فيسبوک گروپ

12/27/2010

سب و شتم کی شرعی سزا

(حصه اول)

ذیل کی دو چیزوں میں فرق کیجئے:
  1. سب و شتم کرنا (بُرا بھلا کہنا، گالیاں دینا)
  2. لعنت و تبرا اور غلط فعل پر تنقید کرنا
اسلامی شریعت میں کسی بھی شخص پر سب و شتم کرنا حرام و کبیرہ گناہ ہے۔
مگر لعنت و تبرا عین اسلامی افعال ہیں ۔ یہ "سنت الہیہ " و "سنت رسول" ہے کیونکہ اللہ اور اسکے رسول ﷺ نے بذات خود لعنت کی ہے اور قرآن و سنت میں انکا مکمل ثبوت موجود ہے۔ لعنت کا مطلب ہے کہ کسی کے غلط فعل یا ظلم پر اللہ سے اسکے حق میں بددعا کرنا۔ جبکہ تبرا کا مطلب ہے اس سے بیزاری ظاہر کرنا۔
مذہب اہلبیت میں کسی پر سب و شتم کرنے کی ہرگز کوئی اجازت نہیں۔ اگر کوئی جاہل شخص یہ کام سر انجام دیتا ہے تو یہ اسکا اپنا ذاتی فعلِ حرام ہے اور اسکا مذہب اہلبیت سے کوئی تعلق نہیں۔
ائمہ اہلبیت علیھم السلام کی تعلیمات کے مطابق فعل حرام انجام دینے پر تنقید کی جا سکتی ہے، اور اس سے بیزاری اختیار کی جا سکتی ہے، اور اگر بہت بڑے ظلم کا ارتکاب کیا ہے تو اس پر لعنت (اللہ سے بددعا) کی جا سکتی ہے، مگر سب و شتم کسی صورت نہیں کیا جا سکتا۔ مثلا مومن کو قتل کرنا بہت بڑا ظلم ہے اور اللہ اسکے متعلق فرماتا ہے:
[سورۃ النساء، آیت 93]
وَمَن يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا فِيهَا وَغَضِبَ اللّهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهُ وَأَعَدَّ لَهُ عَذَابًا عَظِيمًا
ترجمہ:
اور جو شخص کسی مسلمان کو قصداً قتل کرے تو اس کی سزا دوزخ ہے کہ مدتوں اس میں رہے گا اور اس پر اللہ غضبناک ہوگا اوراس پر لعنت کرے گا اور اس نے اس کے لئے زبردست عذاب تیار کر رکھا ہے
اب چاہے یہ عمدا قتل کسی عام مسلمان سے ہو، یا پھر کسی صحابی یا صحابی زادے سے ہوا ہو، اسلامی شریعت میں اسکا ایک ہی قانون ہے اور اسکی ایک ہی سزا ہے۔

صحابہ پرستش کی بیماری میں مبتلا ہو کر اسلامی شریعت کو تبدیل کرنا

مسئلہ یہ ہے کہ آج اگر ہم کسی صحابی کے غلط فعل کا تذکرہ کرنا چاہیں، اس پر تنقید کرنا چاہیں، اس سے تبرا (بیزاری) اختیار کرتے ہوئے اللہ سے انکے حق میں بددعا (لعنت کریں) تو ناصبی حضرات فوراً پروپیگنڈہ شروع کر دیتے ہیں کہ یہ لوگ کافر ہو گئے ہیں کیونکہ یہ صحابہ پر سب و شتم (برا بھلا کہنا، گالیاں دینا) کر رہے ہیں، حالانکہ ان تینوں چیزوں (تنقید، تبرا و لعنت) کا سب و شتم سے کوئی تعلق نہیں۔
ناصبی حضرات کی خود ساختہ شریعت کی بات الگ ہے، ورنہ اسلامی شریعت میں صحابی کے کسی غلط فعل پر تنقید کرنے سے کوئی کفر صادر آتا ہے اور نہ ہی تبرا و لعنت کرنے سے (مثلاً رسول ﷺ نے معاویہ ابن ابی سفیان پر لعنت کی تھی کہ اللہ اسکا پیٹ کبھی نہ بھرے۔ پڑھئیےمکمل آرٹیکل یہاں پر)۔ یا پھر صحابی حکم بن العاص پر رسول اللہ ﷺ نے لعنت فرمائی (لنک
بلکہ اسلامی شریعت تو اس حد تک واضح ہے کہ اگر کوئی شخص انتہا پر جا کر کسی صحابی پر سب و شتم کرتے ہوئے برا بھلا بھی کہتا ہے تب بھی وہ مسلمان ہی رہے گا اور اسکا کفر سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی اسکی سزا موت ہے۔ افسوس کہ ناصبی حضرات صحابہ پرستش کی بیماری میں اس حد تک مبتلا ہیں کہ بلا شرم و خوف اسلامی شریعت کو تبدیل کر کے اپنی خود ساختہ شریعت بنا کر بیٹھ گئے ہیں، جہاں وہ صحابہ کے نام پر دوسروں کو قتل کر رہے ہوتے ہیں۔

اسلامی شریعت میں صحابی پر سب و شتم کی شرعی سزا

ابو ہریرہ نبی (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) سے روایت کرتے ہیں:
4916 - حدثنا محمد بن الصباح البزاز، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا سفيان الثوري، عن منصور، عن أبي حازم، عن أبي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لا يحل لمسلم أن يهجر أخاه فوق ثلاث فمن هجر فوق ثلاث فمات دخل النار
"رسول اللہ(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا:یہ کبیرہ گناہ ہے کہ کسی مسلمان کی عزت کے خلاف ناحق بات کی جائے اور یہ بھی کبیرہ گناہ ہے کہ ایک دفعہ گالی دینے پر دو دفعہ گالی دی جائے۔
سنن ابو داؤد، کتاب 41 (کتاب الادب)، حدیث 4859 (آنلائن لنک)
اور سنن ابو داؤد میں ہے:
4894 حدثنا عبد الله بن مسلمة حدثنا عبد العزيز يعني ابن محمد عن العلاء عن أبيه عن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال المستبان ما قالا فعلى البادي منهما ما لم يعتد المظلوم
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ دو گالم گلوچ کرنے والے جو کچھ ایک دوسرے کو بکتے ہیں ان سب کا گناہ پہل کرنے والے پر ہوگا جب تک کہ مظلوم جسے پہلے گالی دی گئی زیادتی نہ کرے۔
حوالہ: سنن ابو داؤد (آنلائن لنک)
چنانچہ شریعت کا اصول ہے کہ کسی مسلمان کی شان میں ناحق باتیں کرناکبیرہ گناہ ہے مگر اس کی سزا میں زیادہ سے زیادہ جواب میں ایک دفعہ گالی دی جا سکتی ہے، اور اگر جواب میں دو دفعہ گالی دے دی جائے تو یہ بھی گناہ کبیرہ ہو گا۔ یہ اسلام میں سب و شتم کرنے کی شرعی سزا ہے،اور یہ سزا اس بات سے قطع نظر ہے کہ یہ سب و شتم ایک عام مسلمان کو کیا جائے یا پھر کسی صحابی کو۔
عبد اللہ سے روایت ہے:
رسول اللہ (ص) نے فرمایا : ایک مسلمان کو گالی دینا فسق ہے اور اس کو قتل کر دینا کفر۔
حوالہ: صحیح بخاری، جلد ۹، کتاب ۸۸، حدیث ۱۹۷
حضرت ابو بکر خود اس بات کی گواھی دیتے ہیں۔
4365 - حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا حماد، عن يونس، عن حميد بن هلال، عن النبي صلى الله عليه وسلم ح وحدثنا هارون بن عبد الله، ونصير بن الفرج، قالا حدثنا أبو أسامة، عن يزيد بن زريع، عن يونس بن عبيد، عن حميد بن هلال، عن عبد الله بن مطرف، عن أبي برزة، قال كنت عند أبي بكر رضي الله عنه فتغيظ على رجل فاشتد عليه فقلت تأذن لي يا خليفة رسول الله صلى الله عليه وسلم أضرب عنقه قال فأذهبت كلمتي غضبه فقام فدخل فأرسل إلى فقال ما الذي قلت آنفا قلت ائذن لي أضرب عنقه ‏.‏ قال أكنت فاعلا لو أمرتك قلت نعم ‏.‏ قال لا والله ما كانت لبشر بعد محمد صلى الله عليه وسلم ‏.‏ قال أبو داود هذا لفظ يزيد قال أحمد بن حنبل أى لم يكن لأبي بكر أن يقتل رجلا إلا بإحدى الثلاث التي قالها رسول الله صلى الله عليه وسلم كفر بعد إيمان أو زنا بعد إحصان أو قتل نفس بغير نفس وكان للنبي صلى الله عليه وسلم أن يقتل
ترجمہ:
ابو برزہ کہتے ہیں کہ میں ابو بکرابن ابی قحافہ کے ساتھ تھا۔ اُن کا ایک آدمی سے جھگڑا ہو گیا اور گرم الفاظ کا تبادلہ بھی ہوا۔ میں نے کہا: اے خلیفہ رسول! اگر آپ اجازت دیں تو میں اس کا گلا کاٹ دوں؟ میرے یہ الفاظ سن کرجناب ابو بکر کا غصہ دور ہو گیا اور وہ اٹھ کر اندر چلے گئے۔ پھر انہوں نے مجھ کو بلا بھیجا اور کہا: "تم نے ابھی کیا کہا کہ اگر میں کہوں تو تم اس کو قتل تک کر دو گے"؟ میں نے کہا،"جی ہاں"۔ اس پر حضرت ابو بکر بولے، "نہیں، میں اللہ کی قسم کہا کر کہتا ہوں کہ رسول اللہ(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے علاوہ اس بات کی کسی کے لیے اجازت نہیں ہے"۔ حوالہ: سنن ابو داؤد، کتاب 38، حدیث4350 (آنلائن لنک)
اور سنن نسائی میں ہے کہ حضرت ابو بکر نے اس شخص کو کہا "تیری ماں تجھ پر روئے کہ تو وہ کام کرنا چاہتا ہے جو رسول ﷺ کی وفات کے بعد کسی کے لیے جائز نہیں رہا)۔
معاویة بن صالح اشعری، عبد اللہ بن جعفر، عبید اللہ، زید، عمرو بن مرة، ابونضرة، ابوبرزة سے روایت ہے کہ حضرت ابوبکر ایک شخص پر سخت غضبناک ہوئے یہاں تک کہ اس شخص کا رنگ تبدیل ہوگیا۔ میں نے عرض کیا اے خلیفہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! خدا کی قسم اگر تم مجھ کو حکم دو تو میں اس شخص کی گردن اڑا دوں۔ میری یہ بات کہتے ہی وہ ایسے ہو گئے کہ جیسے ان پر ٹھنڈا پانی ڈال دیا گیا ہو اور ان کا غصہ اس شخص کی طرف سے زائل ہوگیا اور کہنے لگے کہ اے ابوبرزہ تمہاری ماں تم پر روئے (یہ عرب کا ایک محاورہ ہے) یہ مقام کسی کو حاصل نہیں ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد۔ حضرت امام نسائی نے فرمایا اس روایت کی اسناد میں غلطی ہوگئی ہے اور ابونضرہ کی بجائے ابونضر ٹھیک ہے اور اس کا نام حمید بن ہلال ہے حضرت شعبہ نے اس طریقہ سے روایت کیا ہے۔

کیا ناصبی حضرات کے لیے یہ اسوہ صدیقی کافی نہیں کہ وہ صحابہ کے نام پر دوسروں کو کافر بنانے اور اُن کو قتل کرنے سے باز آ جائیں؟ مگر مسئلہ پھر وہی ہے کہ ناصبی حضرات صحابہ پرستش کی بیماری کا ایسا شکار ہیں کہ جس میں انہوں نے صحابہ کے مرتبے کو اٹھا کر انہیں رسول ﷺ کا ہم مرتبہ بنا دیا ہے (معاذ اللہ)۔
بے شمار مواقع ایسے آئے کہ صحابہ نے رسول(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی موجودگی میں ایک دوسرے کو گالیاں دیں، مگر آپ(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے اس جرم کی سزا کے طور پر کبھی کسی شخص کے قتل کا حکم جاری نہیں کیا۔
امام احمد بن حنبل ابو ہریرہ سے روایت کرتے ہیں:
"ایک شخص حضرت ابو بکر کو گالیاں دے رہا تھا اور رسول(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) اسے دیکھ کر ہنس رہے تھے۔ جب وہ شخص باز نہیں آیا تو حضرت ابو بکر نے بھی اسے جواب دینا شروع کر دیا۔ اس پر رسول(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) اٹھ کر چلے گئے۔
ابو بکر نے کہا، "یا رسول اللہ(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)، جب تک وہ مجھے گالیاں دے رہا تھا آپ(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) بیٹھے سنتے (اور مسکراتے) رہے۔ مگر جیسے ہی میں نے جواب دینا شروع کیا تو آپ(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) ناراض ہو گئے"
رسول(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا، "اے ابو بکر، جب وہ تمکو گالیاں دے رہا تھا، تو ایک فرشتہ تمہاری طرف سے اسکو جواب دے رہا تھا۔ مگر جب تم نے خود جواب دینا شروع کیا تو شیطان آ گیا۔ اور میں اور شیطان ایک جگہ نہیں بیٹھ سکتے"۔
حوالہ: (مسند احمد بن حنبل، جلد 2، صفحہ 436)
یہی روایت سنن ابو داؤد میں بھی موجود ہے:
4898 - حدثنا عيسى بن حماد، أخبرنا الليث، عن سعيد المقبري، عن بشير بن المحرر، عن سعيد بن المسيب، أنه قال بينما رسول الله صلى الله عليه وسلم جالس ومعه أصحابه وقع رجل بأبي بكر فآذاه فصمت عنه أبو بكر ثم آذاه الثانية فصمت عنه أبو بكر ثم آذاه الثالثة فانتصر منه أبو بكر فقام رسول الله صلى الله عليه وسلم حين انتصر أبو بكر فقال أبو بكر أوجدت على يا رسول الله فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم ‏"‏ نزل ملك من السماء يكذبه بما قال لك فلما انتصرت وقع الشيطان فلم أكن لأجلس إذ وقع الشيطان ‏"‏ ‏.‏
ترجمہ:
عیسی بن حماد لیث، سعید مقبری، بشیربن محر ر، حضرت سعید بن المسیب فرماتے ہیں کہ ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف فرما تھے اور آپ کے ساتھ آپ کے صحابہ کرام بھی تھے ایک شخص نے حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ کے بارے میں زبان درازی کی اور انہیں ایذا دی تو حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ خاموش رہے اس نے پھر دوسری بار ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ کو تکلیف دی تو بھی وہ چپ رہے اس نے تیسری بار بھی تکلیف پہنچائی تو صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ نے اسے جواب میں کچھ کہہ دیا۔ جونہی ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ نے جواب دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اٹھ کھڑے ہوئے تو ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا آپ مجھ پر ناراض ہیں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ آسمان سے ایک فرشتہ نازل ہوا ہے وہ اس تکلیف پہنچانے والی کی تکذیب کرتا رہا جب تم نے اسے جواب دیا تو درمیان میں شیطان آپڑا لہذا جب شیطان آپڑے تو میں بیٹھنے والا نہیں ہوں۔
حوالہ: سنن ابو داؤد، کتاب الادب (آنلائن لنک)
(جاری ہے۔۔۔۔)

0 comments:

Post a Comment