ہے کمسنی میں بھی غازی سا حوصلا اصغر
ہے تیری آنکھوں میں حیدر کا ولولہ اصغر
چلایا تیر حرملا نے گلے پہ تیرے مگر
گیا ہے کانپ تبسم سے حرملا اصغر
یہ کون کہتا ہے پانی کی ہے طلب تم کو
ترستا رہ گیا پانی ہے، نا ملا اصغر
جوان قاسم و اکبر کی طرح تم نے بھی
کِیا عبور کربلا کا مرحلا اصغر
عباس قافلا سالار تھا مگر پھر بھی
ہے تو شہیدوں کا سالارِ قافلا اصغر
یہ کس نے باغی پکارا ہے تیرے بابا کو
کرے وہ دیکھ کہ سر تیرا فیصلا اصغر
حسینی دل یہ تڑپ کر کہ دے رہا ہے صدا
سکھائی تو نے ہی سر دے کہ کربلا اصغر
اسد علی حسینی
ہے تیری آنکھوں میں حیدر کا ولولہ اصغر
چلایا تیر حرملا نے گلے پہ تیرے مگر
گیا ہے کانپ تبسم سے حرملا اصغر
یہ کون کہتا ہے پانی کی ہے طلب تم کو
ترستا رہ گیا پانی ہے، نا ملا اصغر
جوان قاسم و اکبر کی طرح تم نے بھی
کِیا عبور کربلا کا مرحلا اصغر
عباس قافلا سالار تھا مگر پھر بھی
ہے تو شہیدوں کا سالارِ قافلا اصغر
یہ کس نے باغی پکارا ہے تیرے بابا کو
کرے وہ دیکھ کہ سر تیرا فیصلا اصغر
حسینی دل یہ تڑپ کر کہ دے رہا ہے صدا
سکھائی تو نے ہی سر دے کہ کربلا اصغر
اسد علی حسینی
0 comments:
Post a Comment