فيسبوک گروپ

12/26/2010

اسلام میل جول اور تعلقات کا دین ہے (1)

اسلام كا اصول ملاپ اور میل جول ہے جدائی اور قطع تعلق نہیں۔ كیونكہ انسانوں كا ایك دوسرے سے میل ملاپ ربط و تعلق معاشرے میں موجود دراڑوں كو پركردیتا ہے۔اور بعض اوقات باہمی ربط و تعلق نہ ہونے اور دوریوں كی وجہ سے انسان ایك دوسرے كے بارے میں بدگمانی كا شكار ہو جاتے ہیں اور ان كے درمیان خلیج گہری ہو جاتی ہے۔ لیكن باہمی میل ملاپ قربت اور گفتگو كے ذریعے پتا چلتا ہے كہ سامنے والے كی فكر كیا ہے؟اسكے اہداف و خواہشات كیا ہیں؟ اسكے خواب اور تمنائں كیا ہیں؟ اسكا نكتہ نظر كیا ہے؟ اور اسی طرح فریق ثانی آپ كے متعلق تمام شناسائ حاصل كر لیتا ہے اور یوں ایك انسان دوسرے انسان كوسمجھنے لگتا ہے۔ اور یہ اسلامی معاشرے كی تنظیم كے اسرار میں سے ایك راز ہے۔ لہٰذا معاشرے میں نظر آنے والی یہ بات كہ بعض لوگ ایك دوسرے سے قطع تعلق كۓ ہوۓ ہیں اور بعض ایك دوسرے سے گفتگو تك كے روادار نہیں اسلامی اصولوں كے برخلاف ہے۔دوستی كے متعلق ایك حدیث میں حضرت امام موسی كاظم ںفرماتے ہیں: لاٰتَذہَبِ الحِشَمۃََ بَینَكَ وَبَینَ اَخِیكَ وَابقِ مِنہَا فَاِنَّ ذَہَابَہٰا ذَہٰابُ الحَیٰاءِ اپنے اور اپنے دوست كے درمیان شرم و حیا كا پردہ ختم نہ كرنا كیونكہ اس پردے كے اٹھ جانے سے حیا كا خاتمہ ہو جاتا ہے ۔ دو افراد جن كے درمیان دوستی اور رفاقت كا رشتہ قائم ہے وہ ایك دوسرے كے ساتھ دو انداز سے پیش آ سكتے ہیں:
1۔ ایك انداز اور طریقہ یہ ہے كہ ان كے درمیان كوئی پاس و لحاظ نہ ہو كوئی پردہ نہ رہے، سارے حجاب پارہ ہوجائں اور دونوں كے درمیان ایسی كوئی بھی چیز باقی نہ بچے۔ اس بات سے روكا گیا ہے ۔ حضرت امام كاظم ںنے تاكید فرمائ ہے كہ دو افراد كے درمیان كچھ نہ كچھ حیا باقی رہنی چاہۓ جس سے پتا چلے كہ وہ ایك دوسرے كا لحاظ كرتے ہیں اور ایك دوسرے كے احترام كے قائل ہیں۔ كیونكہ اگر سارے حجاب پارہ ہوجائں اوركوئی حد باقی نہ بچے تو دونوں كی دوستی كو نقصان پہنچے گا ۔

دوسرا انداز و اسلوب یہ ہے كہ دونوں كے درمیان ایك حدِ فاصل قائم ر ہے وہ ایك دوسرے كے تمام رازوں سے واقف نہ ہوں اور ان كے درمیان باہمی پاس و لحاظ برقرار رہے۔ اور یہی انداز مطلوب ہے۔ ایك حدیث میں حضرت امام صادق ںفرماتے ہیں:اِن اَرَدتَ اَن یَصفُوَلَكَ وُدَّ اَخِیكَ فَلاٰ تُمٰازِحَنَّہُ (ا گر تم چاہتے ہو كہ تمہارے بھائی كے ساتھ تمہاری دوستی خالص ہو تو اس سے ہنسی مذاق نہ كرنا) ۔یہاں مذاق سے مراد گھٹیا اور غیر مہذب مذاق ہیں۔ وَلاٰتُمٰارِیَنَّہُ (اس كے ساتھ جھگڑا نہ كرنا) ۔مراد یہ ہے كہ ایسی بحث نہ كرنا جس میں بدكلامی ہو جو دوستی كو خراب كر دیتی ہے۔ وَلاٰ تُبٰاہِیَنَّہُ (اور اس كے سامنے شیخی نہ بگھارنا) ۔ یعنی اسے اپنے رتبے و مقام مال ودولت سے مرعوب كرنے كی كوشش نہ كرنا اور اپنے اس عمل كے ذریعے اس كی شخصیت كو نیچا مت دكھانا۔ وَلاٰتُشٰارَنَّہُ (اور اسے نقصان نہ پہنچانا) ۔یعنی اس كے ساتھ ایسا معاملہ نہ كرنا جس سے فتنہ و فساد سر ابھارے یاایسا عمل نہ كرنا جس سے اس كے او رتمہارے درمیان اختلاف پیدا ہو ۔

حضرت امام علی نقی ں فرماتے ہیں: اَلمِرَاءُ یُفسِدُ الصَّدَاقۃََ القَدِیمۃََ وَیُحلِّلُ العِقدۃََ الوَثِیقۃََ وَاَقَلُّ مٰا فِیہِ اَن تَكُونَ فِیہِ المُغٰالبۃََ جدال پرانی دوستیوں كو خراب كر دیتا ہے مضبوط رشتوں كو توڑ دیتا ہے اور اس میں كم از كم یہ ضرور ہوتا ہے كہ ایك فریق دوسرے فریق كو زیر كرنے كی كوشش كرتا ہے۔ جدال میں كیونكہ ہر ایك كی كوشش یہ ہوتی ہے كہ دوسرے كو مغلوب كرے لہٰذا یہ عمل دوستی پر منفی اثرات چھوڑتا ہے ۔ وَالمُغٰالبۃُ اُسُّ اَسبَابِ القطعیۃَِاور ایك دوسرے كو مغلوب كرنے كے لۓ كوشش ہر برائ كی جڑ ہے۔ كیونكہ مغلوب شخص محسوس كرتا ہے كہ وہ غالب كی نظر میں حقیر ہو چكا ہے جبكہ غالب رہنے والا خود كو مغلوب پر برتر محسوس كرتا ہے۔ یہ احساسات دوستانہ تعلقات میں دراڑیں ڈال دیتے ہیں اور دوستی كی بنیادوں كو ہلا كر ركھ دیتے ہیں۔حضرت علی ںنے ہمیں متوجہ فرمایا ہے كہ اگر چغل خور لوگ ہمارے بارے میں ہمارے دوستوں كی كہی ہوئی ناروا باتیں ہمیں آ كر بتائں تو ہمیں ان كی بتائ ہوئی باتوں كو قبول نہیں كرنا چاہۓ: مَن اَطٰاعَ الوٰاشِی ضَیَّعَ الصَّدِیقَ (جوبھی چغلخور كی بات مانتا ہے وہ اپنے دوست كوضائع كر دیتا ہے) كیونكہ چغلخور كا توكام ہی منفی اور بری باتوں كو ایك دوسرے سے بیان كرنا ہے اور اس طرح وہ دوستوں كے درمیان قائم پرانی دوستیوں كو بھی نابود كردیتا ہے اور بنیادی طور پر چغلخور كا مقصد بدی پھیلانے او رایك دوسرے كے درمیان جدائ ڈالنے كے سوا كچھ اور نہیں ہوتا۔

حضرت علی ںنے اپنی وصیت میں محمد بن حنفیہ سے فرمایا: اِیّٰاكَ وَالعُجبَ (خود پسندی سے پرہیز كرنا) ۔یعنی ایسا نہ ہو كہ تم اپنے آپ پر ناز كرنے لگو اور اپنی شخصیت كو بزرگ و برتر سمجھنے لگو۔ وَسُوءُ الخُلقِ (بد اخلاقی سے پرہیز كرنا) ۔ایسا نہ ہو كہ تم اپنے دوستوں كے ساتھ برے اخلاق سے پیش آؤ بد كلامی كرو اور سخت رویہ اختیار كرو۔ وَقِلَُّۃ الصَّبرِ (كم حوصلگی اوربے صبری سے پرہیز كرنا) ۔ یعنی كہیں ایسانہ ہو كہ تم دوسروں كی بد سلوكی اور ان كی اذیت وآزار (خواہ عمداً ہو یا بھولے سے) كوبرداشت نہ كرو اور خبرداركہیں ایسا نہ ہو كہ اگر كوئی تمہیں اذیت پہنچاۓ تمہارے ساتھ بد سلوكی كرے اور تم ایك مدت تك حقیقت واضح ہونے كا انتظار نہ كرو۔ فَاِنَّہُ لاٰیَستَقِیمُ لَكَ عَلَی ہِذِہِ الخِصٰالِ الثَّلاٰثِ صَاحبٌ (اس لۓ كہ (تم میں) ان تین صفات كے ہوتے ہوۓ كوئی تمہاری دوستی پر باقی نہیں رہے گا۔) كیونكہ اگر تم اپنے دوستوں كے سامنے اپنی برتری اور فوقیت جتائو گے اور یہ كہو گے كہ میں تم سے برتر ہوں او رتم پست ہو یا ان كے ساتھ بد سلوكی كرو گے یا تعلقات كے دوران پیش آنے والی كمزوریوں كو برداشت نہ كرو گے تو پھر دوستی اور رفاقت كی كوئی گنجائش باقی نہیں رہے گی۔ وَلاٰیَزَالُ لَكَ عَلَیہٰا مِنَ النّٰاسِ مُجٰانِبُ ان صفات اورایسی شخصیت كی بناپر لوگ تم سے گریز كریں گے اورتم لوگوں سے كٹ كے رہ جائو گے۔
بدگمانی كی ممانعت
امام علی ں نے ہمیں دوستوں كے بارے میں بدگمانی سے منع فرمایا ہے كیونكہ بعض اوقات ہم دوستوں سے یا اسی طرح دوسرے افراد سے ایسا عمل سرزد ہوتے دیكھتے ہیں جسے ہم نیكی او رحسن نیت پر مبنی بھی سمجھ سكتے ہیں او ر اسے شر اوربدی سے بھی تعبیر كر سكتے ہیں ۔ اسی موقع كے لۓ امام علی ں نے فرمایا ہے: اِیّٰاكَ وَسُوءَ الظَّنِّ (بدگمانی سے پرہیز كرو) یعنی كہیں ایسانہ ہو كہ كسی كے منفی پہلو كو اس كے مثبت پہلو پر ترجیح دو ۔ كیونكہ اس طرح تم دوسروں پر اعتماد كرنا چھوڑ دو گے ۔او رتم اگر دوسروں پر اعتماد سے محروم ہو جائو بالخصوص جبكہ وہ تمہارے دوست بھی ہوں تو یہ بد اعتمادی ممكن ہے تمہاے تعلقات كا خاتمہ كر دے اور تمہاری دوستی میں شگاف ڈال دے اور دوسرے لوگوں سے تمہارے روابط كو پیچیدگیوں كا شكار كر دے۔ حضرت علی ں سے ایك جملہ نقل ہوا ہے جو انسان كو ایك اصول فراہم كرتا ہے جو بتاتا ہے كہ انسان جب بھی كسی دوسرے انسان كے كسی قول یا عمل كا سامنا كرے تو اس كے بارے میںمثبت راۓ ركھے۔حضرتں فرماتے ہیں: ضَع اَمرَ اَخِیكَ عَلیٰ اَحسَنَہُ (اپنے بھائ كے عمل كی توجیہ بہترین گمان سے كرو) ۔ یعنی اگر تمہارا دینی بھائ كوئی ایساكام انجام دے جو مختلف احتمالات او ر پہلوئوں كا حامل ہو۔ یعنی اس میں اچھا احتمال بھی پایا جاتا ہو اور برا احتمال بھی تو برے احتمال پر اچھے احتمال كو فوقیت دو۔ اس سے مراد یہ ہے كہ اس پر برائ كا حكم نہ لگائو جبكہ اس سے اچھائ كا پہلو نكلالنا بھی ممكن ہو۔ وَلاٰتَظُنَّنَّ بكلمۃٍ خَرَجَت مِن اَخِیكَ سُوء اً وَاَنتَ تَجِدُلَہَا فِی الخَیرِمَحمِلاً اپنے بھائی كے منھ سے نكلنے واے الفاظ كے متعلق بدگمانی سے كام نہ لو جبكہ تم اس كلام كے متعلق اچھا احتمال بھی دے سكتے ہو۔ بالفرض اس كی بات میں ۹۹ فی صد بری نیت نظر آ رہی ہو اور صرف ایك فی صد اچھی نیت كا امكان دكھائ دے رہا ہو تو كہو كہ شاید یہی ایك فی صد والا پہلو اس كی مراد ہو۔

اور اسلام اسی نظریے پر اپنے ماننے والوں كی تربیت كرنا چاہتا ہے جو اسلام كے عدالتی اصولوں سے ساز گار ہے۔ اگر ملزم پر الزام ثابت نہ ہو سكے تو ایسے مواقع پر وہ بری ہو جاتا ہے۔ مثلاً اگر كسی شخص كے ہاتھ میں ریوالور ہو او راس كے سامنے ایك لاش پڑی ہوئی ہو، تو فوراً ہی یہ فیصلہ نہیں كر لینا چاہۓ كہ جس شخص كے ہاتھ میں ریوالور ہے وہی قاتل ہے۔ اسلامی عدالت كہتی ہے كہ یہ شخص ملزم ہے اسے مجرم نہ كہو جب تك كہ دلائل اور ثبوت اس كے جرم كو ثابت نہ كردیں كیونكہ ممكن ہے كچھ نامرئ اور پوشیدہ عوامل سامنے آئں جن كی بنیاد پر وہ شخص جرم سے بری ہوجاۓ۔ البتہ قدرتی بات ہے كہ حسنِ ظن ركھنے كے معنی یہ نہیں ہیں كہ ہم ملزم كو جرم سے سوفی صد بری سمجھیں،بلكہ مراد یہ ہے كہ نہ اسے صد فی صد مجرم سمجھیں او رنہ ہی اسے صد فی صد بے گناہ جانیں۔ بلكہ اس جگہ او راس سے ملتی جلتی صورتوں میں فرد كو صرف ملزم سمجھیں یہاں تك كہ حقیقتِ امرواضح ہوجاۓ ۔اور اصولاً ملزم ومجرم میں فرق ہے دونوں بالكل علیحدہ مقولے ہیں۔ چنانچہ حضرت علی ں فرماتے ہیں: لاٰیَغلَبَنَّ عَلَیكَ سُوءُ الظَّنِّ فَاِنَّہُ لاٰیَدَعُ بَینَكَ وَبَینَ صَدِیقٍ صَفحاً كہیں ایسانہ ہو كہ تم پر بدگمانی غالب آجاۓ۔ اس صورت میں تمہارے اورتمہارے دوست كے درمیان بخشش اور در گزر كی كوئی گنجائش نہ رہے گی۔ بعض لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں كہ اگر كسی كے منھ سے كوئی اچھا كلمہ سنیں تو اسے برے كلمے میں تبدیل كردیتے ہیں كیونكہ وہ دوسروں میں كوئی خوبی نہیں دیكھ سكتے۔ ایسے لوگ ان بدبخت افراد كی مانند ہیں جن كی نظر میں زندگی كا صرف تاریك پہلو ہوتا ہے ۔

مثلاً عباسی درباركے معروف شاعر ابن رومی كے متعلق كہا جاتا ہے كہ وہ ہر چیز میں سے منفی پہلو نكالنے میں ماہر تھا۔ ایك مرتبہ اس كے كچھ دوستوں نے تفریح كا پروگرام بنایا اور اسے مدعو كرنے كے لۓ ایك شخص كو جس كا نام حسن تھا اس كے پاس بھیجا ۔جب حسن ابنِ رومی كے پاس پہنچا تو ابن رومی نے اس سے پوچھا تمہارا نام كیا ہے؟ اس نے كہا: حسن۔ یہ سن كرابن رومی نے لفظ حسن كے الفاظ كی جگہوں كو تبدیل كر دیا او ركہا: نَحساً یعنی تم نحس اور بد شگون ہو اور یہ كہہ كر دروازہ بند كرلیا۔اس كے دوستوں نے دوسرے شخص كو بھیجا جس كا نام اقبال تھا۔ ابنِ رومی نے اس كے نام كے حروف كو ادل بدل دیا او ركہا: لابقا (نہ رہنے والا) اور دروازہ بند كرلیا۔ جی ہاں! بعض افراد ابنِ رومی كی طرح نفسیاتی الجھائو (Complex) كا شكار ہوتے ہیں او رلوگوں كے بارے میں بدگمان رہتے ہیں۔بعض اوقات لوگ كوئی ایسی بات كرتے ہیں جس میں خیر كا احتمال پایا جاتا ہے نیز بہت سے صحیح معنی موجود ہوتے ہیں لیكن اس قسم كے لوگ اس بات میں سے برے احتمال كو ترجیح دیتے ہیں اور اسكے بارے میں اچھے احتمال كا اظہار نہیں كرتے ۔ یہ بات ہمیں سیاسی اعتقادی اجتماعی اور شرعی مسائل میں بھی نظر آتی ہے۔ ایسے افراد كے نزدیك بدگمانی سے زیادہ كوئی دوسری چیز اہم نہیں ہوتی اور جب انھیں ٹوكا جاتا ہے كہ اس درجہ بدگمانی نہ كرو تو جواب میں كہتے ہیں: سو ء الظن من حسن الفطن (بدگمانی ذہانت اور چالاكی میں سے ہے) جبكہ انھیں معلوم نہیں كہ بدگمانی نہ صرف ذہانت كی علامت نہیں بلكہ عدالت عقل او رحكمِ شرعی كے برخلاف ہے بالخصوص اس وقت جب بد گمانی كسی فرد كے متعلق حكم كی بنیاد واساس بن جاۓ۔ دوستی كے رشتے میں استحكام اور مضبوطی سے متعلق حضرت امام علی ںكی ایك حدیث ہے: مَن نَاقَشَ الاِخوَانَ قَلَّ صَدِیقُہُ جو كوئی اپنے دوستوں سے كڑا حساب لیتا ہے ان پر سخت نكتہ چینی كرتا ہے اس كے دوست كم ہوجاتے ہیں۔ لہٰذا یہ كوشش نہیں ہونی چاہۓ كہ اپنے دوستوں كی بات بات پر نكتہ چینی كرو اور ان كی ایك ایك سانس تك شمار كروكیونكہ كوئی چیز ایسی نہیں جس میں سے خامیاں نہ نكالی جا سكیں۔
بقول شاعر

اِذٰاكُنتَ فی كُلِّ الاُمُورِ مُعَاتِباً
صَدِیقَكَ لَم تَلقِ الَّذِی لاٰتُعٰاقِبُہُ

اگر طے ہوكہ دوست او ردوستی كی دنیا میں تحقیق كی جاۓ تو تمہیں كوئی ایسا دوست نہ ملے گا جس كی سرزنش نكتہ چینی اور باز پرس ممكن نہ ہو۔ ہر انسان سے لغزش انحراف اور بے فائدہ عمل سرزد ہو سكتے ہیں جنہیں نظر انداز كیا جا سكتا ہے ۔اسی بنا پر امام علی ںنے فرمایا ہے: مَن نَاقَشَ الاِخوَانَ قَلَّ صَدِیقُہُ جو بھی اپنے دوستوں پر نكتہ چینی كرتا ہے اس كے دوست كم ہوجاتے ہیں۔ جی ہاں نكتہ چینی ایك ایسا عمل ہے جو دوستوں كی تعداد كم كردیتا ہے ۔
 
دوست بڑھانے كے طریقے

كیا چیزیں ہیں جو دوستوں میں اضافے كا باعث ہوتی ہیں؟ یہاں ہم یہ بتا دینا ضروری سمجھتے ہیں كہ دوسرے مسائل كے ساتھ ساتھ اجتماعی مسائل میں بھی اہلِ بیت ہمارے معلم ہیں۔ حضرت امام حسن عسكری فرماتے ہیں: مَن كَانَ الوَرَعُ سَجِیَّتُہُ وَالكَرَمُ طَبِیعتُہُ وَالحِلمُ خُلَّتُہُ كَثُرَ صَدِیقُہُ وَالثَّنٰائُ عَلَیہِ وَانتَصَرَ مِن اَعدَائِہِ بِحُسنِ الثَّنٰائِ عَلَیہِ پرہیز گاری جس كی عادت بن جاۓ كرم وبخشش جس كی سرشت ہو اور حلم و بردباری جس كی شان ہو اس كے دوست زیادہ ہوتے ہیںاور اس كی تعریف كثرت سے كی جاتی ہے اوراسی تعریف كی مدد سے وہ اپنے دشمنوں پر غالب ہوجاتا ہے۔ یعنی ان صفات اورخصوصیات كی وجہ سے وہ لوگوں كے دل جیت لیتا ہے اس كے دوست زیادہ ہوجاتے ہیں اور اس كی محبوبیت میں اضافہ ہو جاتا ہے ۔ وہ اپنی اس صلاحیت كے ذریعے دشمنوں پر كامیابی حاصل كرتا ہے او راس كے دشمن بھی اس كی تعریف كرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ امام زین العابدین ں نے زُہری كو جو نصیحتیں كیں ان میں ہے كہ: ایك روز آپ نے زہری كو دیكھا كہ وہ حاسدوں اور ان لوگوں كی وجہ سے غمگین اور رنجیدہ خاطر ہیں جن پر انہوں نے احسانات كۓ تھے (یاد رہے كہ زہری امام سجادںكے اصحاب میں سے تھے اور انہوں نے حضرت سے بہت سی روایتیں نقل كی ہیں) امام نے زہری سے غم و اندوہ كا سبب دریافت كیا تو زہری نے عرض كیا: میں لوگوں كے ساتھ نیكی كرتا ہوں لیكن وہ میرے ساتھ برائ كرتے ہیں ۔ ایسے افراد كے درمیان زندگی بسر كررہاہوں كہ جو ان چیزوں كی وجہ سے مجھ سے حسد كرتے ہیں جو پروردگارعالم نے مجھے عطا كی ہیں اورمیرے لۓ بہت سی انفرادی اور اجتماعی مشكلات پیداكرتے ہیں۔ (بالكل ویسی ہی مشكلات جیسی حاسداور احسان فراموش بد خواہ افراد كی طرف سے بہت سے انسانوں كو اٹھانی پڑتی ہیں۔)

امام سجادں نے ان سے فرمایا: اَمَّا عَلَیكَ اَن تَجعَلَ المُسلِمِینَ مِنكَ بِمَنزِلَةِ اَہلِ بَیتِكَ تمہیں چاہۓ كہ تم تمام مسلمانوں كو اپنے اہلِ خانہ كی طرح سمجھو۔ یعنی اگر مشكلات سے نجات چاہتے ہو تو اپنی فكر ونظر كوتبدیل كرو او راسلامی سماج كے ہر فرد كواپنے افراد خانہ كی طرح سمجھو اور دیكھو كہ انسان اپنے گھر كے چھوٹوں اور بڑوں كے ساتھ كس طرح پیش آتا ہے؟ پس تمام مسلمانوں كے ساتھ ایسے ہی پیش آؤ ۔ پروردگارِعالم نے ہم سے مطالبہ كیا ہے كہ ہم مسلمانوں كے ساتھ مہر ومحبت سے پیش آئں اور ان سے برادرانہ سلوك كریں ۔ ارشاد الٰہی ہے: اِنَّمٰا المُؤمِنُونَ اِخوَةٌ (بلاشبہ تمام مومنین آپس میں ایك دوسرے كے بھائ ہیں) یعنی پروردگارِ عالم نے ان كے درمیان قائم ایمانی رشتے كو سب سے مضبوط رشتہ قرار دیا ہے۔ لہٰذا تم بھی تمام مسلمانوں كو ایك كنبے كے افراد شمار كرو جس میں سب مل جل كر رہتے ہیں ۔ فَتَجعَلَ كَبِیرَ ہُم بِمَنزِلَةِوَالِدِكَ (ان كے بڑوں كو اپنے والد كا درجہ دو) اور ان كا اسی طرح احترام كرو جیسے اپنے والد كا احترام كرتے ہو۔ وَتَجعَلُ صَغِیرَہُم بِمَنزِلَةِ وَلَدَكَ (اور ان كے چھوٹوں كو اپنے بچوں كی طرح سمجھو) ۔لہٰذا ان كے ساتھ اسی طرح شفقت اور محبت سے پیش آؤ جیسے اپنے بچوں سے پیش آتے ہو۔ وَتَجعَل تِربَكَ بِمَنزِلَةِ اَخِیكَ فَاَیُّ ہٰؤُلاٰئِ تُحِبُّ اَن تُظلِمُ (اور اپنے ہم سن وسال افراد كو اپنے بھائوں كی طرح سمجھو۔جب صورتحال یہ ہو تو تم خود ہی بتائو كہ ان میں سے كس پر ظلم و زیادتی كرنا پسند كرو گے؟) ۔

كیا عقلِ سلیم ركھنے والے كسی انسان كو یہ بات پسند ہو گی كہ وہ اپنے والد اپنے بچوں یا اپنے بھائوں پر ظلم كرے ؟ واضح ہے كہ جب مسلمانوں كو اس نگاہ سے دیكھوگے او ران كے متعلق اس طرح كا شعور و احساس ركھوگے تو لازماً ان كے ساتھ اس طرح پیش آئو گے كہ ان پر چھوٹے سے چھوٹا ظلم بھی نہ ہو كیونكہ انسان ہرگز نہیں چاہتا كہ خود سے وابستہ افراد میں سے كسی پر ظلم كرے۔وَاِن عَرَضَ لَكَ اِبلِیسُ (لَعنَةُ اللّٰہِ) اَنَّ لَكَ فَضلاً عَلَی اَحَدٍ مِن اَہلِ القِبلَةِ (اور اگر شیطان (لعنتہ اللہ) تمہارے سامنے یوں ظاہر كرے كہ تم مسلمانوں میں سے كسی سے برتر اور افضل ہو) ۔ممكن ہے كہ شیطان تمہارے دل میں یہ وسوسہ پیدا كرے كہ تمہیں دوسروں پر برتری حاصل ہے۔ صرف تم نیك كام انجام دیتے ہو دوسروں كی خدمت كرتے ہو اورسماج كی اصلاح كے لۓ كوشاں ہو لہٰذا سب پر لازم ہے كہ تمہاری اطاعت كریں اور تمہارے سامنے سرِ تعظیم خم كریں۔ ہاں بعض لوگوں كا یہ حال ہوتا ہے ۔ جتنی ان كی شہرت بڑھتی ہے اتنا ہی وہ یہ تصور كرنے لگتے ہیں كہ وہ لوگوں پر حق ركھتے ہیں جبكہ لوگوں كو ان پر كوئی حق حاصل نہیں۔ لہٰذا وہ یہ چاہتے ہیں كہ لوگ ان كی خدمت كریں اوروہ كسی كی خدمت نہ كریں، وہ چاہتے ہیں كہ ان كے ساتھ نیكی اور احسان ہو لیكن وہ كسی كے ساتھ نیكی واحسان نہ كریں۔ پس اگر شیطان تمہارے دل میں یہ خیال پیدا كر دے كہ تمہیں كسی پر فوقیت حاصل ہے تو : فَاِن كَانَ اَكبَرُ مِنكَ فَقُل قَد سَبَقنِی بِالاِیمٰانِ وَالعَمَلِ الصَّالِحِ (اگر وہ شخص تم سے عمر میں بڑا ہے تو اپنے آپ سے كہو كہ وہ ایمان او رعملِ صالح میں مجھ سے سابق ہے) ۔یعنی شیطان كے اس فریب اور وسوسے كے متعلق خود اپنے آپ سے كلام كرو اور اس شخص كے بارے میں معلومات كرو اگر وہ تم سے عمر میں بڑا ہو تو اپنے آپ كو سمجھائو كہ اسے مجھ پر فضیلت حاصل ہے۔

كیونكہ اگر مجھ میں كچھ ایسی خوبیاں ہیں جن كی بنیاد پر میں اس سے بہتر ہوں تب بھی وہ مجھ سے پہلے دنیا میں آنے كی وجہ سے ایك باایمان اور صالح زندگی گزارنے میں مجھ سے سبقت ركھتا ہے۔ جب میں پیدا بھی نہ ہوا تھا وہ اس سے قبل ہی ایمان اور عملِ صالح كے ساتھ زندگی بسر كر رہا تھا: فَہُوَ خَیرٌ مِنِّی (لہٰذا وہ مجھ سے بہتر ہے) ۔ وَاِن كَانَ اَصغَرُ مِنكَ فَقُل قَد سَبَقتَہُ بِالمَعٰاصِی وَالذُّنُوبِ فَہُوَ خَیرٌ مِنِّی (اوراگر وہ عمر میں تم سے چھوٹا ہے تو اپنے آپ سے كہو كہ گناہ اور نافرمانی میں میںاس پر سبقت ركھتا ہوں لہٰذا وہ مجھ سے بہتر ہے) میں معصوم تو ہوںنہیں نیز اس سے پہلے بالغ اور سنِ شعور كو پہنچا ہوںاور اس سے پہلے گناہ كا مرتكب ہوا ہوں لہٰذا وہ مجھ سے بہتر ہے كیونكہ میرے گناہ اس سے زیادہ ہیں ۔ وَاِن كَانَ تِربَكَ فَقُل اَنَا عَلَی یَقِینٍ مِن ذَنبِی وَفِی شَكٍّ مِن اَمرِہِ فَمٰا اَدَعُ یَقِینِی لِشَكِّی (اور اگر وہ سن وسال میں تمہارے برابر ہے تو اپنے آپ سے كہو كہ اپنے گناہوں كے بارے میں تو مجھے یقین ہے لیكن اس كے گناہوں كے متعلق شك ركھتا ہوں۔ پس میں شك كی بنیاد پر یقین كو نہیں چھوڑ سكتا) مجھے اپنے گناہوں كا تو علم ہے لیكن اس كے گناہوں كے بارے میں نہیں جانتا۔ مجھے اپنے انجام دیۓ ہوۓ گناہوں كے بارے میں تو یقین ہے لیكن اس كے گناہوں كا علم نہیں اور اس بارے میں شك كا شكار ہوں لہٰذا كیسے اپنے یقین كوترك كركے شك پر تكیہ كروں۔ یوں اس طرح وہ مجھ سے بہتر ہے ۔ وَاِن رَائتَ المُسلِمِینَ یُعَظِّمُونَكَ وَیُوَقِّرُونَكَ وَیُحِبُّونَكَ فَقُل ہٰذا مِن فَضلٍ اُخِذُوبِہِ (او راگر دیكھو كہ مسلمان تمہاری تعظیم و توقیر كررہے ہیں او رتم كو چاہتے ہیں تو كہو كہ (ان كا یہ طرزِ عمل) ان كی حاصل كردہ فضیلت ہے) ۔ بعض لوگ جب یہ دیكھتے ہیں كہ لوگ انہیں بڑا سمجھتے ہوۓ ان كے پیچھے پیچھے چل رہے ہیں ان كی تعظیم كررہے ہیں یا ان كے لۓ راستہ چھوڑ رہے ہیں یا ان كے نام كے نعرے بلند كر رہے ہیں تو خود میں نے سماتے اپنے آپ كو دوسری ہی دنیا كی مخلوق سمجھنے لگتے ہیں جبكہ اگر حقیقت امر جاننا چاہیں تو حقیقت یہ ہے كہ احترام كرنے والے یہ افراد ان پر برتری ركھتے ہیں كیونكہ ان لوگوں پر ان كا احترام كرنا واجب نہ تھا (یہ تو ان لوگوں كے عظمت ہے كہ انہوں نے ان كا احترام كیا) حتیٰ بعض مواقع پر تو یہ لوگ اس قابل بھی نہ تھے كہ ان كا احترام كیا جاتا۔

ہمیں امیر المومنین حضرت علی ں سے عاجزی اور انكساری كا درس لینا چاہۓ جبكہ آپ مقامِ عصمت پر فائز تھے اور اگر اس سے بھی بلند كوئی مقام فرض كیا جا سكتا ہے تو آپ اس پر فائز ہیں لیكن اسكے باوجود آپ خدا اور بندگانِ خدا كے سامنے تواضع اور انكساری كے ساتھ پیش آتے تھے اور جب بھی كوئی آپ كی تعریف كرتا تھا خوف خدا كا اظہار كرتے ہوۓ فرماتے تھے:اَللّٰہُمَّ اجعَلنِی خَیراً مِمّٰا یَظُنُّونَ وَاغفِر لی مَالاٰیَعلَمُونَ پرودگار ا ! یہ جیسا مجھ كو سمجھتے ہیں اس سے بہتر قرار دے او رمیری جن لغزشوں كوتو جانتا ہے اور یہ نہیں جانتے ان كو بخش دے۔ اور حضرت امام سجادں دعاۓ مكارم الاخلاق میں ہمیں تعلیم دیتے ہیں (میری نصیحت ہے كہ اس دعا كو روزانہ پڑھۓ كیونكہ یہ دعا ہمارے سامنے بہترین انداز میںاخلاقی اور تربیتی راہ و روش كی نشاہدہی كرتی ہے۔ اور كوئی اخلاقی مسئلہ ایسا نہیں جس كا ذكر اس دعا میں نہ كیا گیا ہو۔ لیكن افسوس ہماری مشكل یہ ہے كہ ہم امام سجاد كی معرفت نہیں ركھتے نہ صرف امام سجاد بلكہ تمام ہی ائمہ كو ہم نے صرف عزاداری تك محدود كر كے ركھ دیاہے ایك مدرسۂ فكر اور وسیع افق كی حامل ہستیوں كے طور پر ان سے استفادہ نہیں كرتے۔)

بہر حال امام سجاد اس دعا كے ایك حصے میں فرماتے ہیں: اَللّٰھُمَّ لَاتَرفَعنِی فِی النّٰاسِ دَرَجَۃً اِلاّٰ حَطَطتَنِی عِندَ نَفسِی مِثلَہَا وَلاٰ تُحدِث لی عِزاً ظٰاہِراً اِلاّٰ اَحدَثتَ لی ذِلَّۃً بَاطِنَۃً عِندَ نَفسِی بِقَدرِھٰا بار الٰہا ! لوگوں كے درمیان میرے كسی درجے میں اس وقت تك اضافہ نہ فرمانا جب تك اسی مقدار میں مجھے اپنی نگاہوں میں حقیر نہ كر دے اور كوئی بھی ظاہری عزت و شوكت مجھے نصیب نہ فرما جب تك اسی مقدار میں مجھے خود میری نظروں میں ذلیل نہ كر دے۔ لوگوں سے روابط و تعلقات كے بارے میں امام سجاد نے اپنے صحابی زہری كو جو نصیحتیں فرمائں ہم ایك مرتبہ پھر ان كی طرف آتے ہیں۔ امام نے فرمایا: وَ اِن رَأیتَ مِنہُم جَفٰائً اَو اِنقِبَاضاً عَنكَ فَقُل ہٰذا الذَّنبُ اَحدَثتُہُ (اور اگر دیكھو كہ لوگ تم پر ظلم كر رہے ہیں تم سے بے توجہی برت رہے ہیں تو كہو كہ مجھ سے كوئی گناہ سرزد ہوا ہے۔) پس اگر دیكھو كہ لوگ تمہاری تعظیم و تكریم نہیں كرتے تم سے محبت سے پیش نہیں آتے تو اسكا قصور وار بھی خود اپنے آپ ہی كو سمجھو یعنی لوگوں كو الزام نہ دو انہیں برا نہ كہو بلكہ خود كو موردِ الزام ٹھہرائو كہ تم كسی گناہ كے مرتكب ہوۓ ہو یا لوگوں كے حق میں تم نے كوئی كوتاہی كی ہے جس كی وجہ سے وہ تم سے دور ہو گۓ ہیں اور یہ خود تمہارے گناہوں كی سزا ہے۔ فَاِنَّكَ اِن فَعَلتَ ذٰالِكَ سَہَّلَ اللّٰہُ عَلَیكَ عَیشَكَ وَكَثَّرَ اَصدِقَائُكَ وَقَلَّ اَعدَائُ كَ (اگر تم نے اس طرح عمل كیا تو پروردگار عالم تمہاری زندگی كو آسان كر دے گا تمہارے دوستوں میں اضافہ اور تمہارے دشمنوں میں كمی كر دے گا) ۔ یعنی اگر اس فكر اور ذہنیت كے ساتھ لوگوں كے درمیان زندگی بسر كرو گے تو نہایت عمدہ نتائج دیكھو گے۔ یہاں ہم لوگوں كے ساتھ پیش آنے اور ان كے ساتھ اختیار كۓ جانے والے طرزِ عمل سے متعلق ائمہ علیہم السلام كی ہدایات و رہنمائوں كے صرف ایك گوشے كو سامنے لاۓ ہیں۔

0 comments:

Post a Comment