معاویہ کو اپنی صفات سے لیس بیٹے کی تمام مکروہ حرکات کا بخوبی علم تھا جس میں اس کی شراب نوشی و دیگر عادات شامل تھیں۔ لیکن حسب ِتوقع، معاویہ نے ایک تجربہ کار انسان کی حیثیت سے یزید کو کچھ قیمتی ٹپس دیں جن کے مطابق یزید کو تمام لغویات کا ارتکاب رات کے اندھیرے میں کرنا چاہیے تھا نہ کہ دن کی روشنی میں۔
ابن کثیر نقل کرتے ہیں:
یزید نوعمری میں شرابی اور نو عمروں والی حرکات کرتا تھا۔ حضرت معاویہ نے اس بات کو محسوس کرکے نرمی کے ساتھ اسے نصیحت کرنی چاہی تو آپ نے فرمایا، اے میرے بیٹے تو ذلت و رسوائی کے بغیر جو تیری جوانمردی اور قدرکو تباہ کردیگی اور تیرا دشمن تیری مصیبت پر خوش ہوگا اور یہ تیرا دوست تیرے ساتھ برا سلوک کرےگا۔ اپنی حاجت تک پہنچنے کی کس قدر قدرت رکھتا ہے ۔ پھر فرمایا، اے میرے بیٹے، میں تجھے کچھ اشعار سناتا ہوں، ان سے ادب سیکھ اور انہیں یاد کرلے، پس آپ نے اسے اشعار سنائے:
بلندیوں کی جستجو میں دن بھر کھڑا رہ اور قیبی حبیب کی جائی پر صبر کر حتیٰ کہ رات کا اندھیرا چھا جائے اور رقیب کی آنکھ نہ لگے ، پس جس کام کو تو خواہش مند ہو، رات بھر اسی کام میں لگا رہ، رات دانشمند کا دن ہوتی ہے ، کتنے ہی فاسق ہیں جن کو تو درویش خیال کرتا ہے وہ رات کو عجیب کام کرتے گزارتے ہیں، رات نے اس پر پردے ڈال دیئے ہیں اور اس نے امن و عیش سے رات گزاری ہے۔
البدایہ والنہایہ، ج 8 ص 1156 (نفیس اکیڈمی کراچی)۔
0 comments:
Post a Comment