فيسبوک گروپ

1/01/2011

اور جب بنی ہاشم کا چاند غروب ہوگیا

علامہ عابد عسکری فاضل قم لاہور
          چھوٹے بچوں نے جن کے سرپر یتیمی کی سیاہ گھٹائیں چھا رہی تھیں باپ کی قبا کا دامن پکڑ کر کہا بابا ہمیں کس کے سہارے چھوڑ کر جا رہے ہو بیوی زیادہ حوصلہ مند تھی مگر شوہر کو موت کے منہ میں جاتے دیکھ کر وہ نہ رہ سکی روتے ہوئے بولی میرے سرتاج میں کیاکروں گی؟ بہن نے کہا زینب ؑ تم پر قربان مگر یہ تو کہو کہ بھیا نے تمہیں تیروں کی بارش میں جانے کی اجازت کیسے دے دی کیا دوسرے عزیزوں کی شہادت کے صدمے کچھ کم تھے کہ انہوں نے کمر توڑ ناگوارا کرلیا۔
          جواں سال بھتیجے نے کہا چچا جان جب تک میرے دم میں دم ہے آپ کو یزیدی بھیڑیوں کے سامنے نہ جانے دوں گا اگر فرات پرجانا ضروری ہے تو یہ خدمت میرے سپرد کیجئے۔ بڑے بھائی نے کہا عباس ؑ میرا سینہ غم و اندوہ کے مارے پھٹا جاتا ہے۔ اور خیام حسینؑ ٹھنڈی سانسوں‘ دلدوز چیخوں اور آسمان شگاف نالوں کے شور سے گونج اٹھے آج حسین ؑ کا چاہنے والا‘ علی ؑ کا شیر معصوم سکینہ ؑ کا سقہ مظلوم کربلا کا دست راست اور لشکر حسینی کا علمدار معراج شہادت حاصل کرنے جا رہا ہے آج بھائی بھائی پر جان قربان کرکے چچا بھتیجی کی پیاس بجھانے کے لیے لہو کی بوندوں کو پانی کے قطروں کی طرح بہانے جا رہا ہے فرشتے اس پر سایہ کئے ہوئے ہیں اور حوریں جنت میں اس کی منتظر آسمانی مخلوق زبان حال سے پکار رہی ہے زندہ باد عباس ؑ

          جب آہ وزاری کا شور کچھ کم ہوا تو عباس ؑ نے بی بی سکینہ ؑ سے مخاطب ہوکر کہا اٹھو بی بی اپنے چچا کو رخصت کرو میں جانتا ہوں کہ پیاس کی وجہ سے تمہارا دم لبوں پر ہے لیکن پانی کی فکر مجھے یہاں کھینچ لائی ہے ساقی کوثر کی پوتی سے اس کی سوکھی ہوئی مشک طلب کروں ا ور فرات کے لبالب کناروں تک پہنچنے کے لیے خون اشقیاء کی ندی بہادوں۔
          آنسوؤں سے لبریز رخسار زرد پڑگئے ہونٹوں پر آئی ہوئی رونے کی آواز رک گئی سینہ پھاڑ کر نکلنے والی چیخیں گلے میں پھنس گئیں پر دیسیوں کا قافلہ عباس نامدار ؑ کا منہ تکنے لگا سکینہ خشک مشکیزہ اپنے چچا کے پاس لے آئی چچا نے فرط محبت میں اسے گود میں اٹھا لیاا ور بولے بی بی تمہارا سقہ جاتا ہے بارگاہ الہی میں دعا کرنا کہ تمہارے بابا کے خادم کی عزت رہ جائے اور وہ تین دن کے پیاسوں کو پانی سے سیراب کرسکے۔
          حضرت عباس ؑ سبز پھریرا اڑاتے ہوئے خیمہ سے باہر نکلے تو دیکھا کہ دشمن خیموں کی طرف بڑھے چلے آتے ہیں اور شہزادہ کونین امام حسین ؑ اور حضرت علی اکبرؑ انہیں پسپا کرنے میں مصروف ہیں حضرت عباس ؑ نے ملاعنہ کی طرف گھوڑا بڑھایا اور فرمانے لگے اے بدبختو ! شان امامت میں یہ گستاخی! بھاگنامت میں ابھی تمہیں اس حرکت کا مزا چکھاتا ہوں خبردار موت سر پر آپہنچی اب مرنے کے لیے تیار ہو جاؤ یا بھاگنے کے لیے۔
          علی ؑ کے شیر کی آواز میں رعد کی سی گرج تھی گھوڑے بدلتے گئے پیادہ سپاہ کے پاؤں اکھڑ گئے شیاطین کے ہاتھوں سے تلواریں چھوٹ گئیں شامی فوج سرا سیمہ ہو کر بہادر غازی کا منہ تکنے لگی علمدار رسول کے بیٹے نے کہا ہاشمی تلواریں نیام سے نکل آئیں۔ غیرت آل رسول جوش میں آگئی کفر ستان عرب میں نعرہ توحید بلند کرنے والے مولا کے فرزند سر ہتھیلی پر لے کرآپہنچے ہم وہ ہیں جنہوں نے غاضر یہ کی سی زمین پر اپنی جانیں قربان کردیں اور درجنت پر دق الباب کرکے دم لیا اب بھی وقت ہے سنبھل جاؤ اور گناہ سے توبہ کرو ورنہ تیغ عباس ؑتمہاری امیدوں اور آرزوؤں کا خون کیے بغیر نیام میں واپس نہ جائے گی اس رجز کو سن کر مارو آگے بڑھا لیکن اس حال میں کہ چہرے پر ہوائیاں آرہی تھیں اور گھبراہٹ میں تلوار کی بجائے نیزہ ہاتھ میں تھا۔
          مارو کا دل خوف کی وجہ سے تیزی کے ساتھ دھڑک رہا تھا لیکن بظاہر ہنس کر بولا اے نوجواں مجھے تیری جوانی اور تیرے بانکپن پر رحم آتا ہے۔ جا اپنی ماں کی گود خالی نہ کر اپنی دلہن کے سہاگ میں آگ نہ لگا خدا کی قسم مجھے کسی پر رحم نہیں آتا۔ لیکن تیری جوانی کو دیکھ کر تجھ پر وار کرنے کو جی نہیں چاہتا۔ جا۔۔۔ بہادران شام کے غضب کے شعلوں کو ہوا نہ دے کہ ان کی ایک چنگاری بھی تیرے خرمن حیات کو پھونک دینے کی طاقت رکھتی ہے۔
          عباس علمدارؑ کی آنکھیں غصہ سے سرخ ہوگئیں تڑپ کر بولے او مردود تو واپس جانے کے لیے کسے کہتا ہے اسے جس کے پدربزرگوار نے بدروحنین کے معرکوں میں اشقیاء کے دانت کھٹے کردیئے اسے جسے شجاعت گھٹی میں ملی؟
          اسے جس نے دشمن کو مارنا سیکھا لیکن اپنی جاں کے خوف سے راہ فرار اختیار کرنا نہ سیکھا سن لے اور کان کھول کر سن لے کہ میں فاتح خیبر کا فرزند ہوں آفتاب اپنی جگہ چھوڑ سکتا ہے چاند اپنے مقام سے ہٹ سکتا ہے ستارے شب کی سیاہی میں ڈوب سکتے ہیں مگر عباس پیٹھ دکھائے یہ ناممکن! اگر تیرے دست و بازو میں طاقت ہے تو وار کر اگر جان عزیز ہے تو جا۔ اس دوزخی کتے عمرو سعد کو بھیج دے۔
          مارو بولا صاحبزادے اتنی چرب زبانی اچھی نہیں اگر زندگی سے بیزار ہے تو تلوار میان میں رکھ دے اور نیزہ سنبھال کیونکہ میں جلدی میں نیزہ ہی اٹھا لایا ہوں پھر میں تجھے اس بڑے بول کا مزہ چکھا دوں گا۔ عباس ؑ نے ہنس کر کہا ہم دشمن کی عاجزی و مجبوری سے فائدہ نہیں اٹھاتے میں تلوار نیام میں رکھ لیتا ہوں تو وار کر اگر عباس ؑ تجھے تیرے ہتھیار سے خاک و خون میں نہ ملا دے تو کہنا یہ کہہ کر علمدار غازی ؑ نے اپنی تلوار نیام میں رکھ لی عباس کو نہتہ پاکر مارو نے نیزے سے وار کیا۔ جونہی نیزے کی نوک ان کے قریب پہنچی علی ؑ کے شیر نے اسے ہاتھ سے پکڑ لیا۔ اور اس زور سے کھینچی کہ اگر مارو نیزے کو ہاتھ سے چھوڑ نہ دیتا تو گھوڑے پر سے زمین پر آرہتا عباس ؑ نامدار نے اسی کے نیزے سے ایک بھرپور ہاتھ رسید کیا تیر گھوڑے کی پیٹھ کو چیرتا ہوا زمین کو چھونے لگا راسوار زمین پرگر پڑا اور اس کے ساتھ مارو بھی خاک نشین ہوگیا۔
          مارو گھبرااٹھا اب اسے موت اپنی آنکھوں کے سامنے رقصاں نظر آنے لگی اس نے چلا کرکہا میری موت سے پہلے گھوڑا میرے پاس پہنچا دو اسی وقت ایک حبشی غلام ایک باد رفتار رہوار لے کر حاضر ہوا لیکن حضرت عباس ؑ ایک ہی جست میں اس کے پاس پہنچ چکے تھے۔ انہوں نے نیزے سے غلام کو دوزخ میں پہنچا دیا اور خود اپنے گھوڑے سے کود کر طاریہ پہ سوار ہوگئے یہ وہ گھوڑا تھا۔ جو شیر خدا نے امام حسین ؑ کو عطا فرمایا تھا بعد ازاں ایک شامی قبیلہ اسے چرا لے گیا تھا۔
          طاریہ پر سوار ہو کر عباس ؑ نے کہا او ملعون اب وار بچا دیکھ تیرا ہی گھوڑا ہے اور تیرا ہی نیزہ یہ کہہ کر انہوں نے ایک ہاتھ ایسا مارا کہ مارو کی لاش پھڑکتی نظر آنے لگی اشقیاء اپنے سردار کی یہ حالت دیکھ کر عباس نامدار ؑ پر پل پڑے اور سینکڑوں تلواریں ایک۔ صرف ایک غازی کا قلع قمع کرنے کے لیے میانوں سے نکل آئیں بلا کا معرکہ ہوا لیکن انجام کار تیغ عباس ظفر مند ہوئی یزیدی کتے ان کے بے پناہ حملوں کے سامنے نہ ٹھہر سکے اور جان بچانے کے لیے بھاگنے لگے عباس ؑ گھوڑے کو ایڑ لگا کر نہر کی جانب جانا چاہتے تھے کہ زیارت امام ؑ کی خواہش نے بے قرارکردیا گھوڑا دوڑا کر بھائی کے پاس پہنچے اور بولے آقا دیکھئے یہ رہوار مارو کی مدد نہ کر سکا لیکن میرے اشارہ پر کنوتیاں بدلتا ہے۔
          امام ؑ نے فرمایا بھیا کیوں نہ ہو حسن بھائی کاگھوڑا ہے مخالف اسے چرالے گئے اب تمہاری شجاعت کے انعام میں تمہیں مل گیا بھائی سے رخصت ہو کر عباس ؑ خیمہ کی طرف گئے بیبیاں انہیں دیکھ کر رونے لگیں ان کی شریک حیات تو رو رو کر بے ہوش ہوئی جاتی تھیں۔ شاید علی ؑ کا شیرانکی تسلی و تشفی کے لیے کچھ دیر اور وہاں ٹھہرتا لیکن باہر سے صدا آئی عباس ؑ پہنچو دشمن نے ہمیں گھیرلیاہے سکینہ کے ماشکی اللہ نگہبان اس خاتون نے جس کی مانگ عنقریب اجڑنے والی تھی حسرت بھرے لہجہ میں یہ الفاظ کہے لیکن عباس ؑ جواب دیئے بغیر دوڑے آقا و مولا کی جان خطرے میں تھی پھر وہ بیوی کے زخم دل پر مرہم رکھنے کے لیے خیمہ میں کیسے بیٹھ رہتے۔
          لڑتے بھڑتے فصیل کو توڑتے تلواروں کی صفوں کو درہم برہم کرتے اور اشقیاء شام کے خون کی ندی بہاتے ہوئے عباس ؑ دریا کے کنارے پہنچ گئے نظر اٹھا کر دیکھا دور دور تک دشمنوں کا نام تک نہ تھا ایک جمعیت بدحواس ہو کر بھاگ رہی تھی کچھ افراتفری میں د ریا کے پار ہوگئے تھے اور کچھ میدان وفامیں بہادروں کی سی موت مرنے کی بجائے فرات کے گہرے پانیوں میں ڈوب رہے تھے سقائے سکینہ نے بھتیجی کی خشک مشک دریا میں ڈال دی اور لجام طاریہ ڈھیلی چھوڑ دی کہ یہ گرمی اور پیاس سے ہانپنے والا جانور پانی پی سکے لیکن طاریہ ۔۔۔ امام حسن ؑ کا رہوار منہ اوپر اٹھا کر جوں کا توں کھڑا رہا گویا زبان حال سے کہہ رہا تھا آقا آل ِ رسول پیاسی ہو اور میں اپنی پیاس بجھالوں یہ کیسے ہوسکتا ہے۔ رہوار اور سوار دونوں دریا سے پیاسے لوٹے مگر سقائے سکینہ کے ایک بازو پر بھتیجی کا پانی سے بھرا ہوا مشکیزہ لٹک رہا تھا۔
          یکایک شور اٹھا اور بھاگنے والے سپاہی عباس علمدار ؑ کی طرف آتے دکھائی دیئے شمر کہہ رہا تھا کہ یہ مشک خیام حسینؑ میں پہنچ گئی تو قیامت ہو جائے گی۔ سقائے سکینہؑ کو جان سے زیادہ مشک عزیز تھی گھوڑے کی رفتار تیز کردی کہ کسی نہ کسی طرح سکینہ ؑ کی امانت اسکے حوالے کردیں لیکن صف بند دشمنوں نے راستہ روک لیا عباس ؑ کے ایک بازو پر مشک لٹک رہی تھی اور دوسرے سے تلوار چلا رہے تھے کسی شقی قلب نے برادر امام کی اس مجبوری سے فائدہ اٹھا کر ایک بازو پروار کیا اور وہ جسم پاک سے علیحدہ ہو کر زمین پر جاپڑا اس کڑیل جوان نے مشک دوسرے بازو پرلٹکادی اور اسی ہاتھ سے تلوار چلانے لگے ایک طرف یہ زخمی شیر تھا ایک بازو سے محروم‘ خون میں لت پت اور کمزوری سے نڈھال دوسری طرف ہزاروں گیدڑ عباس ؑ کا دوسرا بازو بھی کٹ کر گرا تو انہوں نے مشک کا تسمہ دانتوں سے پکڑ لیا اور گھوڑے کو ایڑ لگائی لیکن کہاں تک ایک ملعون نے تیر تاک کر مشک میں مارا اور فرات کا وہ قیمتی پانی جسے شہزادہ علی ؑ نے اپنا خون دے کر حاصل کیا تھا خون عباس ؑ کے ساتھ ساتھ زمین پر بہ گیا اسی وقت حکم بن طفیل نے عباس ؑ مجبور کے فرق مبارک کو گرز سے پاش پاش کردیا۔
          عباس ؑ لڑکھڑا کر گھوڑے سے گرے اور بس ۔۔۔ سب ختم ہوگیا امام حسین ؑ کا دل خون ہو کر بہ گیا۔ نظارہ نہایت خوفناک تھا آہ کیا انسانیت اس قدر ذلیل ہوسکتی ہے؟ بنی ہاشم کا بانکا خاک  و خون میں پڑا تھا اور وہ بزدل جنہیں زندگی میں اس کے قریب آنے کی جرات نہ ہوتی تھی اس کی لاش پر تلواروں اور بھالوں کی ضربات لگا لگا کر اپنے انتقام کی شیطانی آگ بجھا رہے تھے۔
          امام عالی مقام رو دیئے کیوں نہ روتے ان کا بازو کٹ گیا تھا کمر ٹوٹ گئی تھی علی ؑ کا بیٹا امام وقت کا بھائی سکینہ کا ماشکی انہیں داغ مفارقت دے گیا تھا جن و ملائک حیوان و انسان چرند پرند سب جس کی یاد میں آنسو بہا رہے تھے اسے حسین ؑ کیوں نہ روتے لاش کے قریب پہنچ کر یزیدی کتوں کی حیوانیت کا منظر دیکھ کر امام ؑ کو غش آگیا جب ہوش آیا تو پیارے عباس ؑ سے لپٹ کر دھاڑیں مار مار کر رونے لگے نقاہت کے باعث بھائی کو قبر میں اتارنے کی ہمت نہ ہوئی اسے سپرد خدا کرکے چلے اور کہتے گئے علی ؑ کے شیر تم میری امانت ہو میرے بعد اب سید سجاد ؑ ہی تم کو ہاتھ لگائیں گے فرشتوں کی صفیں تمہارا پہرہ دیں گی۔ یہاں تک کہ اسیر مظلوم کے ہاتھ تمہیں قبر میں اتاردیں۔
          خیمہ عصمت میں جب بیبیوں اور بچوں نے عباس ؑ کی بجائے ان کے سبز پھریرے میں لپٹی ہوئی خشک مشک دیکھی تو روتے روتے بے حال ہوگئے آج خیمہ عصمت کی بیبیوں نے پہلی مرتبہ یہ کہاکہ اب ہم بے ردا ہوگئی ہیں۔
          مدینہ میں جب ام البنین  نے بیٹے کی شہادت کی خبر سنی تو یاس و حسرت سے بت بدیوار بن گئیں انہیں یقین نہ آتا تھا کہ عباس ؑ بھی قتل ہوسکتا ہے لیکن موت کی خبریں بہت کم غلط ثابت ہوتی ہیں جب شہادت عباس ؑ کی خبر کی تصدیق ہوگئی تو وہ دیوانوں کی طرح اٹھیں اور بقیع میں جاکر بین کرنے لگیں جب تک زندہ رہیں بقیع سے یہ صدا گیروں کے دل چیرتی رہی آہ عباس ؑ آہ بیٹا۔
          خاندان رسالت کے دشمن بھی وہاں سے گزرتے تو رو دیتے تھے عورتیں بچے بوڑھے اور جوان ام البنین ؑ کی رونے کی آواز سن کر قبرستان کی دیوار سے سر پھوڑ لیتے اور کہتے اماں صرف تم نے ہی اپنا بیٹا نہیں کھویا بنی ہاشم نے اپنا محبوب کھودیا ہے مدینہ کا چاند غروب ہوگیا ہے اور اسے صرف تم ہی نہیں روتیں سارا شہر اس کی یاد میں آنسو بہاتا ہے۔

0 comments:

Post a Comment