فيسبوک گروپ

12/25/2010

فقہُُ الحدیث: آیا حالت روزہ میں غبار کو حلق تک پہنچانا،مفسد روزہ اور موجب قضا ہے یا نہیں

ہم سب سے پہلے احادیث کی طرف روجوع کرتے ہیں کہ وہ اس بارے میں کیا حکم صادر کرتی ہیں.وسائل الشیعہ میں ہم کو اس بارے میں دو  قسم کی  متعضاد روایات ملتی ہیں.ہم باری باری ان روایات کا تجزیہ کرتے ہیں.

 محمد بن الحسن بإسناده عن محمد بن الحسن الصفار، عن محمد بن عيسى، عن سليمان بن جعفرالمروزي قال: سمعته يقول: إذا تمضمض الصائم في شهر رمضان أو استنشق متعمدا أو شم رائحة غليظة أو كنس بيتا فدخل في انفه وحلقه غبار فعليه صوم شهرين متتابعين، فان ذلك له مفطر مثل الاكل والشرب والنكاح

(وسائل الشیعہ،ج7،ص29،حدیث:1)
(تہذیب الاحکام ،ج2،ص29،حدیث:28،کتابالصیام،باب:17)

:ترجمہ
سلیمان بن جعفر سے روایت ہے کہ یہ بیان کرتاہے کہ میں ان (امام موسیٰٰٰ کاظم ع)کو فرماتے ہوئے سنا کہ فرما رہے تھے کہ جب روزہ دار ماہ رمضان میں عمدا``کلی کرے یا ناک میں پانی ڈالے اور حلق تک پہنچائے یا غلیظ بو سو نگھے یا گھر میں جھاڑو دے اور اس کے ناک اور حلق میں غبار داخل ہو جائے تو مسلسل دو ماہ کے روزہ واجب ہیں کیونکہ یہ چیزیں روزہ کو توڑ دیتی ہیں

:سند حدیث کی تحقیق
علامہ مجلسی (رہ) تہذیب ُ الاحکام کی شرح ملاذالاخیار میں اس حدیث کو مجہول کہا ہے 

(ملاذ الاخیار،ج6،ص 557)

:متن حدیث کی تحقیق

اس مجہول حدیث میں کے متن میں بھی تناقض پایا جاتا ہے .مثلا``اس میں عمدا``کلی کرنے یا ناک میں پانی ڈالنے کو مفسد روزہ شمار کیا گیا حالانکہ روزہ دار اگر عمدا`` کلی یا ناک میں پانی ڈالتا ہے خاص طور پر جب وہ وضو کرتا ہے تو اس سے اس کا روزہ باطل نہیں ہوتا،جبکہ روزہ دار یہ کام عمدا``انجام دے رہا ہوتاہے

اس مجہول روایت کے مقابلے میں ہمارے پاس حدیث ہے جو کہ سند کے  لحاظ سے موثق ہے ،وہ اس طرح ہے 
وبإسناده عن أحمد بن الحسن بن علي بن فضال، عن عمرو بن سعيد، عن الرضا (عليه السلام) قال: سألته عن الصائم يتدخن بعود أو بغير ذلك فتدخل الدخنة في حلقه؟ فقال: جائز، لا بأس به، قال: وسألته عن الصائم يدخل الغبار في حلقه؟ قال: لا بأس

(وسائل الشیعہ،ج7،ص30،حدیث:2)

:ترجمہ
عمرو بن سعید بیان کرتے ہیں کہ میں نے امام علی رضا (ع) سے پوچھا کہ ایک روزہ دار عود (لکڑی) وغیرہ دکھا تا ہے اور اس کا دھواں اس کے حلق میں داخل ہو جاتا ہےتو کیا اس کا روزہ ٹھیک ہے?امام (ع) نے فرمایا:جائز ہے.اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے.پھر راوی نے پوچھا کہ اگر روزہ دار کے حلق میں غبار پہنچ جائے?امام (ع) نے فرمایا:کوئی حرج نہیں ہے

:سند حدیث کی تحقیق
:اس حدیث  کی سند میں مندرجہ ذیل راوی ہیں  
 أحمد بن الحسن بن علي بن فضال
 عمرو بن سعيد
 
أحمد بن الحسن بن علي بن فضال
  
امام الخوئی (رہ) نے اس کو ثقہ فطحی کہا ہے . المعجم،ج2،ص76
علام مجلسی (رہ) نے اس  کو موثق قرار دیا ہے.وجیزہ،ص148
علامہ حُُر العاملی (رہ) نے اس کو فطحی اور حدیث میں ثقہ کہا ہے.خاتم وسائل ،ج 20،ص 258
علامہ اردبیلی (رہ) نے بھی ثقہ اور فطحی کہا ہے.جامع رُُواۃ،ج1،ص45

عمرو بن سعيد

امام الخوئی (رہ) نے اس کو ثقہ فطحی کہا ہے .المعجم،ج13،ص98
علام مجلسی (رہ) نے اس  کو موثق قرار دیا ہے.وجیزہ،ص271)
علامہ حُُر العاملی (رہ) نے اس کو ثقہ کہا ہے،اور نصر بن صباح کاقول نقل کیا ہے کہ فطحی ہےاور بعد نصر کے قول کو رد کیا کہ اس کے  قول پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا یعنی یہ فطحی نہیں ہے .خاتم وسائل ،ج 20،ص 31
علامہ اردبیلی (رہ) نے بھی ثقہ کہا ہےاور کہا ہے کہ یہ امام رضا (ع) سے روایت کرتے ہیں.جامع رُُواۃ،ج1،ص62

:نتیجہ

یہ روایت سند کے لحاظ سے موثق ہے اور قابل استدلال اور حجت ہے
ہماری تمام بحث کا نتیجہ یہ نکلا کہ غبار یا دھواں اندر جانے سے روزہ باطل نہیں ہوتا،جیسا کہ امام رضا (ع) سے مروی موثق روایت سے ثابت ہے

0 comments:

Post a Comment