بے شک ھمارے اسلامی نظام اور انقلاب کے ثمرات میں سے ایک نماز جمعہ بھی ھے جس کے امت اسلامی کے لئے بھت سے فوائد ھیں مثلاً جس کا ایک ضمنی فائدہ مومنین کو ضروری چیزوں سے آگاہ کرنا ھے ، نماز جمعہ کے خطبوں سے قبل یا نماز جمعہ اور نماز عصر کے درمیان تقاریر کا سلسلہ لوگوں کے لئے بھت مفید ھے ، چنانچہ شروع انقلاب سے آج تک مختلف اساتید دانشمندان اور خطباء کے ذریعہ مختلف موضوعات منجملہ اعتقادی ‘تربیتی ‘ اقتصادی‘ وغیرہ جیسے عظیم اور مھم مسائل پرنماز جمعہ پڑھنے والوں کے درمیان یہ گفتگو ھوتی رھی ھے اور ریڈیو وغیرہ کے ذریعہ بھی دوسرے لوگوں تک یہ آواز پھونچتی رھی ھے۔
ھم نے بھی ”اعتقادی نظام اور ارزش اسلام میں توحید کی اھمیت“ کے موضوع پر تقریریں کیں ھیں، جو الحمد للہ چھپ کر قارئین کرام تک پھونچ چکی ھیں، فی الحال بعض احباب اور دوستوں کی فرمایش اور ان کے اصرار پر” اسلام کے سیاسی نظریات “ کے عنوان کے تحت چند جلسہ آپ کی خدمت میں پیش کرتے ھیںاور امیدوار ھیں کہ خداوند عالم اس سلسلہ میں ھماری مدد فرمائے، او رجو بھی اس کی مرضی ھو اور امت اسلام کے لئے مفید ھو وہ ھمیں الھام کرے ، او ر ھماری زبان پر جاری کرے ، تاکہ شھید پرور اور حزب اللٰھی امت تک ھم اس کو پھونچا سکیں ، ھماری اس بحث کا عنوان بھت وسیع ھے ، اس کے اندر مختلف موضوعات کی بحثیں کی جاسکتی ھیںچاھے وہ عمیق ھوں یا سادی اور رواں۔
ھم نے بھی ”اعتقادی نظام اور ارزش اسلام میں توحید کی اھمیت“ کے موضوع پر تقریریں کیں ھیں، جو الحمد للہ چھپ کر قارئین کرام تک پھونچ چکی ھیں، فی الحال بعض احباب اور دوستوں کی فرمایش اور ان کے اصرار پر” اسلام کے سیاسی نظریات “ کے عنوان کے تحت چند جلسہ آپ کی خدمت میں پیش کرتے ھیںاور امیدوار ھیں کہ خداوند عالم اس سلسلہ میں ھماری مدد فرمائے، او رجو بھی اس کی مرضی ھو اور امت اسلام کے لئے مفید ھو وہ ھمیں الھام کرے ، او ر ھماری زبان پر جاری کرے ، تاکہ شھید پرور اور حزب اللٰھی امت تک ھم اس کو پھونچا سکیں ، ھماری اس بحث کا عنوان بھت وسیع ھے ، اس کے اندر مختلف موضوعات کی بحثیں کی جاسکتی ھیںچاھے وہ عمیق ھوں یا سادی اور رواں۔
1- مقدمہ
بے شک ھمارے اسلامی نظام اور انقلاب کے ثمرات میں سے ایک نماز جمعہ بھی ھے جس کے امت اسلامی کے لئے بھت سے فوائد ھیں مثلاً جس کا ایک ضمنی فائدہ مومنین کو ضروری چیزوں سے آگاہ کرنا ھے ، نماز جمعہ کے خطبوں سے قبل یا نماز جمعہ اور نماز عصر کے درمیان تقاریر کا سلسلہ لوگوں کے لئے بھت مفید ھے ، چنانچہ شروع انقلاب سے آج تک مختلف اساتید دانشمندان اور خطباء کے ذریعہ مختلف موضوعات منجملہ اعتقادی ‘تربیتی ‘ اقتصادی‘ وغیرہ جیسے عظیم اور مھم مسائل پرنماز جمعہ پڑھنے والوں کے درمیان یہ گفتگو ھوتی رھی ھے اور ریڈیو وغیرہ کے ذریعہ بھی دوسرے لوگوں تک یہ آواز پھونچتی رھی ھے۔ھم نے بھی ”اعتقادی نظام اور ارزش اسلام میں توحید کی اھمیت“ کے موضوع پر تقریریں کیں ھیں، جو الحمد للہ چھپ کر قارئین کرام تک پھونچ چکی ھیں، فی الحال بعض احباب اور دوستوں کی فرمایش اور ان کے اصرار پر” اسلام کے سیاسی نظریات “ کے عنوان کے تحت چند جلسہ آپ کی خدمت میں پیش کرتے ھیںاور امیدوار ھیں کہ خداوند عالم اس سلسلہ میں ھماری مدد فرمائے، او رجو بھی اس کی مرضی ھو اور امت اسلام کے لئے مفید ھو وہ ھمیں الھام کرے ، او ر ھماری زبان پر جاری کرے ، تاکہ شھید پرور اور حزب اللٰھی امت تک ھم اس کو پھونچا سکیں ، ھماری اس بحث کا عنوان بھت وسیع ھے ، اس کے اندر مختلف موضوعات کی بحثیں کی جاسکتی ھیںچاھے وہ عمیق ھوں یا سادی اور رواں۔
اگرچہ اس سلسلہ میں امام خمینی کی تحریک کے آغاز (یعنی1341ھجری شمشی )سے لے کر آج تک بھت سی گفتگو ھوتی رھی ھے اور مضامین و کتابیں بھی لکھی گئی ھیں، اس طرح بھت سی تقاریر بھی ھوتی رھیں ھیں ، لیکن معاشرہ کے متوسط فھم لوگوں کے لئے بھت ھی کم اس طرح کے منظم مطالب بیان کئے گئے ھیں ، بھرحال احباب کا اصرا ر تھا کہ ان مطالب کو اس ترتیب سے بیان کیا جائے تاکہ سبھی لوگ اس سے استفادہ کرسکیں ،اور مختلف لوگوں کی خصوصا جوان طبقہ کی ضرورت کو پورا کرسکے ، الحمد للہ ھماری قوم تمدن کے لحاظ سے بھت عمدہ ھے ، خصوصاً آخری چند سالوں میں ھمارے معاشرے اور ماحول نے بھت زیادہ ترقی کی ھے ، اور بھت سے دقیق و عمیق مسائل کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ھیں ، بھر حال علمی او ر ادبی زبان ، علمی مراکز ( یونیورسٹی اور حوزات علمیہ )سے مخصوص ھے ، اور اگر عوام کے لئے گفتگو کرنا ھو تی ھے تو حتی المقدور علمی اصطلاحات نھیں ھونی چاھیئے تاکہ اکثر لوگ (چونکہ مطالعہ نھیں ھے ) ان ابحاث سے فائدہ اٹھا سکیں ، البتہ اس بات کی توجہ رکھنی چاھیے کہ اسلام کے سیاسی فلسفہ کے تحت جو گفتگو کی جائے گی اتنی مفصل بحث ھے جس کو 1۰۰ جلسوں میں بھی بیان کرنا مشکل کام ھے ، اس وجہ سے ھم اپنے وقت اور جلسات کی محدودیت کی بنا پر کچھ منتخب مسائل کو چھیڑیں گے ، او ر جن مسائل کی زیادہ ضرورھے، اور جن کے سلسلہ میں سوالات اور شبھات کئے جاتے ھیں ،ان کے بارے میں بحث کریں گے۔
یہ توجہ رھے کہ ھمارا موضوع بنام”اسلام کا سیاسی فلسفہ “ تین کلموں سے مرکب ھے جس کے ھر ایک کلمہ کے لئے مفصل بحث درکار ھے اور سیاسی فلسفہ کی متعدداصطلاح ھیں (مثلاًعلم سیاست کا فلسفہ وعلم سیاست کے مقابل میں فلسفہ ٴ سیاسی) لیکن فلسفہ سیاسی سے ھماری یھاں مراد حکومت و سیاست کے بارے میں اسلامی نظریات کی توضیح وتفسیر ھے جو خاص اصولوں پر قائم ھے ، اور اسلامی حکومت کے سیاسی افکار بھی انھیں اصولوں کی بنیاد پرقابل وضاحت ھیں ۔
2-اسلام اور اس کا سیاسی نظریہ
جس وقت ھم یہ بحث کرتے ھیں کہ اسلام ”سیاست اور حکومت“ کے سلسلہ میں ایک خاص نظریہ رکھتا ھے ، جواسلامی اصول و ضوابط پر مبتنی ھے توسب سے پھلے یہ سوال ھوتاھے کہ کیا دین سیاست و حکومت کے بارے میں کوئی خاص نظریہ رکھتا ھے تاکہ اسلام اس سیاسی نظریہ کو بیان کرے ؟ یہ ایک ایسا مشھور سوال ھے جو صدیوں سے مختلف ممالک اور مختلف معاشرہ میں ھوتا آیا ھے ، ھمارے ملک میں بھی یہ سوال مورد بحث چلا آیا ھے خصوصا مشروطیت کے زمانے سے آج تک اس سوال پر کافی زور دیا گیا ھے ،اور اس سلسلہ میں مختلف طریقوں سے بحث بھی ھوچکی ھے ،البتہ امام خمینی ۻ کے بیانات کے پیش نظر اور مرحوم شھید مدرس کے مشھور و معروف جملہ کہ ”ھمارا دین عین سیاست اور ھماری سیاست عین دین ھے“ جس نے ھمارے ذھن میں نقش بنا لیا ھے ، اور یہ مسئلہ ھم لوگوں کے لئے واضح اور روشن ھوچکا ھے، اور ھم اپنے لئے اس سوال کا واضح جواب رکھتے ھیں ، لیکن اسلام کے سیاسی نظریہ اور دین کی سیاست میں دخالت جیسے مسائل پر تحقیق اور بررسی کی ضرورت ھے ۔
مغربی تمدن میں دین کو جامعیت نھیں دی گئی ھے اور اس کو محدود کرکے پیش کیا گیا ھے کہ دین کا تعلق اجتماعی وسیاسی مسائل سے نھیں ھے ، فقط دین کے اندر انسان کا خدا سے رابطہ ھونا چاھئے اور فرد کا رابطہ خدا سے کیا ھے اس اس چیز کو دین کے اندر مغربی تمدن کے نزدیک بیان کیا جاتا ھے، لھٰذا سیاسی، اجتماعی ، بین الاقوامی، حکومت اور لوگوں کے درمیان روابط اور حکومتوں کے آپسی روابط یہ سب انسان اور خدا کے رابطہ سے جداگانہ چیزیں ھیں، یعنی ان کا دین سے کوئی ربط نھیں ھے، لیکن اسلامی نقطہ نگاہ سے دین ایک وسیع مفھوم رکھتا ھے کہ جس کے اندر انسان کے فردی مسائل اجتماعی مسائل شامل ھیں اور اس کے اندر انسان کا خدا سے رابطہ اور انسان کا آپس میں رابطہ اور دیگر سیاسی، اجتماعی اور بین الاقوامی روابط بھی شامل ھیں یعنی دین کے اندر یہ ساری باتیں پائی جاتی ھیں، کیونکہ اسلام کے اعتبار سے خداوندعالم تمام دنیا پر حاکم ھے لھٰذا سیاست، اقتصاد (معاش) تعلیم وتربیت، مدیریت ارو وہ تمام مسائل جو انسانی زندگی سے متعلق ھیں وہ سب دینی احکام میں شامل ھیں۔
3-اسلامی سیاسی نظریہ کا بنیادی ھونا
اب جبکہ ھم نے قبول کرلیا کہ اسلام حکومت اور سیاست کے سلسلے میں اپنا ایک نظریہ رکھتا ھے ، اور حکومت و سیاست کے بارے میں اسلام کی طرف ایک خاص نظریہ کی نسبت دی جاسکتی ھے ،اس نظریہ کی ماھیت و کیفیت کے بارے میں چند سوال پیدا ھوتے ھیں۔
کیا اسلام کا سیاسی نظریہ ایک بنیادی نظریہ ھے یا کسی نظریہ کی تقلید ھے ؟یعنی کیا اسلام نے یہ نظریہ اختراع اور ایجاد کیا ھے اور خدا کے نازل شدہ تمام احکام تعبدی کی طرح اس نظریہ کو پیش کیا ھے یا یہ کہ اسلام نے کسی ایک نظریہ کو لے کر اس کی تائید کرکے پیش کیا ھے؟ اس سوال کے جواب میں ھم یہ عرض کرتے ھیں کہ اسلام نے بھت سے مسائل میں سیرت عقلاء کی تائید کی ھے ، جسے اصطلاحاً اسلام میں ”امضاء روش عقلاء“ کھا جاتا ھے، مثال کے طور پر عام انسان جس طرح کے معاملات کرتے ھیں مثلا خرید وفروخت ،کرایہ ،بیمہ وغیرہ ان کو سیرت عقلائی کے نام سے یاد کیا جاتا ھے ، کہ لوگوں نے ان کو ایجاد کیا ھے اور شارع مقدس نے ان کی تائید فرمائی ھے ۔
اب سوال یہ پیدا ھوتا ھے کہ کیا حکومت ا ور سیاست کے سلسلہ میں اسلام کا نظریہ اسی طرح ھے کہ عقلاء نے کچھ حکومت و سیاست کے بارے میں نظریہ قائم کیئے اور ان کو قبول کیا ، اور شارع مقدس نے بھی ان نظریات کی تائید کرنے کے بعد قبول کرلیا ھے؟ یا یہ کہ خود اسلام نے اس سلسلے میں اپنا ایک خاص اور اختراعی نظریہ پیش کیا ھے ؟ اور دنیا کے تمام نظریات کے مقابلے میں ا سلامی حکومت کے بارے میں پیش کیا ھے ؟ حقیقت یہ ھے کہ اسلام نے حکومت اور سیاست کے بارے میں سیاسی و اجتماعی زندگی کے لئے بنیادی و اختراعی اصولوں پر مشتمل ایک مجموعہ پیش کیاھے ، نہ یہ کہ اسلام کے نظریات تقلید ی اور تائیدی ھیںجو حضرات حکومت کے مختلف اشکالات اور سیاسی فلسفہ سے آگاھی رکھتے ھیں وہ جانتے ھیں کہ اس سلسلے میں مختلف نظریات موجود ھیں جن میں سے ایک نظریہ ” تئوکراسی“ (الھٰی حکومت ) بھی ھے یہ نظریہ عیسوی صدی کے وسط میں یعنی تقریباً ایک ھزار سال پھلے یورپ میں کلیسا (عیسائی کی عبادتگاہ) کی طرف سے پیش کیا گیا مخصوصاً کیتھولک عیسائیوں کے کلیسا کا کھنا یہ تھا کہ ھم لوگ خدا کی طرف سے لوگوں پر حاکم ھیں ، اس کے مقابلہ میں عیسائیوں کا دوسرا فرقہ یہ کھتا ھے تھا کہ حضرت عیسی مسیح (ع) کا دین سیاست سے جدا ھے ، یعنی دین اور سیاست میں کوئی ربط نھیں ھے۔
بھر حال دوسرے فرقے کا اعتقاد یہ تھا کہ پاپ کو حکومت کا حق ھے، اور خدا کی طرف سے کلیسا کو ایسا صاحب اقتدار ھونا چاھئے جو لوگوں پر خدا کی طرف سے حکومت کر سکے ، اور لوگوں کو بھی خدا کے حکم سے پاپ کی اطاعت کرنا چاھئے اس نظریہ کو تئو لوکراسی حکومت نام دیا گیا ۔
جب یہ کھاجاتا ھے کہ اسلام عام لوگوں کی ایجاد شدہ حکومت کے علاوہ اپنے خاص نظریہ کے تحت اسلامی اور الھٰی حکومت کوپیش کرتاھے تو کیا اس سے یھی تئوکراسی حکومت مراد ھوتی ھے جسے مغرب اور یورپ میں سمجھا جاتاھے اور الٰھی حکومت ان کے تمدن میں اسی معنی میں پھچانی جاتی ھے ؟ اور جس طرح تئوکراسی حکومت میں خدا وند عالم نے حاکم کو وسیع پیمانے پر اختیار ات دیئے ھیں اور وہ اپنی مرضی کے مطابق لوگوں پر حکومت کرسکتا ھے اور لوگوں پربھی واجب ھے کہ اس حاکم کی مرضی کے مطابق عمل کریں ؟کیا حکومت الھٰی و ولایی کے مطابق بھی جس کا ھم دعوی کرتے ھیں اور اسلام کے ولایت فقیہ کے نظریہ کے تحت کیا ولی فقیہ اپنی مرضی کے مطابق لوگوں پر حکومت کا حق رکھتا ھے اور کیا اس کو یہ بھی حق ھے کہ جس طرح وہ چاھے قوانین بنا کر ان کے ذریعہ لوگوں پر حکومت کرے ، اور لوگوں پر بھی اس کی اطاعت واجب ھے ؟
یہ سوال بھت اھم ھے اور ضروری ھے کہ اس سلسلے میں ایک مناسب بحث اور تحلیل کی ضرورت ھے تاکہ اس سلسلہ میں جو غلط فھمی پائی جاتی ھے وہ دور ھوجائے ۔
مذکورہ سوال کے جواب کا خلاصہ یہ ھے کہ جس الھی حکومت کے ھم معتقد ھیںاور وہ تئوکراسی حکومت (جو مغرب اور یورپ میں معروف ھے ) زمین تا آسمان فرق رکھتی ھے ، یہ غلط فھمی نھیں ھونی چاھئے کہ الھی حکومت اسلام کی نظرمیں وھی حکومت ھے کہ جس کے عیسائی خصوصا ًفرقہ کیتھولک خدا اور پاپ بارے میں قائل ھیں۔
اقتباس از اسلام اور سیاست جلد(۱)از قلم آیۃ اللہ مصباح یزدی مد ظلہ العالی
0 comments:
Post a Comment