حج تمتع انجام دینے کے بعد جب 29 ذی الحجہ مطابق 16دسمبر 2009 کے شام کو رحمتہ للعالمین کے شھر مدینہ منورہ میں حاضر ہونے کی سعادت نصیب ہوئی۔ 17 دسمبر کو آداب حرم کے مطابق وقت سحر رحمة للعالمین کی چوکھٹ پر حاضری کی دیرینہ آرزو پوری ہوئی۔ حرم مقدس میں داخل ہونے کی اجازت حاصل کرنے کی دعا پڑتے ہوئے باب جبرئیل علیہ السلام ڈھونڈنے لگا جب حرم کے قریب پہنچا تو ایک معمور وہابی عالم صاحب سے پوچھا کہ باب جبرئیل کہاں ہے تو اس نے جواب میں دیا کہ یہاں کوئی باب جبرئیل نہیں ہے جبکہ مجھے بعد میں پتہ چلا کہ میں اس وقت باب جبرئیل کے بائیں جانب کھڑا تھا۔اور اس دروازے پر جلی حروف سے باب جبرئیل لکھا ہوا ہے۔تو کم کم احساس ہونے لگا کہ یہاں الٹی گنگا بہہ رہی ہے۔ مجھے معلوم نہیں تھا کہ آنحضرت کی چوکھٹ پر داخل ہونے کے لئے اذن دخول پڑھنا شرک ہے جبکہ سورہ احذاب آیت 53 میں نبی کے گھر میں اجاز ت کے بغیر داخل ہونے سے منع کرتا ہے(?ا ا??ا الذ?ن امنوا لا تدخلوا ب?وت النب? الا ان ?ؤذن لکم) لیکن وھابیوں کا اپنا مخصوص اسلام ہے جس کا اسلامی مسلکوں (حنفی ، شافعی ، مالکی اور جعفری )میں سے کسی ایک بھی مسلک کے آیات و روایات کی روشنی میں ہم آہنگ تعبیر کم ہی نظر آتا ہے۔ ان کے لئے خدا وہی ہے جو ان کی دلیل کے مطابق خدا ثابت ہو جائے۔پیغمبر وہی ہے جو انکی تائید کے ساتھ پیغمبر کہلائے ، اسی طرح قرآنی تعلمیات کا مفہوم و مقصود وہی ہے جو ان کی تعبیر کے مطابق ہو۔ حضرت ختم مرتبت رحمةللعالمین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات مبارک کے بارے میں صرف وہ تعبیر صحیح ہے جس پر وہابی اپنا مہر تصدیق ثبت کریں۔
جہان پر ہم حرم مقدس میں داخل ہونے کے لئے دعا میں کہتے ہیں کہ۔۔۔ اے اللہ میرا عقیدہ ہے کہ اس حرم مقدس کا احترام آنحضرت کی غیبت میں ویسا ہی ہے جیسا کہ آپ کے حضور میں تھا۔۔۔ آپ مجھے دیکھ رہیں ہیں اور میری سلام کا جواب دیتے ہیں۔۔۔ وھابی دین کے مطابق ایسے کلمات زبان پر جاری کرنا شرک ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وھابی عقیدے کے مطابق معاذاللہ نہ ہمیں دیکھ سکتے ہیں اور نہ ہی ہماری باتیں سن سکتے ہیں بلکہ وہ مردہ ہیں (معاذاللہ)۔ حرم میں داخل ہونے پر متوجہ ہوا کہ جو کوئی عاشق آنحضرت ،منقلب حالت میں آنحضرت کے ساتھ اظہار ارادت کرنے کے غرض سے یا حاضر ی کی سعادت کو محسوس کرنے پر آنحضرت کے تئین اپنی ارادت اور محبت کا اظہار کرنا چاہتا ہے تو اسے شرک کہا جاتا ہے۔ مسجد نبوی میں موجود آنحضرت سے منسوب یادوں سے متبرک ہونے کو شرک کہا جاتا ہے انہیں بوسہ دینا شرک کہا جاتا ہے جبکہ اسلامی فرقوں( حنفی ، شافعی ، مالکی اور جعفری) کے کسی بھی ایک امام نے اسے شرک نہیں کہا ہے لیکن وھابی اسے شرک سمجھتے ہیں۔
جہان پر ہم حرم مقدس میں داخل ہونے کے لئے دعا میں کہتے ہیں کہ۔۔۔ اے اللہ میرا عقیدہ ہے کہ اس حرم مقدس کا احترام آنحضرت کی غیبت میں ویسا ہی ہے جیسا کہ آپ کے حضور میں تھا۔۔۔ آپ مجھے دیکھ رہیں ہیں اور میری سلام کا جواب دیتے ہیں۔۔۔ وھابی دین کے مطابق ایسے کلمات زبان پر جاری کرنا شرک ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وھابی عقیدے کے مطابق معاذاللہ نہ ہمیں دیکھ سکتے ہیں اور نہ ہی ہماری باتیں سن سکتے ہیں بلکہ وہ مردہ ہیں (معاذاللہ)۔ حرم میں داخل ہونے پر متوجہ ہوا کہ جو کوئی عاشق آنحضرت ،منقلب حالت میں آنحضرت کے ساتھ اظہار ارادت کرنے کے غرض سے یا حاضر ی کی سعادت کو محسوس کرنے پر آنحضرت کے تئین اپنی ارادت اور محبت کا اظہار کرنا چاہتا ہے تو اسے شرک کہا جاتا ہے۔ مسجد نبوی میں موجود آنحضرت سے منسوب یادوں سے متبرک ہونے کو شرک کہا جاتا ہے انہیں بوسہ دینا شرک کہا جاتا ہے جبکہ اسلامی فرقوں( حنفی ، شافعی ، مالکی اور جعفری) کے کسی بھی ایک امام نے اسے شرک نہیں کہا ہے لیکن وھابی اسے شرک سمجھتے ہیں۔
مجھے جنت البقیع کے تہہ خانے میں لیا گیا اور ایک کمرے کی طرف ھدایت کی گئی اور وہاں پر بٹھایا گیا ، اس دوران اس وہابی عالم نے دوسرے چیلوں کو وائرلیس پر پیغام دیا اور ایک ایک کرکے ان کا اسی کمرے میں جمع ہونا شروع ہوا اور میں گنتا گیا یہاں تک ان کی تعداد اٹھارہ ہو گئی۔ جبکہ اس کے بعد بھی کئی افراد اس کمرے میں داخل ہوئے لیکن ان کو گن نہ سکا۔ جب میرے ساتھ بحث مباحثہ شروع ہوا پہلا جملہ یہی تھا کہ تمہارے امام جانتے ہیں کہ تم یہاں ہو ؟، کیا وہ ہماری باتیں سنتے ہیں ؟۔یہ میرے اذن دخول پڑھنے پر تعنہ تھا۔ جیسا کہ میں نے مقدمے میں بھی اشارہ کیا کہ حرم میں داخل ہونے پر اذن دخول پڑھا۔ کیونکہ اللہ نے حکم دیا ہے کہ نبی کے گھر میں اجازت کے بغیر داخل مت ہوا کرو اور ہم حرم میں داخل ہونے پر پہلے اجازت کے کلمات دوہراتے ہیں اور اللہ اسکے رسول(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)ائمہ ھدی (علیہم السلام) اور ملائکہ سے اجازت طلب کرکے داخل ہو جاتے ہیں اور اظہار کرتے ہیں کہ آپ ہماری باتیں سنتے ہیں ہماری سلام کا جواب دیتے ہیں وغیرہ۔۔۔ اور وہابی اسے بھی شرک کہتے ہیں۔وہابی تو آنحضرت کو مردہ سمجھتے ہیں تو اوصیائ اور اولیائ کو کیوں کر مردہ نہ سمجھیں گے۔ لیکن میں نے اپنے عقیدے کے اعتبار سے کہا کہ جی ہاں وہ جانتے ہیں لیکن ساتھ کہا کہ میں یہاں پر آیا کہ آپ مجھے میری کتاب میں دکھائیں کہ کہاں پر صحابہ پر لعنت لکھی گئی ہے۔ کہنے لگے کیا زیارت عاشور میں صحابہ کے نام لعنت نہیں لکھی گئی ہے ۔ میں نے کہا دکھاو کہاں ہے تو نکال کر دکھایا یہاں پر لکھا ہے الہم لعن اول ظالم ظلم حق محمد وآل محمد ثم ثانی ثم ثالث۔ پہلے ظالم سے مراد حضرت ابوبکر ہے دوسرے ظالم سے مراد حضرت عمر ہے اور تیسرے ظالم سے مراد حضرت عثمان ہے۔ میں نے جواب میں کہا کہ اس میں ان تینوں کا نام کہاں ہے۔ کہنے لگا یہ رمزی لعنت ہے۔
میں نے سمجھ لیا کہ مجھے بس پھسانا چاہتے ہیں البتہ البتہ میں نیواضح کیا کہ ہاں ابوسفیان ، معاویہ اور یزید کو لعنت کرتے ہیں۔اگر آپ مجھے اس پر قتل کرنا چاہتے ہیں تو آپ اپنا کام انجام دیں۔ اس پر نرمی دکھائی اور کہنے لگے کہ کشمیر میں تو شیعہ نہیں ہیں آپ کو گمراہ کیا ہوگا آپ شیعہ نہیں ہو سکتے ہیں۔میں نے کہا کہ خدا مجھے تشیع سے محروم نہ کرے مجھے فخر ہے کہ میں شیعہ ہوں۔ تو کہنے لگے کہ شیعہ مسلمان نہیں ہیں وہ تو صفوی دور کی ایجاد ہے۔ شیعہ تو یہودیوں کا ٹولہ ہے جو مسلمانوں کو توڑنے کے لئے وجود میں لایا گیا ہے۔ یہاں تک میں محسوس کررہا تھا کہ عقیدہ پر بات ہو رہی ہے لیکن جب انہوں نے شیعوں کو یہودی ٹولہ کہتے ہوئے حضرت آیت اللہ العظمی سید روح اللہ موسوی خمینی (قدس سرہ شریف)کو اہانت آمیز الفاظوں کے ساتھ یاد کیا اور انہیں یہودیوں کا ایجنٹ کہا تو میرا دماغ چکرانے لگا۔میں نے سوال کیا آپ امام خمینی کے بارے میں ایسا سونچتے ہو تو کہا کہ اس نے صحابہ کو لعنت کہی ہے میں نے اپنے آپ کو سبھالنے کی کوشش کی اور جواب دئے بغیر اس پر خاموش رہا لیکن وہ مجھے جذبات سے بو قابو کرنا چاہتے تھے اور مجھ سے کوئی غیر شعوری غلطی انجام دلانے کے در پے تھے لیکن اللہ کا شکر بجالاتا ہوں کہ میں اپنے جذبات پر قابو پانے میں کامیاب رہا۔ جبکہ اس پر مجھے کہا گیا کہ شیعہ کا دین ہی جھوٹ پر ہے ، تقیہ کر رہے ہو نا۔ میں نے کہا کہ میں کہاں تقیہ کررہا ہوں ، میں نے کہا کہ میں شیعہ ہوں آپ کو جو کرنا ہے کیجئے۔ آپ کو میرا ذبح کرکے اپنا دین پالنا ہے ، آپ شوق سے مجھے ذبح کریں۔ک
سی نے اس بیچ کہا کہ شیعہ کافر سور، کتا ہے اس کی ھدایت نہیں ہو گی۔ میں نے کہا کہ پھر اپنا وقت کیوں ضایعہ کرتے ہو۔ اگر شیعہ کافر ہے مشرک ہے تو اسے حج پر کیوں آنے دیتے ہو۔ آپکی حکومت ہے۔تو جواب میں کہنے لگے کہ آپکا کلمہ پڑھنا ہمارے ہاتھ باندھتے ہیں۔ میں نے کہا توکیا کلمہ گو کے ساتھ ایسا سلوک کیا جاتا ہے۔اس پر پوچھا کہ علی کا قاتل کون ہے میں نے جواب میں کہا کہ ابن ملجم ہے ، پھر پوچھا کہ حضرت عمررضی اللہ تعالی عنہ کا قاتل کون ہے میں نے کہا کہ مجھے نہیں معلوم۔تم کیسے مسلمان ہو ایک خلیفہ کے قاتل کا نام جانتے ہو اور دوسرے کانہیں، میں نے کہا کہ علی میرا امام بھی ہے اور چوتھا خلیفہ بھی ہے اور حضرات ابوبکر ، عمر اور عثمان صرف خلیفہ میرے امام نہیں ہیں۔کہا وہ کیا ہوا ، امام اور خلیفہ کیا الگ الگ ہیں۔ میں نے کہا جی ہاں۔اس پر پوچھا کہ علی کو امام مانتے ہو تو بتاو حضرت ابوبکر اور حضرت عمر کے زمانے میں وہ کس کے پیچھے نماز پڑتا تھا۔ میں نے کہا حضرت ابوبکر اور حضرت عمر کے پیچھے تو کہنے لگے تو پھر وہ امام کیسے ہو گیا۔ جو خود امام ہوگا وہ کیسے دوسرے کے پیچھے نماز پڑ سکتا ہے۔میں نے کہا اس کا جواب روز قیامت میں اپنے مولی علی مرتضی علیہ السلام نے پوچھوں گا۔ اس پر سبھی ہسنے لگے کہ تم شیعہ کافر یہی منافقت کرتے ہو۔ میں نے کہا کہ میں نے کیا منافقت کی یقینا میں اس پر ان سے سوال کروں گا کہ آپ نے ان کے پیچھے کیوں نماز پڑی۔ یہاں پر میں نے ان سے کہا کہ صرف اس بات کو واضح کرنا چاہتا ہوں کہ حضرات ابوبکر ، عمر اور عثمان کو کوئی شیعہ لعنت نہیں کہتا نہ کہہ سکتا ہے کیونکہ علی مرتضی چوتھے خلیفہ ہیں۔ جب شیعوں کے امام ، امام علی علیہ السلام نے ان تین خلیفو ں کو تسلیم کیا ہے علی کو ماننے والا شیعہ کیسے ان تینوں کے نام برے الفاظ استعمال کرسکتا ہے۔ البتہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ابوسفیان ، معاویہ اور یزید کو لعنت کہنے سے کوئی بھی شیعہ باز نہیں آسکتا ہے کیونکہ قرآن کی تعلیم کے رو سے وہ اس کے مستحق ہیں (ظالم اور جھوٹے پر تو اللہ کی لعنت ہے)۔اس پر انہوں نے کہا کہ ابوسفیان تو پیغمبر اسلام کا خسر ہے۔ میں نے بحث کو پھر ختم کرنے کی کوشش کی اور پھر اپنی بات دھرائی کہ میں بحث کرنا نہیں چاہتا مجھے بتائو میری کتاب میں کہاں پر صحابہ پر لعنت لکھی گء ہے۔تو انہوں نے اسکا جواب دینے کے بجائے ایک اور موضوع چھیڑا کہ شیعہ امام بارہ کیوں بناتے ہیں۔ میں نے کہا کہ مسجد میں وہاں کے احکامات کا لحاظ و احترام کرنا ہوتا ہے اور امام بارے میں ایسے قیود نہیں ہیں وہاں کھا ،پی بھی سکتے ہیں۔ اس پر کہا کہ اسلام میں ایک ہی جگہ ہے اور وہ مسجد ہے دوسری جگہ منافقوں نے مسجد ضرار بنائی تھی جسے اللہ نے نابود کرنے کا حکم دیا اور مسجد ضرار شیعوں کا امام بارہ ہے۔میں نے دیکھا کہ میں یہاں پر کوئی بات نہیں سمجھا سکوں گا اور معذرت خواہی کرکے کہا کہ میں عالم نہیں ہوں۔میں آپ لوگوں کے ساتھ بحث نہیں کرسکتا۔ میں بحث کرنا نہیں چاہتا تھا اور مجادلے سے بچنا چاہتا تھا۔ لیکن پتہ نہیں وہ مجھ سے در اصل کیا چاہتے تھے۔ کسی ایک موضوع پر بات نہیں کرتے تاکہ ان کا مقصد پتہ چلتا کہ وہ مجھ سے کیا چاہتے تھے البتہ اتنا تو سمجھ سکا کہ وہ ایران کے بارے میں میرا نظریہ جاننا چاہتے تھے اور کسی نہ کسی بہانے سے ایران پر حملہ کرتے رہتے تھے۔ کبھی امام خمینی (رضوان اللہ تعالی علیہ)کے نام گرامی کے نسبت نہایت ہی غلیظ ، اہانت آمیز الفاظ استعمال کرتے اور کبھی صرف لفظ ایران یا ایرانی کہہ کرکیاہانت کرتے تھے۔یہاں تک کہ میری کتاب پر ایران کے آرم کا عکس تھا جو کہ اللہ لکھا ہوا ہے اس کی طرف اشارہ کرکے کافروں ، مشرکوں اور یہودی لابی کے ایجنٹ کہہ کر اپنے دل کی بڑھاس نکال رہے تھے۔ایک نے پوچھا کہ امریکہ ، روس اور برطانیہ میں مسجدیں آباد ہیں لیکن ایران وہاں ہمارے بھائیوں کو مسجد بنانے نہیں دیتا۔اس پر میں نے کہامیں نے ایک دن کسی سنی اخباری ایڈیٹر کے ایڈیٹوریل میں پڑھا ، جو کہ ایران کا سفر کرکے آیا تھا ، اس نے لکھا تھا کہ ایران اسلامی تعلیمات کا نمونہ ہے جہاں شیعہ اکثریت ہونے کے باوجود سنی نہایت آسایش کے ساتھ رہ رہے ہیں اور وہاں شیعہ مسجدوں کے ساتھ ساتھ سنی مسجدیں بھی آباد ہیں۔ اس پر غصے میں کہا کہ کیا ایڈیٹر ایڈیٹر لگا رکھا ہے۔ ایران مسلمانوں کوتوڑنے اور یہودی منصوبوں میں رنگ بھرنے کا کام کررہا ہے۔ایسی باتیں سن کر میری حیرانگی میں صرف اضافہ ہو رہا تھا اور اسلام کی یتیمی پر رونا آرہا تھا۔
میں نے سمجھ لیا کہ مجھے بس پھسانا چاہتے ہیں البتہ البتہ میں نیواضح کیا کہ ہاں ابوسفیان ، معاویہ اور یزید کو لعنت کرتے ہیں۔اگر آپ مجھے اس پر قتل کرنا چاہتے ہیں تو آپ اپنا کام انجام دیں۔ اس پر نرمی دکھائی اور کہنے لگے کہ کشمیر میں تو شیعہ نہیں ہیں آپ کو گمراہ کیا ہوگا آپ شیعہ نہیں ہو سکتے ہیں۔میں نے کہا کہ خدا مجھے تشیع سے محروم نہ کرے مجھے فخر ہے کہ میں شیعہ ہوں۔ تو کہنے لگے کہ شیعہ مسلمان نہیں ہیں وہ تو صفوی دور کی ایجاد ہے۔ شیعہ تو یہودیوں کا ٹولہ ہے جو مسلمانوں کو توڑنے کے لئے وجود میں لایا گیا ہے۔ یہاں تک میں محسوس کررہا تھا کہ عقیدہ پر بات ہو رہی ہے لیکن جب انہوں نے شیعوں کو یہودی ٹولہ کہتے ہوئے حضرت آیت اللہ العظمی سید روح اللہ موسوی خمینی (قدس سرہ شریف)کو اہانت آمیز الفاظوں کے ساتھ یاد کیا اور انہیں یہودیوں کا ایجنٹ کہا تو میرا دماغ چکرانے لگا۔میں نے سوال کیا آپ امام خمینی کے بارے میں ایسا سونچتے ہو تو کہا کہ اس نے صحابہ کو لعنت کہی ہے میں نے اپنے آپ کو سبھالنے کی کوشش کی اور جواب دئے بغیر اس پر خاموش رہا لیکن وہ مجھے جذبات سے بو قابو کرنا چاہتے تھے اور مجھ سے کوئی غیر شعوری غلطی انجام دلانے کے در پے تھے لیکن اللہ کا شکر بجالاتا ہوں کہ میں اپنے جذبات پر قابو پانے میں کامیاب رہا۔ جبکہ اس پر مجھے کہا گیا کہ شیعہ کا دین ہی جھوٹ پر ہے ، تقیہ کر رہے ہو نا۔ میں نے کہا کہ میں کہاں تقیہ کررہا ہوں ، میں نے کہا کہ میں شیعہ ہوں آپ کو جو کرنا ہے کیجئے۔ آپ کو میرا ذبح کرکے اپنا دین پالنا ہے ، آپ شوق سے مجھے ذبح کریں۔ک
سی نے اس بیچ کہا کہ شیعہ کافر سور، کتا ہے اس کی ھدایت نہیں ہو گی۔ میں نے کہا کہ پھر اپنا وقت کیوں ضایعہ کرتے ہو۔ اگر شیعہ کافر ہے مشرک ہے تو اسے حج پر کیوں آنے دیتے ہو۔ آپکی حکومت ہے۔تو جواب میں کہنے لگے کہ آپکا کلمہ پڑھنا ہمارے ہاتھ باندھتے ہیں۔ میں نے کہا توکیا کلمہ گو کے ساتھ ایسا سلوک کیا جاتا ہے۔اس پر پوچھا کہ علی کا قاتل کون ہے میں نے جواب میں کہا کہ ابن ملجم ہے ، پھر پوچھا کہ حضرت عمررضی اللہ تعالی عنہ کا قاتل کون ہے میں نے کہا کہ مجھے نہیں معلوم۔تم کیسے مسلمان ہو ایک خلیفہ کے قاتل کا نام جانتے ہو اور دوسرے کانہیں، میں نے کہا کہ علی میرا امام بھی ہے اور چوتھا خلیفہ بھی ہے اور حضرات ابوبکر ، عمر اور عثمان صرف خلیفہ میرے امام نہیں ہیں۔کہا وہ کیا ہوا ، امام اور خلیفہ کیا الگ الگ ہیں۔ میں نے کہا جی ہاں۔اس پر پوچھا کہ علی کو امام مانتے ہو تو بتاو حضرت ابوبکر اور حضرت عمر کے زمانے میں وہ کس کے پیچھے نماز پڑتا تھا۔ میں نے کہا حضرت ابوبکر اور حضرت عمر کے پیچھے تو کہنے لگے تو پھر وہ امام کیسے ہو گیا۔ جو خود امام ہوگا وہ کیسے دوسرے کے پیچھے نماز پڑ سکتا ہے۔میں نے کہا اس کا جواب روز قیامت میں اپنے مولی علی مرتضی علیہ السلام نے پوچھوں گا۔ اس پر سبھی ہسنے لگے کہ تم شیعہ کافر یہی منافقت کرتے ہو۔ میں نے کہا کہ میں نے کیا منافقت کی یقینا میں اس پر ان سے سوال کروں گا کہ آپ نے ان کے پیچھے کیوں نماز پڑی۔ یہاں پر میں نے ان سے کہا کہ صرف اس بات کو واضح کرنا چاہتا ہوں کہ حضرات ابوبکر ، عمر اور عثمان کو کوئی شیعہ لعنت نہیں کہتا نہ کہہ سکتا ہے کیونکہ علی مرتضی چوتھے خلیفہ ہیں۔ جب شیعوں کے امام ، امام علی علیہ السلام نے ان تین خلیفو ں کو تسلیم کیا ہے علی کو ماننے والا شیعہ کیسے ان تینوں کے نام برے الفاظ استعمال کرسکتا ہے۔ البتہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ابوسفیان ، معاویہ اور یزید کو لعنت کہنے سے کوئی بھی شیعہ باز نہیں آسکتا ہے کیونکہ قرآن کی تعلیم کے رو سے وہ اس کے مستحق ہیں (ظالم اور جھوٹے پر تو اللہ کی لعنت ہے)۔اس پر انہوں نے کہا کہ ابوسفیان تو پیغمبر اسلام کا خسر ہے۔ میں نے بحث کو پھر ختم کرنے کی کوشش کی اور پھر اپنی بات دھرائی کہ میں بحث کرنا نہیں چاہتا مجھے بتائو میری کتاب میں کہاں پر صحابہ پر لعنت لکھی گء ہے۔تو انہوں نے اسکا جواب دینے کے بجائے ایک اور موضوع چھیڑا کہ شیعہ امام بارہ کیوں بناتے ہیں۔ میں نے کہا کہ مسجد میں وہاں کے احکامات کا لحاظ و احترام کرنا ہوتا ہے اور امام بارے میں ایسے قیود نہیں ہیں وہاں کھا ،پی بھی سکتے ہیں۔ اس پر کہا کہ اسلام میں ایک ہی جگہ ہے اور وہ مسجد ہے دوسری جگہ منافقوں نے مسجد ضرار بنائی تھی جسے اللہ نے نابود کرنے کا حکم دیا اور مسجد ضرار شیعوں کا امام بارہ ہے۔میں نے دیکھا کہ میں یہاں پر کوئی بات نہیں سمجھا سکوں گا اور معذرت خواہی کرکے کہا کہ میں عالم نہیں ہوں۔میں آپ لوگوں کے ساتھ بحث نہیں کرسکتا۔ میں بحث کرنا نہیں چاہتا تھا اور مجادلے سے بچنا چاہتا تھا۔ لیکن پتہ نہیں وہ مجھ سے در اصل کیا چاہتے تھے۔ کسی ایک موضوع پر بات نہیں کرتے تاکہ ان کا مقصد پتہ چلتا کہ وہ مجھ سے کیا چاہتے تھے البتہ اتنا تو سمجھ سکا کہ وہ ایران کے بارے میں میرا نظریہ جاننا چاہتے تھے اور کسی نہ کسی بہانے سے ایران پر حملہ کرتے رہتے تھے۔ کبھی امام خمینی (رضوان اللہ تعالی علیہ)کے نام گرامی کے نسبت نہایت ہی غلیظ ، اہانت آمیز الفاظ استعمال کرتے اور کبھی صرف لفظ ایران یا ایرانی کہہ کرکیاہانت کرتے تھے۔یہاں تک کہ میری کتاب پر ایران کے آرم کا عکس تھا جو کہ اللہ لکھا ہوا ہے اس کی طرف اشارہ کرکے کافروں ، مشرکوں اور یہودی لابی کے ایجنٹ کہہ کر اپنے دل کی بڑھاس نکال رہے تھے۔ایک نے پوچھا کہ امریکہ ، روس اور برطانیہ میں مسجدیں آباد ہیں لیکن ایران وہاں ہمارے بھائیوں کو مسجد بنانے نہیں دیتا۔اس پر میں نے کہامیں نے ایک دن کسی سنی اخباری ایڈیٹر کے ایڈیٹوریل میں پڑھا ، جو کہ ایران کا سفر کرکے آیا تھا ، اس نے لکھا تھا کہ ایران اسلامی تعلیمات کا نمونہ ہے جہاں شیعہ اکثریت ہونے کے باوجود سنی نہایت آسایش کے ساتھ رہ رہے ہیں اور وہاں شیعہ مسجدوں کے ساتھ ساتھ سنی مسجدیں بھی آباد ہیں۔ اس پر غصے میں کہا کہ کیا ایڈیٹر ایڈیٹر لگا رکھا ہے۔ ایران مسلمانوں کوتوڑنے اور یہودی منصوبوں میں رنگ بھرنے کا کام کررہا ہے۔ایسی باتیں سن کر میری حیرانگی میں صرف اضافہ ہو رہا تھا اور اسلام کی یتیمی پر رونا آرہا تھا۔
0 comments:
Post a Comment