فيسبوک گروپ

6/06/2011

ہے کمسنی میں بھی غازی سا حوصلا اصغر

ہے کمسنی میں بھی غازی سا حوصلا اصغر
ہے تیری آنکھوں میں حیدر کا ولولہ اصغر

چلایا تیر حرملا نے گلے پہ تیرے مگر
گیا ہے کانپ تبسم سے حرملا اصغر

یہ کون کہتا ہے پانی کی ہے طلب تم کو
ترستا رہ گیا پانی ہے، نا ملا اصغر

جوان قاسم و اکبر کی طرح تم نے بھی
کِیا عبور کربلا کا مرحلا اصغر

عباس قافلا سالار تھا مگر پھر بھی
ہے تو شہیدوں کا سالارِ قافلا اصغر

یہ کس نے باغی پکارا ہے تیرے بابا کو
کرے وہ دیکھ کہ سر تیرا فیصلا اصغر

حسینی دل یہ تڑپ کر کہ دے رہا ہے صدا
سکھائی تو نے ہی سر دے کہ کربلا اصغر

اسد علی حسینی

0 comments:

Post a Comment