تعصبات کی بناپر دوطرح کے عقیدوں کے حامیوں میں اختلاف ہونا ایسا امر ہے جو ہے اور فطری ہے اور یہ شیعہ سنی سے مخصوص نہیں ہے خود شیعہ فرقوں اور سنی فرقوں کے مابین ہمیشہ سے اختلافات موجود رہے ہیں تاریخ کا جائزہ لیں دیکھیں گے کہ اھل تسنن کے اصولی اور فقہی فرقوں جیسے اشاعرہ معتزلہ جیسے حنابلہ احناف اور شافعیہ کے درمیان اختلاف رہا ہے اسی طرح شیعوں کے مختلف فرقوں کے مابین بھی اختلافات رہے ہیں ،یہ اختلافات جب عام لوگوں تک پہنچتےہیں تو خطرناک رخ اختیارکرلیتے ہیں لوگ دست بہ گریباں ہوجاتے ہیں ،علماء باہم بیٹھتے ہیں گفتگو کرتے ہیں بحث کرتے ہیں لیکن جب علمی صلاحیت سے عاری لوگوں کی بات آتی ہے تو وہ جذبات تشدد اور مادی ہتھیاروں کا سہارالیتے ہیں اور یہ خطرناک ہے ۔
اپنے تمام عزیز مھمانوں کوبیرون ملک سے تشریف لانے والے اور ایران کے مختلف علاقوں کے آنے والوں کوخوش آمدید کہتا ہوں یہ ایک مبارک اجتماع ہے اورہم محبت ودوستی کے امید وار رہے ہیں تاکہ اس طرح کے اجتماعات منعقد ہوں ۔
ایک جملہ علامہ میثم بحرانی کے بارے میں کہنا چاہتے ہیں یہ ساتویں صدی کی ایک عظیم علمی شخصیت ہے جو فقیہ بھی ہیں اورمتکلم بھی اور ایسے اعلی مضامین پر عبوررکھتے ہیں جو امیرالمومنین علیہ الصلاۃ والسلام کے نہج البلاغہ میں فراوانی سے پاے جاتے ہیں ۔برسوں قبل انقلاب کی کامیابی سے پہلے میں جوانوں، طلاب علوم دینیہ اور یونیورسٹی کے طلبا کو نہج البلاغہ کا درس دیا کرتاتھا، نہج البلاغہ کی مختلف شرحیں دیکھا کرتا تھا اس وقت مجھے محسوس ہوا کہ نہج البلاغہ کی تمام شرحوں میں ابن میثم کی شرح حضرت امیرالمومنین (علیہ السلام ) کی مراد اورکلمات کو واضح کرنے میں سب سے اچھی ہے کتنا اچھا ہوگااگر تمام مسلمان حلقے اس عظیم القدر علمی شخصیت کو خراج تحسین پیش کریں کیونکہ نہج البلاغہ تمام مسلمانوں کی کتاب ہے لھذا آپ ملاحظہ کرتے ہیں کہ شیعہ اور سنی علماءنےتاریخ کے ہرمرحلے میں اس عظیم و مشہور کتاب کی شرح لکھی ہے چاہے علماءاھل سنت ہوں یا علماءشیعہ ہوں - اس زمانے میں شیخ محمد عبدہ نے اس کتاب کی شرح کی ہے اور اس کی کتاب کی ہے ،نہج البلاغہ کا تعلق تمام مسلمانوں سے ہے ۔
دوسرانکتہ "ہمارے زمانے میں امت اسلامی کا اتحاد "ہے یہ اہم نکتہ ہے ہم نے نہ صرف انقلاب کے زمانے سے بلکہ انقلاب سے برسوں قبل شیعہ اور سنی بھائيوں کے دلوں کو نزدیک کرنے اورسبک کو اس اتحاد کی اہمیت سے آگاہ کرنے کی غرض سے کوششیں شروع کی تھیں میں نے بلوچستان میں -انقلاب سے برسوں قبل جب میں وہاں شہربدرکرکے بھیجا گياتھا -مرحوم مولوی شہداد کو (جو کہ بلوچستان کے معروف علماء میں سے تھے اور بلوچستان کے لوگ ان کو پہچانتے ہیں،فاضل شخص تھے اس زمانے میں سراوان میں تھے اور میں ایرانشہرمیں تھا)پیغام بھیجا کہ آئيں موقع ہے بیٹھتے ہیں اور اھل سنت و اھل تشیع کے درمیان علمی حقیقی اور قلبی اور واقعی اتحاد کے اصول بناتے ہیں انہوں نے بھی میری تجویزکاخیر مقدم کیا لیکن بعد میں انقلاب کے مسائل پیش آگۓ،انقلاب کی کامیابی کے بعد ہم نے جو نمازجمعہ کے موضوع پر پہلی کانفرنس کی تھی اس میں مولوی شہداد سمیت اھل سنت کے بعض علماءبھی شریک تھے بحث و گفتگو ہوئي اور ان مسائل پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔
تعصبات کی بناپر دوطرح کے عقیدوں کے حامیوں میں اختلاف ہونا ایسا امر ہے جو ہے اور فطری ہے اور یہ شیعہ سنی سے مخصوص نہیں ہے خود شیعہ فرقوں اور سنی فرقوں کے مابین ہمیشہ سے اختلافات موجود رہے ہیں تاریخ کا جائزہ لیں دیکھیں گے کہ اھل تسنن کے اصولی اور فقہی فرقوں جیسے اشاعرہ معتزلہ جیسے حنابلہ احناف اور شافعیہ کے درمیان اختلاف رہا ہے اسی طرح شیعوں کے مختلف فرقوں کے مابین بھی اختلافات رہے ہیں ،یہ اختلافات جب عام لوگوں تک پہنچتےہیں تو خطرناک رخ اختیارکرلیتے ہیں لوگ دست بہ گریباں ہوجاتے ہیں ،علماء باہم بیٹھتے ہیں گفتگو کرتے ہیں بحث کرتے ہیں لیکن جب علمی صلاحیت سے عاری لوگوں کی بات آتی ہے تو وہ جذبات تشدد اور مادی ہتھیاروں کا سہارالیتے ہیں اور یہ خطرناک ہے ۔دنیا میں یہ ہمیشہ سے ہے مومنین اور خیرخواہ لوگوں نے ہمیشہ کوشش کی ہے کہ اختلافات کاسد باب کریں ،علماء اور سربرآوردہ شخصیتوں کی ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ عوام میں تصادم نہ ہونے پاے لیکن حالیہ صدیوں میں ایک اور عامل شامل ہوگیاجو استعمار ہے میں یہ نہیں کہنا چاھتا کہ ہمیشہ شیعہ سنی اختلافات سامراج کی وجہ سے تھے ایسا نہیں ہے مسلمانوں کے جذبات بھی دخیل تھے ،بعض جہالتیں بعض تعصبات بعض جذبات بعض کج فہمیاں دخیل رہی ہیں لیکن جب سامراج میدان میں اتراتو اس نے اس (اختلافات)حربے سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھایا ۔
اس بناپر آپ دیکھتے ہیں کہ سامراج اور استکبارکے خلاف جدجھد کرنے والی ممتازشخصیتوں نے امت اسلامی کے اتحاد پر بے حد تاکید کی ہے ،آپ دیکھیں سید جمال الدین اسد آبادی ر|ضوان اللہ علیہ المعروف بہ افغانی اور ان کے شاگرد شیخ محمد عبدہ اور دیگرشخصیتوں اور علماءشیعہ سے مرحوم شرف الدین عاملی اور دیگر بزرگوں نے سامراج کے مقابلے میں کس قدر وسیع کوششیں کی ہیں کہ یہ سامراج کے ہاتھ میں یہ آسان وسیلہ عالم اسلام کے خلاف ایک حربے میں تبدیل نہ ہوجاے ہمارے بزرگوار قائد امام خمینی ابتداء ہی سے امت اسلامی کے اتحاد پر تاکید کیا کرتےتھے سامراج نے اس نقطہ پر آنکھیں جمائي رکھیں اور اس سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کیا۔
میں یہ کہنا چاھتاہوں کہ اس کام میں (اختلافات پھیلانے )میں انگریزدیگرسامراجی دشمنوں سے ماھر ہیں ایران ترکی اور عرب ممالک،برصغیر ھند انگریزوں نے برسوں زندگي گزاری ہے وہ اس کام کی باریکیوں سے آشنا ہیں کہ کس طرح سنی کو شیعہ کے خلاف بھڑکایا جاسکتا ہے اور کس طرح شیعہ کو سنی کے خلاف بھڑکایا جاسکتا ہے انہیں یہ کام بہت اچھی طرح آتاہے اور انہوں نے یہ کیا بھی ہے ۔
انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعد سے سامراج کی اس تحریک میں تیزی آئي ہم اس کے شاھد ہیں انقلاب کے آغازسے ہم اس کی نشانیاں دیکھ رہے تھے اور خبردار کررہے تھے اور ان حالیہ دنوں میں یا حالیہ برسوں میں اس وجہ سے کہ اسلامی جمہوریہ ایران ایک عظیم ھدف حاصل کرنے میں کامیاب ہوگيا اور ایک بڑی کامیابی تک پہنچ گيا اور یہ کامیابی عالم اسلام کی بیداری ہے اسی بناپر اختلاف پھیلانے والوں اور سامراج کے محاذ نے تیزی سے یہ کام کیا اور سب نے اپنا اپنا کام کیا۔
آج عراق میں شیعہ اورسنی کو ایک دوسرے کے خلاف لڑانا چاھتے ہیں پاکستان میں بھی یہ کام کرنا چاہتے ہیں افغانستان میں اگر ممکن ہوتا یہ کام کرنا چاھتےہیں اگر ایران میں انہیں موقع ملے تو کریں گے جھاں بھی انہیں موقع ملے یہ کام کریں گے ہمیں اطلاع ملی ہےکہ سامراج کے آلہ کار لبنان بھی گۓ ہیں تاکہ شیعہ اورسنی اختلافات پھیلائيں ۔
وہ لوگ جو اختلافات پھیلاتے ہیں وہ نہ شیعہ ہیں نہ سنی نہ شیعوں سے انہیں کوئي لگاؤ ہے اور نہ سنیوں سے نہ شیعوں کے مقدسات کو مانتے ہیں اور نہ سنیوں کے ،چند دنوں قبل بش امریکی صدرنے اپنی تقریرمیں عراق کے شہر سامرا میں حضرت امام علی نقی اور حضرت امام حسن عسکری علیھما السلام کے روضوں میں بم دھماکوں کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ سلفیوں کو اس کا ذمہ دار قراردیا اور شیعوں کو اس طرح بھڑکایا اور اس میں کامیاب بھی رہے ،مقدس روضوں میں بم دھماکے امریکیوں کے سامنے ہوۓ ہیں ،اسی شہر میں حضرات عسکرییں علیھماالسلام کے روضوں میں بم دھماکے ہوۓ ہیں جوامریکیوں کے زیرانتظام ہے اور امریکہ کی مسلح افواج اس شہرمیں گشت کررہی ہیں امریکیوں کی آنکھوں کے سامنے یہ ہوا ہے ،کیا یہ ممکن ہے کہ امریکیوں کی اطلاع کے بغیر امریکیوں کی اجازت کے بغیر اور امریکیوں کی منصوبہ بندی کے بغیر یہ واقعہ ہواہو خود امریکیوں نے یہ کام کیا ہے ۔
عراق میں دھشتگردوں کو القاعدہ اور سلفی کے ناموں سے پکارا جاتا ہے جبکہ خود امریکی اشتغال انگيزی کرتے ہیں عراق میں سابق بعثی عناصر کو خود امریکہ اور اسرائيل کی خفیہ سروسس اشتعال دلارہی ہیں تاکہ جہاں ممکن ہوسکے بدامنی پھیلاسکیں ،عراق میں سب سے زیادہ بدامنی کاشکار شہر یعنی بغداد ار دیگر شہر ایسے علاقے ہیں جو امریکہ کے زیر انتظام ہیں ورنہ وہ علاقے جہاں امریکیوں کو زیادہ دخل ہیں ہے اور عراقی سکیوریٹی فورسس نے انتظام سنبھالاہواہے وہاں امن وامان زیادہ ہے،بدامنی امریکیوں کی سوغات ہے کیونکہ اس میں ان کا ھدف مضمر ہے ۔
ایران میں انقلاب کی کامیابی کے بعد سامراج نے نۓ منصوبے بناے تاکہ یہ ظاہرکرسکیں کہ یہ انقلاب شیعی انقلاب ہے جبکہ اسلامی انقلاب اسلام کا انقلاب ہے قرآن کا انقلاب ہے اسلام کاپرچم لہرانا ہے اسلامی انقلاب کو اس بات پرفخر ہے کہ اس نے اسلامی اقدار توحید احکام الھی اور اسلام کے روحانی اقدار سے دنیا کو آشنا کررہا ہے اور کامیاب بھی ہے ،تمام تردشمنیوں کے باوجود ہم کامیاب ہوۓ ہیں ،انقلاب اسلامی نے مسلمانوں میں اسلامی عزت ووقاراور فخر کے جذبات کو دوبارہ زندہ کیا ہے سامراج اس کا محالف ہے اس کا دشمن ہے ورنہ اگر ہماراانقلاب ایک شیعی انقلاب ہوتا اور ہم عالم اسلام سے الگ ہوجاتے اور اس سے کوئي سروکارنہ رکھتے تو سامراج بھی ہم سے کوئي سروکارنہ رکھتا اور نہ انقلاب سے دشمنی کرتا لیکن اس نے دیکھا کہ یہ انقلاب اسلامی انقلاب ہے ۔
فلسطین کا سب سے مستحکم دفاع اسلامی انقلاب نے کیا کسی نے کسی ملک نے کسی قوم نے کسی حکومت نے فلسطینوں کی جدوجھداور ان کی تحریک انتفاضہ کی ایران کی ملت و حکومت اور اسلامی نظام کی طرح حمایت نہیں کی ،مادی امداد اخلاقی امداد ہم سے جو کچھ ہوسکا کیا ،جس وقت سابق سوویت یونین نے افغانستان میں درآیا یہ تمام اسلامی حکومتیں کہ جو اس علاقے میں موجود تھیں مختلف تحفظات کی بناپر خاموش رہیں لیکن امام خمینی نے صریحا روسیوں سے کہا کہ تمہیں افغانستان سے نکلنا ہوگا ۔
اسلامی جمہوریہ ایران روزبروزترقی کررہا ہے ہم نے سائنسی صنعتی اور اجتماعی لحاظ سے اور مینجمنٹ کے لحاظ سے گزشتہ ستائيس برسوں میں روزبروزترقی کی ہے عوام اور حکومت کے رابطے میں بھی روزبروزاستحکام آیا ہے یہ چیزین دشمن کوغصہ دلاتی ہیں اور ردعمل ظاہرکرنے پر مجبور کرتی ہیں ۔
ہمیں آج بہت ہوشیار رہنا ہوگاکہ دشمن اس حساس نقطہ سے درحقیقت کہنا چاہیے اس کمزوری سے کہ جو عالم اسلام میں موجود ہے غلط فائدہ نہ اٹھاسکے ۔
ہمارے دوستوں نے صحیح کہا تھاکہ کہ مسئلہ یہ نہیں ہے کہ شیعہ اور سنی ایک دوسرے کے عقائد مان لیں نہیں ہرایک کا اپناعقیدہ ہے سب استدلال کے تابع ہیں اور جس عقیدہ تک پہنچيں صحیح ہے مسئلہ یہ ہے کہ مختلف عقیدوں کے حامل لوگ دشمن کی سازشوں میں نہ آئيں ایک دوسرے کی مخالفت نہ کریں ایک دوسرے سے دشمنی نہ کریں ایک دوسرے کے تعلق سے خلاف ورزی نہ کریں ہمارے دشمن جو بھی ہیں یوحی بعضھم الی بعض زخرف القول غرورا،وہ ایک دوسرےکو سکھاتےہیں انگریزامریکیوں کوسکھاتے ہیں اور اسرائيلی انہیں سکھاتے ہیں ۔
ہمیں اپنے عوام کو ہوشیار اور بیدار کرنا چاہیے اور خود بھی ہوشیار رہنا چاہیۓ وہ لوگ جو بغیر سمجھے حقیقت کو سمجھے بغیر تقوی کے بغیر مسلمانوں کی بڑی آبادی کو دین سے خارج کردیتے ہیں ان کی تکفیر کردیتے ہیں یہ نادان تکفیری گروہ ان کے لۓ حقیقت میں مناسب ترین صفت نادانی ہے گرچہ ان میں خباثت بھی پائی جاتی ہے لیکن جہالت ان کی اہم ترین خصوصیت ہے ان گروہوں کو جہاں تک ہوسکے صحیح راہ دکھائي جاے عوام کو ان سے ڈرایا جاے کیونکہ ہمارے عوام ولتصغی الیہ افئدۃ الذین لا یومنون بالآخرۃ و لیرضوہ ولیقترفواما ھم مقترفون کے مصداق بھی ہوسکتےہیں بعض لوگ ضعف ایمان ضعف معرفت کی وجہ سے دشمنوں کی باتوں میں آجاتے ہیں ہمیں ہوشیار رہنا ہوگا ہمارے علماءکی ذمہ داری نہایت سنگين ہے آج عالم اسلام کا اتحاد ایک اعلی ھدف ہے کہ اگر یہ اتحاد حاصل ہوجاے تو اس وقت عالم اسلام حقیقت میں مکمل عزت کے حصول اور احکام الھی کے نفاذمیں کامیاب ہوگی یہ کام کرسکتی ہے اس سلسلے میں حکومتوں اور قوموں کو مددکرنی چاہیے
0 comments:
Post a Comment