فيسبوک گروپ

6/12/2011

ولادت امام محمد تقی جواد الآئمه

ولادت امام محمد تقی جواد الا

اسم مبارک :محمد

لقب : تقی ، جواد

کنیت :ابو جعفر

والد ماجد : امام علی رضا علیہ السلام

والدہ ماجدہ : جناب سبیکہ

ولادت : 10 رجب المرجب 195 ہجری (جمعہ) مدینہ منورہ

شہادت : 29 ذی قعدہ 220 ہجری سہ شنبہ

عمر مبارک : 25 سال قبر مطہر : کاظمین


تاریخ امامت میں بے شمار واقعات ملتے ہیں ۔ جن سے امام المتقین کے کردار کا اندازہ کیا جاسکتا ہے ۔ صرف ایک ہی واقعہ اس ہستی کا ہے جس کے تقوی کو ساری دنیا نے اس حد تک تسلیم کیا ہے کہ نام ہی محمد تقی پڑ گیا ہے ۔

بچپنے کا زمانہ ہے ۔ باپ کا انتقال ہوچکا ہے ولی عہد کا دور ختم ہوچکا ہے ۔

حاکم وقت مامون نے مدینہ سے طلب کیا ہے ۔ بغداد تک تشریف لےآئے ہیں ۔

تقریبا سات برس کی عمر ہے ۔ ایک دن راستہ میں کھڑے ہوئے ہیں ۔

لڑکے کھیل رہے ہیں ۔ آپ بھی اہل دنیا کے مشاغل کا تماشا کررہے ہیں

ایک مرتبہ مامون کی سواری کی خبر ہوئی سارے بچے راستہ چھوڑ کر بھاگ گئے

آپ اپنی جگہ پر کھڑے رہے اورکیوں نہ کھڑے رہتے ۔

کسی فرار کے فرزند ہوتےتو فرار کرجاتے ۔ یہ حیدر کرار (ع ) کےلال ہیں ۔

یہاں فرار کا کیا سوال پیدا ہوتا ہے ۔


مامون گھوڑے سے اتر پڑا ، یہ کون بچہ ہے ۔ سارے بچے راستہ چھوڑ کر ہٹ گئے

یہ کیوں نہیں ہٹا ۔ آپ اس کی طرف متوجہ ہوئے ۔

فرمایا کہ میرے بھاگنے کی تین وجہیں ہوسکتی ہیں ۔میری سمجھ میں کوئی وجہ نہیں آئی اب تو ہی بتادے کہ مجھے کس وجہ سے بھاگ جانا چاہئے تھا ۔

مامون نے کہا یہ کیا ۔ یہ تین وجہیں کیسی ؟

آپ نے فرمایا کہ یا میں گنہگار ہوتا تو تیرے خوف سے بھاگ جاتا ۔

یا تجھے ظالم سمجھتا تو ظلم کے اندیشہ سے فرارکر جاتا ۔

یا راستہ اتنا تنگ ہوتا کہ تجھے زحمت ہوتی تو میں راستہ چھوڑ دیتا ۔

لیکن نہ راستہ تنگ ہے اور نہ میں گنہگار ہوں ۔

اب اگر تو اپنے کو ظالم سمجھتا ہے تو راستہ چھوڑ دیتا ہوں ۔

مامون خاموش ہوگیا ۔ اور سواری کو آگے بڑھا دیا سمجھ گیا کہ یہ کوئی عام بچہ نہیں ہے

یہ کسی خاص گھرانے کا بچہ ہے ۔ اور بہت ممکن ہے کہ پہچان بھی لیا ہو ۔

حیسا کہ بعض روایات میں ہے کہ حضرت نے اپنا تعارف کرادیا تھا ۔

لیکن کمال کی منزل میں اس کا اظہار مناسب نہیں تھا ۔ آگے بڑھا ۔

ایک منزل پر پہونچ کر اپنے باز کو شکار کیلئے چھوڑ ا ۔

باز آڑا ۔ تھوڑی دیر کے بعد ایک مچھلی منھ میں دبا کر لے آیا اور مامون کے حوالے کردی ۔

مامون نے مچھلی کو مٹھی میں چھپایا اور پلٹ کر آیا ۔

دیکھا پھر بچہ اپنے مقام پر کھڑا ہے ۔ مامون نے کہا تم پھر کھڑے ہو اور راستہ نہیں چھوڑ ا

آپ نے فرمایا کہ آپ نے میرے سوالات کا جواب کہاں دیا کہ میں راستہ چھوڑ دیتا ۔

مامون نے کہا اچھا اگر ایسی باتیں کرتے ہو تو ذرا یہ تو بتاؤ کہ میر ی مٹھی میں کیا ہے ؟

حضرت نے فرمایا کہ میر ے آباء واجداد نے جبرئیل کے حوالے سے پروردگار کی طرف سے نقل کیا ہے کہ اللہ نے زمین و آسمان کے درمیان دریا پیدا کئے ہیں ۔

دریاؤں میں مچھلیا ں پیدا کی ہیں ۔ روئے زمین پر کچھ لوگوں کو اقتدار دیا ہے

وہ شکار کا شوق کرتے ہیں اور جب ان کا باز شکاری مچھلیا ں شکار کرکے لے آتا ہے

تو مٹھی میں چھپا کر خاندان رسالت کا امتحان لیتے ہیں ۔ (مناقب)


یہ سننا تھا کہ مامون نے گود میں اٹھا لیا ۔ شاباش ۔ شاباش ۔

ایسا جواب خاندان رسالت کے علاوہ کوئی نہیں دے سکتا ۔

عرض کروں مولا ! یہ طول و تفصیل کی کیا ضرورت ہے ۔

مامون نے تو صرف اتنا ہی پوچھا تھا کہ میری مٹھی میں کیا ہے ؟

آپ نے فرمادیا ہوتا مچھلی ہے !

اب اس کی کیا ضرورت تھی کہ زمین و آسمان کے درمیان دریا ہیں ۔

دریاؤں میں مچھلیا ں ہیں ۔ زمین پر بادشاہ ہیں ۔ بادشاہ ہوں میں شکار کا شوق ہے ۔

ان کے پاس باز ہیں ۔ وہ بازوں کو چھوڑتے ہیں ۔ وہ مچھلیوں کو شکا ر کرتے اور بادشاہ خاندان رسالت کا امتحا ن لیتے ہیں ۔

عجب نہیں حضرت فرمائیں تجھے نہیں معلوم ۔ کبھی کبھی مصلحت یہی ہوتی ہے کہ جواب میں طول دیا جائے ۔

کیا تجھے نہیں معلوم کہ کوہ طور پر جناب موسی (ع) سے اتنا ہی سوال ہوا تھا کہ موسی تمہارے ہاتھ میں کیا ہے موسی (ع) نے عصا کی پوری تاریخ بیان کردی ۔

یہ تو اللہ والے ہی جانتے ہیں کہ کہاں جواب مختصر ہوتا ہے اور کہاں طول دیا جاتا ہے ۔

میں عرض کروں گا کہ مولا یہاں کیا مصلحت ہے کہ آپ نے اس قدر طول دیدیا ۔

فرمائینگے ۔ تجھے نہیں معلوم ۔ میں نے صرف اتنا کہہ دیا ہوتا کہ مچھلی ہے تو

میرے علم کا تو اندازہ ہوجاتا لیکن وسعت علم کا تو اندازہ نہ ہوتا

میں یہ بتا نا چاہتا تھا کہ

ہم آل محمد (ص) بچپنے ہی سے زمین و آسمان کا علم رکھتےہیں

اور یہ بھی بتادینا چاہتا تھا کہ بات کا معلوم ہونا اور ہے اور بات کی اصل کا معلوم ہونا اور ہے ۔

ہم بات بھی جانتے ہیں اور بات کی اصل بھی جانتے ہیں ۔

اب جسے شو ق ہو وہ ہم سے اپنی اصل کے بارے میں سوال کرکے دیکھے ۔

جب ہم حیوانات کی اصل بتادیتے ہیں تو انسانوں کی اصل کوہم سے بہتر کون سمجھے گا ۔


امام (ع) نے یہ بھی واضح کردیا کہ سلاطین وقت کا شوق کیا ہوتا ہے ۔

اور امام (ع) وقت کا کردار کیا ہوتا ہے ۔

شکار کھیلنا سلاطین کا کا م ہے اور زمین و آسمان کے رموز بتانا امام کا کام ہے ۔

اب یہ تمہیں فیصلہ کرنا ہے کہ

دین کا ذمہ دار شکاریوں کو مانوگے یا کائنات کا علم رکھنے والوں کو تسلیم کرو گے ۔


امام رضا (ع) کے کوئی اولاد نہیں تھی ۔ دشمنوں نے طعنہ دینا شروع کردیا کہ یہ ابتر ہیں ۔ ان کے کوئی اولاد نہیں ہے ۔

امام (ع) فرماتے ہیں کہ عنقریب پروردگار عالم ہمیں فرزند عنایت کرےگا

لیکن حاسدوں کو نہ ماننا تھا نہیں مانا ۔

اور اس سازش میں فقط اغیار ہی نہیں اہل خاندا ن بھی شریک ہوگئے ۔

اور مقصد یہ تھا کہ یہ دنیا سے اٹھ جائیں گے تو ساری املاک وجاگیر ہمیں مل جائے ۔


ادھر 10 رجب 195 ہجری کو جناب سبیکہ کے بطن اقدس سے امام محمد تقی (ع) کی ولادت ہوئی ۔

امام علی رضا (ع) نے جناب حکیمہ کو روک لیا کہ آج میرے گھر ایک فرزند آنے والا ہے ۔

وہ فرماتی ہیں کہ آثار تو ایسے نہیں ہیں ۔

آپ نےفرمایا کہ توقف فرمائیے ۔ ٹھہر گئیں ۔

تھوڑی رات گذری تھی کہ جناب سبیکہ جنھیں خیرزان بھی کہتے ہیں ، ان کو حجرے میں لے گئیں آثار نمودار ہوئے چراغ گل ہوگیا ۔

فرزند کی ولادت ہوئی سارا حجرہ منور ہوگیا ،

میں غسل مولود دے کر فرزند کو امام رضا (ع) کے حوالے کردیا ۔

حضرت نے سر و سینہ کو بوسہ دیا ۔ دو دن آنکھیں بند رہیں ۔

تیسرے دن آنکھ کھولی تو زبان پر فقرہ تھا "

اشھد ان لاالہ الا اللہ واشھد ان محمدا رسو ل اللہ "

میں نے سخت تعجب کیا ،فرمایا حکیمہ تعجب نہ کرو ، یہ حجت خدا ہے

اور حجت خدا کا یہی انداز ہوتا ہے ۔


اللہ اکبر ! کیا عظمت و جلالت ہے ۔ آئے توسارے عالم کو منور کردیا اور آنکھ کھو لی تو

زبان پر کلمہ شہادتین جاری کیا ۔


نہ آثار نہ علامت لیکن اہتمام پروردگار تھا ۔ اور قدرت آواز دے رہی تھی کہ

یاد رکھو ہم جب اپنے نمائندہ کو بھیجتے ہیں تو اس کا انتظام بھی جدا گانہ کرتے ہیں ۔

آثار سے پتہ نہ چلا ۔ حجرہ منور اور روشن ہوگیا ۔ چراغ خود بخود گل ہوگیا ۔

دو دن آنکھیں نہ کھولیں ۔ تیسرے دن آنکھ کھولی تو کلمہ پڑھتے ہوئے ۔

اب اندازہ کیجئے کہ آٹھ پشتیں گذر چکی ہیں لیکن ابھی اول کا انداز بدلا نہیں ۔

جو انداز پہلے کا تھا وہی انداز نویں کا ہے ۔

جو اہتمام روز اول تھا وہی اہتمام آج بھی ہے ۔


قلب امامت مطمئن ہے کہ وارث آگیا ذہن سبیکہ مطمئن ہے کہ نور نظر آگیا ۔

حکیمہ مسرورہیں کہ راحت جان آگیا ۔ لیکن حریفوں میں کھلبی ہے کہ قیامت آگئی ۔

جو انداز کل علی (ع) کی آمد پر بتوں کا ہوا تھا وہی آج انسانوں کا ہے ۔

ہم تو انھیں ابتر کہتے تھے ۔ یہ بیٹا کہاں سے آگیا ۔

ہم تو انھیں لاولد سمجھتے تھے یہ وارث کہاں سے آگیا ۔

قدرت نے آواز دی کہ تم نے تو میرے پیغمبر (ص) کو بھی ابتر ہی کہا تھا ۔

پھر کیا ہو ا ہم نے بیٹی دی یا نہیں ۔

اوربیٹی دی تو ایسی بیٹی دی کہ ساری کائنات پر اس کی نسل چھاگئی ۔

اور " مصداق ابتر " حامل کوثر ہوگیا ۔


اب اس مقام پر ایک لفظ کہنے کو دل چاہتا ہے کہ کل کفار نے نبی کو ابتر کہاتھا

اور آج مسلمانوں نے اما م علی رضا (ع) کو ابتر کہا ۔

قدرت نے دونوں جگہوں پر یہ اہتمام کیا کہ نبی کی نسل کو عالمگیر بنادیا ۔

اور امام رضا (ع) کی نسل کو سادات میں سب سے زیادہ قرار دیدیا

کہ آج روئے زمین پر جتنے رضوی سادات پائے جاتے ہیں

شاید اتنے سادات کسی اور امام کی نسل سے نہ ہوں گے ۔

اور یہ بھی قدرت کا ایک اہتمام تھا کہ تم جتنا مٹانا چاہو گے

ہم اتنا ہی زندہ و پائندہ رکھیں گے ۔

اورایک مناسبت اور سامنے آگئی نبی کو ابتر کہا گیا تو اللہ نے نسل زہرا (ع) کو نسل پیغمبر (ص) بنا دیا اور امام رضا (ع) کو ابتر کہا گیا تو مالک نے اولاد امام محمد تقی (ع) کو "ابن الرضا " بنا دیا ۔

تاریخ گواہ ہے کہ ایک مدت تک اولاد امام محمد تقی (ع) کو" ابن الرضا " کہہ کر یاد کیا جاتا تھا اور یہ قدرت کا انتظام تھا کہ تو سہی دنیا کو اولاد رضا (ع) سے بھر دیا جائے اور دشمن کو اندازہ ہوجائے کہ ہمارے مٹانے سے کچھ نہیں ہوتا ۔

وہ جسے باقی رکھنا چاہے گا اسے بہر حال باقی رکھے گا ۔


التماس دعا

سیداحمد موسوی

0 comments:

Post a Comment