ناصبی قوم کا اہلسنت (حتی کہ اہلحدیث ) سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو کہ اہلبیت سے کھلی عداوت رکھتے ہیں اور انکے جھوٹے عیوب پھیلاتے ہیں۔
ناصبی آجکل کھلم کھلا امام علی علیہ السلام پر الزام لگاتے ہیں کہ انہوں نے زندیقوں کو آگ میں جلوا کر شریعت کی خلاف ورزی کی، اور ابن عباس نے اس پر تنقید کی۔
اور پھر دلیل کے طور بخاری کی یہ روایت پیش کرتے ہیں:
عبداللہ ابن عباس سے روایت ہے:
"صحیح بخاری، کتاب استتابہ المرتدین
حدیث نمبر : 6922
حدثنا أبو النعمان، محمد بن الفضل حدثنا حماد بن زيد، عن أيوب، عن عكرمة، قال أتي علي ـ رضى الله عنه ـ بزنادقة فأحرقهم فبلغ ذلك ابن عباس فقال لو كنت أنا لم أحرقهم لنهى رسول الله صلى الله عليه وسلم ولقتلتهم لقول رسول الله صلى الله عليه وسلم " من بدل دينه فاقتلوه ".
ہم سے ابوالنعمان محمد بن فضل سدوسی نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے، انہوں نے ایوب سختیانی سے، انہوں نے عکرمہ سے، انہوں نے کہا علی رضی اللہ عنہ کے پاس کچھ بے دین لوگ لائے گئے۔ آپ نے ان کو جلوادیا۔ یہ خبر ابن عباس رضی اللہ عنہما کو پہنچی تو انہوں نے کہا اگر میں حاکم ہوتا تو ان کو کبھی نہ جلواتا( دوسری طرح سے سزا دیتا) کیوں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آگ میں جلانے سے منع فرمایا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آگ اللہ کا عذاب ہے تم اللہ کے عذاب سے کسی کو مت عذاب دو میں ان کو قتل کرواڈالتا کیوں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے جو شخص اپنا دین بدل ڈالے اسلام سے پھر جائے اس کو قتل کرڈالو۔
ابن عباس شاگرد تھے امام علی علیہ السلام کے۔ یہ روایت کچھ بعید از عقل بات کر رہی ہے۔
1۔ ابن عباس سے یہ روایت فقط عکرمہ نے نقل کی ہے اور اسکا تعلق "غریب" اور "آحاد" روایات سے ہے۔
مولانا عبد الحئی لکھنوی کہتے ہیں: "چونکہ امام بخاری نے عکرمہ سے روایت نقل کی ہے اس لئے دوسرے محدثین نے بھی اسکی ہر روایت قبول کر لی بغیر اس کے ککہ وہ خود اس کے بارے میں تحقیق کرتے (الرف ا التکمیل، طبع قدیم لکھنؤ)
- عکرمہ راوی خارجی، غیر ثقہ اور کذاب ہے
عکرمہ کے متعلق کہا جاتا ہے کہ یہ خارجی اور حضرت علی کے دشمنوں میں سے تھا اور اسکی ان حرکتوں کی وجہ سے مسلمانوں نے اسکا جنازہ تک نہیں پڑھا تھا۔
۔ الذہبی کہتے ہیں:
"ہمیں الصلت ابو شعیب نے بتایا کہ میں نے محمد بن سیرین سے عکرمہ کے بارے میں پوچھا تو انہیوں نے جواب دیا کہ مجھے اس بات سے کوئی تکلیف نہیں کہوہ اہل جنت میں سے ہو، مگر یہ حقیقت ہے کہ وہ بہت زیادہ جھوٹ بولنے والا ہے۔"
۔ الذہبی مزید کہتے ہیں:
"یعقوب بن الحضرمی اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ ایک مرتبہ عکرمہ مسجد کے دروازے پر کھڑا ہو کر کہنے لگا کہ اس مسجد میں موجود سب لوگ کافر ہیں۔ عکرمہ اباضیہ فراہ کے خیالات رکھتا تھا۔
۔ الذہبی مزید کہتے ہیں:
"ابن المسیب نے اپنے غلام بز د سے کہا کہ میری طرف منسوب کر کے جھوٹی روایات بیان نہ کرنا جیسے عکرمہ، ابن عباس کی طرف جھوٹی روایات منسوب کرتا ہے۔"
حوالے: میزان الاعتدال فی نقد الرجال از علامہ الذہبی
اور اب جعفر محمد بن عمرہ بن موسی بن الحماد مکہ الضعفاء الکبیر، دارالکتب العطیہ، بیروت، طبع اول 1984، السفر الثالث صفحہ 273 تا 274 پر لکھتے ہیں:
"وھیب روایت کرتے ہیں کہ میں یحیی بن سعید الانصاری اور ایوب کے پاس تھا کہ انہوں نے عکرمہ کا ذکر کی۔ یحیی بن سعید نے کہا کہ عکرمہ کذاب تھا۔"
اور ابن حجر العسقلانی لکھتے ہیں:
"یحیی بن معین نے کہا: امام مالک بن انس نے عکرمہ سے صرف اس وجہ سے روایت بیان نہیں کی کہ وہ صفریہ فرقے کے خیالات رکھتا تھا۔"
"عطار کہتے ہیں کہ وہ (عکرمہ) اباضیہ فرقے سے تعلق رکھتا تھا۔"
"الجوزجانی کہتے ہیں کہ میں نے امام احمد سے پوچھا کہ کیا عکرمہ اباضی تھا، انہوں نے کہا" کہا جاتا ہے کہ وہ صفری تھا"
"معصب الزبیری کے نزدیک عکرمہ خارجی خیالات کا حامل تھا۔"
"ابراہیم بن منذر نے معن بن عیسی اور دوسرے لوگوں سے روایت کی ہے کہ امام مالک ، عکرمہ کو ثقہ خیال نہ کرتے تھے اور حکم دیتے تھے کہ اسکی بیان کردہ روایات قبول نہ کی جائیں۔"
"میں نے اہل مدینہ میں سے بعض کو یہ کہتے سنا ہے کہ عکرمہ اور عزہ نامی لڑکی کے عاشق کی میتیں ایک ہی دن میں مسجد کے دروازے کے سامنے لائی گئیں۔ لوگوں نے کثیر کا جنازہ تو پڑھ لیا مگر عکرمہ کا جنازہ نہ پڑھا۔ احمد سے بھی اسی مفہوم کی روایت بیان ہوئی ہے۔
"ہشام بن عبداللہ المحزومی کہتے ہیں کہ میں نے ابن ابی ذئب کو کہتے سنا کہ عکرمہ غیر ثقہ تھا اور میں نے اسے دیکھا ہوا ہے۔"
حوالے: تہذیب التہذیب از ابن حجر العسقلانی۔
مدینے میں موجود ہزاروں صحابہ نے علی ابن ابی طالب کو کیوں نہیں روکا؟
ناصبی اپنی دشمنی میں امام علی پر یہ الزام تو لگا بیٹھے، مگر مسئلہ یہ ہے کہ مدینہ میں ہزاروں صحابہ موجود تھے۔ تو پھر انہوں نے اپنے چوتھے خلیفہ علی ابن ابی طالب کو اس کھلم کھلا شریعت کے منافی فعل اور بدعت پر روکا کیوں نہیں؟ اسکا مطلب ہے کہ صحابہ کی اکثریت چاند ستاروں کی مانند نہیں بلکہ یہ گروہ "اجتماعی جرم" کا ارتکاب کر سکتا ہے۔ جب ناصبیوں کو دکھایا جاتا ہے کہ صرف علی ابن ابنی طالب ہی نہیں اگر اس روایت کو تمہارے کہنے کے مطابق درست مان لیا جائے تو اس طرح گمراہی و ضلالت و بدعت کا الزام مدینہ کے ہزاروں صحابہ پر بھی آ رہا ہے، تو کیا تمہیں منظور ہے کہ مان لو کہ صحابی کے گمراہی و ضلالت میں مبتلا ہونے سے محفوظ رہنے کی اللہ نے کوئی گارنٹی نہیں دی ہے اور تمہارا صحابہ کے متعلق "کلھم عدول" کا نظریہ بذات خود نئی بدعت ہے۔ لیکن ناصبیوں کو یہ بھی منظور نہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ اس روایت سے صرف امام علی علیہ السلام کو مجرم و بدعتی ثابت کریں مگر بقیہ کلھم عدول والے صحابہ پر اس جرم و بدعت کا الزام نہ لگے۔
صحیح سنی روایت جس میں رسول ﷺ کی اجازت و اذن سے
آگ میں جلائے جانے کا ذکر ہے
عبداللہ بن حارث رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جدجد جندعی یمن آیا، اسے عشق ہوگیا ان کی ایک عورت سے، پس اس نے کہا کہ رسول تمہیں حکم دیتے ہیں کہ تم اپنی نوجوان عورت کو میرے حوالے کردو۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے عہد کیا ہے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اور وہ حرام کرتے ہیں زنا کو۔ پھر انہوں نے بھیجا رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ایک شخص کو پس رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بھیجا ،حضرت علی رضی اللہ عنہمااور حضرت زبیررضی اللہ عنہما کو اور فرمایا ان سے” جاؤ، تم اگر پاؤ اسے زندہ تو قتل کردو اور اگر تم اسے مردہ پاؤ تو اسے آگ کے ذریعے جلا ڈالو“۔ (خصائص الکبریٰ جلد ۲،ص۷۸)
علامہ ابن تیمیہ اس واقعے کو نقل کرنے کے بعد آگے لکھتے ہیں ”جب وہ (حضرت علی) وہاں پہنچے تو انہوں نے دیکھا کہ وہ سانپ کے ڈسنے سے مر چکا تھا۔چنانچہ انہوں نے اسے آگ میں جلا دیا۔ تب رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا” جس نے مجھ پر دانستہ جھوٹ بولا وہ اپنا گھر دوزخ میں تلاش کرے۔“ (الصارم المسلول ص ۲۳۱اردو ترجمہ)
علامہ ابن تیمیہ اس حدیث کی صحت کے بارے میں لکھتے ہیں ”اس حدیث کی سند صحیح اور شروط العین کے مطابق ہے“۔ ہمارے نزدیک اس میں کوئی علت نہیں۔ (الصارم المسلول ص۲۳۲اردو ترجمہ)
علامہ ابن تیمیہ اس واقعے کو نقل کرنے کے بعد آگے لکھتے ہیں ”جب وہ (حضرت علی) وہاں پہنچے تو انہوں نے دیکھا کہ وہ سانپ کے ڈسنے سے مر چکا تھا۔چنانچہ انہوں نے اسے آگ میں جلا دیا۔ تب رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا” جس نے مجھ پر دانستہ جھوٹ بولا وہ اپنا گھر دوزخ میں تلاش کرے۔“ (الصارم المسلول ص ۲۳۱اردو ترجمہ)
علامہ ابن تیمیہ اس حدیث کی صحت کے بارے میں لکھتے ہیں ”اس حدیث کی سند صحیح اور شروط العین کے مطابق ہے“۔ ہمارے نزدیک اس میں کوئی علت نہیں۔ (الصارم المسلول ص۲۳۲اردو ترجمہ)
0 comments:
Post a Comment