صیحح مسلم مع مختصر شرح نووی والے نے متعہ کو وضاحت کچھ اس طرح کی ہے نکاح متعہ یہ ہے کہ ایک معین مدت ایک مہرپر کسی عورت سے نکاح کرنا اوراس مدت کے بعد نکاح ختم ہو جائے گا
صیحح مسلم مع مختصر شرح نووی_جلد نمبر 4 صفحہ نمبر 13
ان سطورکے پڑھنے سے ہمارے عقل میں اپنی مکمل وضا حت کے ساتھ آ گیا _ کہ متعہ ہوتا کیا ہے، آئیں برادر آپ کے سامنے قرآن کی آیات پیش کرتا ہوں جو متعہ کو واضح بیان کر رہی ہے،
سورۃ نساء آیت 24
جن عورتوں سے نکاح متعہ کرو انہیں اُن کے حق مہر ادا کرو.
قرآن قیامت تک مشعل راہ ہے جو پوری کا ئنات کے لیے نا کے صرف عرب والوں کے لیے، یہاں پر متعہ کا جا ئز ہونا مل گیا ہے _ لیکن متعہ کے حرام ہونے کے حکم سے قرآن خاموش کیوں ہے، ڈاکٹر نے کہا کے اسلام کے آنے سے پہلے جا ئز تھا __ تو قرآن کب نازل ہوا __
بھائی چلیں دیکھتے ہیں کہ پیغمبر (ص) نے متعہ کی اجازت دی ہے _____علامہ محمد اسماعیل بخاری یوں لکھتے ہیں_
فرمایا_تھوڑے یا کم دن کے لیے جس پر عورت راضی ہو جائے نکاح کر لو__
بخاری جلد 2صفحہ 774- شا ئع کردہ محمد سعید اینڈ سنز- قرآن محل مقابل مولوی مسافر خانہ کراچی
ان الفاظ سے ثا بت ہو گیا کے پیغمبر (ص) نے خود اجازت دی ہے، اختصار کے ساتھ ایک اور روایت نقل کرتا ہوں ورنہ حقیر کے پاس 20 سے 30 تک ثبوت موجود ہیں،
بخاری شریف کے الفاظ ہیں تم کو متعہ کرنے کی اجازت ہے تو تم متعہ کر لو -
تیسرا الباری شرح بخاری جلد نمبر 7 صفحہ نمبر 45
حضرت ابن زبیر (ر) اور ابن عباس کا مکا لمہحضرت عبدللہ ابن عباس نے 68 ہجری جو وفات پا ئی - آخری عمر میں بینا ئی جاتی رہی_ایک دفعہ ابن زبیر (ر) نے طنزاً ابن عباس (ر) کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ کچھ لوگ بصارت کے ساتھ بصیرت کے بھی اندھے ہو گے ہیں_اور متعہ کو جائز کہتے ہیں جناب ابن عباس (ر) فوراً بول اُٹھے اور فرمایا کہ میں نے پر ہیز گاروں کے امام رسول (ص) کو خود دیکھا ہے کہ انہوں نے متعہ کی اجازت دی ہے
(الفقہ علی امذاہب لاربعہ جلد 4 صفحہ نمبر 128)
محترم - توجہ طلب بات ہے کہ ابن عباس (ر)رسول خدا(ص) کے وصال کے بعد 57 برس زندہ رہے اور آخری عمر میں بھی متعہ کا فتوی دیتے رہے
0 comments:
Post a Comment