فيسبوک گروپ

12/25/2010

عزاداری:قمہ زنی اور آیت اللہ سیستانی

اس بات میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ عزاداری امام حسین (ع) اسلام کی شہہ رگ ہے اور آج اسلام جو زندہ ہے وہ اسی عزاداری امام حسین (ع) کا مرھون منت ہے لیکن کچھ عرصہ سے قبل عزاداری امام حسین (ع) میں تشیع دشمن لوگوں نے اس میںاختراعات  کا اضافہ  کرنا شروع کردیا ہے ،اور انہی اختراعات میں سے ایک اختراع قمہ و زنجیر زنی کی اختراع کو داخل کرنا ہے اور یہ ابو ھریرہ صفت لوگوں نے اس اختراع کو فروغ دینے کے لئے مجتھدین عظام پر جھوٹ بولنا شروع کر دیا کہ مراجع عظام نے قمہ و زنجیر زنی کو جائز قرار دیا ہے ،حالانکہ جمھور مراجع عظام نے اس فعل کو قبیح اور ناجائز قرار دیاہے نیز یہ مذھب حقہ کی توھین کا بھی سبب ہے.قمہ،زنجیر اور شمشیر زنی عرف عام میں اظہار غم اور حزن کا مظہر شمار نہیں کی جاتی ،آئمہ(ع) اور ان کے بعد والے دور میں اس کا کوئی وجود نہیں تھا اور نہ ہی امام (ع) کی طرف سے مذکورہ عمل کی خاص یا عام طور تائید ملتی ہے  .لہذا یہ عمل کسی بھی حال میں جائز نہیں ہے.حال ہی میں ایک غالی و شیخی صفت نے آیت اللہ سیستانی پر جھوٹ بولا کہ آغا نے قمہ زنی کو جائز قرار  دیا لیکن آیت اللہ سیستانی کے دفتر نے اس بات کی شدت سے تردید کی ہے کہ آغا نے ایسا کوئی فتویٰ صادر نہیں کیاہم ایک معتبر خبروں کی ویب سایٹ ابنا
 سے اس بات کی تردید کو نقل کر رہے ہیں
 ،

 مومنین ملاحظہ کریں 

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ نے شیعیان حجاز سے وابستہ ویب سائٹ "الراصد" کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ اہل تشیع کے مرجع تقلید آیت اللہ العظمی سیستانی کے دفتر نے نجف اشرف میں باضابطہ خط میں اس بات کی تردید کی ہے کہ "آیت اللہ العظمی سیستانی قمہ زنی کی تأئید کرتے ہیں!"۔ 
نجف میں آیت اللہ العظمی سیستانی کے دفتر نے بحرین کے نامور شیعہ عالم دین حجۃالاسلام و المسلمین شیخ «عبدالعظیم مہتدی بحرانی» کے نام باضابطہ خط بھیج کر لکھا ہے: "آیت اللہ العظمی سیستانی کی طرف سے قمہ زنی کی تأئید کے سلسلے میں آپ جناب کا دعوی نادرست اور جھوٹا ہے۔"
قابل ذکر ہے کہ شیخ عبدالعظیم المہتدی نے "قمہ زنی کیوں" کے عنوان سے ایک کتاب لکھی ہے جس میں قمہ زنی کے اثبات کی خاطر انھوں نے آیت اللہ العظمی سیستانی سے چارزائرین کی ملاقات کا حوالہ دیا ہے اور شیخ المہتدی کے بقول ان زائرین نے دعوی کیا تھا کہ "آیت اللہ العظمی سیستانی نے کہا ہے کہ قمہ زنی حسینی شعائر اور جائز عزاداریوں میں سے ہے۔ 
قابل ذکر ہے کہ شیخ «عبدالعظیم مہتدی بحرانی» بحرین کے علماء میں سے ہیں جو 1974 میں 14 سال کی عمر میں حصول علم کے لئے نجف چلےگئے اور 4 سال گذارنے کے بعد بحرین واپس لوٹے اور اپنی تبلیغی سرگرمیوں کا آغاز کیا۔ انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعد انھوں نے بانی اسلامی جمہوریہ حضرت آیت اللہ العظمی امام خمینی رحمةاللہ علیہ کی تقلید شروع کردی۔ 
عراق نے ایران پر جنگ مسلط کی تو انھوں نے صدام اور بعثی حکومت کی شدید مذمت کی جس کی وجہ سے بحرین کے حکمرانوں نے انہیں گرفتار کرکے تین سال تک شدید ترین تشدد اور ذہنی و جسمانی آزار و اذیت کا نشانہ بنایا۔ وہ 1980 میں بحرین سے جلاوطن کئے گئے اور تہران اور قم میں دینی علوم کے حصول میں مصروف رہے۔
شیخ «عبدالعظیم مہتدی بحرانی» بحرین میں قمہ زنی کے سخت حامی ہیں جس کے لئے انھوں نے مندرجہ بالا حوالے کا سہارا لیا تھا۔

0 comments:

Post a Comment