فيسبوک گروپ

12/29/2010

کيا قرآن بکری کھا گی تھی؟

احمق ضیعف العقیدہ ناصبی حضرات شیعوں پر یہ بھی الزام لگاتے ہیی کہ شیعوں کا قرآن بکری کھا گی تھی, افسوس کہ ان لوگوں نے اپنی کتب کا مطالعہ کیا ہوتا تو معلوم ہوتا کہ آیا کہ وہ کتب وہ بکری کن کی تھی

آئیے تو دیکھتے ہیں


ام المومنین عائشہ سے روایت ہے رجم کی آیت اتری اور برے آدمی کو دس بار دودھ پلا دینے کی اور یہ دونوں آیتیں ایک کاغز پر لکھی تھیں میرے تخت کے تلے جب آنحضرت( ص) کی وفات ہوئی اور ہم آپ کی وفات میں مشغول تھے اور گھر کی پلی ہوئی بکری آئی اور وہ کاغز کھا گئی
(سنن ابن ماجہ شریف جلد2 کتاب النکاح)






یہ روایت بالکل استدلال کے قابل ہے کیونکہ ابن اسحاق نے حدثنی کہ کر سماع کی تصریح کر دی ہے .
(مسند احمد بن حنبل ، ج 43،ص342)

واضح رہے کہ یہ روایت جس میں ابن اسحاق کی سماع کی تصریح موجود ہے،وہ مسند احمد میں مروی ہے


ابن اسحاق اھل سنت اور اھل حدیث علمائے کے نزدیک ثقہ ہیں .ہم یہاں صرف ایک ایسے بندے کی تو ثیق پیش کریں گے ،ابن اسحاق کے متعلق ،جس کو سلفی حضرات رد نہیں کر سکیں گے .

حافظ ابن تیمیہ ،ابن اسحاق کے متعلق بیان کرتا ہے کہہ:

"اور ابن اسحاق جب حدثنی کہیں تو وہ اھل حدیث کے نزدیک ثقہ ہیں اور ابن اسحاق کی بیان کر دہ یہ سند جید (اچھی) ہے ."

(مجموع فتاوٰٰی ،ج 33،ص 85)


منددرجہ بالا روایت مندرجہ ذیل کتب اھل سنت میں بھی موجود ہے
مسند ابو یعلیٰٰ ،ج 8،ص 64، 
مسندابو یعلی ٰ کے محقق نے کہا ہے کہ یہ روایت مسند احمد میں اسناد صحیح کے ساتھ بھی موجود ہے

تاویل مختلف الحدیث ،ص 210
سنن دارقطنی ، ج 5،ص 316


تو گویا ثابت ہوا کہ یہ کتاب اور بکری اہلسنت کی ہی ہے مزید بتاتا چلو کہ یہ گھر کی پلی ہوئی بکری اماں عائشہ کی ہو گی

1 comments:

Anonymous said...

better

Post a Comment