فيسبوک گروپ

1/03/2011

صادق آل محمد علیہ السلام


چھٹے امام حضرت صادق آل محمد علیہ السلام کی ١٧ ربیع الاول ٨٣ھ مدینے میں ولادت ہوئی اور ٢٥ شوال ١٤٨ھ ٦٥ سال کی عمر مدینے میں شہادت ہوئی ،آپ کی قبر شریف جنت البقیع میں امام حسن کے پہلو میں ہے ۔
آپ کی امامت ٣٤ سال (١١٤تا ١٤٨) تک تھی ،آپ نے بنی امیہ اور بنی عباس کی جنگ سے بھر پور استفادہ کیا ، یہاں تک کہ لگ بھگ چار ہزار شاگرد کی تربیت کی اور حقیقی اسلام پر ظالم حکمرانوں نے جو پردے ڈال رکھے تھے ،انہیں ہٹایا ۔
منصور دوانیقی دوسرا عباسی طاغوت ١٢ ذی الحجہ ١٣٦ھ کو مسند خلافت پر بیٹھا اور ٦ ذی الحجہ ١٥٨ھ کو دنیا سے گذر گیا ، اس طرح اس نے ٢٢ سال حکومت کی (١) امام کی زندگی کے آخری ١٢ سال خلافت منصور ہی کے زمانے میں گذرے ،آخر کار اسی کے حکم سے زہر سے شہید کیا گیا ۔
پاپی منصور بہت خونخوار طاغوت تھا ،اس نے اپنی حکومت کے تحفظ کے خیال سے بہت سے اہم علوی سادات کو تہہ تیغ کیا ، عظیم مسلمانوں کے خون سے اس کا کہنیوں تک ہاتھ ڈوبا ہوا تھا ۔ (٢(
منصور نے کئی بار امام کو قتل کرنے کا ارادہ کیا لیکن اسے کامیابی نہ ملی ۔ آخر کار زہر سے شہید کیا ۔ اس مطلب کی وضاحت کے لئے ان واقعات پر خاص طور سے توجہ دینی چاہئے ۔
١۔ امام پر منصور کی سختیاں
ایک دن منصور نے اپنے دربار کے وزیر ربیع کو حکم دیا کہ ابھی امام صادق کو یہاں حاضر کرو ۔
ربیع نے حکم کے مطابق امام کو دربار میں حاضر کیا ،منصور نے انتہائی تلخی اور غصے میں امام سے کہا :
خدا مجھے قتل کرے اگر تمہیں قتل نہ کروں ۔ کیا تم میری سلطنت پر اعتراض کرتے رہتے ہو؟

امام نے فرمایا: تمہیں جس نے یہ خبر دی ہے وہ جھوٹا ہے ۔
ربیع کہتا ہے کہ میں نے دیکھا کہ جس وقت امام دربار میں تشریف لا رہے تھے ، آپ کے لب میں حرکت تھی ، منصور کے پہلو میں بیٹھے اس وقت بھی حرکت کر رہے تھے ، لحظہ بہ لحظہ منصور کا غصّہ ٹھنڈا پڑنے لگا ،اس وقت امام منصور کے پاس سے چلے گئے تو میں نے امام کا تعاقب کیا اور قریب جا کر پوچھا: جس وقت منصور کے پاس گئے وہ آپ پر انتہائی غضبناک تھا لیکن جس وقت آپ قریب پہونچے تو آپ کے لب ہل رہے تھے، منصور کا غصہ ٹھنڈا پڑ گیا ، آپ اپنے لب کے اندر کیا حرکت دے رہے تھے ؟
امام نے فرمایا: میرے لب اپنے جد امام حسین کی دعا دہرا رہے تھے وہ دعا یہ ہے ۔
''یا عدّتی عند شدّتی و یا غوثی عند کربتی احرسنی بعینک الّتی لا تنام و اکفنی برکنک الذی لا یرام ''
اے مجھے طاقت عطا کرنے والے دشواریوں میں ، اور اے اندوہ میں پناہ دینے والے اپنی نہ سونے والی آنکھ سے میری حفاظت کر اور مجھے استوار ستون کے سائے میں قرار دے ۔ (3(
٢۔ گھر میں آگ لگا دی
مفضل بن عمر کہتا ہے کہ منصور دوانیقی نے مکہ و مدینہ کے گورنر حسن بن زید کو پیغام بھیجا کہ امام صادق کا گھر جلادو ،اس نے اس حکم پر عمل کیا ۔ پورے گھر میں آگ پھیل گئی تو امام گھر سے باہرتشریف لائے ، آگ پر قدم رکھ کر فرمایا :''انا ابن اعراق الثّریٰ انا بن ابراھیم خلیل اللّہ ''
میں اس ( اسماعیل ) کا فرزند ہوں جس کی فرایت رگ و ریشے کی طرح تمام اطراف زمین میں پھیلی ہے ، میں ابراہیم خلیل اللہ کا فرزند ہوں ( جس کے لئے آتش نمرود سر د ہوئی )۔ (4)

١۔ تتمة المنتہیٰ ص١١٣
٢۔ ملاحظہ ہو تتمة المنتہیٰ سے ص١٢٧،١٧٤
3۔اعلام الوریٰ ،ص٢٧٠،٢٧١۔ترجمہ ارشاد شیخ مفید،ج٢،ص١٧٨
4۔اصول کافی ،ج١،ص ٤٧٣
٣۔ مسئلہ پوچھنے کے لئے تگڑم
ایک شیعہ نے اپنی زوجہ کو ایک ہی نشست میں تین طلاق دیدی پھر اس نے علماء شیعہ سے پوچھا ، انہوں نے کہا: ایسی طلاق صحیح نہیں ۔ لیکن اس کے شوہر نے کہا کہ جب تک یہ مسئلہ امام صادق سے نہ پوچھوں میرا دل راضی نہ ہو گا ۔
وہ زمانہ ابو العباس سفاح کا تھا، امام اس وقت حیرہ ( نجف و کوفہ کے درمیان بستی ) میں سکونت پذیر تھے ۔
اس عورت کے شوہر کا بیان ہے کہ میں حیرہ گیا ،مجھے امام تک پہونچنے کی فکر تھی کہ کیسے مسئلہ پوچھوں ، ناگاہ میں نے ایک ککڑی بیچنے والے کو دیکھا ،میں اس کے پاس گیا، میں نے اس کی تمام ککڑیاں خریدیں اور تھوڑی دیر کے لئے اس کا لباس بھی مانگ کر پہن لیا اور ککڑی فروش کی طرح آواز لگائی ۔
ککڑی لے لو ۔ ککڑی لے لو۔
اس بہانے میں امام کے گھر کے نزدیک پہونچا ایک لڑکے نے گوشے سے آواز دی :
اے ککڑی بیچنے والے تجھے امام بلا رہے ہیں ۔
جب امام کی بارگاہ میں پہونچا تو امام نے فرمایا:
تو نے اچھا ڈھب نکالا ہے ، کیا مسئلہ پوچھنا ہے ؟ میں نے امام سے مسئلہ بیان کیا، امام نے فرمایا :
اپنی زوجہ کے پاس جائو تمہاری طلاق باطل ہے، تم پر کوئی کفارہ بھی نہیں ۔ ( ١)
٤۔ منصور نے امام سے منه کی کھائی
ایک رات منصور کے حکم سے امام کو ننگے پیر ننگے سر اس کے دربار میں حاضر کیا گیا ، اس نے انتہائی گستاخانہ لہجے میں کہا : ( اے جعفر ! تم بوڑھے ہو گئے شرم نہیں آتی کہ حکومت کے طلبگارہو ۔ چاہتے ہو کہ مسلمانوں کے درمیان فتنہ و فساد پھیلائو ۔)
پھر نیام سے تلوار نکالی تاکہ امام کی گردن مار دے، ناگاہ اس نے اپنے سامنے رسول خدا ۖ کو دیکھا ۔

تلوار نیام میں رکھ لی ۔
دوسری بار بھی یہی حرکت کی اور رسول خدا ۖ کو اپنے سامنے دیکھا ، تیسری بار یہی حرکت کی اور رسول خدا ۖ کو دیکھا اور قتل امام سے باز آیا ۔( ١)
٥۔ امام صادق بستر شہادت پر
آخر کار منصور نے انگور میں زہر ملا کر امام کو کھلایا ، دوسرے دن سے آپ کی حالت گرنے لگی ، ایک صحابی نے پوچھا : آپ اس قدر لاغر کیوں ہورہے ہیں ، آپ کے جسم میں کچھ باقی نہیں رہ گیا؟ پھر اس کا دل بھر آیا اور رونے لگا ۔
امام نے اس سے فرمایا: گریہ نہ کرو کیونکہ تمام نیکیاں مومن کو پیش کی جاتی ہیں، اگر اس کے تمام اعضائے بدن کو جدا کر دیا جائے تو اس کے لئے بھلائی ہی ہے اور اگر وہ مشرق و مغرب کا مالک ہو جائے پھر بھی اس کے لئے بھلائی ہے ۔ ( یعنی مومن رضائے خدا پر راضی ہے ۔) ( ٢)
آنحضرت کئی بار بیہوش ہوئے ، ذرا دیر ہوش میں آئے اور کچھ بات کی پھر بیہوش ہو گئے ۔
٦۔ صلۂ رحم اور نماز کی تاکید
آپ کے زریں ارشادات میں یہ ہے کہ وقت شہادت امام نے دو باتوںکی طرف خاص توجہ مبذول کرائی ۔
١۔ جب بھی آپ ہوش میں آتے قریب بیٹھے رشتہ داروں سے ان کا نام پوچھتے یہاں تک کہ جن لوگوں نے آپ کے خلاف تلوار اٹھائی تھی ان کے بارے میں بھی کہتے تھے کہ فلاں فلاں کو اتنا روپیہ دیدینا ۔
آپ کی ایک کنیز سالمہ نے عرض کی: جس نے آپ سے دشمنی کی اسے روپیہ دے رہے ہیں ؟ فرمایا : چاہتا ہوں کہ میں بھی ان لوگوں میں شامل ہو جائوں،جن کے بارے میں خدا نے فرمایا ہے :
'' والذ ین یصلون ما امر اللّہ بہ ان یوصل و یخشون ربّھم و یخافون سوء الحساب''(٣)

١۔انوار البہیہ ص ١٧٥
١۔منہاج الدموع ،ص٢٤٢١۔
٢ ۔ انوار البہیہ ،ص١٧٨۔منتخب التواریخ ،ص٤٦٥
٣۔سورۂ رعد ٢١۔٢٢
اور جو لوگ ان تعلقات کو جوڑتے ہیں جن کا خدا نے حکم دیا ہے ( یعنی صلہ رحم کرتے ہیں ) اور خدا سے ڈرتے ہیں اور قیامت کا خوف کرتے ہیں ...انہیں کے لئے عاقبت نیک ہے ۔
٢۔ ابو بصیر کہتے ہیں کہ شہادت امام کے بعد میں تعزیت کی غرض سے آپ کی کنیز اور زوجہ ام حبیبہ کی خدمت میں حاضر ہوا ، انہوں نے رونا شروع کر دیا ، میں بھی رو رہا تھا ۔ پھر کہا : اے ابو بصیر! اگر تم امام جعفر صادق کو شہادت کے وقت دیکھتے تو عجیب چیز مشاہدہ کرتے۔ آپ نے اس وقت اپنی آنکھیں کھولیں اور فرمایا: بلا شبہ ہماری شفاعت انہیں نہیں حاصل ہو گی جو نماز کو سبک سمجھیں ۔ (١)
اس طرح امام نے اپنا آخری پیغام پہونچایا اور حضرت امام موسیٰ کاظم کو دوسری وصیتیں فرمائیں اور قضائے الٰہی کو لبیک کہی ۔
خبر شہادت پر منصور کا رد عمل
ابو ایوب نحوی کہتا ہے : منصور نے مجھے آدھی رات میں طلب کیا،میں پہونچا دیکھا کہ ایک کرسی پر بیٹھا ہے ، اس کے پہلو میں شمع روشن ہے، اس کے ہاتھ میں ایک خط ہے، میں نے سلام کیا تو اس نے وہ خط میری
طرف بڑھادیا اور رونے لگا اور کہا کہ یہ خط گورنر مدینہ محمد بن سلیمان کا ہے ، اس نے لکھا ہے کہ صادق آل محمد نے وفات پائی ۔ پھر اس نے تین بار کہا :'' انا للّہ و انا الیہ راجعون '' کہاں کوئی مثل جعفر ہو سکتا ہے ؟
پھر مجھ سے کہا : محمد بن سلیمان کو لکھ دو کہ اگر امام صادق نے کسی معین شخص کے لئے وصیت کی ہو تو اسے بلا کر اس کی گردن مار دے ۔
جواب آیا کہ انہوں نے پانچ شخصوں کو وصیت کی ہے ۔ ان کے نام یہ ہیں ۔ ابو جعفر منصور ، محمد بن سلیمان ، عبد اللہ اور موسیٰ اور حمیدہ ( مادر امام کاظم )
دوسری روایت میں ہے کہ جواب دیا ۔ پانچ افراد کے لئے وصیت کی ہے ۔ ابو جعفر منصور ، عبد اللہ ، موسیٰ ،محمد بن جعفر اور اپنا ایک غلام ۔
واضح رہے کہ آپ کی یہ وصیت از روئے تقیہ تھی ورنہ اصلی اور حقیقی وصی آپ کے امام موسیٰ کاظم تھے ۔

١۔انوار البہیہ ص١٧٩،١٨٠
منصور دوانیقی نے کہا :
''لیس الیٰ قتل ھٰولاء سبیل '' ( ان سب کا قتل کرنا ممکن نہیں) ۔(١)
١۔ اصول کافی ،ج١،ص ٣١٠

0 comments:

Post a Comment