اَوليائے الہى سے توسّل
''توسّل'' قرآنى آيات اور عقل كے آئينہ ميں:
بارگاہ الہى ميں اوليائے الہى سے توسّل كے ذريعہ مادّى اور معنوى مشكلات حل كرانے كا مسئلہ، وہابيوں اور ديگر مسلمانوں كے درميان ايك اہم ترين اور متنازعہ مسئلہ ہے_ وہابى صراحت كے ساتھ كہتے ہيں كہ نيك اعمال كے ذريعے توسّل كرنے ميں كوئي حرج نہيں ہے ليكن اوليائے الہى كے ساتھ توسّل كرنا جائز نہيں ہے كيونكہ وہ لوگ اسے ايك قسم كا شرك سمجھتے ہيں_ جبكہ دنيا كے دوسرے مسلمان اس توسّل كو ( جس كے مفہوم كى ہم وضاحت كريں گے ) جائز سمجھتے ہيں_
وہابيوں كا گمان يہ ہے كہ قرآن مجيد كى آيات اس توسّل سے منع كرتى ہيں اور اسے شرك قرار ديتى ہيں _ من جملہ يہ آيت كريمہ
'' ما نعبد ہم الّا ليقرّبُونا الى اللہ زُلفى '' (1)
يہ آيت فرشتوں كى مانندمعبودوں كے بارے ميں ہے كہ جن كے ليے مشركين كہتے تھے '' كہ ہم اس ليے ان كى پوجا كرتے ہيں تا كہ يہ ہميں خدا كے نزديك كريں'' اور اس بات كو
1) سورة زمر آية 3_
قرآن مجيد نے شرك قرار ديا ہے _ ايك اور آيت ميں يوں ارشاد ربُ العزّت ہے '' فلا تدعوا مع اللہ ا حداً'' خدا كے ساتھ كسى كو نہ پكارو'' (1)
ايك دوسرى روايت ميںيوں بيان كيا گيا ہے '' والّذين يَدعُونَ من دُونہ لا يستجيبون لہم بشيئ:،'' جو غير خدا كوپكارتے ہيں ، وہ انكى كوئي حاجت پورى نہيں كرسكتے ہيں'' (2)
وہابيوں كا توہّم اور خيال يہ ہے كہ يہ آيات اوليائے الہى كے ساتھ توسّل كرنے كى نفى كر رہى ہيں_
اس كے علاوہ وہ ايك اور بات بھى كرتے ہيں وہ يہ كہ بالفرض اگر بعض روايات كى روشنى ميںپيغمبر اكرم(ص) كى زندگى ميں اُن سے توسّل جائز ہو ليكن وفات كے بعد ان سے توسّل كے جواز پر كوئي دليل نہيں ہے_
يہ وہابيوں كے دعووں كا خلاصہ تھا ليكن مقام افسوس يہ ہے كہ اسى قسم كى بے دليل باتوںكى خاطر وہابيوں نے بہت سے مسلمانوں پر شرك اوركفر كى تہمتيں لگائيں اور ان كے خون بہانے كو مباح قرار ديا ہے ، اسى طرح انكے مال كو مباح جانا ہے _ اسى بہانے بہت سا خون بہايا گيا اور بہت سا مال غارت كيا گيا ہے_
اس وقت جبكہ ہم انكے عقيدہ كو سمجھ چكے ہيں بہتر ہے كہ اصل مسئلہ كى طرف لوٹ كر اسى توسّل كے مسئلہ كو بنيادى طور پر حل كريں_
1) سورہ جن ، آية 18_
2) سورة رعد، آيہ 14_
سب سے پہلے ہم '' توسل'' كو لغت، آيات اور روايات كى روشنى ميں ديكھتے ہيں: سب ميں '' توسّل'' وسيلہ كے انتخاب كے معنى ميں استعمال ہوتا ہے اور وسيلہ اس چيز كو كہاجاتا ہے جو انسان كوكسى دوسرے سے قريب كرے
لغت كى مشہور كتاب '' لسان العرب'' ميں توسّل كو يوں بيان كيا گيا ہے _
''وصَّل الى الله وسيلةً اذا عَمل عملاً تقرب اليہ والوسيلة ما يتقرّب بہ الى الغير; خدا كى طرف توسّل كرنا اور وسيلہ منتخب كرنا يہ ہے كہ انسان ايسا عمل انجام دے جس سے اسے خدا كا قرب نصيب ہو ، اور وسيلہ اس چيز كے معنى ميں ہے جس كے ذريعے انسان دوسرى چيز سے نزديك ہوتا ہے ''
مصباح اللغة ميں بھى يوں ہى بيان كيا گيا ہے : '' الوسيلة ما يتقرّب بہ الى الشيء و الجمع الوسائل'' وسيلہ اس شے كوكہتے ہيں جس كے ذريعے، انسان دوسرى شے يا شخص كے نزديك ہوتا ہے اور وسيلہ كى جمع ''وسائل '' ہے_
مقاييس اللغة ميں يوں بيان كيا گيا ہے : '' الوسيلة الرغبة و الطلب'' وسيلة رغبت اور طلب كے معنى ميں ہے'' _
ان لغت كى كتب كے مطابق، وسيلہ، تقرب حاصل كرنے كے معنى ميں بھى ہے اور اس چيز كے معنى بھى ہے جس كے ذريعے انسان دوسرى شے كا قرب حاصل كرتا ہے _ اور يہ ايك وسيع مفہوم ہے.
اب ہم قرآن مجيد كى آيات كى طرف رجوع كرتے ہيں_
قرآن مجيد ميں وسيلہ كى اصطلاح دو آيات ميںاستعمال ہوئي ہے_
1_ سورہ مائدہ كى 35ويں آيت ميں يوں ارشاد ہے :
'' يا ايّہا الّذين آمنو اتقوا الله و ابتغوا اليہ الوسيلة و جاہدُوا فى سبيلہ لعلكم تفلحون''
اس آيت ميں تمام اہل ايمان كو مخاطب قرار دياگيا ہے اورتين دستور بيان كيے گئے ہيں _
اوّل تقوى كا حكم، دوّم، وسيلہ منتخب كرنے كا حكم ، وہ وسيلہ جو ہميںخدا سے نزديك كرے_ سوّم : راہ خدا ميںجہاد كرنے كا حكم، ان مجموعہ صفات ( تقوى ، توسّل اور جہاد) كانتيجہ وہى چيز ہے جسے آيت كے آخر ميں بيان كياگيا ہے: '' لعلكم تفلحون'' يعنى يہ صفات تمہارى فلاح اور رستگارى كا باعث ہيں''
2_ سورة اسرا كى آيت 57 ميںوسيلہ كا تذكرہ كياگيا ہے _ آيت 57 كے معنى كو سمجھنے كے ليے ہميںپہلے آيت 56 كامطالعہ كرنا چاہيے جس ميں يوں ارشاد ہے
''قل ادعوا الّذين زَعمتم من دُونہ فَلا يملكونَ كشفَ الضُرّ عنكم و لا تحويلاً''
اے پيغمبر: كہہ ديجئے كہ خدا كے علاوہ تم جنہيں پكارتے ہو اور انہيں اپنا معبود تصوّر كرتے ہو انہيں پكار كر ديكھ لوكہ وہ تمہارى مشكل كوحل كريں، وہ تمہارى كوئي مشكل حل نہيں كرسكتے ہيں اور نہ ہى كسى قسم كى تبديلى لاسكتے ہيں''
''قُل ادعوا الّذين'' والے جملہ سے معلوم ہوتا ہے كہ اس آيت ميں معبودوں سے مراد بت يا اس قسم كى كوئي اور چيزنہيں ہے ، كيونكہ كلمہ الذين صاحب شعور اور صاحب عقل افراد كےليے استعمال كياجاتا ہے_ لہذا اس آيت ميں وہ فرشتے مراد ہيں جنہيں لوگ پوجتے تھے يا حضرت عيسى مراد ہيں كہ ايك گروہ معبود كے عنوان سے انكى پرستش كرتا تھا_ يہ آيت بيان كررہى ہے كہ نہ فرشتے اور نہ ہى حضرت عيسى (ع) تمہارى مشكل كو حل كرسكتے ہيں _
بعد والى آيت ميںيوں ارشاد ہے '' اولئك الّذين يَدعُون يبتغون الى ربّہم الوسيلة ; خود يہ لوگ ( فرشتے اور حضرت عيسى (ع) ) وہ ہيں جو خداوند كى بارگاہ ميں وسيلہ كے ذريعہ تقرب حاصل كرتے ہيں وہ وسيلہ كہ ايہم اقرب جو سب سے زيادہ نزديك ہو '' و يرجون رحمة'';اور اللہ تعالى كى رحمت كى اميد ركھتے ہيں'' '' و يخافون عذابہ '' اور اس كے عذاب سے ڈرتے ہيں كيونكہ '' انّ عذاب ربك كان محذوراً ; تيرے پروردگار كاعذاب ايسا ہے جس سے سب ڈرتے ہيں''_
وہابيوں كى سب سے بڑى غلطى يہ ہے كہ وہ گمان كرتے ہيں كہ اوليائے الہى كے ساتھ توسّل كا مفہوم يہ ہے كہ انہيں ( كاشف الضر) سمجھا جائے يعنى انہيں مستقل طور پر مشكلات كا حل كرنے والا سمجھا جائے اور قضائے حاجات اور دفع كر بات كا سرچشمہ سمجھا جائے حالانكہ توسّل كا يہ معنى نہيں ہے _
جن آيات كو وہابيوں نے پيش كيا ہے وہ عبادت كے بارے ميں بيان كرتى ہيں _ حالانكہ كوئي بھى اوليائے الہى كى عبادت نہيں كرتا ہے _
ہم جس وقت پيغمبر اكرم(ص) كے ساتھ توسّل كرتے ہيں كيا انكى عبادت كرتے ہيں؟ كيا ہم پيغمبر اكرم(ص) كو اللہ تعالى كے علاوہ مستقل طور پر مؤثر اور كاشف ضر سمجھتے ہيں؟
جس توسّل كى طرف قرآن مجيد نے دعوت دى ہے وہ يہ ہے كہ اس وسيلہ كے ذريعے خدا كے نزديك ہوں، يعنى يہ ذوات مقدّسہ، بارگاہ خدا ميں شفاعت كرتى ہيں_ وہ چيز جو ہم نے شفاعت كے بارے ميں بيان كى ہے_
در حقيقت توسّل كى واقعيّت اور شفاعت كى واقعيّت ايك ہى ہے_ بہت سى آيات شفاعت كو ثابت كرتى ہيں اور دو آيات توسل كو بيان كرتى ہيں دلچسپ بات يہ ہے كہ سورة مائدہ كى 57 نمبر آيت '' ايہم اقرب'' كے ذريعے توسّل كو بيان كرتى ہے يعنى فرشتے اور حضرت عيسى (ع) بھى اپنے ليے وسيلہ منتخب كرتے ہيں وہ وسيلہ جو زيادہ نزديك ہے ''ہم'' جمع كى ضمير ہے جو صاحب عقول كے ليے استعمال كيجاتى ہے_ يعنى اوليائے الہى اور صالحين كے ساتھ توسّل كرتے ہيں، ان صالحين ميں سے ہر ايك خدا كے نزديك تر ہيں_
بہرحال سب سے پہلے واضح ہونا چاہيے كہ اوليائے الہى كے ساتھ توسّل كيا ہے؟
كيا يہ توسّل ان كى عبادت اور پوجا كرنا ہے؟ ہرگز ايسا نہيں ہے_
كيا انہيں مستقل طور پر مؤثر جاننا ہے؟ ہرگز ايسا نہيں ہے_ كيا انہيںمستقل طور پر قاضى الحاجات اوركاشف الكربات جاننا ہے؟ ہرگز ايسا نہيں ہے بلكہ يہ ذوات مقدّسہ اس شخص كے ليے جس نے انكے ساتھ توسّل كيا ہے خداوندعالم كى بارگاہ ميں شفاعت اور سفارش كرتى ہيں_ اس كى مثال ايسے دى جاسكتى ہے كہ ميں كسى بڑى شخصيّت كے گھر جانا چاہتا ہوں وہ مجھے نہيں جانتا ہے ، ميں ايك ايسے شخص كوواسطہ بناتا ہوں كہ جو مجھے بھى جانتا ہے اور اس كے اس شخصيت كے ساتھ بھى تعلقات ہيں_ اسے كہتاہوں كے آپ ميرے ساتھ چليں اور اس شخصيت كے ساتھ ميرا تعارف كراديں اور سفارش كرديں_ يہ كام نہ تو عبادت ہے اور نہ ہى تاثير ميںاسے مستقل سمجھنا ہے_
يہاں مناسب يہ كہ ہم '' ابن علوي'' كا كلام نقل كريں جو انہوں نے اپنى مشہور كتاب ''مفہوم يجب ان تصحّح'' ميں بيان كيا ہے_ وہ كہتے ہيں كہ بہت سے لوگوں نے توسّل كى حقيقت كے سمجھنے ميں غلطى كى ہے_ اس ليے ہم (اپنى نظر كے مطابق) توسّل كا صحيح مفہوم پيش كرتے ہيں_ اور اسے بيان كرنے سے پہلے محترم قارى كى توجہ چند نكات كى طرف مبذول كراتے ہيں_
1_ توسّل دعا كا ايك انداز ہے اور حقيقت ميں اللہ تبارك و تعالى كى طرف توجّہ كرنے كا ايك دروازہ ہے، پس ہدف اور اصلى مقصد اللہ تعالى ہے، اور جس شخصيّت كے ساتھ آپ توسّل كر رہے ہيں وہ واسطہ اور تقرب بہ خدا كا وسيلہ ہے، اگر كوئي توسّل ميں اس كے علاوہ كوئي عقيدہ ركھتا ہوتو وہ مشرك ہے_
2_ جو انسان كسى شخصيّت كے وسيلہ سے اللہ تعالى كى بارگاہ ميں حاضرى ديتا ہے حقيقت ميں يہ انسان كا اسى شخصيّت كے ساتھ اظہار محبّت ہے اوروہ اس شخصيت كے بارے ميں اعتقاد ركھتا ہے كہ وہ اللہ تعالى كے ہاں مقرّب ہے اور بالفرض اگر مسئلہ الٹ ثابت ہوجائے تو وہى انسان اس شخصيّت سے مكمل طور پر دورى اختيار كرليتا ہے بلكہ اس كى مخالفت كرنے لگتا ہے_ تو ہميں يہاں تك معيار كا علم ہوگيا ہے كہ توسّل كا معيار خداوند كے نزديك اس شخصيّت كا مقربّ ہونا ہے_
3_ اگر توسّل كرنے والا انسان اس بات كا عقيدہ ركھتا ہو كہ ( متوسّلٌ بہ) جس شخصيّت كے ساتھ اس نے توسّل كيا ہے، وہ ذاتى اور مستقل طور پر نفع ونقصان پہنچانے ميں اللہ تعالى كى طرح ہے، تو ايسا انسان مشرك ہے _
4_ توسّل كوئي واجب يا ضرورى چيز نہيںہے اور نہ ہى يہ دعا قبول ہونے كا منحصر راستہ ہے، اہم چيز دعا ہے اور خداوند كى بارگاہ ميں حاضر ہونا ہے جس صورت ميں بھى ہو_ جيسا كہ خود خداوند نے ارشاد فرمايا ہے كہ ''واذا سا لك عبادى عنّى فانّى قريبٌ''(1)
''ابن علوى مالكي'' اس مقدمہ كو بيان كرنے كے بعد، توسّل كے بارے ميں اہلسنت كے علما، فقہاء اور متكلمين كے نظريات بيان كرتا ہے_ اور كہتا ہے كہ اعمال صالحہ كے ذريعے توسّل الى اللہ كى مشروعيّت ( جواز) كے بارے ميں مسلمانوں كے درميان كوئي اختلاف نہيں ہے يعنى انسان نيك اعمال كے وسيلہ سے اللہ تعالى كا تقرب حاصل كرنے كى كوشش كرے، يہ اختلافى مسئلہ نہيں ہے_ مثلاً كوئي روزہ ركھتا ہے، نماز پڑھتا ہے، قرآن مجيد كى تلاوت كرتا ہے، صدقہ ديتا ہے اور ان اعمال كے ذريعے اللہ تعالى كا تقرب حاصل كرنے كى كوشش كرتا ہے_ يہ چيز مسلّماً صحيح ہے_
اس قسم كے توسّل كو حتى كہ سلفيوں نے بھى قبول كيا ہے _ من جملہ ''جناب ابن تيميّہ نے اپنى مختلف كتب ميں بالخصوص اپنى كتاب '' القاعدة الجليلة فى التوسّل و الوسيلة'' ميں اس قسم كے توسّل كو قبول كيا ہے_
ابن تيميّہ نے اس قسم كے توسّل يعنى نيك اعمال كے ذريعے توسّل كے جواز كے بارے ميں تصريح كى ہے_ پس اختلاف كہاں ہے؟
كيا اختلاف ، اعمال صالحہ كے علاوہ توسّل كے بارے ميں ہے؟ مثلاً اوليائے الہى كے ساتھ توسّل كيا جائے اور يوں كہا جائے : اللّہم انّى اتوسّل اليك بنبيك محمّد(ص) ;
1) سورہ بقرة آيہ 186 (ترجمہ )جب ميرے بندے مجھ سے سوال كرتے ہيں تو ميں قريب ہوں'' _
بارالہا ميں تيرى بارگاہ ميں تقرب كے ليے تيرے نبى محمد مصطفى صلّى اللہ عليہ و آلہ و سلم كى ذات كو وسيلہ بناتا ہوں_ اس كے بعد ابن علوى اضافہ كرتے ہوئے يوں لكھتے ہيں كہ اس معنى ميں اختلاف اور وہابيوں كا اوليائے الہيسے توسّل كا انكار كرناحقيقت ميں صرف ظاہرى اور لفظى اختلاف ہے، واقعى اورحقيقى اختلاف نہيں ہے_
باالفاظ ديگر صرف لفظوں كا نزاع ہے_كيونكہ اوليائے الہى كے ساتھ توسّل حقيقت ميںانكے نيك اعمال كے ساتھ توسّل ہے اور يہ ايك جائز امر ہے_
پس اگر مخالفين بھى انصاف اور بصيرت كى نگاہ سے ديكھيں تو انكے ليے مطلب واضح اور اعتراض ختم ہوجائيگا، اسطرح فتنہ خاموش جائيگا_ اورمسلمانوں پر مشرك اور ضلالت كى تہمت لگانے كى نوبت نہيں آئيگي_
اس كے بعد موصوف اس مطلب كى وضاحت كرتے ہوئے لكھتے ہيں كہ جوانسان بھى اوليائے الہى كے ساتھ توسّل كرتا ہے اس ليے ہے كہ وہ ان سے محبّت كرتاہے_
اور كيوں اس كے ساتھ محبت كرتا ہے؟ اس ليے كہ اس انسان كا عقيدہ ہے كہ وہ شخص اللہ كا نيك بندہ ہے، يا اس ليئےہ وہ شخص اللہ كے ساتھ محبت كرتا تھا_ يا اللہ تعالى اس كے ساتھ محبّت كرتا ہے_ يا يہ كہ انسان اس وسيلہ كو پسند كرتا ہے اور اس كے ساتھ محبت كرتا ہے_ جب ہم ان تمام امور ميں غور و فكر كرتے ہيں تو ديكھتے ہيں كہ ان سب كے باطن ميں عمل پوشيدہ ہے يعنى حقيقت ميں يہ خدا كى بارگاہ ميں نيك اعمال كے ذريعے توسّل ہے_ اور يہ وہى چيز ہے جس پر تمام مسلمانوں كا اتفاق ہے_(1)
1) كتاب مفاہيم يجب ان تصحّح ص 116، 117_
البتہ ہم بعد ميں بيان كريں گے كہ اوليائے الہى كے ساتھ توسّل اگر چہ انكى شان اور مقام كى خاطر ہو نہ انكے نيك اعمال كى خاطر اس اعتبار سے كہ يہ ذوات مقدسہ خداوند كى بارگاہ ميں آبرومند ، عزيز اور سربلند ہيں يا كسى بھى خاطر يہ توسّل ہو، تو جب تك انہيں تاثير ميں مستقل نہ سمجھيں بلكہ اللہ تعالى كى بارگاہ ميں انہيں شفيع سمجھيں تو ايسا توسّل نہ كفر ہے اور نہ خلاف شرع_
قرآن مجيد ميں متعدّد مقامات پر اس قسم كے توسّل كى طرف اشارہ كيا گياہے شرك تو تب ہوتا ہے كہ ہم كسى چيز كو اللہ تعالى كے مقابلے ميں مستقل طور پر مؤثر سمجھيں_ وہابيوں كى غلطى يہ ہے كہ انہوں نے اس آيت '' ما نعبدہم الّا ليقرّبونا الى اللہ زلفي'' (1) ميں ''عبادت اور ''شفاعت'' كو آپس ميں مخلوط كرديا ہے_ اور يہ گمان كيا ہے كہ شفاعت بھى شرك ہے_ حالانكہ ان واسطوں كى عبادت كرنا شرك ہے نہ انكى شفاعت اور انكے ساتھ توسل كرنا شرك ہے _ (غور كيجيئے
(جاری ہے۔۔۔۔۔۔)
والسلام
شعبان 1426 ھ ق
ناصر مكارم شيرازي
Original Source:http://www.rab-e-ghairat.com/
0 comments:
Post a Comment