ وہ ماريہ سے رسول(ص) خدا كا والہانہ تعلق ديكھ رہے تھے _
اس لئے دوسرى ازواج كو جب ولادت ابراہيم كى خبر معلوم ہوئي تو ماريہ سے ان كا رشك و حسد بڑھ گيا ، وہ جل بھن گئيں ، انھوں نے اعتراض و شكايت كى زبانيں بھى كھول ديں ، ليكن اس طعن و ميں كوئي بھى عائشه سے اگے نہ بڑھ سكا _(4)
1_ حاطب كا نام عمر بن عمير اور كنيت ابو عبد اللہ تھى _ قبيلہ لخم كے تھے رسول نے انہيں 6ھ ميں مقوقس كے پاس بھيجا _ مقوقس نے ماريہ اور شيريں و ديگر ہدايا كے ساتھ روانہ كيا _ حاطب كى 31ھ ميں مدينہ ميں وفات ہوئي _ عثمان نے انكى نماز جنازہ پڑھائي _ اسد الغابہ _ اصابہ اور استيعاب ديكھئے
2_ مدينے كے بالائي حصہ كو عاليہ كہتے _ وہاں قبيلہ بنى نظير رہتا تھا
3_ زوجہء رسول صفيہ كى كنيز سلمى تھيں_ وہ جنگ خيبر ميں موجود تھيں حضرت فاطمہ زھرا سلام اللہ عليھا كى دايہ كے فرائض بھى انجام دئے تھے _ انہوں نے غسل فاطمہ ميں بھى شركت كى تھى
4_ طبقات بن سعد ج1 ص 134
59
مجھے ماريہ سے زيادہ كسى عورت پر رشك و حسد نہيں ہوا ، ماريہ بہت حسين تھى ، اسكے بال گھونگھريالے تھے ، جو ديكھتا ديكھتا ہى رہ جاتا ، اس پر مزيد يہ كہ رسول خدا اس سے بہت محبت كرتے تھے _
رسول خدا (ص) نے شروع ميں ماريہ كو حارثہ (1)بن نعمان كے گھر ميں ركھا اور جب ميں نے رسول(ص) خدا كى اس سے والہانہ محبت ديكھى تو ماريہ كى مخالفت ميں جٹ گئي ، اس قدر ستايا كہ ماريہ نے مجھ سے تنگ اكر رسول سے شكايت كى ، رسول (ص) خدا نے بھى اسے عاليہ كے مكان ميں منتقل كر ديا اور وہيں اسكے پاس جاتے ،يہ تو ميرے اوپر اور بھى گراں گذرا خاص طور سے ميرى اتش رنج اور جلن اتنى بڑھى كہ خدا نے اسے لڑكا بھى ديديا ، حالانكہ خدا نے مجھے اولاد سے محروم ركھا وہ يہ بھى كہتى ہيں _
جب ابراہيم پيدا ہوئے ايك دن رسول خدا بچے كو ميرے پاس لائے اور فرمايا :
_ذرا ديكھوتو مجھ سے كس قدر شباھت ركھتا ہے
_ نہيں ، ہرگز ايسا نہيں ، ميں تو كوئي شباہت نہيں ديكھتي
_ كيا تم اسے ميرى طرح گورا نہيں ديكھ رہى ہو ،بالكل ميرے بدن كى طرح ہے_
_ ارے جسے بھى بكرى كا دودھ پلايا جائے گا سفيد اور موٹا ہوہى جائےگا_
عائشه اور حفصہ كى انہيں حركتوں اور سخت جلن كى وجہ سے خدا نے ماريہ كى برائت ميں سورہ تحريم نازل فرمائي موثق روايات كى بناء پر رسول خدا نے حفصہ كے گھر ميں ماريہ سے ہمبسترى فرمائي _ جب حفصہ كو اس كى خبر ہوئي تو بھڑك اٹھيں _لگيں انحضرت سے چلّا چلا كر گلا شكايتيں كرنے ، اس قدر اسمان سر پر اٹھا يا كہ رسول خدا (ص) نے حفصہ كى دلجوئي اور خوشنودى كے لئے ماريہ كو اپنے اوپر حرام كر ليا ، ليكن اسى كے ساتھ حفصہ سے كہا كہ يہ بات كسى سے نہ كہنا ، اور اس راز كو كسى دوسرے سے بيان نہ كرنا حفصہ نے رسول خدا (ص) كى تمام تاكيدوں كو قطعى نظر انداز كر ديا ، اس راز كو عائشه
1_ حارثہ قبيلہ بنى نجار سے تھے _ جنگ بدر اور بعد كى دوسرى جنگوں ميں شريك رہے حارثہ كى خلافت معاويہ كى زمانے ميں وفات ہوئي _ اسد الغابہ ج1 ص 358 _ اصابہ ج1 ص 1532
60
سے بيان كر ڈالا ، وہ بھى ايك تحريك ميں معاون ہو گئيں پھر تو دونوں كى عيارياں اور كج رفتارياں بڑھتى گئيں ، اخر كار ان دونوں كى سرزنش ميں سورہ تحريم نازل ہوئي اور خدا نے اس راز سے پردہ اٹھا يا _(1)
سورہ تحريم
خدا كے نام سے جو بخشنے والا اور مہربان ہے
اے پيغمبر(ص) تم كيوں اس چيز كو حرام كرتے ہو جسے خدا نے تمھارے لئے حلال كى ہے ، تم اپنى بيويوں كى خوشى چاہتے ہو ؟اللہ بخشنے والا اور مہربان ہے _
اللہ نے تم لوگوں كے لئے اپنى قسموں كى پابندى سے نكلنے كا طريقہ مقرر كر ديا ہے ، اللہ تمھارا مولا ہے اور وہى دانا اور حكيم ہے _
اور جس وقت پيغمبر نے اپنى ايك بيوى (حفصہ ) سے راز كى ايك بات كہى تھى ، پھر جب اس بيوى نے اس راز كو (عائشه )پر راز ظاہر كر ديا ، خدا نے اس افشائے راز كو پيغمبر سے باخبر كر ديا (پيغمبر(ص) نے بھى ) اس پر كسى حد تك جو عائشه اور حفصہ كے درميان گذرى تھى تذكرے كے انداز ميں حفصہ سے بيان كيا اور بعض سے در گزر كيا ، پھر جب پيغمبر نے اس افشائے راز كى بات بتائي تو حفصہ نے پوچھا اپ كو اس كى كس نے خبر دى ؟ پيغمبر نے حفصہ كے جواب ميں فرمايا ، مجھے اس نے خبر دى ہے جو سب كچھ جانتا ہے اور اچھى طرح با خبر ہے
اگر تم دونوں (عائشه و حفصہ )خدا كى طرف واپس اتى ہو اور توبہ كرتى ہو تو تمہارے دل سيدھى راہ سے ہٹ گئے ہيں ، اور اگر پيغمبر (ص) كے مقابلے ميں تم نے باہم جتھہ بندى كى تو جان ركھو كہ اللہ اس كا مولى ہے اور اس كے بعد جبرئيل اور مومنوں ميں مرد صالح ہے ، اور سب ملائكہ اسكے ساتھى اور مددگار ہيں ،بعيد نہيں كہ اگر پيغمبر تم سب بيويوں كو طلاق ديدے تو اللہ اسے ايسى بيوياں تمہارے بدلے ميں عطا فرما دے جو تم سے بہتر ہوں ، سچى مسلمان ، با ايمان ، اطاعت گذار ، توبہ والى ، عبادت گذار اور روزہ دار ہوں خواہ شوہر ديدہ ہوں يا باكرہ _
1_ طبقات بن سعد ج8 ص 134
61
اے لوگو جو ايمان لائے ہو بچائو اپنے اپ كو اور اپنے اہل و عيال كو اس اگ سے جسكا ايندھن انسان اور پتھر ہوں گے ، جس پر نہايت تند خو اور سخت گير فرشتے مقرر ہوں گے ، جو كبھى اللہ كے حكم كى نافرمانى نہيں كرتے اور جو حكم بھى انھيں ديا جاتا ہے اسے بجالاتے ہيں _
اے كافرو اج معذرتيں پيش نہ كرو تمھيں تو ويسا ہى بدلہ ديا جا رہا ہے جيسے تم عمل كر رہے تھے _
اے لوگو جو ايمان لائے ہو ، اللہ سے توبہ كرو ، خالص توبہ ، اميد ہے كہ اللہ تمہارى برائياں تم سے دور كر دے اور تمھيں ايسى جنتوں ميں داخل فرمادے جن كے نيچے نہر يں بہہ رہى ہوں گى ، يہ وہ دن ہوگا جب اللہ اپنے پيغمبر كو اور ان لوگوں كو جو اس كے ساتھ ايمان لائے ہيں رسوا نہ كرے گا ان كا نور ان كے اگے اگے اور ان كے دائيں جانب دوڑ رہا ہو گا ، اور وہ كہہ رہے ہوں گے كہ اے ہمارے پروردگار ، ہمارا نور ہمارے لئے مكمل كر دے اور ہم سے درگزر فرما ، تو ہر چيز پر قدرت ركھتا ہے _
اے رسول ، كفار اور منافقين سے جہاد كرو اور ان كے ساتھ سختى سے پيش ائو ، ان كا ٹھكانا جہنم ہے اور وہ بہت برا ٹھكانا ہے _
اللہ كافروں كے معاملے ميں نوح اور لوط كى بيويوں كو بطور مثال پيش كرتا ہے وہ ہمارے دو صالح بندوں كى زوجيت ميں تھيں ، مگر انھوں نے اپنے شوھروں سے خيانت كى اور اللہ كے مقابلے ميں ان كے كچھ بھى نہ كام اسكے ، دونوں سے كہہ ديا گيا كہ جائو اگ ميں جانے والوں كے ساتھ تم بھى چلى جائو اور اہل ايمان كے مقابلے ميں اللہ فرعون كے بيوى كى مثال پيش كرتا ہے جبكہ اس نے دعا كى ،اے ميرے رب ، ميرے لئے اپنے يہاں جنت ميں ايك گھر بنا دے اور مجھے فرعون اور اس كے عمل سے بچالے اور ظالم قوم سے مجھے نجات دے اور عمران كى بيٹى مريم كى مثال ديتا ہے جس نے اپنى عفت كى حفاظت كى پھر ہم نے اس كے اندر اپنى طرف سے روح پھونك دى اور اس نے اپنے رب كے ارشادات اور اسكى كتابوں كى تصديق كى اور وہ اطاعت گزار لوگوں ميں سے تھى _
سورہ تحريم ام المومنين عائشه بنت ابو بكر اور حفصہ بنت عمر بن خطا ب كے بارے ميں نازل ہوئي ہے ، اس سلسلے ميں سيكڑوں حديثيں ابن عباس كے طريق سے اور خود عمر بن خطاب كے طريق سے وار د ہوئي ہيں جن سے اس حقيقت كا پتہ چلتا ہے_ (1)
اور ميں انشاء اللہ بعد كے صفحات ميں جہاں ام المومنين عائشه كى احاديث پر بحث كروں گا ، وہيں تفصيلى تبصرہ كروں گا _
1_صحيح بخارى مطبوعہ مصر سال 36_37 جلد 3/ ص137 ،تفسير سورہء تحريم ، كتاب فضائل القران جلد 3 / ص138 ، اور باب موعظہ الرجل جلد 3/ ص 147 ،كتاب المظالم جلد 4/ ص47 ، صحيح مسلم الرضاع جلد 1/ 509 صحيح ترمذى ج2 / 409 ، مطبوعہ ہندوستان ، صحيح نسائي ج1/ ص 302 ، اسكے علاوہ تفسير طبرى اور در منثور بھى ديكھى جا سكتى ہے
62
عائشه اور خديجہ كى ياديں
عائشه كا بيان ہے :
ازواج رسول(ص) خدا ميں خديجہ سے زيادہ مجھے كسى پر بھى رشك و حسد نہيں ہوا ، وجہ يہ تھى كہ رسول(ص) خدا انھيں بہت يا د كرتے تھے ہر وقت تعريف كرتے رہتے ، خصوصيت يہ تھى كہ خدا وند عالم نے اپنے پيغمبر كو وحى كے ذريعے خبر دى تھى كہ خديجہ كے لئے جنت ميں ايك پر شكوہ اور سجا سجايا محل عطا فرمايا ہے _(1)
يہ بھى بيان ہے كہ_ حالانكہ ميں نے خديجہ كو نہيں ديكھا تھا ، پھر خديجہ سے زيادہ كسى پر بھى رشك و حسد نہيں ہوا ، كيونكہ اكثر ايسا ہوتا كہ رسول خدا (ص) خديجہ كى اچھائيوں كو ياد كرتے ، انكى تعريف و ستائشے كرتے ، اكثر اپ ايك گوسفند ان كے نام سے قربانى كرتے ،اسكى بوٹياں كركے تقسيم فرما ديتے (2)
يہ بھى حكايت كرتى ہيں كہ :
ايك دن خديجہ كى بہن ہالہ بنت خويلد نے رسول خدا سے ملاقات كى اجازت مانگى ، رسول (ص) خدا نے جيسے ہى ہالہ كى اواز سنى ، خديجہ كى ياد اگئي اپ كى حالت شدت سے متغير ہوگئي اور بے اختيار فرمايا :
ہائے ميرے خدا ، ہالہ
يہ سنكر ميرى تو خديجہ سے جلن بھڑك اٹھى تھى ، فوراً كہا اپ اس بے دانت كى بڑھيا كو كتنا ياد كرتے رہتے ہيں ؟
زمانہ ہوا كہ وہ مر گئي اور خدا نے اس سے بہتر اپ كو عطا فرما ديا (3)
ايك دوسرى روايت ميں يہى بات يوں بيان كى ہے _
ميرے اس اعتراض پر رسول (ص) خدا كو ميں نے ديكھا كہ چہرہ بھڑك اٹھا ، چہرے كى حالت متغير ہو كر ويسى ہو گئي
1_ بخارى ج2 ص277
2_ بخارى ج2 ص210
3_ حضرت خديجہ كے حالات زندگى ، فداكارياں ، امتيازى اور اہم ترين اخلاقى خصوصيات پر مستقل كتاب كى ضرورت ہے _ اپ كے حالات طبقات بن سعد ، استيعاب ، اسد الغابہ اور اصابہ كے علاوہ وہ بہت سى كتابيں ديكھنے كى ضرورت ہے _
63
جيسى وحى نازل ہوتے وقت ہوتى ، جب اپ اسمانى حكم كے منتظر ہوتے كہ پيغام رحمت نازل ہوتا ہے يا عذاب (1)
ايك دوسرى روايت ميں ہے _
عائشه كہتى ہيں كہ رسول خدا (ص) نے فرمايا ، نہيں ... ہرگز خدا وند عالم نے مجھے اسكے بدلے اس سے اچھى عورت نہيں دى ، كيونكہ جسوقت تمام لوگ ميرا انكار كررہے تھے ، وہ مجھ پر ايمان لائيں ، لوگ جب مجھے جھوٹا سمجھ رہے تھے ، خديجہ نے ميرى تصديق كى ، جب لوگوں نے مجھے مالى پريشانيوں ميں ڈالا تو انھوں نے اپنى بے حساب دولت ميں مجھے شريك كيا ، خدا نے دوسرى عورتوں سے مجھے اولاد نہيں دى ،خديجہ سے مجھے اولاد عطا فرمائي(2)
رسول (ص) خدا ہميشہ اپنى اس پہلى رفيقہ حيات كى اچھائيوں كو ياد كرتے ، انكى يادوں اور ياد گاروں كى تجديد فرماتے ، ان كے رشتہ داروں كے ساتھ حسن سلوك فرماتے ، انھيں دوسروں پر مقدم كرتے انكى ياديں تمام زندگى پر محيط رہيں ، يہى وجہ تھى كہ ام المومنين كا سينہ ان كى نفرت و حسد و جلن سے بھر گيا تھا ، اسى وجہ سے جب بھى خديجہ كا نام اتا ، اپ انھيں ياد كرتے تو يہ اعتراض كى زبان كھول ديتيں سب سے بد تر يہ كہ وہ خديجہ كى تعريف سنكر اندوہ سے پاگل ہو جاتيں اپنے كو سرزنش و مذمت كا سزاوار پاتيں ، انھيں باتو ں كى وجہ سے خديجہ كى بيٹى حضرت فاطمہ اور ان كے بچوں سے روابط خراب تھے ، كيونكہ رسول خدا ان سے والہانہ پيار كرتے _
اسى دشمنى اور اندرونى نفرت كے اثرات كا اندازہ مسند احمد بن حنبل كى روايت سے ہوتا ہے جسے نعمان بن بشير نے بيان كيا ہے _
ايك دن ابو بكر نے رسول خدا (ص) سے ملاقات كى اجازت چاہى اسى وقت انھوں نے كمرے سے عائشه كى اواز سنى جو چلا رہى تھيں _
خدا كى قسم ، ميں اچھى طرح جانتى ہوں كہ اپ على كو ميرے باپ سے زيادہ چاہتے ہيں
حضرت على (ع) نے اپنے بارے ميں نفرت و عناد كا ايك گوشہ ايك تقرير ميں بيان فرمايا ، ليكن وہ ...عائشه ، اس نے عورتوں كے مزاج كے مطابق عقل كو طاق پر ركھ ديا ہے ، كينہ و عناد كے شرارت اپنے دل ميں اسطرح بھڑكا لئے ہيں جيسے لوہاروں كى بھٹى دھونكى جاتى ہے ، اگر اس سے كہا جائے كہ جو سلوك ،ميرے ساتھ كرتى ہے دوسرے كے ساتھ بھى كرے تو ہرگز پسند نہ كر يگى نہ مانے گى اخر امير المومنين نے بات اس پر ختم كى _
اسكے باوجود اسكے سابقہ احترامات محفوظ ہيں ، اسكے كرتوتوں كا بدلہ خدا ديگا ، وہ جسے چاہتا ہے بخش ديتا ہے اور جسے چاہتا ہے عذاب ديتا ہے _
1_ مسند احمد ج6 ص 150، 154
2_ مسند احمد ج6 ص117 ،وسنن ترمذى ص247
64
ابن ابى الحديد كى عبارت
و كانت تكثر الشكوى من عائشه ، و يغشا ھا نساء المدينہ فينقلن اليھا كلمات عن عائشه_
فاطمہ كا دل عائشه كے طعنوں سے بھر اہوا تھا كيونكہ مدينے كى عورتيں اپ كے پاس اتيں اور طعنوں بھرى باتيں عائشه كى پہونچاتى رہتى تھيں ابن ابى الحديد :
حضرت على بن ابى طالب(ع) كے بيان كينہ ء عائشه كے بعد مناسب معلوم ہوتا ہے كہ ابن ابى الحديد معتزلى كے بيان و شرح كو بھى بيان كيا جائے كيونكہ يہ بيان غور طلب ہے ، وہ لكھتے ہيں :
ميں جس وقت علم كلام كى تحصيل ميں مشغول تھا ، ميں نے امام كے اس خطبے كو اپنے استاد شيخ ابو يعقوب يوسف بن اسماعيل لمعانى كے سامنے پڑھا ، اور ان سے خواہش ظاہر كى كہ اس كے راز سے مطلع فرمايئے ، شيخ نے ميرى خواہش قبول كى ، انھوں نے جو اس خطبے كى تشريح فرمائي اسكو بطور خلاصہ يہاں نقل كر رہا ہوں ، كيو نكہ انكى پورى بات اس وقت ميرے حافظے ميں نہيں ، پورى تفصيل كو اختصار كے ساتھ پيش كر رہا ہوں _
شيخ ابو يعقوب نے اس طرح كہا :
فاطمہ كى سوتيلى ماں
پہلى بار عائشه و فاطمہ كے درميان كينہ و دشمنى اسطرح شروع ہوئي كہ رسول خدا نے خديجہ كے انتقال كے بعد عائشه سے عقد فرمايا ، خديجہ كى جگہ عائشه كو ملى حالانكہ فاطمہ حضرت خديجہ كى بيٹى تھيں اور يہ بات ظاہر ہے كہ جس بيٹى كى ماں مر جائے اور اسكا باپ دوسرى شادى كرلے تو اس بيٹى سے باپ كى دوسرى زوجہ سے تعلقات ٹھيك نہيں رہتے ، اور يہ بات فطرى اور مسلم ہے ، كيونكہ ہر عورت اپنے شوہر كى پہلى زوجہ كى اولاد سے دشمنى كا برتائو كرتى ہے ، خاص طور سے ايسى حالت ميں كہ جب شوہر كى پہلى زوجہ سے شديد وابستگى كا مظاہرہ ہو
اسى طرح اگر بيٹى باپ كو دوسرى عورت كى طرف توجہ كرے اسكى سوتيلى ماں ہو تو غمگين اور نگراں رہتى ہے ، باوجود يكہ خديجہ دنيا سے گذر چكى تھيں ليكن بہر حال عائشه حضرت فاطمہ كى سوتيلى ماں تھيں ، اگر خديجہ زندہ ہوتيں اور
65
عائشه كے قدم پيغمبر كے گھر ميں ائے ہوتے تو دشمنى اور لڑائي سخت اور شديد ہوتى ، ليكن جبكہ ماں كا انتقال ہو چكا تھا تو يہ دشمنى وراثت ميں فاطمہ كو ملى تھى _
دوسرى طرف ديكھئے كہ كہا جاتا ہے كہ رسول(ص) خدا عائشه سے بہت محبت فرماتے تھے(1) انكى بہت مراعات فرماتے ، يہ بنيادى چيز كہ رسول جس قدر عائشه سے زيادہ محبت فرماتے اسى قدر حضرت فاطمہ كا رنج و اندوہ بڑھتا جاتا ، احساسات مجروح ہوتے رہتے_
فاطمہ(ع) پيغمبر (ص) كى پياري
رسول(ص) خدا اپنى بيٹى فاطمہ كو لوگوں كى توقع سے زيادہ پيار كرتے اور تعظيم فرماتے ، اور عام ادمى جسقدر اپنى بيٹى سے اظہار محبت كرتا ہے اسى سے كہيں زيادہ محبت فرماتے ، يہ پدرانہ شفقت و محبت حد سے زيادہ اور كہيں زيادہ نظر اتى ہے _
پيغمبر(ص) خدا چاہے وہ عام نشست ہو يا خاص ، مختلف موقعوں پر بارہا فرما چكے تھے ، فاطمہ تمام عالمين كى عورتوں كى سردار ہے ، وہ مريم بنت عمران كى مانند ہے (2)
جب فاطمہ عرصہ محشر سے گذرينگى تو عرش كى جانب سے منادى پكارے گا اپنى انكھيں بند كر لو كہ فاطمہ تمھارے درميان سے گذرنے والى ہيں (3)
اس قسم كى تمام احاديث ميں ذرا بھى شك و شبہ نہيں كيا جا سكتا فاطمہ اور على سے شادى بھى خدا وند عالم نے مقرب فرشتوں كو گواہ بنا كر اسمان پر فرمائي تھى (4)
رسول(ص) خدا نے اكثر فرمايا كہ جو چيز فاطمہ كو رنج پہونچاتى ہے وہ مجھے رنج پہونچاتى ہے ، جو كچھ اسے غضبناك كرتى ہے مجھے غضبناك كرتى ہے (5)
1_ عائشےہ سے رسول خدا (ص) كى محبت كے سارے افسانے تنہا عائشےہ سے مروى ہيں اور ميں انشاء ا اگلے صفحات ميں ان پر تبصرہ كروں گا _
2_ كنزل العمال ج6 ص219 حديث شمارہ 3853_3854_3855
3_مستدرك ج3 ص153_156
4_ مستدرك ج3 ص158 _159 وكنز ج6ص218حديث 3834
5_ مصدر سابق
66
وہ ميرى پارہ جگر ہے اسكى نگرانى سے ميں رنجيدہ و ملول ہوتا ہوں (1)
اس قسم كى احاديث سے رسول كى زوجہ عائشه كيلئے اس بات كا سبب بنا كہ وہ فاطمہ سے حسد كريں ، جس قدر رسول(ص) خدا اپنى بيٹى فاطمہ كا احترام فرماتے ان كا كينہ و عناد تيز سے تيز تر ہوتا ، حالانكہ ہم جانتے ہيں كہ اس سے بھى كمتر حسن سلوك بھى سوتيلى ماں كے كينہ و عناد كو بڑھاديتا ہے _
ليكن رسول كے اعزاز و اكرام فاطمہ سے جس قدر عائشه كے دل ميں كينہ و عناد تيز ہوتا ، حضرت على كے دل ميں خوشى بڑھتى اور فاطمہ كا احترام ان كے دل ميں زيادہ ہوتا اكثر ايسا ہوتا ہے كہ عورتيں اپنے شوہروں كے دل ميں عداوت و دشمنى پيدا كر ديتى ہيں كيو نكہ مثل مشہور ہے راتوں كى ہمدم (محدثات الليل )
حضرت فاطمہ(ع) عائشه كى بہت شكايت كرتيں اور مدينے كى ہمسايہ عورتيں كبھى كبھى اپ كے پاس اكر عائشه كى باتيں ان سے بيان كرتيں ، پھر حضرت فاطمہ(ع) كا رد عمل عائشه سے بيان كرتيں جس طرح فاطمہ اپنا درد دل اپنے شوہر على (ع) سے كہتى تھيں اسى طرح عائشه اپنے باپ سے اسكى شكايت كرتى تھيں كيو نكہ وہ جانتى تھيں كہ شوہر سے شكايت كرنے سے ان كے شوہر نہيں مانيں گے _
عناد كے كئي رخ
يہ معاملہ بجائے خود ابوبكر كے دل ميں نا پسند يدہ اثرات مرتب كرتا تھا ، وہ اس سے رنجيدہ ہوتے تھے ، اور جب وہ ديكھتے تھے كہ رسول(ص) خدا على كى تعريف و ستائشے كا كوئي موقع فرو گذاشت نہيں كرتے انھيں اپنے سے مخصوص قرار ديا ہے ، مقرب بنا ليا ہے تو ان كے دل ميں كينہ و عناد كى اگ بھڑك اٹھتى ، پيغمبر (ص) كے نزديك على كا مرتبہ و مقام ديكھ كر انھيں رشك اتا ، جبكہ وہ اپنے كو سسر ہونے كى حيثيت سے على سے زيادہ اسكا مستحق سمجھتے _
يہ حسد اور نفسياتى كسك عائشه كے چچيرے بھائي طلحہ كے دل ميں بھى تھى عائشه اپنے باپ ابو بكر اور بھائي طلحہ كے پاس جاكر انكى توقعات كو سنتى تھيں ان كے دلى درد پر توجہ كرتيں ، وہ دونوں بھى اظہار ہمدردى كرتے ، اسطرح على و فاطمہ سے كينہ وعداوت كا تبادلہ ہوتا ، ان لوگوں كے دل ميں جس قدر بھى على سے عداوت سخت تر ہونے كى بات ہو ميں اسكى صفائي نہيں دے سكتا ، ادھر على (ع) و عائشه كے درميان حيات پيغمبر (ص) كے زمانے ميں ايسے واقعے پيش ائے ، گفتگو كے
1_ كنزالعمال _ اسد الغابہ _ استيعاب _ حليہ ابو نعيم و خلاصہ تہذيب الكمال
67
تبادلے ہوئے جو ان كے پوسيدہ احساسات اور فتنے ابھارنے كيلئے كافى تھے _
جيسے كہ روايت ہے ، ايك دن رسول خدا (ص) نے على سے راز دار انہ بات كى اور يہ رازدارى كافى طويل ہوئي (1)عائشه اس بات كى فكر ميں لگى ہوئي تھيں اپنے كو اچانك ان دونوں كے درميان پہونچا ديا اور كہا كہ اخر كون سى اہم بات ہے كہ اپ دونوں اتنى دير سے گفتگو كر رہے ہيں ، كافى دير لگا دى ؟
بيان كيا جاتا ہے كہ رسول (ص) خدا اس ناگہانى امد سے سخت غضبناك ہوئے اسى كے ساتھ يہ بھى روايت كى جاتى ہے كہ رسول (ص) خدا كيلئے كھانا بھيجا گيا تھا انھوں نے اپنے نوكر كو حكم ديا كہ انتظار ميں رہے ، جيسے ہى كھانا ائے اسے پھينك دے اس قسم كے معاملات عام طور سے عورت اور شوہر كے گھر والوں كے درميان پيش اتے ہيں _
فرزندان فاطمہ سے رسول كا والہانہ پيار :
فاطمہ كو كئي لڑكے اور لڑكياں ہوئيں ، حالانكہ عائشه اولاد سے محروم رہيں اور عائشه كے بے اولاد ہونے كا بد ترين اور دردناك ترين پہلو يہ تھا كہ رسول خدا نے فرزندان فاطمہ كو اپنى اولاد كہا ،ہميشہ انھيں اپنا فرزند كہكے خطاب فرماتے مثلافرماتے ، ميرے فرزند كو لائو ...ميرے فرزند كو مت روكو ...اور يا ميرے فرزند كے ساتھ كيا كر رہا ہے؟
ان حالات ميں جب اپنے شوہر كو ايك بے اولاد عورت ديكھتى ہے كہ اپنے بيٹى كے فرزندوں كو اپنا فرزند كہہ رہا ہے اور ان كے ساتھ ايك شفيق اور مہربان باپ كى طرح برتائو كر رہا ہے ، اپنى جان سے زيادہ عزيز ركھتا ہے انكى قدر و منزلت بڑھا رہا ہے تو كيا سوچے گى ؟
كيا وہ ان بچوں اور انكى ماں سے محبت كريگى يا ان سے نفرت كريگى ؟كيا يہ مسلسل سلگنے والى بھٹى مہربانى اور صفائي چاہے گى يا زوال كى ارزو كريگى ، اس سے بھى زيادہ دردناك تر بات يہ تھى كہ رسول نے حكم ديا _
1_ اس راز و نياز كو مورخوں نے جنگ طائف كے موقع پر بتايا ہے _ كہتے ہيں كہ جب راز و نياز كافى دير ہوا تو لوگوں نے كہنا شروع كيا كہ رسول نے اپنے چچيرے بھائي سے دير تك راز و نياز كيا ايك روايت ہے كہ يہ بات ابو بكر نے كہى تھى _ رسول خدا (ص) نے جواب ديا كہ ميں نے راز و نياز نہيں كيا بلكہ يہ خدا كى جانب سے راز و نياز تھا _ صحيح ترمذى ج2 ص 200 _ تاريخ خطيب ج7 ص 402_ كنز العمال _ اسد الغابہ
68
مسجد كى طرف كھلنے والے تمام دروازے بند كئے جائيں ، اسى وقت حكم ديا كہ ان كے داماد على كا دروازہ مسجد كى طرف كھلا رہے ؟(1)
اور يہ كہ پہلے ابو بكر كو سورہء برائة كى تبليغ كے لئے ديا كہ مكہ جا كر مشركين كو سنائيں پھر انھيں اس عہدے سے بر طرف كر كے اپنے داماد على كو ديديا (2)يہ بات بھى عائشه كيلئے بڑى ناگوار تھى جب خدا نے ماريہ كو ابراہيم جيسا فرزند عطا فرمايا ، على اپنى مسرت روك نہيں سكے ، جس طرح اپ دوسرى ازواج رسول كے ساتھ تعاون فرماتے تھے ، ماريہ كے ساتھ بھى تمام توجہ كے ساتھ كمك اور تعاون فرمايا _
جب ماريہ پر الزام لگايا گيا تو يہ على تھے جنھوں نے دل و جان سے انكى صفائي كى كوشش كى ، اس الزام كو بے بنياد ثابت كرنے كا عملى اقدام فرمايا يا اس سے بہتر لفظوں ميں كہا جائے كہ خدا نے على كے ہاتھوں حق ظاہر كيا اور الزام كا بطلان يوںظاہر كيا كہ انكھوں سے ديكھا جاسكے ، اور اس بارے ميں ذرا بھى چون و چرا كى گنجائشے نہ رہ جائے _
ان تمام باتوں نے عائشه كے دل ميں كينہ و نفرت بھر ديا ، ان كے خلاف تمام كينہ توزيوں كےلئے راسخ كر ديا _
جب ابراہيم كا انتقال ہوا تو ماريہ كے غم و اندوہ ميں طعنوں اور زبان كے زخموں نے بھى سر ابھارے يہ على و فاطمہ كو بھى جھيلنا پڑا كيونكہ يہ دونوں ماريہ كو اہميت ديتے تھے ، اور چاہتے تھے كہ ماريہ كو صاحب اولاد ہونے كى وجہ سے دوسرى ازواج خاص كر عائشه پر برترى حاصل ہو جائے ،ليكن تقدير نہ تو ان لوگوں كى ارزو كے مطابق تھى نہ ماريہ كى خواہش كے مطابق _
على اور مسئلہ خلافت
على كو ذرا بھى شك نہ تھا كہ بعد رسول خلافت انھيں كو ملے گى ، دوسرا كوئي بھى ان كا رقيب نہيں (3)يہى اطمينان قلب تھا كہ جس وقت ان كے چچا عباس نے غسل پيغمبر(ص) كے وقت كہا :
1_ مسند احمد كنز ج6 ص 152 حديث 2495 و منتخب كنز ج5 ص 29 _ مستدرك ج3 ص 125 _ صحيح ترمذى ج13 ص 176
2_ مسند احمد ج1 ص 331 و مستدرك ج3 ص 51 _52 _ مسند احمد ج1 ص 2 بطريق ابو بكر و على خصائص نسائي
3_ يہ ابن ابى الحديد كے استاد كى بات صحيح نہيں _ كتاب عبد اللہ بن سبا ج1 ص 106 _ فصل خلافت ملاحظہ ہو
69
ہاتھ بڑھائو تاكہ تمہارى بيعت كر لوں تاكہ لوگ كہيں كہ رسول(ص) كے چچا نے اپنے بھتيجے كى بيعت كر لى ، يہ تمہارے حق ميں مفيد ہو گا پھر كسى كو تمھارى مخالفت كا يا رانہ نہ ہو گا _
على نے جواب ديا :
اے چچا كيا ميرے علاوہ بھى كوئي ہے جسے خلافت كى طمع ہو ؟
تم جلدہى ديكھ لو گے
مجھے پسند نہيں كہ مسئلہ خلافت پچھلے دروازے سے ظاہر ہو ، بلكہ ميں يہ چاہتا ہوں كہ تمام لوگ اشكار طريقے سے شريك ہوں اور خلافت كے بارے ميں رائے ديں ، يہ كہا اور خاموش ہو گئے _
اور جب رسول كى بيمارى نے شدت پكڑى تو رسول نے جيش اسامہ كو حركت كا حكم ديا (1) اور ابو بكر اور دوسرے اكابر قريش مہاجر و انصار كو حكم ديا كہ جيش اسامہ كے ساتھ اسامہ كى ما تحتى ميں چلے جائيں ، اگر يہ بات مان لى جاتى اور پيغمبر كى وفات ہوئي تو على كى خلافت مسلّم اور قطعى تھي_
خود على كا خيال تھا كہ اگر پيغمبر(ص) كى وفات ہو جائے تو مدينے ميں خلافت كا جھگڑا نہ ہو گا ، اس صورتحال ميں لوگ اسانى سے انكى بيعت كر ليں گے اور اس بيعت كا فسخ يا ان كا حريف ہونا ممكن ہى نہ تھا ، لا محالہ تمام لوگ انكى بيعت كريں گے _
ليكن ابو بكر نے عائشه كے اس پيغام كى بنياد پر كہ رسول خدا (ص) كى وفات كا ہنگام اگيا ہے، لشكر اسامہ سے علحدہ ہو كر مدينے پلٹ ائے _
ليكن جہاں تك لوگوں كو نماز پڑھانے والى ابو بكر كى بات ہے تو ميرى دانست ميں حضرت على نے اس كا ماحول تيار كرنے كيلئے عائشه كو متعارف كرايا ہے _
1_ طبقات بن سعد ميں ہے كہ تمام مہاجرين و انصار كے سربراوردہ حضرات حكم رسول سے مامور تھے كہ لشكر اسامہ ميں شريك ہوں ان ميں ابو بكر عمر ابو عبيد ہ جراح سعد بن ابى وقاص وغيرہ تھے ، بعض نے اس حكم پر اعتراض كرتے ہوئے كہا كہ بڑے بڑے مہاجرين و انصار پر اس چھوكرے كو سردار بنا ديا ہے ، جب يہ خبر رسول كو ہوئي تو غصے ميں منبر پر گئے اور حمد و ثنائے الہى كے بعد فرمايا ، يہ كيسى باتيں ہيں جو لشكراسامہ كے بارے ميں سن رہا ہوں ، روز شنبہ انحضرت نے اس اعتراض كا جواب ديا اور تيسرے دن دو شنبہ كو انتقال فرمايا ، طبقات بن سعد ، تہذيب بن عساكر ، كنز العمال ملاحظہ فرمايئے
70
جيسا كہ لوگ كہتے ہيں كہ رسول خد(ص) ا نے فرمايا كہ كوئي جا كر لوگوں كو نماز پڑھا دے اور كسى معين شخص كا نام نہيں ليا ، وہ صبح كى نماز كا وقت تھا ، ليكن يہ حكم دينے كے بعد رسول (ص) خدا ذاتى طور سے اخرى لمحے ميں على اور فضل بن عباس كے كاندھوں كا سہارا لئے ہوئے باہر ائے اور محراب ميں بيٹھ گئے پھر اپ نے خود ہى نماز پڑھائي اور گھر واپس اگئے ، سورج نكل ايا تھا كہ دنيا سے تشريف لے گئے _
عمر نے اسى امادگى اور ابو بكر كا لوگوں كو نماز پڑھانا ان كے استحقاق خلافت كى دليل بنايا ہے ، وہ كہتے ہيں كہ :
تم ميں كون اپنے لئے جائز سمجھتا ہے كہ جسے رسول (ص) خدا نے نماز پڑھانے كيلئے مقدم قرار ديا اس سے مقدم سمجھے؟
اور يہ بات كہ رسول (ص) خدا گھر سے باہر ائے اور خود ہى نماز پڑھائي اس پر حمل نہيں كيا ہے كہ اس سے ابوبكر كى امامت روكنا تھا ، بلكہ كہتے ہيں كہ انحضرت (ص) اس بات پر مائل تھے كہ جہاں تك ممكن ہو خود ہى يہ كام انجام ديں اس واقع اور اس مسئلے كا سہارا ليتے ہوئے لوگوں نے ابوبكر كى بيعت كر لى حالانكہ اس سازش كا الزام على نے عائشه پر لگايا ہے كہ يہ پورا ماحول انھوں ہى نے تيار كيا تھا ، اپ نے بارہا اس بات كو اپنے اصحاب سے جو اپ كے اردگرد تھے فرمايا :
انحضرت (ص) نے عائشه و حفصہ سے اس معاملے ميں فرمايا ، تم دونوں يوسف والى عورتيں ہو ، اپ اس كاروائي سے اپنى نفرت اور ناپسنديدگى فرما رہے تھے _
خاص طور سے اپ نے عائشه سے اپنى برہمى ظاہر فرمائي ، كيو نكہ يہ عائشه اور حفصہ ہى تھيں جنھوں نے حكم رسول سے استفادہ كرتے ہوئے اپنے اپنے باپ كو نماز پڑھانے كى پيش دستى كى اور رسول(ص) خدا كو جب اس نيابت كى اگاہى ہوئي تو رنجيدہ ہو كر بذات خود باہر ائے اور ابو بكر كو اس امامت سے روك كر زندگى كے اخرى لمحے ميں عملى طور سے عائشه كے اقدام كو ناكام بنايا _
اس صورتحال ميں رسول خدا (ص) وسيع تر ماحول تيار كئے ہوئے حالات ميں اس سے زيادہ كر بھى نہيں سكتے تھے كيونكہ عمر و ابوبكر نے ماحول پر پورے طور سے قبضہ كر كے لوگوں كو اسكے لئے تيار كر ليا تھا ، اس سلسلے ميں مہاجرين و انصار كے سربراوردہ افراد ان كے شريك تھے ، گردش زمانہ اور تقدير اسمانى نے بھى ان لوگوں كى مدد كى تھى _
يہ حادثے على كے لئے تمام دردوں سے اذيتناك تھے ، عظيم مصيبت اور بڑى افت تھى جو اپ كى روح كو تكليف پہونچاتى تھى ، اسكا ذمہ دار وہ صرف عائشه كو قرار ديتے تھے ، اس بات كو بار ہا اپ نے اصحاب سے كہہ كر خدا سے انصاف كا مطالبہ كيا _
71
اس سے بڑھكر يہ كہ على (ع) نے بيعت ابو بكر سے اس وقت تك ركے رہے جب تك اپ كو مجبور نہيں كيا گيا(1)اپ نے كيا كيا مصائب جھيلے يہ سارى باتيں مشھور ہيں _
جس وقت رسول خدا(ص) نے انتقال فرمايا ، اور جب تك طويل بيمارى كے بعد فاطمہ (ع) نے انتقال فرمايا ، برابر عائشه كى طرف جناب فاطمہ كو طعنوں بھرى باتوں كا سامنا كرنا پڑا جس سے اپ كى روح لرزاٹھى تھى ، جناب فاطمہ اور حضرت على (ع) كے لئے سوائے صبر كے چارہ نہ تھا ، وہ اپنے غم و اندوہ كى شكايت خدا ہى سے كر سكتے تھے _
عائشه اپنے باپ كى حمايت اور خلافت كى چكى پھرانے والوں ميں سر فہرست تھيں مرتبہ و مقام روز بروز بڑھتا رہا ، جبكہ حضرت فاطمہ(ع) اور حضرت على (ع) شكست خوردہ كى طرح طاقت و اقتدار سے الگ ركھے گئے ،فدك فاطمہ سے چھين ليا گيا ، اپ نے بارہا اسے واپس لينے كى كوشش كى ليكن تمام كوششوں كا كوئي نتيجہ نہ نكلا _(2)
اس درميان جو اپ كے پاس امد و رفت كرتيں عائشه كى طعنوں سے بھر پور باتيں اپ سے بيان كرتيں ، اس طرح اپ كے دل كو سخت تكليف پہونچتى اور انكى اور انكے شوہر كى باتيں عائشه سے بيان كر كے اتش كينہ و عداوت كو ان دونوں كے درميان بھڑكا تى تھيں _
ليكن ان دونوں گروہوں كے درميان انتہائي بد تر اختلاف موجود تھا ، ايك گروہ كامياب تھا اور دوسرا گروہ شكست خوردہ ، ايك حكمراں تھا دوسرا محكوم ، يہى وہ حالت ہے كہ غالب گروہ كى باتيں شكست خوردہ كو بڑى تكليف پہونچاتى ہيں ، اور يہ بات طئے ہے كہ دشمن كى ملامت سے ادمى كو جو روحانى اذيت ہوتى ہے وہ تمام مصيبتوں سے دردناك ہوتى ہے _
يہاں تك ميرے استاد كى بات پہونچى تھى كہ ميں نے عرض كى كيا اپ بھى كہتے ہيں كہ رسول (ص) خدا نے كسى معين شخص كو نماز پڑھانے كا حكم نہيں ديا تھا ، يہ صرف عائشه تھيں جنھوں نے خود سرانہ طريقے سے اپنے باپ كو اس كام پر مامور كيا تھا _
1_ تفصيلات كيلئے كتاب عبد اللہ بن سبا فصل سقيفہ ملاحظہ فرمائيں
2_ طبقات بن سعد ج2 _ صحيح بخارى _ المغازى باب غزوئہ خيبر ج3 ص 38 _ صحيح مسلم ج1 ص 72 _ ج3 ص 153 _ طبرى _ ابن كثير _ مسند احمد بن حنبل ج1 ص 4 _ ج 6 ص9
72
استاد نے جواب ديا ، ميں يہ نہيں كہتا ، يہ بات على نے كہى ہے ، اور ظاہر ہے كہ انكى ذمہ دارى الگ ہے اور ميرى ذمہ دارى الگ ہے ، وہ خود جائے واقعہ پر موجود تھے اور تمام باتوں كو اپنى انكھوں سے ديكھا تھا ، ليكن مجھے جو حديثيں ملى ہيں ان سے معلوم ہوتا ہے كہ رسول خدا نے ابوبكر كو نماز پڑھانے پر مامور كيا تھا ، جبكہ على كا مدرك علم و اطلاع ہے ، انھوں نے تمام سرگرميوں كو خود ديكھا تھا ،يا كم سے كم اپ اس پر ظن قوى ركھتے تھے _
اسكے بعد استاد اپنى بات اگے بيان كرنے لگے_
بالاخر فاطمہ (ع) نے انتقال فرمايا ، اپ كے انتقال ميں تما م خواتين نے شركت كى سوائے عائشه كے جنھوں نے نہ صرف يہ كہ سستى دكھائي اور بنت نبى كى ماتم پرسى ميں نہيں گئيں بلكہ اس كے بر عكس اپنى خوشى اور شادمانى كا اظہار كيا جو على تك پہونچائي گئي _
على نے فاطمہ كے انتقال كے بعد ابوبكر كى بيعت كر لى ،اور جيسا كہ كہتے ہيں عائشه نے بيعت على كے بعد چونكہ كوئي انكے باپ كا حريف خلافت نہيں تھا نہ خلافت كا دعويدار تھا بہت زيادہ خوشى كا اظہار كيا ،يہى صورتحال خلافت عثمان كے زمانے تك رہى ، جبكہ پرانے كينے سينوں ميں موجيں مار رہے تھے ، اور خون بھڑك رہے تھے ،زمانہ جيسے جيسے گذرتا على پر مصائب بڑھتے ہى جاتے ، اپ كى روحانى اذيت ميں اضافہ ہى ہوتا ، دل كا درد بڑھتا جاتا يہاں تك كہ عثمان قتل كر دئے گئے ،عثمان كو قتل كرانے ميں عائشه نے خود ہى موثر كردار ادا كيا ، لوگوں كو ان كے خلاف بھڑكا يا ، وہ عثمان كى سب سے بڑى مخالف تھيں ، قتل عثمان كے سلسلے ميں لوگوں سے كہتيں ، خدا عثمان كو قتل كرے _
عائشه نے اسلئے عثمان كو خون بہانے كى بات كہى كہ وہ چاہتى تھيں كہ عثمان خاندان بنى اميہ سے ہيں ، ان سے چھين كر ان كے خاندان تيم ميں پھر واپس اجائے ، اور اس سلسلے ميں انھوں نے اپنے چچيرے بھائي طلحہ كو اگے اگے كر كے خلافت كا اميد وار بھى بنا ديا تھا ،ليكن جب عثمان قتل كر دئے گئے تو لوگوں نے عائشه كى توقع كے خلاف على بن ابى طالب كو خلافت كے لئے چن ليا ،_ انكى بيعت كر لى ، جب يہ خبر عائشه كو ملى تو بے اختيار انہ فرياد كرنے لگيں ،ہائے افسوس عثمان پر ، عثمان مظلوم قتل كئے گئے _
ا س طرح عائشه نے دوسرى بار فرزند ابو طالب سے اپنى پرانى دشمنى ظاہر كى ، اور اس راہ ميں اتنى كوشش كى كہ لوگوں كو على (ع) كى خلاف اس قدربھڑكايا كہ جنگ جمل ہوگئي ، اور پھر بعد ميں وہى راہ اپنائي جسے ميں نے شروع ميں بيان كيا ،يہ شيخ ابو يعقوب كے بيان كا خلاصہ تھا جو نہ تو مذہب اہلبيت پر تھے نہ شيعہ كى طرح جانبدارى برتنے والے تھے _
ہم نے خطبہء امير المومنين كا بڑا حصہ پاشالى طريقے سے بيان كيا جسے بن ابى الحديد نے نقل كيا ہے ، اس سے ام
73
المومنين عائشه كى على سے كينہء ديرينہ كى وضاحت ہوتى ہے ، بن ابى الحديد كے استاد نے اپنے بيان ميں عائشه كى زندگى كے پيچيدہ اور مبہم گوشوں كى اچھى طرح تشريح كى ہے ، اسميں انھوں نے ازدواج كے دوران اہلبيت سے روابط كے حالات ، بعد وفات رسول(ص) اہلبيت (ع) كے خلاف كا روائيوں كى مكمل تشريح كى ہے ، ہم نے بھى جہاں تك ان كى زندگى كے رخوں كے اشارے كئے ہيں اسى پر اكتفا كرتے ہيں ، كيونكہ اگر انكى زندگى كے ادوار كا اس سے زيادہ تحقيقى تجزيہ كريں جس نے اسلامى معاشرے كو متاثر كيا ...جو بجائے خود ايك مستقل كتاب كى متقاضى ہے ، تو خوف ہے كہ ہم اپنے مقصد اصلى سے ہٹ جائيں گے ، ہمارا تو صرف يہ مقصد ہے كہ ام المومنين كى احاديث كا تجزيہ كريں _
خلاصہ
جو كچھ ہم نے قارئين تك پہونچايا اس كا خلاصہ يہ ہے كہ ، ام المومنين سخت متعصب خاتون تھيں ، طبيعت ميں حسد بھرا ہوا تھا جسے حيات رسول(ص) كے زمانے ميں دوسرى ازواج رسول سے ان كے برتائو اور اہلبيت كے ساتھ سلوك كو ديكھ كر معلوم كيا جاسكتا ہے _
اس كے علاوہ جب كہ ہم نے تھوڑا حصہ نقل كيا اور ائندہ تفصيل سے بيان كريں گے ، ام المومنين اپنى گرمئي مزاج خاندان والوں كے مفادات كے تحفظ ، اپنى پارٹى كى مصلحتوں(1) كے بارے بڑى غيرت مند اور متعصب تھيں ، اپنى طبيعى سختى كى صفت ہى كى وجہ سے انھوں نے سخت اور اہم كارستانياں اور سنگين افعال كے لئے اپنى تلخ و تند اور انقلابى باتوں كا جال بچھايا_
1_ ام المومنين عائشےہ نے رسول خدا كے گھر ميں اپنى پارٹى بنا لى تھى ، جيسا كہ خود اس بارے ميں كہتى ہيں ، ازواج رسول دو گروہوں ميں بٹ گئيں ، ايك پارٹى ميں عائشےہ حفصہ اور سودہ تھيں اور دوسرى پارٹى ميں ام سلمہ اور دوسرى ازواج تھيں ، بقيہ حديث سے معلوم ہوتا ہے كہ جناب فاطمہ اسى دوسرى پارٹى ميں تھيں جو مخالف عائشےہ تھى ، اس سلسلے ميں صحيح بخارى ملاحظہ فرمايئے ليكن رسول خدا كے گھر كے باہر ام المومنين نے اپنے خاندان تحفظ كے مفادات اور اپنى پارٹى كى ترقى كيلئے برابر كام كرتى رہيں _
74
فصل دوم
شيخين
1_ ابو بكر كا لقب صديق اور عتيق تھا ، نام عبد اللہ تھا ، ابو قحافہ عثمان كے فرزند تھے قبيلہ تيم كى فرد تھے جو قريش كا قبيلہ تھا ،ان كى ماں كا نام ام الخير تھا ، جو سلمى يا ليلى كے نام سے موسوم تھيں ، عامر كى بيٹى تھيں ، يہ بھى تيم كے قرشى قبيلے كى تھيں _
ابو بكر عام الفيل كے دو يا تين سال بعد مكہ ميں پيدا ہوئے ، يہ ان لوگوں ميں ہيں جنھوں نے خديجہ ، على زيد اور جعفر كے بعد اسلام قبول كرنے ميں سبقت كى _
ابو بكر نے رسول (ص) خدا كے ہمراہ مكہ سے مدينہ ہجرت كى ، جنگ بدر اور بعد كى جنگوں ميں شريك ہوئے ، وفات پيغمبر كے بعد اس سے پہلے كہ جنازہ رسول دفن ہو سقيفہ بن ساعدہ ميں اپنے ديرينہ ساتھى عمر كے تعاون سے ايك اسان انقلاب كے سھارے زمام امور اپنے ہاتھ ميں لى _
ابو بكر نے 22 جمادى الثانيہ 13 كو انتقال كيا ، ان كا جنازہ رسول كے پہلو ميں دفن كيا گيا ، عمر 63 سال پائي ، انكى خلافت كا زمانہ دو سال تين مہينے اور چھبيس يا دس دن تك رہا _
2_ ابو حفص ، فاروق ، عمر بن خطاب ، قريشى قبيلہ عدى كى فرد نفيلى كى نسل سے تھے ، انكى ماں كا نام حنتمہ تھا جو مغيرہ كے فرزند ھشام يا ہاشم كى بيٹى كہى جاتى ہيں _
عمر نے پچاس لوگوں كے بعد اسلام قبول كيا اور مسلمان ہوئے ، كچھ دن بعد مكہ سے مدينے ہجرت كى ، جنگ بدر اور دوسرى جنگوں ميں شريك رہے _
ابو بكر نے بستر مرگ پر انھيں اپنا جانشين بنايا ، ايام خلافت عمر ہى ميں اسلامى فتوحات جزيرة العرب كے باہر شروع ہوئيں ، عمر نے 55 سال يا بقولے 63 سال عمر پائي ، 26 ذى الحجہ 23 ميں مغيرہ كے غلام ابو لولو كے خنجر سے زخمى ہوئے _
پہلى محرم 24 ھ كو جوار ابو بكر ميں دفن كئے گئے ، زمانہء خلافت دس سال چھہ مہينے پانچ روز ہے ، ابو بكر و عمر صدر اسلام ميں ايك دوسرے كے جگرى دوست تھے ، ہميشہ دونوں كا نام ايك ساتھ اتا ہے اسى لئے انھيں شيخين كہا جاتا ہے _
75
سكھ چين كا زمانہ
صدر اسلام كى اكيلى خاتون مفتي
ام المومنين عائشه كى تمام زندگى سوائے ابو بكر اور ان كے دوست عمر كے زمانہ خلافت كے ، شديد سياسى كشمكش اور ناقابل شكست سر گرميوں ميں گذرى ، تاكہ يہ خلافت جو خاندان تيم سے نكل گئي ہے ، پھر واپس اكر ان كے عزيزوں اور رشتہ داروں كو حكمراں بنا سكے _
0 comments:
Post a Comment