حصه دوم
ہم نے یہ آیئنہ دکھا ہے تم لوگوں کو کے اصل مے کس کی بکر ی نے قرآن کھایا تھا ناصبی حضرات ہم پر طعن کرتے ہیں کہ کہ شیعوں کا قرآن تو بکری کھاگی تھی تو ہم نے ثابت کیا ہے لہذا بکری تو کھاگی تھی تبی تو ابھی تک تم لوگوں کو آیت رجم ہی نہں ملی اور تم کہہ رہے ہو وہ آیت کو اور جگہ اور کی لوگوں نے حفظ بھی کی تھی تو ہمئں دکھائیے گا ضرور ویسے میں نے سن رکھا ہے آیت رجم کی منسوخ ہونے کی روایتب بھی نہں ہے اور میاں عمر صاحب تو کہتے تھے کہ یہ آیات موجود تھی پہلے اگر یہ اندیشہ نہ ہو کہ عمر نے کتاب میں خدا میں زیادتی کردی تو میں اپنے ہاتھ سے آیت رجم لکھ دیتا (بخاری ج4)
شیعہ امامیہ کا قرآن کے متعلق جو عقئدہ ہے وہ مئں مختصر بیان کرتا ہوں
ہم قرآن کو آخری مقدس الہامی اور منزل من اللہ کتاب اور اس کے ہر حکم کو واجب العمل جانتے ہیی اور اس کو تمام عالمین کے لئے رشد و ہدایت کے لئے بے عیب دستور العمل تسلیم کرتے ہیں اور حق اور باطل میں تمیز کا واحد معیار مانتے ہیں شیعہ اسی قرآن کو پرھتے ہیں اور پرھتے ہیں اور اس کے اکرام و احترام کو لازم سمجتے ہیں
ہمارئے شیعہ علما بھی قرآن کی صحت کے قائل ہئیں اور اسی قرآن کو مکمل قرآن تسلیم کرتے ہیں جئساکہ رئیس المعدثین جناب شیخ صدوق اپنے رسلہ اعتقاددیہ میں فرماتے ہئں ہمارا عقیدہ قرآن مجیدکے متعلق یہ ہے کہ وہ قرآن خدواند عالم نے اپنے نبی پرنازل فرمایا تھا وہی ہے جو دفتین کے درمیان لوگوں کے پاس موجود ہے اس سے زیادہ نہیں ہے اور جوشخص ہماری طرف سے یہ نسبت دیتا ہے کہ ہم اس سے زیادہ کے قائل ہیں وہ جھو ٹا ہے
ایسا ہی عقئدہ ہمارئے دیگر علما ( سیدمرتضی ،علامہ شیخ طوسی، علامہ طبرسی ،علامہ حامد حسینی، علامہ بلاغی ،علامہ حائری،علامہ خوی وغیرہ وغیرہ) نے بھی اسی چیز کا اقرار کیا ہے ہاں البتہ ہم اتنا ضرور کہتے ہیں کہ اس قرآن کی ترتیب اس کے نزول کے مطابق نہیں اور بعض سوروں کی بعض آیات دوسروے بعض سوروں میں درج ہوگی ہیں اور یہ کھلی ہوئی حقیقت ہے جسکا مخلفین نے بھی اقرار کیاہے اور جب تم کوئی روایت تنقدن پیش کروں گئے تو ہم اسکی تاوئل ضرور دئے گئے اور یہ بھی دکھائے گے اہلسنت میں بھی تحریف قرآن پر روایت موجود ہے
شیعہ امامیہ کا قرآن کے متعلق جو عقئدہ ہے وہ مئں مختصر بیان کرتا ہوں
ہم قرآن کو آخری مقدس الہامی اور منزل من اللہ کتاب اور اس کے ہر حکم کو واجب العمل جانتے ہیی اور اس کو تمام عالمین کے لئے رشد و ہدایت کے لئے بے عیب دستور العمل تسلیم کرتے ہیں اور حق اور باطل میں تمیز کا واحد معیار مانتے ہیں شیعہ اسی قرآن کو پرھتے ہیں اور پرھتے ہیں اور اس کے اکرام و احترام کو لازم سمجتے ہیں
ہمارئے شیعہ علما بھی قرآن کی صحت کے قائل ہئیں اور اسی قرآن کو مکمل قرآن تسلیم کرتے ہیں جئساکہ رئیس المعدثین جناب شیخ صدوق اپنے رسلہ اعتقاددیہ میں فرماتے ہئں ہمارا عقیدہ قرآن مجیدکے متعلق یہ ہے کہ وہ قرآن خدواند عالم نے اپنے نبی پرنازل فرمایا تھا وہی ہے جو دفتین کے درمیان لوگوں کے پاس موجود ہے اس سے زیادہ نہیں ہے اور جوشخص ہماری طرف سے یہ نسبت دیتا ہے کہ ہم اس سے زیادہ کے قائل ہیں وہ جھو ٹا ہے
ایسا ہی عقئدہ ہمارئے دیگر علما ( سیدمرتضی ،علامہ شیخ طوسی، علامہ طبرسی ،علامہ حامد حسینی، علامہ بلاغی ،علامہ حائری،علامہ خوی وغیرہ وغیرہ) نے بھی اسی چیز کا اقرار کیا ہے ہاں البتہ ہم اتنا ضرور کہتے ہیں کہ اس قرآن کی ترتیب اس کے نزول کے مطابق نہیں اور بعض سوروں کی بعض آیات دوسروے بعض سوروں میں درج ہوگی ہیں اور یہ کھلی ہوئی حقیقت ہے جسکا مخلفین نے بھی اقرار کیاہے اور جب تم کوئی روایت تنقدن پیش کروں گئے تو ہم اسکی تاوئل ضرور دئے گئے اور یہ بھی دکھائے گے اہلسنت میں بھی تحریف قرآن پر روایت موجود ہے
سب سے زیادہ مضحکہ خیز بات قرطبی (سنی مفسر) نے کہا جس کی بات کو آج کل کے غیر شیعہ دھراتے ہیں
قرطبی فرماتے ہیں:
وأما ما يحكى من أن تلك الزيادة كانت في صحيفة في بيت عائشة فأكلتها الداجن فمن تأليف الملاحدة والروافض
اور جو یہ حکایت (روایت) بیان کی جاتی ہے کہ رجم کی آیت ایک صحیفے میں تھی جو جناب عائشہ کے گھر میں تھا جسکو بالآخر بکری گھا گئی. یہ ملحد اور روافض (شیعوں) کی اختراع ہے
وأما ما يحكى من أن تلك الزيادة كانت في صحيفة في بيت عائشة فأكلتها الداجن فمن تأليف الملاحدة والروافض
اور جو یہ حکایت (روایت) بیان کی جاتی ہے کہ رجم کی آیت ایک صحیفے میں تھی جو جناب عائشہ کے گھر میں تھا جسکو بالآخر بکری گھا گئی. یہ ملحد اور روافض (شیعوں) کی اختراع ہے
حوالہ: تفسیر قرطبی، جلد 14، صفحہ 113
مزيد حوالاجات
سنن الدارقطني
حياة الحيوان الکبريٰ
المحلي










0 comments:
Post a Comment