فيسبوک گروپ

12/28/2010

سب و شتم کی شرعی سزا

 (حصہ سوم)

سنی علماء کے فتاوی'

حضرت عمر بن عبد العزیز:

کوفہ سے ان کے ایک عامل نے لکھا:
مجھے ایک ایسے آدمی کے متعلق مشورہ دیں کہ جس نے حضرت عمر کو گالی دی ہو۔ تو آپ نے جواب میں یوں لکھا کہ، "کسی بھی مسلمان شخص کو کسی کو گالی دینے پر قتل کرنا جائز نہیں ہے سوائے اس کہ کہ اس نے رسول(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کو گالی دی ہو۔ پس جس نے نبی کو گالی دی ہو، اس کا خون مباح ہو گیا۔
(1)الشفاء بتعریف حقوق مصطفی'، جلد 2، صفحہ 325، مطبوعہ رھلی
(2)سلالہ الرسالہ۔ ملا علی قاری صفحہ 18، طبع اردن
(3)طبقات الکبری جلد 5 صفحہ 369 طبع جدید بیروت

امام مالک

امام مالک کا موقف یہ ہے کہ:
"جس نے پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کو گالی دی، اس کو قتل کر دیا جائے، اور جس نے صحابہ کو گالی دی اس کو ادب سکھایا جائے گا"
الشفاء قاضی عیاض جلد 2، صفحہ ، 376 طبع بریلی
الصارم المسلول صفحہ569 بحوالہ دفاع ابو ہریرہ، طبع پشاور
امام مالک کی یہ رائے صواعق محرقہ صفحہ 259 طبع مصر میں بھی موجود ہے۔

امام نووی الشافعی

آپ جمہور علماء اہل سنت کا اتفاق رائے بیان کرتے ہوئے لکہتے ہیں:
"جمہور آئمہ اور فقہائے اہل سنت کا متفقہ مسلک ہے کہ صحابہ کرام کو گالی دینا حرام اور فواحش محرمات سے ہے مگر اس کی سزا قتل نہیں"
النووی شرح مسلم جلد 2، صفحہ 310، طبع دھلی

ملا علی قاری حنفی

فقہ حنفیہ کے ترجمان ملا علی قاری اپنی رائے یوں پیش فرماتے ہیں:
"ابو بکر و عمر کی توہین کرنے والے کو کافر کہنا اور اسے قتل کرنا نہ صحابہ سے ثابت ہے اور نہ ہی تابعین سے اور آئمہ ثلاثہ یعنی امام ابو حنیفہ، امام محمد اور امام ابو یوسف کے نزدیک تو ایسے شخص کی گواہی بھی قابل قبول ہے۔
حوالہ: سلالتہ الرسالہ صفحہ 19، طبع اردن
اور اسی بات پر مزید بحث کرتے ہوئے آپ اپنی کتاب "شرح فقہ اکبر" میں لکھتے ہیں:
"اور حضرت ابو بکر اور عمر کو گالی دینے سے کوئی کافر نہیں ہو جاتا جیسا کہ ابو شکور سالمی نے اپنی کتاب"تمہید میں اس قول کو صحیح قرار دیا ہے اور اس کا کوئی ثبوت نہیں کیونکہ ہر ایک مسلمان کو گالی دینا گناہ ہے۔ جیسا کہ حدیث رسول(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) میں ثابت ہے اور اس حکم کے تحت ابو بکر و عمر اور تمام مسلم برابر ہیں۔ اور اگر یہ بھی فرض کر لیا جائے کہ کسی نے شیخین (ابو بکر و عمر) بلکہ ان کے ساتھ ختنین (علی و عثمان) کو بھی قتل کر دیا ہے تب بھی ایسا شخص اھل سنت و جماعت کے نزدیک اسلام سے خارج نہیں ہو گا۔ اور یہ بات تو واضح ہے کہ گالی کا درجہ قتل سے کمتر ہے۔"
حوالہ: (شرح فقہ اکبر، صفحہ 86، کانپور)

امام حافظ ابن تیمیہ الدمشقی

ابن تیمیہ اپنی کتاب الصارم المسلول صفحہ 759، طبع مصر میں توہین صحابہ کے عدم کفر کی دلیلیں پیش کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔

"انبیاء کرام کے علاوہ کسی کو سب و شتم کرنے سے کفر لازم نہیں آتا ہے کیونکہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے زمانے میں بعض صحابہ ایک دوسرے کو گالیاں دیتے رہے اور کوئی ان کے کفر کا قائل نہيں ہے۔"

علامہ ابن حجر الہیثمی المکی

مصر کے مشہور محدث ابن حجر تحریر کرتے ہیں۔
"میں نے کسی اہل علم کے کلام میں یہ بات نہیں پائی کہ صحابی کو گالی دینا قتل کو واجب کر دیتا ہو سوائے اس کہ کے ہمارے بعض اصحاب اور اصحاب ابو حنیفہ کے اطلاق کفر کے متعلق آتا ہے۔ مگر انہوں نے بھی قتل کی تصریح نہیں کی۔ اور ابن منذر کہتے ہیں کہ میں کسی شجص کو نہیں جانتا ہوں کہ جو نبی (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے بعد کسی کو گالی دینے والے کا قتل واجب گردانتا ہو۔ "
صواعق محرقہ صفحہ 255، طبع مصر

علامہ علاء الدین الحصکفی الحنفی

آپ اپنی کتاب در المختار باب الامامت صفحہ 76 طبع دھلی میں رقمطراز ہیں۔
"اور جتنے لوگ ہمارے قبلہ کی طرف منہ کر کے نماز ادا کرتے ہیں وہ کافر نہیں ہوتے۔ حتی کہ خارجی بھی کافر نہیں جو ہماری جان و مال کو حلال جانتے ہیں۔ اور جو لوگ صحابہ کو سب کرنا جائز جانتے ہیں اور صفات باری تعالی کے منکر ہیں اور خدا کے دیدار کے جواز کے منکر ہیں یہ لوگ کافر نہیں کیونکہ ان کا اعتقاد تاویل اور شبہ پر مبنی ہے۔ اور ان کے کافر نہ ہونے کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ ان کی گواہی مقبول ہے۔ (یعنی کافر ہوتے تو ان کی گواہی مسلمانوں میں قبول نہ ہوتی۔ چونکہ ان کی گواہی مقبول ہے اس سے معلوم ہوا کہ مسلمان ہیں)۔

علامہ عبد الحئ لکھنوی

بر صغیر کے یہ مشہور عالم ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں۔
"مفتی بہ اور صحیح ترین قول شیعہ کی عدم تکفیر کا ہے۔ اور ابو بکر اور عمر کو سب کرنا موجب کفر نہیں ہے۔ یہی قول ابو حنیفہ کے مذھب کے مطابق ہے۔"
اس کے بعد ابو شکور سالمی کی کتاب التمہید فی بیان التوحید کے حوالے سے تحریر کرتے ہیں۔
" اور جو یوگ یہ کہتے ہیں کہ علی (علیہ السلام) افضل ہیں شیخین سے تو یہ بدعت ہے کفر نہیں۔ اور جو کہتے ہیں کہ علی (علیہ السلام) کے مخالف مثل عائشہ و معاویہ کے لعنت بھیجنا واجب ہے، یہ سب بدعت ہے کفر نہیں ہے۔ کیونکہ یہ تاویل سے صاور ہوا ہے۔ اس کلام کا حاصل یہ ہے کہ صحابہ کو سب کرنے کی وجہ سے شیعہ کو کافر کہنا محققین کے مذھب کے سراسر خلاف ہے"
(مجموعہ الفتاوی' جلد 1، صفحہ 3 اور 4، طبع لکھنؤ)

مولانا رشید احمد گنگوہی

ان کے نزدیک صحابہ کو ملعون اور مردود کہنے والا سنت و جماعت سے خارج نہیں ہوتا۔ سوال و جواب ملاحضہ فرمائیں۔
سوال۔ صحابہ کو ملعون اور مردود کہنے والا،کیا اپنے اس کبیرہ گناہ کی وجہ سے سنت و جماعت سے خارج ہو جائے گا؟
جواب۔ وہ اپنے اس کبیرہ گناہ کی وجہ سے سنت و جماعت سے خارج نہیں ہو گا۔
(ملخصا" از فتاوی' رشیدیہ، جلد 2، صفحہ 130، طبع دھلی)

مولانا محمد رفیق اثری مدرس دارالعلوم محمدیہ ملتان لکھتے ہیں۔

"صحیح یہ ہے کہ قتل کی سزا صرف نبی (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی ذات پر بیہودہ گوئی پر دی جا سکتی ہے۔ جیسا کہ ابو بکر نے فرمایا کہ نبی کے بعد کسی کو کہ استحقاق نہیں ہے کہ اس پر تنقید کی وجہ سے ناقد کو قتل کر دیا جائے۔ (سنن نسائی)"
(السیف المسلؤل مترجم صفحہ 520، طبع ملتان)
اہل حدیث کے نامور عالم حافظ محمد ابراہیم سیالکوٹی بحوالہ صارم المسلول لکھتے ہیں۔
"نبی (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کو گالی دینے کی سزا قتل ہے کسی امیر المومنین کو گالی دینے والے کو محض اس بناء کے قتل نہیں کیا جا سکتا"
(احیاء االمیت مع تنویر الابصار صفحہ 46 طبع لاہور)

جسٹس ملک غلام علی (جماعت اسلامی)

"میں کہتا ہوں کہ سب و شتم کا آغاز اور اس کے جواب میں سب و شتم کا آغاز جس نے بھی کیا بہت برا کیا۔ آج بھی جو ایسا کرتا ہے بہت برا کرتا ہے۔ لیکن یہ جرم بغاوت کے مترادف نہیں ہے۔ اور نہ اس کی سزا قتل ہے۔ بعض علمائے سلف اس بات کے قائل تو ہوئے ہیں کہ شاتم رسول واجب القتل ہے لیکن نبی (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے علاوہ کسی دوسرے کی بد گوئی کرنا یا گالی دینا اسلام میں ہر گز قتل کا موجب نہیں ہے۔"
(خلافت و ملوکیت پر اعتراضات کا تجزیہ صقحہ 272، طبع، لاہور)
مندرجہ بالا بیان سے کہ بات کھل کر سامنے آ جاتی ہے کہ شریعت مقدسہ میں توہین صحابہ پر قتل یا کوئی اور سزا ہوتی تو نبی (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) ضرور اس کو جاری کرتے۔

ناصبی سپاہ صحابہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) پر جھوٹ باندھتے ہیں

سادہ لوح مسلمانوں کو دھوکہ دینے کے لیے اور اہل تشیع کے خلاف نفرت کا بیچ بونے کے لیے ناصبی سپاہ صحابہ جناب رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) پر جھوٹ باندھنے سے بھی باز نہیں آتی اور ایسی روایات جس پر علماء کا اتفاق ہے کہ جھوٹی اور گھڑی ہوئی ہیں، ان کو خوب اچھالتی ہے۔ مثال کے طور پر سپاہ صحابہ مندرجہ ذیل ایسی جھوٹی روایات کو خوب اچھال رہی ہے:
www.kr.hcy.com جو کہ سپاہ صحابہ کی آفیشل ویب سائٹ ہے، اپنے انگلش سیکشن میں لکھتی ہے۔

(1) "IN THE LATTER TIMES, A GROUP WILL APPEAR WHO WILL BE CALLED RAFIDA. THESE PEOPLE WOULD HAVE GIVEN UP ISLAM". (MASNAD AHMAD, VOL. I. P. 103)

ترجمہ:
"آنے والے وقتوں میں ایک گروہ نمودار ہو گا جس کا نام رافضی ہو گا۔ یہ لوگ اسلام چھوڑ چکے ہوں گے۔(مسند امام احمد بن حنبل، جلد 1، صفحہ 103)
ناصبی سپاہ صحابہ کو اتنی بھی توفیق نہیں ہے کہ کم از کم حوالہ تو ایمانداری کے ساتھ دے دیں۔ یہ روایت امام احمد بن حنبل کے بیٹے کی طرف سے مسند امام احمد میں ایک اضافہ ہے۔ اور اس گھڑی ہوئی روایت کے راوی حضرات کو دیکھیں:
راوی حضرات کا سلسلہ ایسے ہے:
"محمد بن سلیمان اور محمد بن جعفر۔ یحیی' بن متوکل ۔ کثیر بن اسمعیل ۔ ابراہیم ۔ الحسن بن الحسن ۔ الحسن بن علی ۔ علی۔
1۔ ابو عقیل یحیی' بن المتوکل (وفات 167 ہجری):
امام احمد بن حنبل ، یحیی' بن معین، ابن المدینی، ابن فلاس اور دوسرے علماء نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔
2۔ کثیر بن اسماعیل:
ابو حاتم، امام نسائی اور دوسرے علماء نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔ تہذیب الکمال اور المذی کی ناموں کی فہرست میں دیکھیں۔
آگے سپاہ صحابہ لکھتی ہے:
(2) "AFTER ME THERE WILL EMERGE A GROUP WHO WILL BE KNOWN BY THE NAME OF RAFIDA. HENCE IF YOU GET HOLD OF THE, KILL THEM BECAUSE THEY ARE MUSHRIKS (POLYTHESISTS) . . . . . . . . . . . . . -- THESE PEOPLE WILL ABUSE ABU BAKAR AND UMAR AND WHOSO ABUSES MY SAHABAH, WILL BE ACCURSED BY ALLAH, ANGELS AND ALL THE HUMAN BEINGS." (DAR-UL-KUTNI).
ترجمہ:
میرے بعد ایک گروہ نمودار ہو گا، جو کہ رافضی کے نام سے پکارا جائے گا۔ چنانچہ اگر تم ان کو دیکھو تو قتل کر دینا کیونکہ وہ مشرک ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ یہ لوگ ابو بکر و عمر کو گالیاں دیں گے اور جو میرے اصحاب کو گالیاں دیں گے، اس پر اللہ، فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت ہو گی۔ (دار قطنی)
ناصبی حضرات کی تیسری جھوٹی حدیث یہ ہے:
(3) Abdullah ibn Abbaas (may Allah be pleased with them) reported that The Messenger (may peace be upon him) said: "There will be, at the end of the time, people who are called Rawafid (rejecters). They will reject Islam and spit it out. Thus, KILL THEM for they are polytheist."
ترجمہ:
عبد اللہ ابن عباس (ر) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا، "آخری زمانے میں کچھ لوگ ہوں گے جن کو رافضی کے نام سے پکارا جائے گا۔ یہ لوگ اسلام کو رد کر دیں گے ۔ پس جہاں انہیں پاؤ قتل کر دو کہ یہ مشرک ہیں۔"
یہ سب گھڑی ہوئی روایات ہیں اور نبی (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) پر جھوٹ باندھا گیا ہے۔ خصوصا" وہ ناصبی بیوقوف جس نے تیسری حدیث (جو کہ رافضی کے زمانے کے آخر میں نمودار ہونے کے متعلق ہے) گھڑی ہے، کیا اس کا خیال تھا کہ زمانے کا اختتام پہلی صدی میں ہی ہو گیا تھا (یعنی رافضی تو پہلی صدی میں ہی پیدا ہو گئے تھے اور آج تک چلے آ رہے ہیں)؟
دوسرا یہ کہ "رافضی کا لفظ نبی (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے زمانے میں موجود ہی نہ تھا بلکہ بعد میں ناصبیوں نے گھڑا ہے۔
حتی' کہ ناصبیوں کے شیخ الاسلام ابن تیمیہ کو بھی تحریر کرنا پڑا:
"یہ بات بالکل واضح ہے کہ ایسی تمام روایات کہ جن میں رافضی کا لفظ استعمال ہوا ہے وہ سب جھوٹی روایات ہیں۔"
(منہاج السنہ، پرانا ایڈیشن، جلد 1، صفحہ 8)
 (جاری ہے۔۔۔۔)

0 comments:

Post a Comment