فيسبوک گروپ

12/28/2010

سب و شتم کی شرعی سزا

(حصہ آخر)

اہل تشیع کا کفر کے باوجود حج کرنا 

اور انکی روایات کا صحاح ستہ میں شامل ہونا؟

سپاہ صحابہ آج ائمہ اربعہ پر جھوٹ باندھ رہی ہوتی ہے کہ انہوں نے شیعوں کو کافر قرار دیا ہے۔ اگر ایسا ہی ہے اور واقعی سپاہ صحابہ کذاب نہیں بلکہ صادق ہے، تووہ بتلائے:

  1. کہاں ہے شیعہ کے کفر پر ابو حنیفہ اور قاضی ابو یوسف کا فتوی؟ (قاضی ابو یوسف خلیفہ وقت کے آفیشل قاضی القضاۃ تھے اور پوری ریاست میں انکے فتوؤں پر عمل ہوتا تھا)۔ 
  2. اور اگر واقعی اہل تشیع کے کفر پر ائمہ اربعہ کے کفر کے فتوے موجود تھے تو پھر پہلی صدی سے لیکر آج چودہویں صدی تک اہل تشیع بلا روک ٹوک حج کیسے کرتے چلے آ رہے ہیں؟ (ایک دفعہ پھر قاضی ابو یوسف خلیفہ وقت کے آفیشل قاضی القضاۃ تھے اور اگر اہل تشیع کے خلاف واقعی ایسا کوئی فتوی ہوتا تو قاضی ابو یوسف پر واجب تھا کہ وہ اہل تشیع کو حج نہ کرنے دیتا، کیونکہ کفار پر حج نہیں ہے، بلکہ کفار کو تو خانہ کعبہ کیا مکہ و مدینہ تک میں داخل ہونے کی اجازت نہیں)۔

اہل تشیع کا مسلسل 14 صدیوں تک حج پر جانا اس بات کی کافی دلیل ہے سپاہ صحابہ صادق نہیں بلکہ کذاب ہے اور وہ ائمہ اربعہ پر جھوٹ باندھتی ہے کہ انہوں نے اہل تشیع کو کافر قرار دیا تھا۔

شیعوں کو کافر قرار دینے اور حج سے منع کرنے کی بجائے، اہل سنت کے محدثین شیعوں سے احادیث روایت کرتے ہیں

اہل سنت کے تمام محدثین (بشمول صحاح ستہ) نے شیعوں سے احادیث جمع کی ہیں۔ ان محدثین کی کتابوں میں ایسے ہزاروں شیعہ راویوں کے نام دیکھے جا سکتے ہیں۔
ذیل میں ہم صرف ان چند ایک راویوں کا ذکر کر رہے ہیں کہ جن سے امام بخاری نے روایات نقل کی ہیں۔ اگر ان میں دوسرے راویوں کا بھی اضافہ کر دیا جائے بشمول ان کے جن کا ذکر صحیح مسلم اور دیگر چار صحاح ستہ میں ہے تو ان کی تعداد میں قابل ذکر اضافہ ہو جائے گا۔ جگہ بچانے کے لیے ہر راوی کی مندرجہ بالا کتب میں سے صرف ایک حدیث کا حوالہ دیا گیا ہے۔ دوسری احادیث دیکھنے کے لیے حدیث سوفٹ ویئر کا استعمال کریں۔
ان کی زندگی کے حالات میں جگہ جگہ لفظ "را‌فضی" کا استعمال نظر آئے گا۔ اہل سنت کے علماء رافضی اس شیعہ کے لیے استعمال کرتے ہیں جو کہ مولا علی (علیہ السلام) سے قبل کے خلفاء پر کھلی تنقید کرتا ہو اور ان کی خلافت کو ناجائز جانتا ہو۔

صحیح بخاری کے رافضی شیعہ راوی

عبید اللہ بن موسی' العبسی (وفات 213 ہجری)

ان کی احادیث مندرجہ ذیل کتب میں پائی جا سکتی ہیں:

صحیح بخاری (کتاب الایمان)
صحیح مسلم (کتاب الایمان)
صحیح ترمذی (کتاب الصلاۃ)
سنن نسائی (کتاب السہو)
سنن ابو داؤد (کتاب الطہارۃ)
سنن ابن ماجہ (کتاب المقدمہ)
یہ امام بخاری کے شیوخ میں سے ہیں۔ امام ابن قتیبہ نے اپنی کتاب معارف (صفحہ 177) میں اصحاب حدیث میں ان کا ذکر اور ان کی شیعت کی تصریح کی ہے۔ پھر مشاہیر شیعہ میں بھی ان کا ذکر کیا ہے (معارف صفحہ 279)
علامہ ابن سعد نے طبقات جلد 2، صفحہ 139 پر ان کےحالات لکھے ہیں اور ان کے شیعہ ہونےکی صراحت کی ہے۔ ابن اثیر نے تاریخ کامل بسلسلہ واقعات 213 ہجری ان کی وفات کا ذکر کرتےہوئے لکھا ہےکہ عبید اللہ بن موسی' عبسی فقیہ۔ یہ شیعہ تھے اور امام بخاری کے شیخ ہیں۔"
آئیے ایک اہل حدیث کی کتاب میں بھی ان کے زندگی کے حالات پڑھتے ہیں:
"ابو داؤد کہتے ہیں: یہ کٹر شیعہ تھے۔ ان کی احادیث قابل قبول ہیں۔ ۔ ۔ ابن مندہ کہتے ہیں، امام احمد بن حنبل لوگوں کو عبید اللہ کی متعلق کہتے تھے کہیہ اپنے رفض (علی کی شیعت) کی وجہ سے مشہور ہیں اور یہ کسی ایسے شخص کو اپنے گھر میں داخل نہیں ہونے دیتے تھے جس کا نام معاویہ ہوتا تھا۔"
حوالہ:
The Creed of the Imaam of Hadeeth al-Bukhari and of the Great Scholars from whom he narrated. (Salafi Publications, UK, 1997), p. 89 from Al-Dhahabi, Siyar A'lam al-Nubala, vol. 9, pp .553-557
آئیے علامہ ذہبی کی ان کے متعلق رائے دیکھتے ہیں:
علامہ ذہبی نے میزان الاعتدال میں ان کے متعلق لکھا ہے کہ عبید اللہ بن موسی' امام بخاری کے شیخ ہیں اور بہ نفسہ ثقہ ہیںلیکن یہ شیعہ اور مذھب اہل سنت سے منحرف تھے۔ ابو حاتم اور معین نے بھی ان کو ثقہ قرار دیا ہے۔ ۔ ۔ اور اجلی کہتے ہیں کہ عبید اللہ بن موسی' قران کے بڑے عالم اور صاحب معرفت تھے۔ "

عباد بن یعقوب الاسدی (وفات 250 ہجری)

ان سے مروی احادیث مندرجہ ذیل کتب میں پائی جا سکتی ہیں:
صحیح بخاری (کتاب التوحید)
صحیح ترمذی (کتاب المناقب)
سنن ابن ماجہ (کتاب مع جاء فی الجنائز)
ابن حجر العسقلانی اہل سنت کے بہت بڑے عالم ہیں اور ان کے قابل اعتماد ہونے میں اہل حدیث، دیو بندی یا بریلویوں میں کوئی شک نہیں ہے۔۔ آپ عباد بن یعقوب کے متعلق لکھتے ہیں:
"یہ ثقہ رافضی ہیں اور ان کی احادیث صحیح بخاری میں موجود ہیں"
(ابن حجر عسقلانی، تقریب التہذیب، عباد بن یعقوب کے حالات زندگی کے ضمن میں)
پھر ابن حجر آگے مزید لکھتے ہیں:
"ابو حاتم کہتے ہیں: یہ شیخ ہیں اور صدوق ہیں۔ ابن عدی کہتے ہیں: یہ سلف پر سب کرتے تھے۔ ان میں انتہائی شیعت پائی جاتی تھی۔ صالح بن محمد کہتے ہیں: یہ عثمان کو برا بھلا کہتے تھے۔ میں نے ان کو کہتے سنا ہے کہ، "اللہ اس سے زیادہ عادل ہے کہ وہ طلحہ اور زبیر کو اس کے بعد جنت میں داخل کرے کہ انہوں نے علی (علیہ السلام) کے خلاف جنگ کی" ابن حبان کہتے ہیں: یہ رافضی تھے اور دوسروں کو اس کی دعوت دیتے تھے۔ ان سے یہ حدیث بھی مروی ہے کہ۔ ۔ ۔، "اگر تم معاویہ کو میرے منبر پر دیکھو تو اسے قتل کر دو۔"

عبد الملک بن اعین کوفی

ان سے مروی احادیث مندرجہ ذیل کتب میں پائی جا سکتی ہیں:
صحیح بخاری (کتاب التوحید)
صحیح مسلم (کتاب الایمان)
صحیح ترمذی (کتاب تفسیر القران)
سنن نسائی (کتاب الایمان و النذور)
سنن ابن ماجہ (کتاب الزکوۃ)
ابن حجر عسقلانی ان کے متعلق کہتے ہیں:
"العجلی کہتے ہیں: یہ کوفہ سے تھے اور تابعی ہیں اور صدوق ہیں۔ سفیان کہتےہیں: عبد المالک شیعہ سے ہم روایت کرتے ہیں،یہ رافضی ہیں لیکن صاحب الرائے ہیں۔ حامد کہتے ہیں: یہ تینوں بھائی رافضی ہیں۔ ابو حاتم کہتے ہیں: یہ ‏شیعت قبول کرنے میں اولین لوگوں میں سے تھے اور صدوق تھے۔
(ابن حجر عسقلانی، تہذیب التہذیب، عبد المالک بن اعین کے حالات زندگی کے ضمن میں)
"یہ رافضی ‎شیعہ ہیں اور صدوق ہیں"
(المذی، تہذیت الکمال، عبد المالک بن اعین کے ‍ضمن میں)

عوف بن ابی جمیلہ العربی (وفات 146 ہجری)

ان سے مرووی احادیث مندرجہ ذیل کتب میں پائی جا سکتی ہیں:
صحیح بخاری (کتاب الایمان)
صحیح مسلم (کتاب المسجد)
صحیح ترمذی (کتاب الصلوۃ)
سنن نسائی (کتاب الطہارۃ)
سنن داؤد (کتاب الصلوۃ)
سنن ابن ماجہ (کتاب الصلوۃ)
علامہ الذہبی(جنہیں اہلحدیث اور اہل دیوبند بہت بڑا امام تصور کرتے ہیں) عوف کے متعلق لکھتے ہیں:
"یہ رافضی تھے لیکن صدو‍‍ق ہیں۔ یہ بہت سے علماء کے نزدیک ثقہ ہیں اور ان میں تشعیت پائی جاتی ہے۔"
(الذھبی، السیر العالم النبلا، ذکر عوف ابن ابی جمیلہ)
ان کا رجحان تشعیت کی طرف تھا۔ النسائی نے ان کو صدوق کہا ہے۔
(المذی، تہذیب الکمال، "عوف بن ابی جمیلہ" کے ضمن میں)

عبد الرزاق بن ہمام(وفات 211 ہجری)

ان سے مروی احادیث مندرجہ ذیل کتب میں پائی جا سکتی ہیں:
صحیح بخاری (کتاب الایمان)
صحیح مسلم (کتاب الایمان)
صحیح ترمذی (کتاب الطہارۃ)
سنن نسائی (کتاب الطہارۃ)
سنن داؤد (کتاب الطہارۃ)
سنن ابن ماجہ (کتاب مقدمہ)
ابن عدی کہتے ہیں:
علماء ان کے اندر کوئی خرابی نہیں پاتے، سوائے اس کہ، کہ انہوں نے ان میں شیعت کی تصریح کی ہے۔ ۔ ۔ انہوں نے نبی (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے اہل بیت کی تعریف میں احادیث بیان کی ہیں۔ ۔ ۔ عبد الرزاق کی موجودگی میں کسی نے معاویہ کا ذکر کر دیا۔ اس پر وہ بولے، "ابو سفیان کی اولاد کا نام لیکر ہماری محفل کو گندہ نہ کرو۔
(المذی، تہذیب اکمال، عبد الرزاق کے ضمن میں)
ابن عدی نے عبد الرزا‍ق سے ایک حدیث روایت کی ہے:
"نبی (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا: اگر تم معاویہ کو میرے منبر پر پاؤ تو اسے قتل کر دو۔"
( الذہبی، میزان الاعتدال، عبد الرزاق کے ضمن میں)

نتیجہ:

ہمیں امید ہے کہ ارباب دانش ابتک سمجھ چکے ہوں گے کہ ناصبی کا پروپیگنڈہ بغیر کسی بنیاد کے ہے اور بالکل جھوٹا ہے۔ اللہ نے قران میں صرف اللہ، گذشتہ انبیاء، کتاب، ملائکہ اور روز قیامت پر ایمان لانے کا حکم دیا ہے۔ مگر بغیر کسی تفریق کے اجمعین صحابہ پر ایمان لانے کا حکم قران میں ملتا ہے نہ حدیث رسول میں۔ صحابہ پر تنقید کرنے سے کوئی کافر ہو جاتا ہے نہ اہل سنت کے آئمہ اربعہ سے ایسے کسی فتوے کی موجودگی ثابت ہے۔

0 comments:

Post a Comment