جلاء العیون کی اس روایت کو ناصبی حضرات ہر جگہ پیش کر رہے ہوتے ہیں:
۔۔۔ حلال چیزبیان کر نے میں غیرت نہیں کرنی چاہیے کیوں کہ جناب رسول ﷺ نے شب زفاف جناب علیؑ اور جنابِ فاطمہؑ سے فرمایا، جب تک میں نہ آ لوں کام نہ کرنا۔
ناصبی حضرات نے بہت ڈھونڈ کر یہ شیعہ روایت نکالی اور اسکی آڑ میں پروپیگنڈہ شروع کر دیا کہ شیعہ مذہب بے شرم باتیں کرتا ہے۔ سپاہ صحابہ کا بانی حق نواز جھنگوی اپنی تقریر میں یہ روایت بیان کرنے کے لیے ڈرامائی طریقہ اختیار کرتے ہوئے تمام لاؤڈ سپیکرز بند کروا دیتا ہے تاکہ کسی خاتون تک اس کی آواز نہ پہنچے۔ پھر یہ روایت بیان کرتا ہے اور پورا ناصبی مجمع اس پر شیعہ کافر اور شیعہ بے شرم کے نعرے لگانا شروع کر دیتا ہے۔
ان ناصبی حضرات کے شر سے اللہ کی پناہ طلب کرتے ہیں۔ امین۔
قارئین، آئیے ان نکات پر غور فرمائیے:
1 ۔ یا حیرت اس روایت میں وہ کونسی بے شرمی کی بات ہے جس پر ناصبی حضرات نے یہ طوفان و ادھُم مچا رکھا ہے۔ ؟ اگر رسول اللہ ﷺ کو شریعت کا ایک پیغام دینا ہے تو وہ اچھے الفاظ میں یہ پیغام پہنچا سکتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے جو الفاظ استعمال کیے یا جو طریقہ کار اختیار کیا، وہ بعینہ یہاں درج نہیں ہے، بلکہ صرف واقعہ کا خلاصہ بیان کر دیا گیا ہے، اور ہزار طریقے ہو سکتے ہیں جن سے پاکیزہ طریقے سے یہ پیغام پہنچایا جا سکتا ہے (مثال کے طور پر آگے یہ روایت بذات خود اہلسنت کی کتب سے پیش کی جا رہی ہے جہاں یہ روایت تفصیل سے ذکر ہوئی ہے اور وہاں پتا چلتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے صرف علی کو بلایا تھا اور اچھے پاکیزہ طریقے سے یہ پیغام انہیں پہنچایا تھا)۔
- یا حیرت کہ یہ اعتراض اُن لوگوں کی طرف سے آ رہا ہے جو کہ قائل ہیں حضرت عائشہ دو مرد حضرات کو ضرورت پڑنے پر غسل کر کے دکھا سکتی ہیں، اور بوقت ضرورت عاقل و بالغ داڑھی مونچھوں والے مرد کو عورت کا دودھ بھی پلوا سکتی ہیں۔ بلکہ انکے ہاں ایک لمبی لسٹ ہے جس میں صحابی اپنی بیٹی سے حیض کی باتیں پوچھ رہے ہیں۔
- اور جو ناصبی حضرات نے یہ طوفانِ بدتمیزی مچا رکھا ہے، تو انہیں تو یہ تک علم نہیں کہ یہ روایت بذات خود انکی کتابوں میں بھی موجود ہے۔
کتاب خصائص امیر المومنین (علی ابن ابی طالب) از امام نسائی، حدیث 120
أخبرنا ) احمد بن شعيب ، قال : اخبرني زكريا بن يحيى ، قال : حدثنا محمد ابن صدران ، قال : حدثنا سهيل بن خلاد العبدي ، قال : حدثنا ابن سواد عن سعيد بن ابي عروبة ، عن ايوب السجستاني ، عن عكرمة ، عن ابن عباس قال : لما زوج ۔۔۔۔ ، وقال لعلي : إذا اتيت بها فلا تقربها حتى آتيك۔۔۔قال : فدعا رسول الله صلى الله عليه وسلم ببدر من ماء فتفل فيه ، ثم دعا عليا رضي الله عنه فرش من ذلك الماء على وجهه وصدره وذراعيه ، ثم دعا فاطمة فأقبلت تعثر في ثوبها حياء من رسول الله صلى الله عليه وسلم ففعل بها مثل ذلك ثم قال لها : يا ابنتي ما اردت ان ازوجك إلا خير اهلي ، ثم قام وخرج رسول الله صلى الله عليه وسلم
ترجمہ:
ابن عباس روایت کرتے ہیں:
۔۔۔ (جب رسول ﷺ نے علی کی شادی فاطمہ سے کی) تو آپ ﷺ نے علی کو بلایا اور فرمایا: "جب تم فاطمہ کے پاس جاؤ تو اس سے قربت نہ کرنا جبتک میں نہ آ جاؤں۔۔۔۔ پھر رسول ﷺ اندر داخل ہوئے، انہوں نے پانی کا ایک برتن منگوایا، اس پر "اعوذ باللہ" کا ورد کیا اور علی کو بلا کر انکے چہرہ مبارک، سینہ اور ہاتھ پر یہ پانی چھڑکا، پھر آپ ﷺ نے فاطمہ کو بلایا اور سیدہ شرم و حیا سے لرزتی حاضر ہوئیں۔ آپ ﷺ نے ان پر بھی پانی چھڑکا اور فرمایا: "اے دختر، اللہ کی قسم میں نے تمہاری شادی اُس شخص سے کی ہے جو میرے اہل بیت میں سے سب سے بہترین ہے۔" ابن عباس فرماتے ہیں کہ اسکے بعد رسول اللہ ﷺ واپس تشریف لے گئے۔ "
مزید حوالے:
- ۔ سنن کبری از امام نسائی 7/453/8456
- ۔ طبقات ابن سعد 8/254
- ۔ مصنف عبد الرزاق 5/337/(2732)9844
- ۔ فضائل الصحابہ 2/802/958
اہلسنت کی کتب میں موجود یہ روایت اس واقعہ کو تفصیل سے بیان کر رہی ہے اور اس سے پتا چلتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے شریعت کے اس حلال کام پر پاکیزہ طریقے سے عمل کیا اور ایسے حلال کام کرنے میں کوئی عار نہیں ہے۔
0 comments:
Post a Comment