سیاسی صاحب نظرافراد نے حکومت کے نظریات کی کثرت کو دو حصوں میں تقسیم کیا ھے :
(1) ڈکٹیٹری حکومت(شھنشاھی حکومت)
(2)ڈیموکراٹک (جمھوری حکومت)
(1) ڈکٹیٹری حکومت(شھنشاھی حکومت)
(2)ڈیموکراٹک (جمھوری حکومت)
اگرچہ ان دونوں کی بھت سی قسمیں موجود ھیں لیکن کلی طور پر حکومت کی دو قسمیں ھیں ۔
پھلی قسم ایسی حکومت جس میں حاکم اپنی مرضی سے حکومت کرتا ھے اور خود فرمان جاری کرتا ھے اور مختلف طریقوں سے اپنی حکومت کو چلاتا ھے اور اپنی فوجی طاقت کے ذریعہ لوگوں کو اپنی اطاعت پر مجبور کرتا ھے ۔
دوسری قسم ایسی حکومت جس میں لوگوں کی رائے دخالت رکھتی ھے اور لوگ اپنی مرضی سے اپنے حاکم کو چنتے ھیں اور حاکم بھی لوگوں کی خواھشات کے مطابق عمل کرنے کے پابند ھوتے ھیں یعنی ان کی حکومت لوگوں کے ارادے اور ان کی چاھت پر موقوف ھوتی ھے۔
3۔ اسلامی حکومت کی حقیقت اور اس کے ارکان
جن لوگوں نے حکومت کے سلسلہ میں مغربی تقسیم کو قبول کیا ھے اور معتقد ھیں کہ حکومت دو حال سے خالی نھیں ھے حکومت یا ڈکٹیٹری ھے یا ڈیموکراٹک اور جمھوریت ، اب یھاں یہ سوال ھوتا ھے کہ اسلامی حکومت ڈکٹیٹری حکومت ھے یعنی جو بھی حکومت پر ھو مختار ھے مثلا ًھمارے زمانہ میں ولی فقیہ اپنی طاقت و قدرت اور اسلحہ کے ذریعہ لوگوں پر حکومت کرتا ھے اور اپنی مرضی کے مطابق عمل کرتا ھے یا اسلامی حکومت کا کوئی نیا اندازھے ؟ یا اسلامی حکومت کی کوئی تیسری شکل ھے کہ نہ ڈکٹیٹری ھے اور نہ جمھوریت ؟
بھر حال حکومت کی دوگانہ تقسیم ایسی ھیں جن کو تمام لوگوں نے قبول کیا ھے لھٰذا اسلامی حکومت مذکورہ تقسیم سے خارج نھیں ھے یا یہ حکومت ڈکٹیٹری ھے یا جمھوری اگر اسلامی حکومت جمھوری ھے تو اسلامی حکومت کو یورپی حکومت میں پائے جانے والے طور طریقے اپنانا چاھئیں، اگر ایسا نھیں ھے تو پھر اسلامی حکومت ڈکٹیٹری حکومت ھوگی جو صرف خاص فرد کی مرضی پر تکیہ زن ھوتی ھے اور اس سلسلہ میں تیسر ے نظریہ کو انتخاب کرنے کی ضرورت نھیںھے،لھٰذا ضرورت ھے اس چیز کی کہ اس اھم سوال کا جواب دیں اور بیان کریں کہ اسلامی حکومت ڈکٹیٹری ھے یا جمھوری یا کوئی تیسری قسم انھیں سوالوں میں سے ایک سوال یہ بھی ھوتاھے کہ اسلامی حکومت کے مقدمات اور اس کے ارکان کیا ھیں ؟ وہ کون سے ارکان ھیں کہ جن پر حکومت اسلامی کو توجہ رکھنی چاھئے تاکہ واقعی طور پر حکومت اسلامی ھوسکے ؟ جو حضرات ھمارے مذھب اور فقہ کے بارے میں معلومات رکھتے ھیں ان کو معلوم ھے کہ اگر نماز کے ارکان میں کوئی ایک بھی رکن چھوٹ جائے چاھے عمداًطور پر چھوڑا جائے یا سھواً چھوٹ جائے اس کی نماز باطل ھوجائیگی در حقیقت ارکان نماز سے ھی نماز ھے اسی طرح اسلامی حکومت کے ارکان ھونا چاھئیے کہ اگر وہ ارکان موجود ھوں تو اس حکومت کو اسلامی حکومت کھا جائے گا اوراگر وہ ارکان نھیں ھیں یا اگر ان میںخلل (کمی و زیادتی ) پائی جائے تو اس کو حکومت اسلامی نھیں کھا جائے گا ۔
انھیں ارکان کی اھمیت کے پیش نظر جن پر اسلامی حکومت موقوف ھوتی ھے، ھم ان ارکان سے آگاہ ھونے کی خاطر ان کے بارے میں گفتگو کرنا ضروری سمجھتے ھیں، کیونکہ جب ھم ان ارکان کو پھچان لیں گے تو اسلامی حکومت کا معیار و ملاک ھمارے ھاتہ میں آجائے گا کہ جس کے ذریعہ سے ھم اسلامی اور غیر اسلامی حکومت کے فرق کو مکمل طریقہ سے پھچان لیں گے اسی وجہ سے اس اھم سوال کا جواب بھت ضروری ھے ۔
5۔اسلامی حکومت کا ڈھانچہ ، اس کے اختیارات اور وظایف کی وسعت
اس سلسلہ کا ایک دوسرا سوال یہ ھے کہ کیا اسلام نے حکومتِ اسلامی کی ایک خاص شکل وصورت معین کی ھے؟ جیساکہ آپ حضرات کو معلوم ھے کہ آج کی اس دنیا میں حکومت کے کیا ڈھانچے اور طور طریقے ھیں اور قدیم زمانے میں بھی حکومت کی شکل وصورت ھوتی تھی جو اس وقت نھیں ھے۔
موجودہ حکومتوں کی بعض قسمیں اس طرح ھیں:
1۔بادشاھی حکومت،مشروطہ ومطلق۔
2۔ جمھوری حکومت (ریاستی یا پارلیمینٹ کی حکومت)۔
3۔ الھٰی حکومت۔
کیا اسلام نے حکومت کی ان شکلوں میں سے کسی ایک کو قبول کیا ھے یا اسلام نے خود ایک خاص شکل معین کی ھے جو مذکورہ شکلوں سے فرق رکھتی ھے یا یہ کہ اسلام نے حکومت کے لئے کو ئی خاص طریقہ کو نھیں اپنایا ، اور فقط حکومت کے لئے چند معیار معین کئے ھیں جن کا ھر طرح کی حکومت میں لحاظ کرنا ضروری ھے؟ مثال کے طور پر اسلام کا حکم ھے کہ حکومت میں عدالت کا لحاظ رکھا جائے لیکن عدالت کا کس طرح لحاظ رکھا جائے؟ کیا عدالت زمان ومکان کے اعتبار سے لحاظ کی جائے؟ چنانچہ دنیا کے کسی بھی گوشہ میں کسی بھی وقت زمان ومکان کے اعتبار سے اس طرح کی عدالت لحاظ کیا جاسکتا اور اسلام نے ایک خاص شکل وصورت کی عدالت برتنے پر اصرار نھیں کیا ھے؟! اور اسلام کی نظر میں حکومت کی مناسب شکل اس کے معیار کی رعایت پر ھے ۔
اور اگر اسلام نے حکومت کے لئے کسی خاص شکل وصورت کا انتخاب کیا ھے تو کیا اسلام کی نظر میں اس حکومت کا ڈھانچہ ایک ثابت اور پائیدار ڈھانچہ ھے ؟ یا یہ کہ اس کا ڈھانچہ غیر پائیدار ھے کہ جس میں اکثر و بیشتر تبدیلی و تغیر ھوسکتی ھے ؟
اس طرح کے سوالات اسلامی حکومت کے ڈھانچے اور شکل وصورت کے بازے میں ھوتے رھتے ھیں اس لئے ضروری ھے کہ ان کے جوابات بھی دئے جائیں ۔ فلسفہٴ حکومت کے سلسلے میں ایک دوسرا سوال یہ ھوتا ھے کہ اسلامی حاکم اور رئیس چاھے وہ کوئی ایک فرد ھو یا ایک گروہ یا ایک مجلس وانجمن کی شکل میں ھو، یعنی اسلامی حکومت کے اختیارات کیا کیا ھیں ؟ اور اسی طرح حکومت کی ذمہ داریاں کیا کیا ھیں ؟ کیو نکہ گذشتہ زمانے اور عصر حاضر کی حکومتوں میں ذمہ داریوں کے لحاظ سے کافی فرق نظر آتا ھے بعض حکومتیں اختیارات اور وظایف کے لحاظ سے کافی محدود ھوتی ھیں مثلا ًیہ کہ بعض حکومتیں فقط لوگوں کی عام حفاظت کی ذمہ دارھوتی ھیں جو اھم ھوتے ھیں، اور اکثر کاموں میں خود لوگوں کی اپنی ذمہ داری ھوتی ھے لیکن بعض حکومتوں کے اختیارات بھت وسیع ھوتے ھیں جس کے نتیجہ میں اس کے وظایف اور ذمہ داریاں بھی وسیع ھوتی ھیں اس حکومت کی ذمہ داریاں بھت مھم اور خطر ناک ھوتی ھیں کہ جن کے بارے میں اسے جواب دہ ھونا ھوتا ھے اور ان ذمہ داریوں کو تمام لوگوں پر نھیں چھوڑا جاسکتا کیونکہ لوگوں کو حق ھے کہ وہ حکومت سے اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے سلسلے میں مطالبہ کریں ۔
اسی طرح یہ بھی روشن ھونا چاھیے کہ اسلام کے سیاسی فلسفہ کے تحت اسلامی حکومت نے کیا کیا اختیارات و ذمہ داریاں معین کی ھیں اور بلا شبہ یہ اختیارات و ذمہ داریاں مناسب اور متعادل ھونی چاھئیں، جن مقدمات پر کوئی کام موقوف ھو ان مقدمات کو فراھم نہ کرکے کسی کے سپرد کوئی ذمہ داری کی جائے تو یہ صحیح نھیں ھے ۔
بھر حال اسلامی حکومت کے اختیارات اور اس کی ذمہ داریاں کیاکیا ھیں ؟ اس اھم سوال کے بارے میں ھم گفتگو کریں گے۔
6۔ اسلامی حکومت میں لوگوں کا کردار اور چند دیگر سوالات آج کے انھیں اھم سوالوں میں ایک سوال یہ بھی ھے کہ حکومت اسلامی میں لوگوں کا کردار کیا ھے ؟
پھلی قسم ایسی حکومت جس میں حاکم اپنی مرضی سے حکومت کرتا ھے اور خود فرمان جاری کرتا ھے اور مختلف طریقوں سے اپنی حکومت کو چلاتا ھے اور اپنی فوجی طاقت کے ذریعہ لوگوں کو اپنی اطاعت پر مجبور کرتا ھے ۔
دوسری قسم ایسی حکومت جس میں لوگوں کی رائے دخالت رکھتی ھے اور لوگ اپنی مرضی سے اپنے حاکم کو چنتے ھیں اور حاکم بھی لوگوں کی خواھشات کے مطابق عمل کرنے کے پابند ھوتے ھیں یعنی ان کی حکومت لوگوں کے ارادے اور ان کی چاھت پر موقوف ھوتی ھے۔
3۔ اسلامی حکومت کی حقیقت اور اس کے ارکان
جن لوگوں نے حکومت کے سلسلہ میں مغربی تقسیم کو قبول کیا ھے اور معتقد ھیں کہ حکومت دو حال سے خالی نھیں ھے حکومت یا ڈکٹیٹری ھے یا ڈیموکراٹک اور جمھوریت ، اب یھاں یہ سوال ھوتا ھے کہ اسلامی حکومت ڈکٹیٹری حکومت ھے یعنی جو بھی حکومت پر ھو مختار ھے مثلا ًھمارے زمانہ میں ولی فقیہ اپنی طاقت و قدرت اور اسلحہ کے ذریعہ لوگوں پر حکومت کرتا ھے اور اپنی مرضی کے مطابق عمل کرتا ھے یا اسلامی حکومت کا کوئی نیا اندازھے ؟ یا اسلامی حکومت کی کوئی تیسری شکل ھے کہ نہ ڈکٹیٹری ھے اور نہ جمھوریت ؟
بھر حال حکومت کی دوگانہ تقسیم ایسی ھیں جن کو تمام لوگوں نے قبول کیا ھے لھٰذا اسلامی حکومت مذکورہ تقسیم سے خارج نھیں ھے یا یہ حکومت ڈکٹیٹری ھے یا جمھوری اگر اسلامی حکومت جمھوری ھے تو اسلامی حکومت کو یورپی حکومت میں پائے جانے والے طور طریقے اپنانا چاھئیں، اگر ایسا نھیں ھے تو پھر اسلامی حکومت ڈکٹیٹری حکومت ھوگی جو صرف خاص فرد کی مرضی پر تکیہ زن ھوتی ھے اور اس سلسلہ میں تیسر ے نظریہ کو انتخاب کرنے کی ضرورت نھیںھے،لھٰذا ضرورت ھے اس چیز کی کہ اس اھم سوال کا جواب دیں اور بیان کریں کہ اسلامی حکومت ڈکٹیٹری ھے یا جمھوری یا کوئی تیسری قسم انھیں سوالوں میں سے ایک سوال یہ بھی ھوتاھے کہ اسلامی حکومت کے مقدمات اور اس کے ارکان کیا ھیں ؟ وہ کون سے ارکان ھیں کہ جن پر حکومت اسلامی کو توجہ رکھنی چاھئے تاکہ واقعی طور پر حکومت اسلامی ھوسکے ؟ جو حضرات ھمارے مذھب اور فقہ کے بارے میں معلومات رکھتے ھیں ان کو معلوم ھے کہ اگر نماز کے ارکان میں کوئی ایک بھی رکن چھوٹ جائے چاھے عمداًطور پر چھوڑا جائے یا سھواً چھوٹ جائے اس کی نماز باطل ھوجائیگی در حقیقت ارکان نماز سے ھی نماز ھے اسی طرح اسلامی حکومت کے ارکان ھونا چاھئیے کہ اگر وہ ارکان موجود ھوں تو اس حکومت کو اسلامی حکومت کھا جائے گا اوراگر وہ ارکان نھیں ھیں یا اگر ان میںخلل (کمی و زیادتی ) پائی جائے تو اس کو حکومت اسلامی نھیں کھا جائے گا ۔
انھیں ارکان کی اھمیت کے پیش نظر جن پر اسلامی حکومت موقوف ھوتی ھے، ھم ان ارکان سے آگاہ ھونے کی خاطر ان کے بارے میں گفتگو کرنا ضروری سمجھتے ھیں، کیونکہ جب ھم ان ارکان کو پھچان لیں گے تو اسلامی حکومت کا معیار و ملاک ھمارے ھاتہ میں آجائے گا کہ جس کے ذریعہ سے ھم اسلامی اور غیر اسلامی حکومت کے فرق کو مکمل طریقہ سے پھچان لیں گے اسی وجہ سے اس اھم سوال کا جواب بھت ضروری ھے ۔
5۔اسلامی حکومت کا ڈھانچہ ، اس کے اختیارات اور وظایف کی وسعت
اس سلسلہ کا ایک دوسرا سوال یہ ھے کہ کیا اسلام نے حکومتِ اسلامی کی ایک خاص شکل وصورت معین کی ھے؟ جیساکہ آپ حضرات کو معلوم ھے کہ آج کی اس دنیا میں حکومت کے کیا ڈھانچے اور طور طریقے ھیں اور قدیم زمانے میں بھی حکومت کی شکل وصورت ھوتی تھی جو اس وقت نھیں ھے۔
موجودہ حکومتوں کی بعض قسمیں اس طرح ھیں:
1۔بادشاھی حکومت،مشروطہ ومطلق۔
2۔ جمھوری حکومت (ریاستی یا پارلیمینٹ کی حکومت)۔
3۔ الھٰی حکومت۔
کیا اسلام نے حکومت کی ان شکلوں میں سے کسی ایک کو قبول کیا ھے یا اسلام نے خود ایک خاص شکل معین کی ھے جو مذکورہ شکلوں سے فرق رکھتی ھے یا یہ کہ اسلام نے حکومت کے لئے کو ئی خاص طریقہ کو نھیں اپنایا ، اور فقط حکومت کے لئے چند معیار معین کئے ھیں جن کا ھر طرح کی حکومت میں لحاظ کرنا ضروری ھے؟ مثال کے طور پر اسلام کا حکم ھے کہ حکومت میں عدالت کا لحاظ رکھا جائے لیکن عدالت کا کس طرح لحاظ رکھا جائے؟ کیا عدالت زمان ومکان کے اعتبار سے لحاظ کی جائے؟ چنانچہ دنیا کے کسی بھی گوشہ میں کسی بھی وقت زمان ومکان کے اعتبار سے اس طرح کی عدالت لحاظ کیا جاسکتا اور اسلام نے ایک خاص شکل وصورت کی عدالت برتنے پر اصرار نھیں کیا ھے؟! اور اسلام کی نظر میں حکومت کی مناسب شکل اس کے معیار کی رعایت پر ھے ۔
اور اگر اسلام نے حکومت کے لئے کسی خاص شکل وصورت کا انتخاب کیا ھے تو کیا اسلام کی نظر میں اس حکومت کا ڈھانچہ ایک ثابت اور پائیدار ڈھانچہ ھے ؟ یا یہ کہ اس کا ڈھانچہ غیر پائیدار ھے کہ جس میں اکثر و بیشتر تبدیلی و تغیر ھوسکتی ھے ؟
اس طرح کے سوالات اسلامی حکومت کے ڈھانچے اور شکل وصورت کے بازے میں ھوتے رھتے ھیں اس لئے ضروری ھے کہ ان کے جوابات بھی دئے جائیں ۔ فلسفہٴ حکومت کے سلسلے میں ایک دوسرا سوال یہ ھوتا ھے کہ اسلامی حاکم اور رئیس چاھے وہ کوئی ایک فرد ھو یا ایک گروہ یا ایک مجلس وانجمن کی شکل میں ھو، یعنی اسلامی حکومت کے اختیارات کیا کیا ھیں ؟ اور اسی طرح حکومت کی ذمہ داریاں کیا کیا ھیں ؟ کیو نکہ گذشتہ زمانے اور عصر حاضر کی حکومتوں میں ذمہ داریوں کے لحاظ سے کافی فرق نظر آتا ھے بعض حکومتیں اختیارات اور وظایف کے لحاظ سے کافی محدود ھوتی ھیں مثلا ًیہ کہ بعض حکومتیں فقط لوگوں کی عام حفاظت کی ذمہ دارھوتی ھیں جو اھم ھوتے ھیں، اور اکثر کاموں میں خود لوگوں کی اپنی ذمہ داری ھوتی ھے لیکن بعض حکومتوں کے اختیارات بھت وسیع ھوتے ھیں جس کے نتیجہ میں اس کے وظایف اور ذمہ داریاں بھی وسیع ھوتی ھیں اس حکومت کی ذمہ داریاں بھت مھم اور خطر ناک ھوتی ھیں کہ جن کے بارے میں اسے جواب دہ ھونا ھوتا ھے اور ان ذمہ داریوں کو تمام لوگوں پر نھیں چھوڑا جاسکتا کیونکہ لوگوں کو حق ھے کہ وہ حکومت سے اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے سلسلے میں مطالبہ کریں ۔
اسی طرح یہ بھی روشن ھونا چاھیے کہ اسلام کے سیاسی فلسفہ کے تحت اسلامی حکومت نے کیا کیا اختیارات و ذمہ داریاں معین کی ھیں اور بلا شبہ یہ اختیارات و ذمہ داریاں مناسب اور متعادل ھونی چاھئیں، جن مقدمات پر کوئی کام موقوف ھو ان مقدمات کو فراھم نہ کرکے کسی کے سپرد کوئی ذمہ داری کی جائے تو یہ صحیح نھیں ھے ۔
بھر حال اسلامی حکومت کے اختیارات اور اس کی ذمہ داریاں کیاکیا ھیں ؟ اس اھم سوال کے بارے میں ھم گفتگو کریں گے۔
6۔ اسلامی حکومت میں لوگوں کا کردار اور چند دیگر سوالات آج کے انھیں اھم سوالوں میں ایک سوال یہ بھی ھے کہ حکومت اسلامی میں لوگوں کا کردار کیا ھے ؟
لوگوں کے اختیارات اور ان کی ذمہ داریاں کیا کیا ھیں؟انھیں سوالوں میں ایک سوال یہ بھی ھے کہ صدر اسلام میں حضرت رسول خدا ، حضرت علی علیہ السلام اور حضرت امام حسن علیہ السلام کی حکومتوں کی کیاشکل تھیں؟ اسی طرح بنی امیہ و بنی عباس وغیرہ کی حکومتیں کس حد تک اسلامی تھیں؟
اور جس وقت ھم اسلامی حکومت کی گفتگو کرتے ھیں تو اس سے مراد مذکورہ حکومتوں سے کون سی حکومت مراد ھوتی ھے؟ اور تاریخ میں اسلامی حکومت کی تشکیل کس طرح ھوتی آئی ھے کہ نتیجةً اسلامی حکومت کی یہ شکل اسلامی انقلاب کے ذریعہ ایران میں بھی وجود میں آئی؟
البتہ مذکورہ سوالات کے ضمن میں دوسرے جزئی سوال بھی ھوتے ھیں منجملہ یہ سوال کہ کیا ھماری یہ حکومت سو فی صد اسلامی حکومت ھے؟ اور کیا اس میں اسلامی حکومت کے تمام معیار و ضوابط موجود ھیں؟ اور اگر اس میں وہ تمام معیار وضوابط موجود ھیں تو کیا اس حکومت نے ان کی رعایت کی ھے؟ اسی طرح یہ سوال کہ اس حکومت میں کیا کیا نقص ھیں؟
7۔ اسلام کے سیاسی نظریہ کو پھچاننے کے طریقے
قبل اس کے کہ ھم مذکورہ سوالات اور شبھات کا جواب دیں اور فلسفہ سیاسی اسلام میں وارد ھوں اس چیز کی ضرورت محسوس کرتے ھیں اس روش وطریقے کو پھلے بیان کردیں جس کو مذکورہ بحث کی تحقیق اور بر رسی میں اپنائیں گے اس بحث کی متدلوژی ( طوروطریقہ) کیا ھے ، بھر حال یہ ایک مقدماتی بحث ھے کہ جس کو شروع میں بیان کردینا چاھئے، کیا یہ ھماری بحث کا طریقہ اور عقلی روش ھے؟یعنی کیا ھم عقلی دلیلوں کے ذریعہ اسلام کے نظریات کو بیان کریں گے ؟ یا ھماری روش اور شیوہ بحث تعبدی اور نقلی ھوگا یعنی قرآن وسنت کے تابع ھے؟ گویا اس حکومت کے اصول وضوابط قرآن وروایات سے اخذ کئیے جائیں گے؟
یا یہ کہ اسلامی سیاست ایک تجربہ کی طرح ھے؟ کہ جس کے درست اور غیر درست ھونے کو تجربہ ھی ثابت کرسکتا ھے؟ اس صورت میں ھماری گفتگو کا شیوہ تجربہ ھوگا اور فیصلہ کرنے کا معیار بھی تجربہ ھوگا ۔
بھر حال چونکہ ھماری بحث عقلانی پھلو رکھتی ھے اسی وجہ سے اس نکتہ کی طرف اشارہ کرنا ضروری ھے کہ عقلی بحث کی کم از کم دو قسمیں ھیں:
(1) جَدَلی طریقہ ۔
(2) برھانی اور دلائل کا طریقہ ۔
(2) برھانی اور دلائل کا طریقہ ۔
جس وقت ھم کسی گفتگو کو شروع کرتے ھیں اور عقلی لحاظ سے کسی ایک موضوع کی تحقیق کرتے ھیں تو کبھی ایسے اصول ومقدمات سے بحث کرکے مجھول نتیجہ تک پھنچتے ھیں کہ جن مقدمات اور اصول کوھم اور ھمارا مخالف قبول کرتا ھے اس کے مقابلہ میں وہ برھانی راہ وروش ھے کہ جس میں تمام مقدمات بھی مورد بحث قرار پاتے ھیں گویا بحث خودقضایا اولیہ ویقینیات وبدیھیات سے ھوتی ھے تاکہ ان کے ذریعہ ھمارا استدلال اور برھان یقینی اور قطعی قرار پائے، اور ظاھر ھے اگر ھم اس راستہ کو اختیار کریں تو بحث طولانی ھوجائے گی۔
مثال کے طور پر اگر ھم برھان کے ذریعہ ثابت کرنا چاھیں کہ حکومت اسلامی میں عدل وانصاف رعایت ھونا چاھئے تو سب سے پھلے ھمیں عدل کے مفھوم اور معنی کو واضح کرنا ھوگا اور اس کے بعد اس سوال کا جواب دیں کہ عدالت کا کس طرح لحاظ رکھا جائے؟ اسی طرح یہ سوال کہ عدالت اور آزادی ایک جگہ جمع ھوسکتی ھیں یا نھیں نیز اسی طرح یہ سوال کہ عدالت کے معیار کو کون معین کرے؟کیا عدالت کے معیار کو خدا وندعالم معین کرے یا عقل؟
مذکورہ سوالات کے حل ھونے کے بعد یہ سوال ھوتاھے کہ اس سلسلہ میں عقل کس حد تک فیصلہ کرنے کا حق رکھتی ھے؟ کیا عقل کی قضاوت ایک خاص مقدار میں ھے یا مطلق طور پر اس طرح یہ بحث طول پکڑجاتی ھے یھاں تک کہ اصول اولیہ اور مسائل معرفت شناسی کے بارے میں مورد سوال قرار پاتے ھیں بھرحال ان کو بھی واضح وروشن ھونا چاھئیے، خلاصہ یہ عقل کیا ھے؟ اور اس کی دلالت کس طرح کی ھے؟ عقل کس طرح استدلال کرتی ھے؟ اور عقل کا اعتبار اور اس کا حکم کس حد تک قابل قبول ھے؟ اور ظاھر ھے کہ اگر ھم اس طرح کے مسائل پر تحقیق کریں تو مختلف علوم سے بحث کرنی پڑے گی ، جو ایک طولانی مدت چاھتی ھے جو مفقود ھے۔
بھر حال برھانی بحث کرنا اپنی جگہ مقدس اور محترم ھے لیکن جیسا کہ ھم نے اس سے پھلے بھی اشارہ کیا کہ برھانی و استدلالی بحث کرنے کے لئے بھت سے علوم کا سھارا لینا پڑتا ھے اور بھت کم افراد ھی ان علوم میں مھارت رکھتے ھیں اور علم کے ماھر انسان اس کے محدود مسائل تک ھی رسائی رکھتے ھیں خلاصہ یہ کہ یہ کام کافی مشکل ھے اور اس طرح کے مسائل کو واقعاً حل کرنے ایک طویل مدت درکار ھے ھم بھی اپنی گفتگو میں اگر اسی برھانی راستہ کو اپنائیں اور الگ الگ مسائل سے بحث کرکے بدیھی اصول اور مبنا تک پھنچیں تو ھمارے پاس وقت بھت کم ھے،لھٰذا اپنی بحث کو منزل مقصود تک نھیں پھچا سکتے، اسی وجہ سے جھاں برھانی بحث سادہ اور غیر پیچیدہ ھے وھاں برھانی اور استدلالی بحث کریںگے اور اس کے علاوہ تمام موارد میں جدلی بحث کریں گے کیونکہ جدلی بحث کا مناسب ترین طریقہ ھے۔
در حقیقت یہ ھدف اور نتیجہ تک پھنچنے کے لئے یہ راستہ درمیانی راستہ ھے ،یعنی یہ راستہ دوسروں کو قانع کرنے کے لئے عام راستہ ھے ، خداوند عالم نے قرآن مجید میں بارھا دشمن کو قانع کرنے کے لئے اور اپنی طرف سے اتمام حجت کے لئے اس کو بیان کیا ھے ، اور ھمیں بھی حکم دیا ھے کہ ھم بھی اس راستہ کو اپنائیں او ردوسروں سے اسی کے ذریعہ بحث اور گفتگوکریں،ارشاد باری تعالیٰ ھوتا ھے :
( اٴُدْعُ إِلیٰ سَبِیْلِ رَبِّکَ بِالْحِکْمَةِ وَالْمَوٴعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْھمْ
بِالَّتِی ھیَ اٴَحْسَن۔۔۔) (1)
”حکمت اور موعظہ حسنہ کے ذریعہ اپنے پروردگار کی طرف دعوت دو، اور ان کے ساتھ اچھے طریقہ سے بحث وجدل کرو۔“
حوالہ
1- سورہٴ نحل آیت 125
اقتباس از اسلام اور سیاست جلد(۱)از قلم آیۃ اللہ مصباح یزدی مد ظلہ العالی
0 comments:
Post a Comment