فيسبوک گروپ

12/26/2010

غریب القرآن

غریب ،مشکل اور امثالِ قرآن جیسے الفاظ سے مراد وہ اصطلاحات نہیں ہیں کہ جن سے عام طور پر غیر مانوس لغات مراد لی جاتی ہیں قرآن میں ناموس لغات اور غیر مصطلح الفاظ استعمال نہیں ہوئے ہیں کیونکہ ایسے الفاظ کا استعمال اعجاز قرآن کے بلاغت کے پہلو سے مغایرت رکھتاہے ۔
بلکہ غریب سے مُراد مشکل لغات ہیں یا وہ لغات اور تراکیب جو مختلف افراد اپنی معلومات اور ذہنی سطح کے مطابق تعبیر کرتے ہیں علوم قرآن کے علماء نے مشابہ آیات اور الفاظ کے تقابل اور روایات کی مدد سے الفاظ قرآن کے حقیق معنی کو بیان کرنے کو کوشش کی ہے تا کہ ہر کوئی اپنے سلیقہ کے مطابق خاص معنی استنباط نہ کرے اور الفاظ قرآن کے حقیقی معانی سے جو فہم آیا ت کے لئے مقدمہ ہے سے رو گردانی نہ کرے ۔
قرآن میں مختلف قبائل کے لہجے اور لغات موجود ہیں اور تمام قبائل الفاظ سے یکساں استفادہ نہیں اٹھاتے اور یہ بات مسّلم ہے کہ ہر لغت کا ماہر اپنی اصطلاح کو دوسروں سے صحیح تر استعمال کرتا ہے بنا بریں ایک قبیلہ کی لغت دوسرے قبیلہ کے لئے غریب اور غیرمانوس تصور ہو گی۔
غریب القرآن کی تدوین:
کتب تفسیر کی تدوین سے پہلے مفردات اور لغات قرآن پر توجہ دی جاتی تھی اور قرآن کے الفاظ مغردہ کے معانی کا فہم و ادراک حاصل کیا جاتا تھا ۔
بعض نے قرآن کی معجم لغوی کی تدوین کو فکری لحاظ سے کُتب تفسیر کی تدوین پر مقدم قرار دیا ہے لیکن راقم معتقد ہے کہ غریب القرآن کی تدوین تفسیر کے ساتھ ہی انجام پائی ہے بشرطیکہ جس کوابن عباس (متوفی ۶۸ ہجری ) کی طرف نسبت دی جارہی ہے وہ ابن عباس کو (جیسا کہ محمد حسین ذہبی اورفواد سرکیں ہمارے ساتھ ہم عقیدہ ہیں تفسیر ابن عباس کاایک نسخہ دوسری عالمی جنگ سے قبل برلین میں موجود تھا ۔
ہم گول زہیر اور احمد امین کے قول کو جو اکثر ابن عباس کی جانب سے منسوب روایات کو غلط قرار دیتا تھا رد کرتے ہیں ۔
ابن عباس علوم قرآن کے مختلف ابواب میں صاحبِ نظر تھا غریب القرآن ،لغات فی القرآن ،لغت القرآن اور تفسیر اسکی کتب میں شامل ہیں ۔
سیوطی ابن عباس سے جو نقل کرتے ہیں اس کے مطابق ہمارا یہ دعٰوی ثابت ہو جاتا ہے کہ تفسیر ابن عباس نے تفسیر اور غریب القرآن ایک ہی زمانے میں تدوین کی تھی ابن عباس سے جس چیز کی نسبت دی جاتی ہے اگر اس سے صرفِ نظر کریں تو بلا شک و تردید ابوسعید ابان بن تغلب بن ریاح بکری (متوفی ۱۴۱ہجری ) کی طرف ہماری نظر اٹھتی ہے (مذکورہ شخصّیت امام سجاد،امام باقراور امام صادق کے عظیم اصحاب میں سے تھی
اور ہمیں اس بات کا پورا اطمینان حاصل ہو جائے گا کہ تفسیر کی تدوین غریب القرآن کی تدوین پر مقدم ہے کیونکہ ابن عباس کے بعد، ابو عبداللہ سعید بن جبیر اسری کوفی ( ۴۵تا ۹۵) جوابن عباس کے قابل قدر شاگر ہے ،وہ سب سے پہلے مفسرین میں شامل ہیں عبدالملک مردان (متوفی ۸۶) سعید بن جبیر سے ایک تفسیر لکھنے کا کہا ہے سعید اس کے کہنے پر عمل کرتا ہے
لیکن اگر ہم سعید بن جبیر کی تفسیر میں شک کریں تو مجبوراً تفسیر مجاہدبن جبرمکی (۲۱۱۰۴) کو ابن عباس کی روایت کے مطابق ، قبول کرنا پڑے گا
بہرحال تفسیر کی تدوین پہلی صدی کے اواخر سے پہلے پہلے ہی انجام پذیر ہوئی ہے جبکہ ابان بن تغلب کی غریب القرآں دوسری صدی کے نصف اول سے متعلق ہے
بنابریں اگر ابن عباس کی طرف دی گئی ہے نسبت میں شک نہ کریں تو غریب القرآن اور تفسیر قران کی تدوین کا زمانہ ایک ہی ہے اور ابن عباس کے توسط سے اسکی تدوین انجام پائی ہے اور اگر اس میں شک کریں تو غریب القرآن کی تالیف کو تفسیر قران سے موخر مانا جائے گا
ابن ندیم غریب القرآن سے متعلق کتب کے حصے میں ابو عبیدہ معمر بن مثنی (متوفی ،۲۱۰) سے شروع کرتے ہیں اور ابان بن تغلب کو یاد نہیں کرتے ہیں
معلوم نہیں ہے کہ ابان بن تغلب اور اسکی کتاب کو ابن ندیم نے کیوں یاد نہیں کیا
لیکن شیخ نجاشی اور شیخ طوسی نے ابان بن تغلب کی کتب میں الغریب فی القرآن اور ذکر شواھدہ مِن الشتر کا ذکر کیا ہے
ابن ندیم کے بقول غریب القرآن دوسری صدی کے نصف دوم میں یاتیسری صدی کے اوائل میں تدوین کی گئی
اگر غریب القرآن کے تقابل میں معمر بن مسثنیٰ نے بھی تفسیر میں ایک مدون اور جامع کتاب جو سورتوں کی تفسیر اور تو ضیح میں خاص نظم و ترتیب سے لکھی ہو تو جو کچھ ذکر کیا گیا ہے اُس سے صرفِ نظر کرنی چاہیے اور ابی ذکریا یحییٰ ابن زیاد فرّا (متوفی ،۲۰۷) کی کتاب کا نام لیا جاتا ہے
اس صورت میں تفسیر اور غریب القرآن کی تدوین کا زمانہ ایک ہی ہے تدوین سے کیا مرا دہے ایک ایسی کتاب کی تالیف جو جامع ہو اور باب باب کر کے لکھی گئی ہو
اسکی مختلف فصول مطالب کی ترتیب کے ساتھ تنظیم ہو اور اُس پر بحث کی گئی ہو
وضاحت:اگر فراء کی معافی القرآن کو تفسیر غریب القرآن کا جُز قرار دیں پھر بھی پہلی تفسیر کے بارے میں تحقیق کرنی چاہیے
بہر حال قرآن کے الفاظ کے معانی کو یاد کرنا تفسیر کی بناء پر قرار پاتا ہے اور لغاتِ قرآن کی طرف توجہ دینا تفسیر کے لئے اساسی وبنیادی کام ہے اور اس میں کوئی فرق نہیں ہے کہ متقدمین فکری یا تدوین کے لحاظ سے اسے تفسیر پر مقدم کریں یا موخر
راغب اصفہانی اسی عقیدہ کی بنا پر اپنی کتاب کی وجہ تصنیف بیان کرتا ہے اور علوم قرآن کے سفر میں مفردات پر توجہ دینے کو پہلا قدم قراد دیتا ہے
جس طرح اینٹ عمارت کے لئے ضروری ہے اسی طرح علوم قرآن کے لئے الفاظ اور معانی کی سمجھ بوجھ ضروری ہے
راغب معتقد ہے کہ فقہا اور قضات کے لئے قرآن کریم کے الفاظ اور معانی کا صحیح ادراک لازم وواجب ہے
کیونکہ جب وہ مفرداتِ قرآن کو درست سمجھیں گے تو انکی قضاوت اور حکم بھی درست ہو گا اور درست الفاظ کے استعمال سے شعراء اور اوباء میں مہارت کے معیار کا پتہ چلتا ہے اور نظم و نثر بھی اس سے آراستہ و پیراستہ ہوتی ہے

غریب القرآن،مجاز القرآن اور معانی القرآن
متقدمین کے ہاں تفسیر کی بنیادیں ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ ان علوم کی تفسیری کا م کے لئے مقدمہ و تدوینکیونکہ تفسیر کی ابتدائی مراحل لغات کی تعریف اور معرفت سے شروع ہوئے اور پھر بتدریج تکامل اختیار کرتے گئےاسی لئے زرکشی اور سیوطی ابو عمرو بن صلاح سے نقل کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جہاں بھی عبارت ” اصل معانی کہتے ہیں “ نظر آئے سمجھ لو کہ اس سے مُراد معانی قرآن پر کُتب لکھنے والے افراد ہیں مفسرین نے ان کُتب سے استفادہ کیا ہے
از قلم ڈاکٹر سید عبدالوہاب طالقانے

0 comments:

Post a Comment